حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی دو تجویزیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مسترد کر دیتے ہیں
علی محمد الصلابیسیدنا معاویہؓ شام واپس ہونے سے قبل حضرت عثمانؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور عرض کیا: امیر المؤمنین! آپ میرے ساتھ شام چلیں قبل ازیں کہ وہ امور و حالات آپؓ کے خلاف رونما ہوں جن سے مقابلہ کی آپؓ میں طاقت نہیں۔
حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: میں رسول اللہﷺ کی ہمسائیگی کو کسی چیز سے مقابلہ میں بیچ نہیں سکتا، اگرچہ میری گردن کاٹ دی جائے۔ حضرت معاویہؓ نے عرض کیا: میں شام سے آپ کے لیے ایک لشکر بھیج دیتا ہوں جو مدینہ میں رہے گا تاکہ خطرہ کے وقت آپ اور اہل مدینہ کی طرف سے دفاع کر سکے۔
حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: نہیں، میں رسول اللہﷺ کے پڑوسیوں کی روزی تنگ نہیں کروں گا، اور نہ مہاجرین و انصار پر تنگی پیدا کروں گا۔ حضرت امیر معاویہؓ نے کہا: امیر المؤمنین! آپ کو قتل کر دیا جائے گا یا آپ سے جنگ کی جائے گی۔ حضرت عثمان غنیؓ نے ان کے جواب میں فرمایا: حسبی اللّٰه و نعم الوکیل۔ ’’اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور بہترین کار ساز ہے۔‘‘ (تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 353)
گویا حضرت معاویہؓ کو پتہ چل گیا تھا کہ ان فتنوں اور افواہوں کے پیچھے ناپاک ہاتھ کام کر رہے ہیں جو خطرناک عزائم کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جو خلافت و خلیفہ کو ختم کرنے سے کم نہیں، لیکن حضرت عثمان غنیؓ کی دوسری رائے تھی کہ وہ ان فسادیوں کے ساتھ آخری حد تک چلیں گے تاکہ ان کے لیے اللہ اور لوگوں کے پاس کوئی حجت نہ رہے، اور اس طرح دنیا و آخرت میں یہ ذلیل ہوں، یہ اس امام عادل کا عظیم صبر تھا۔
(عثمان بن عفان الخلیفۃ الشاکر الصابر: صفحہ 214)