سنی شیعہ مکالمہ عقیدۂ تحریفِ قرآن - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

سنی شیعہ مکالمہ عقیدۂ تحریفِ قرآن

  شہید ناموس صحابہؓ مولانا عبدالغفور ندیم شہیدؒ

صفحہ 1 از 4

سلیم اور بشیر دو دوست ہیں ۔

 سلیم سُنی العقیدہ مسلمان ہے اور شبیر شیعہ مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ دونوں کالج کے طالب علم ہیں ۔سلیم سپاہِ صحابہؓ کے مشن سے کافی ہمدردی رکھتا ہے۔ چنانچہ ایک روز دونوں کے درمیان شیعہ سُنی کے موضوع اور سپاہِ صحابہؓ کی تحریک کے عنوان سے گفتگو کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

 سلیم نے چونکہ بانیٔ سپاہِ صحابہؓ مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کی تقاریر کی بیشتر کیسٹیں سن رکھی تھیں۔ اس لیے اس کا مؤقف تھا کہ شیعہ کا اِسلام سے کوئی تعلق نہیں جبکہ شبیر کا مؤقف تھا۔ شیعہ بھی دیگر اِسلامی فرقوں کی طرح ایک اِسلامی فرقہ ہے ۔دونوں نے اپنے اپنے مؤقف کی تائید میں دلائل پیش کیے تاکہ اپنے مؤقف کو صحیح ثابت کر سکیں۔ 

دونوں کے درمیان ہونے والی اِس مدلل گفتگو کو ہدیۂ قارئین کیا جا رہا ہے ۔تاکہ آپ اس گفتگو سے لطف اندوز بھی ہوں اور اپنی معلومات میں بھی اِضافہ کریں۔ 

شبیر: بھائی میں کافی دنوں سے آپ کو کہتا چلا آرہا ہوں کہ آپ کسی روز وقت نکال کر میرے گھر تشریف لائیں اور کھانے کی دعوت قبول فرمائیں لیکن آپ مجھے مسلسل نظر اَنداز کر رہے ہیں۔ آخر اِسکی وجہ کیا ہے؟

سلیم: بس کچھ مصروفیات اور سُستی کی وجہ سے میں وقت نہیں نکال پاتا، ورنہ آپ کو نظر اَنداز کرنے والی ایسی کوئی بات نہیں ۔

شبیر: تقریباً چھ ماہ سے میں آپ کو دعوت دے رہا ہوں، اتنے عرصے میں آپ کو ایک روز بھی ایسا نہیں ملا کہ آپ میری دعوت کو قبول کر لیتے ،کہیں آپ سپاہِ صحابہؓ والوں کے پاس تو نہیں بیٹھنے لگے؟ 

سلیم:ہاں! سپاہِ صحابہؓ کے کچھ لوگوں سے جان پہچان ہے لیکن اتنا زیادہ اُن کے پاس بیٹھنے کی میرے پاس فرصت کہاں ہے؟ آپ کو پتہ ہے کہ میں زیادہ تر وقت اپنے گھر پر ہی گزارتا ہوں۔

 شبیر:تو آخر آپ میری دعوت کو مسلسل کیوں نظر انداز کر رہے ہیں؟ آج تو آپ کو کچھ بتانا ہی پڑے گا۔ 

 سلیم:اگر آپ ناراض نہ ہوں تو میں آپ کو صحیح بات بتا دوں!

 شبیر: ناراضگی کی کون سی بات ہے، اگر آپ کا عُذر مَعقول ہوگا تو میں آپ کو آئندہ مجبور نہیں کروں گا۔

 سلیم:اصل بات یہ ہے کہ میں نے گزشتہ دِنوں سپاہِ صحابہؓ کے بانی مولانا حق نواز جھنگویؒ کی اوکاڑہ والی تقریر کی کیسٹ سُنی تھی۔ اِس سے پہلے میں شیعوں کے ہاں کھانے پینے کو معیوب نہیں سمجھتا تھا۔ لیکن اس کیسٹ کے سُننے کے بعد میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔ کہ اب شیعوں کے ہاں کوئی چیز نہ کھاؤں گا۔ بس اِسی وجہ سے میں آپ کی دعوت کو قبول کرنے سے گُریز کر رہا ہوں۔

 شبیر: آپ بھی عجیب آدمی ہیں۔ کالج کے اسٹوڈنٹ ہیں لیکن دقیانوسی ذہنیت نہیں گئی۔ بھئی، مولویوں کا تو کام ہی لوگوں کو آپس میں لڑانا ہے۔ آپ کِن چکروں میں پڑ گئے؟

 سلیم: پہلے تو میں بھی یہی سمجھتا تھا کہ مولوی فرقہ واریت پھیلاتے ہیں اور لوگوں کو آپس میں لڑواتے ہیں لیکن جب میں نے مولانا جھنگویؒ کی کیسٹ سنی تو یقین جانیے میری تو آنکھیں کُھل گئیں ۔اس لیے کہ اُن کی تقریر عام مولویوں کی طرح قصّے،کہانیوں، لطیفوں اور چُٹکوں وغیرہ پر مشتمل نہیں تھی بلکہ ایسی مدلّل تقریر تھی کہ کم از کم میرے ذہن میں نقش ہو کر رہ گئی۔

شبیر: اُنہوں نے تقریر میں کیا کہا کہ شیعوں کے گھر کا کھانا حرام ہے؟

 سلیم: یہ تو معمولی سی بات ہے۔اُنہوں نے تو قرآن و حدیث اور شیعوں کی معتبر ترین کتابوں کے حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ شیعہ کائنات کا بدترین اور غلیظ ترین کافر ہے۔اِس لیے اِس تقریر کے بعد مجھے شیعوں سے کچھ نفرت سی ہو گئی ہے۔

 شبیر:ارے سلیم بھائی! تم بھی بڑے سادہ ہو، ایک ہی تقریر سن کر لٹو ہو گئے۔ یہ مولوی لوگ، عوام کو آپس میں لڑانے کے لیے اِدھر اُدھر کی جھوٹی اور بے سروپا باتیں اپنی تقریروں میں سناتے رہتے ہیں ۔جن میں کوئی صداقت نہیں ہوتی۔ 

 سلیم:ہوتے ہونگے ایسے مولوی! لیکن جنگھویؒ صاحب نے جن کتابوں کے حوالے دیے ہیں میں نے وہ کتابیں حاصل کر کے خود بھی پڑھی ہیں۔اور وہ ساری باتیں آپ کی مذہبی کتابوں میں موجود پائی ہیں۔ جن کی وجہ سے جھنگویؒ صاحب اور سپاہِ صحابہؓ کا مؤقف مجھے سمجھ میں آنے لگا ہے۔ 

 شبیر: یار آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں! ہماری کتابوں میں ایسی باتیں، جو اِسلام کے سراسر خلاف ہوں، اور اُن سے ہمارا کفر ثابت ہوتا ہو۔ یہ ناممکن ہے؟

 سلیم: یہ ممکن ہے اِس لیے کہ میں نے خود اِن کتابوں میں شیعہ کے کفریہ نظریات پڑھے ہیں۔ اگر آپ کہیں تو وضاحت کروں؟

 شبیر: بالکل وضاحت کریں تاکہ مجھے بھی پتہ چلے کہ ہمارے مذہب میں ایسی باتیں بھی ہیں جو ہمارے کُفر کی دلیل بن سکتی ہیں ،اگر آپ نے ثابت کر دیا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

 سلیم: ہاں ہاں ۔۔اگر میں نے ثابت کر دیا تو آپ اپنا مذہب چھوڑ دیں گے؟

 شبیر:میں دیکھوں گا،اگر آپ ہمارے مذہب کی مُعتبر کتابوں میں سے ہمارے کفریہ عقائد دکھا دیں تو میں شیعہ مذہب چھوڑ دوں گا۔ شرط یہ ہے کہ آپ صرف زبانی بات نہیں کریں گے۔ بلکہ وہ کتابیں لا کر مُجھے دکھائیں گے۔۔

 سلیم: ٹھیک ہے ابھی تو میرے پاس کتابیں نہیں کل آپ میرے گھر پر تشریف لائیں۔میں ایک ایک حوالہ آپ کو دِکھا دوں گا ۔

دوسرے روز شبیر اپنے مسلمان دوست سلیم کے گھر پہنچ گیا اور پھر دونوں کے درمیان شیعہ کے کُفر پر بحث و تکرار شروع ہو گئی۔۔۔۔۔

شیعہ کا پہلا کُفر تحریفِ قرآن

 عقیدۂ تحریفِ قرآن

 شبیر:میں حاضر ہو گیا ہوں! آج یا تو آپ مجھے دلائل سے قائل کریں گے۔ کہ شیعہ مسلمان نہیں بلکہ کافر ہیں یا میں آپ پر یہ حقیقت واضح کروں گا کہ شیعہ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ پکّے مؤمن ہیں اور اِس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ہم وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو سب مسلمان پڑھتے ہیں اور کسی کلمہ گو کو کافرکہنا بہت بڑا گناہ ہے اِس لیے کہ میں نے آپ ہی کے مولویوں سے یہ حدیث سُنی ہے کہ حضور اکرمﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ:

"من قال لا الہ الا اللّٰہ دخل الجنة" 

ترجمہ: جس نے لا الہ الا اللّٰہ کہ لیا وہ جنتی ہیں۔

اور ہم اللّٰہ کے فضل سے لا الہ الا اللّٰہ پڑھتے ہیں۔ اِسی لیے ہمیں تو یقین ہے کہ ہم جنتی ہیں، اور کوئی جنتی کافر نہیں ہو سکتا اور نہ کوئی کافر جنتی ہو سکتا ہے۔

صفحہ 1 از 4