منصوبہ بندی - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

منصوبہ بندی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اپنی ذہانت سے خندق کو اپنی فوج کے ساتھ پار کیا چنانچہ جہاں خندق قدرے تنگ تھی حکم دیا کہ اپنے پاس جو کمزور اونٹ ہیں انہیں ذبح کر کے اس جگہ خندق میں ڈال دو، اس طرح خندق اونٹوں کی لاشوں سے پر کر دی گئی اور فوج نے اونٹوں کی لاشوں کو بطور پل استعمال کر کے خندق کو پار کیا۔ دشمن یہ دیکھ کر قلعہ میں گھس گئے۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 350)

اور فارسی فوج کا جرنیل شیر زاذ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے مصالحت پر مجبور ہو گیا اور اس شرط پر مصالحت کی گئی کہ شیر زاذ اپنے کچھ شہسواروں کے ساتھ انبار سے چلا جائے لیکن اپنے ساتھ کوئی مال و متاع نہ لے جائے۔

(تاریخ الطبری: جلد، 4 صفحہ، 191)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے انبار میں، وہاں جو عرب آباد تھے، ان سے عربی زبان لکھنی سیکھنی، جنہوں نے اپنے سے پہلے یہاں آباد بنو ایاد عربی قبیلہ سے کتابت سیکھی تھی۔ وہ قبیلہ بخت نصر کے دور میں یہاں آکر آباد ہوا تھا، جب کہ بخت نصر نے عراق میں عربوں کو آباد ہونے کی اجازت دے دی تھی۔ سیدنا خالدؓ کو بنو ایاد کے بعض شعراء کا یہ کلام پڑھ کر سنایا گیا جس میں اس نے اپنی قوم کی مدح سرائی کی ہے:

قومی إیادٌ ولو إنَّہم امم

اوّلو اقاموا فَتَہْزُل النِّعمُ

ترجمہ: میری قوم بنو ایاد اگر وہ قریب ہوتے یا اگر وہ حجاز میں اقامت اختیار کرتے تو اونٹ کمزور پڑ جاتے۔

قوم لہم باحۃٌ العراق

إِذاساروا جمیعا واللوح والقلم

ترجمہ: جب یہ لوگ وہاں سے نکل کر عراق آئے تو انہیں عراق کا سرسبز میدان ملا اور لکھنا پڑھنا سیکھ لیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 353)

(7) عین التَّمر: سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے انبار پر زبرقان بن بدر کو نائب مقرر کر کے عین التمر کا رخ کیا، وہاں دیکھا کہ عقہ بن ابی عقہ تمر، تغلب، ایاد اور ان کے حلفاء کی ایک بڑی تعداد ان کے ساتھ موجود ہے اور ان کے ساتھ مہران بھی اپنی فارسی فوج کے ساتھ ہے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 354)

عقہ نے مہران سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے حضرت خالدؓ سے قتال کے لیے چھوڑ دے اور اس سے کہا: عرب عربوں سے قتال کرنے کو زیادہ جانتے ہیں لہٰذا تم ہمیں اور خالد کو چھوڑ دو ہم سمجھ لیتے ہیں۔ اس نے ان سے کہا: ٹھیک ہے، تم ان سے نمٹ لو اگر مدد کی ضرورت ہو گی تو ہم حاضر ہیں۔ فارسیوں نے اس پر اپنے امیر کو ملامت کی، تو اس نے ان سے کہا: ان کو چھوڑو اگر یہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ پر غالب آ گئے تو یہ تمہارا ہی غلبہ ہو گا اور اگر یہ مغلوب ہو گئے تو ہم حضرت خالدؓ سے قتال کریں گے، ایسی حالت میں وہ کمزور پڑ چکے ہوں گے اور ہم تازہ دم طاقتور ہوں گے۔ یہ بات سن کر انہیں اس کی رائے کی برتری کا اعتراف ہو گیا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ مقابلہ کے لیے نکلے، عقہ اپنی فوج کے ساتھ سامنے آیا، جب دونوں افواج کا سامنا ہوا تو حضرت خالدؓ نے اپنی فوج کے میمنہ اور میسرہ دستوں سے کہا: تم اپنی جگہ سنبھالے رہو، میں حملہ کرنے والا ہوں اور اپنے حفاظتی دستے کو حکم دیا کہ تم میرے پیچھے رہو اور عقہ پر حملہ بول دیا جبکہ ابھی وہ اپنی فوج کی صف بندی کر رہا تھا۔ اس کو پکڑ کر قید کر لیا اور اس کی فوج بغیر قتال کے شکست کھا گئی اور ان میں سے ایک بڑی تعداد کو مسلمانوں نے گرفتار کیا پھر آپؓ عین التمر کے قلعہ کی طرف بڑھے، دوسری طرف جب مہران کو بغیر قتال کے ہی عقہ کی شکست کی خبر ملی تو قلعہ سے اترا اور چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ جب شکست خوردہ عرب نصاریٰ نے دیکھا کہ قلعہ کھلا ہوا ہے تو وہ اس میں داخل ہو گئے اور اس میں پناہ لے لی۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے وہاں پہنچ کر قلعہ کا محاصرہ کر لیا، آخر کار قلعہ والے اس بات پر مجبور ہو گئے کہ سیدنا خالدؓ کے حکم پر قلعہ سے نکل آئیں۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے عقہ اور اس کے ساتھ گرفتار ہونے والوں اور آپؓ کے حکم پر قلعہ سے اترنے والوں کو قتل کرنے کا حکم دے دیا اور اس طرح قلعہ کا پورا مال مسلمانوں کو غنیمت میں حاصل ہوا۔ کلیسا کے اندر چالیس بچے انجیل پڑھ رہے تھے اور دروازہ بند کر رکھا تھا، آپؓ نے دروازہ توڑ کر ان سب کو امراء اور مالداروں کے درمیان تقسیم کر دیا۔ انہی میں سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام حمران تھے جو انہیں خمس میں سے ملے تھے اور انہی میں سے امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کے والد سیرین بھی تھے، جو سیدنا انس بن مالکؓ کے حصہ میں آئے تھے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے خمس کو سيدنا ابوبکرؓ کی خدمت میں روانہ کیا۔

پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سيدنا ولید بن عقبہؓ کو حضرت عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کی مدد کے لیے روانہ کیا جو دومۃ الجندل کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ دیکھا کہ وہ عراق کے ایک کنارے دشمن کا محاصرہ کیے ہوئے ہیں اور دشمن نے بھی ان کے تمام راستہ بند کر رکھے ہیں، جس کی وجہ سے وہ بھی محصور ہو چکے ہیں۔ اس وقت سيدنا عیاض رضی اللہ عنہ نے ولید سے کہا: بعض مشورے بڑی فوج سے بہتر ہوتے ہیں، لہٰذا ان حالات میں آپؓ ہمیں کیا مشورہ دیتے ہیں؟ ولید نے کہا: آپؓ حضرت خالدؓ کو تحریر کریں کہ وہ آپؓ کی مدد کے لیے اپنے پاس سے فوج بھیج دیں۔ سيدنا عیاض رضی اللہ عنہ نے حضرت خالدؓ کو خط تحریر کیا اس میں آپؓ سے مدد طلب کی، یہ خط سيدنا خالد رضی اللہ عنہ کو عین التمر کے واقعہ کے فوراً بعد ملا، آپؓ نے سيدنا عیاضؓ رضی اللہ عنہ کو جواب دیا: ہم آپ ہی کی طرف کا ارادہ کیے ہیں۔ اور لکھا:

لبث قلیلا تاتک الحلائب

یحملن آسادا علیہا القاشب

کتائب تتبعہا کتائب

ترجمہ: تھوڑا ٹھہریں، سواریاں آپؓ کے پاس پہنچ رہی ہیں، جن پر شیر سوار ہوں گے اور تلواریں چمک رہی ہوں گی۔ افواج کے لشکر کے لشکر پہنچ رہے ہوں گے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 354)

(8) دومۃ الجندل: سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے عین التمر پر عویم بن کاہل اسلمی کو اپنا نائب مقرر کر کے دومۃ الجندل کا رخ کیا اور جب وہاں کے لوگوں کو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی روانگی کی خبر ملی تو انہوں نے اپنے حلیف قبائل بہراء، کلب، غسان اور تنوخ سے مدد طلب کی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 354)

صفحہ 1 از 4