Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت ابو عبید ثقفی رحمہ اللہ کی امارت میں عراق کی جنگ

  علی محمد الصلابی

جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی اور 23 جمادی الاخریٰ 13 ہجری کو منگل کی رات آپؓ کی تدفین عمل میں آئی، اس کے بعد جب صبح حضرت عمرؓ نے خلافت سنبھالی تو اہل عراق سے جنگ کرنے کے لیے لوگوں کو آمادہ کیا، انہیں جوش دلایا اور ثواب کی رغبت دلائی لیکن کوئی آگے نہ آیا۔ اس لیے کہ وہ اہل فارس کی جنگی قوت اور خونریز معرکہ آرائی کی وجہ سے ان سے جنگ کرنا ناپسند کرتے تھے۔ آپؓ نے دوسرے اور پھر تیسرے دن بھی لوگوں کو اہلِ فارس سے جنگ کے لیے آمادہ کیا، حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے بھی تائید میں بہت اچھی تقریر کی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کے ہاتھوں عراق کے بیشتر علاقے مسلمانوں کو فتح میں نصیب کیے ہیں اور وہاں مجاہدین اسلام کو غنیمت میں بہت کچھ مال و جائیداد اور زمین ملنے والی ہے، لیکن تیسرے دن بھی کوئی آگے نہ آیا۔ البتہ چوتھے دن لوگوں کو ابھارنے اور جوش دلانے کے بعد حضرت ابوعبید بن مسعود ثقفیؒ سب سے پہلے آگے بڑھے اور پھر یکے بعد دیگرے لوگ آپؓ کا ساتھ دیتے گئے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 26) سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی آواز پر ابوعبید ثقفیؒ کے بعد حضرت سلیط بن قیس انصاریؓ نے لبیک کہا اور بولے: امیر المؤمنین! ان اہل فارس سے متعلق اب تک ہم شیطان کے دھوکے میں تھے، سنیے! میں نے اور جو میرے چچا زاد بھائی ہیں نیز اور جو لوگ میرے ساتھ ہیں ہم سب خود کو اللہ کے راستے میں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔

(الفتوح: ابن أعثم: جلد 1 صفحہ 164، الأنصار فی العصر الراشدی: صفحہ 216)

حضرت سلیطؓ کا یہ روح پرور کلام لوگوں کو ابھارنے، ان کے جذبات کو بھڑکانے اور اہل فارس سے نبرد آزما ہونے میں بہت مؤثر ثابت ہوا اور لوگوں نے خلیفۂ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مطالبہ شروع کر دیا کہ آپ کسی مہاجر یا انصاری کو ہمارا امیر بنا دیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: جو شخص لوگوں کو ابھارنے میں پیش پیش رہا ہے میں اس سے زیادہ امارت کا حق دار کسی دوسرے کو نہیں سمجھتا۔ اگر سلیط جنگی امور میں جلد باز نہ ہوتے تو انہی کو تمہارا امیر بناتا، لہٰذا ابوعبید امیر ہوں گے اور سلیط وزیر۔ چنانچہ لوگوں نے سمع و طاعت کا مظاہرہ کیا۔

(ألانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 216)

اور ایک روایت میں ہے کہ آپؓ نے ابوعبیدؒ کو سب کا امیر بنا دیا تھا، وہ صحابی نہ تھے، تو لوگوں نے حضرت عمرؓ سے کہا: آپ نے کسی صحابی کو ہمارا امیر کیوں نہیں بنایا؟ آپ نے جواب دیا: میں اس کو امیر بناؤں گا جس نے سب سے پہلے میری آواز پر لبیک کہا، بلا شبہ اس دین کی نصرت و تائید میں آپ لوگ اوروں پر سبقت لے گئے، لیکن اس معاملے میں انہوں نے تم سے پہلے رضا مندی ظاہر کی ہے، پھر آپ نے ابوعبید رحمہ اللہ کو بلایا اور انہیں اللہ کے تقویٰ کی نصیحت کی اور کہا کہ تمہارے ساتھ جو مسلمان ہیں ان کے ساتھ بھلائی کرنا، صحابہ کرامؓ سے مشورہ لیتے رہنا اور سلیط بن قیسؓ کو مشورہ میں نہ بھولنا، وہ میدان جنگ کے آزمودہ کار آدمی ہیں۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 26) سیدنا عمر فاروقؓ نے ابوعبیدؒ کو مزید نصیحتیں کرتے ہوئے کہا: ’’رسول اللہﷺ کے صحابہؓ کے مشوروں پر عمل کرنا، ان کو اپنے معاملات میں شریک رکھنا، جلد بازی سے کام نہ لینا بلکہ صبر و تحمل سے کام کرنا کیونکہ یہ جنگ ہے اور جنگ کے لیے ایسا صبر آزما اور متحمل مزاج آدمی مناسب ہوتا ہے جو موقع اور نزاکت کو پہچانتا ہو۔ میں نے سلیطؓ کو صرف اس لیے امیر نہیں بنایا کہ وہ جنگی معاملات میں جلد باز واقع ہوئے ہیں اور جب تک کھلی ضرورت نہ ہو جنگ میں جلد بازی نقصان دہ ہوتی ہے۔ اللہ کی قسم! اگر وہ جلد باز نہ ہوتے تو انہی کو امیر بناتا۔

(إتمام الوفاء فی سیرۃ الخلفاء: صفحہ 65) پھر فرمایا: تم ایسے علاقے میں جا رہے ہو جو مکر، دھوکہ، خیانت اور غرور و تکبر سے بھرا پڑا ہے۔ ایسے لوگوں میں جا رہے ہو جو شر و فساد کرتے کرتے اسی کے ماہر ہو گئے ہیں۔ خیر و اصلاح کو پس پشت ڈال دیا ہے، گویا کہ وہ اسے جانتے ہی نہیں، لہٰذا ان سے چوکنا رہنا، اپنی زبان کو قابو میں رکھنا اور راز سے کسی کو واقف نہ کرانا کیونکہ راز دار جب تک راز کو راز میں رکھتا ہے وہ محفوظ ہوتا ہے اور کسی ناخوشگوار حالت کا سامنا نہیں کرتا اور جب اپنے راز فاش کر دیتا ہے تو وہ خود کو گنوا دیتا ہے۔

(إتمام الوفاء فی سیرۃ الخلفاء، صفحہ 65)

اس کے بعد آپؓ نے مثنیٰ بن حارثہؓ کو عراق جانے اور مزید افواج کے انتظار کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ جو مرتدین اسلام صدق دل سے توبہ کر کے اسلام میں دوبارہ داخل ہو چکے ہیں انہیں اپنے ساتھ لے لیں اور دشمن سے معرکہ آرائی میں انہیں بھی شریک کر لیں۔ مثنیٰؓ ان سب کو لے کر تیزی سے آگے بڑھے اور ’’حیرہ‘‘ پہنچے اور حضرت عمر فاروقؓ عراق، فارس اور شام کے محاذوں پر برابر نگاہ رکھے ہوئے تھے۔ اسلامی افواج کو سامان رسد بھیجتے، انہیں اپنی تعلیمات، احکامات اور رہنمائیوں سے نوازتے رہتے، در پیش اور متوقع معرکوں کی منصوبہ بندی کرتے اور ان کی تنفیذ کی نگرانی و ذمہ داری اپنے ہاتھ میں رکھتے۔

بہرحال سات ہزار 7000 کی تعداد میں غازیان اسلام سر زمین عراق کی طرف بڑھے اور حضرت عمرؓ نے والی شام حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کے نام لکھا کہ خالد بن ولیدؓ کے ساتھ لڑنے والے جو مجاہدین عراق سے آئے تھے انہیں عراق روانہ کر دیں۔ حضرت ابو عبیدہؓ نے ہاشم بن عتبہؓ کی قیادت میں چار ہزار لوگوں کو عراق روانہ کیا اور وہ لوگ کوفہ پہنچے۔ مجاہدین کی یہ جمعیت جب عراق میں اکٹھی ہو گئی تو اسے معلوم ہوا کہ اہل فارس کی حکومت میں اختلاف و انتشار ہے اور آخرکار انہوں نے کسریٰ کی بیٹی پوران کو اپنا حاکم تسلیم کر لیا اور اس سے پہلے کی حاکم فارس آذر میدخت کو قتل کر دیا اور پوران بنت کسریٰ نے رستم بن فرخزاد نامی ایک ایرانی شخص کو دس سال کے لیے ملکی باگ ڈور اس شرط پر دے دی کہ وہ اندرونی بد عنوانی اور بیرونی جنگی معاملات سے بہ نفس نفیس نمٹے گا اور دس سال گزرنے کے بعد ملکی بادشاہت پھر آل کسریٰ میں واپس آ جائے گی اور رستم نے اسے قبول بھی کر لیا۔ واضح رہے کہ رستم ایک نجومی تھا، اسے علم نجوم میں مہارت تھی، اس سے پوچھا گیا کہ ستاروں کو دیکھ کر جب تم جانتے ہو کہ ایران کا حشر بہتر نہیں ہو گا تو پھر یہ ذمہ داری تم نے کیوں لی ہے؟ اس نے جواب دیا: اقتدار کی حرص اور شہرت کی محبت میں۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 27)