Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتح مدائن

  علی محمد الصلابی

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ قادسیہ میں دو مہینے ٹھہرے رہے اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اگلے حکم کا انتظار کرنے لگے۔ پھر امیرالمؤمنین کا قاصد حضرت سعدؓ کے پاس حکم لے کر آیا کہ فتح مدائن کے لیے آگے بڑھیں، عورتوں اور بچوں کو عتیق میں معتدبہ افواج کے سپرد کر دیں وہ ان کی دیکھ بھال کریں گے اور آئندہ جو کچھ بھی مال غنیمت ہاتھ لگے اس میں سے نگرانی کے عوض ان مجاہدین کو بھی پورا پورا حصہ دیں۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے حکم کی تعمیل کی اور ماہ شوال کے آخری ایام میں اسلامی فوج لے کر آگے بڑھے، ادھر فارس کی شکست خوردہ بچی کھچی فوج بھاگ کر بابل کے کھنڈروں میں پناہ لے چکی تھی اور اب بھی اس کے کچھ سردار دفاعی کارروائی کا عزم کیے ہوئے تھے۔ حالانکہ فارسی (ایرانی) سلطنت کا زوال یقینی ہو چکا تھا اور گاؤں و شہر سے لے کر ساری بستیاں یکے بعد دیگرے اس کے ہاتھوں سے نکل رہی تھیں۔ مسلمانوں نے بُرس کو فتح کیا تھا، پھر دریائے فرات عبور کر کے بابل پر قبضہ کیا پھر کوثی اور پھر ساباط پر فتح کا پرچم لہرایا۔ کچھ علاقے بزور جنگ اور کچھ بذریعہ مصالحت اسلامی سلطنت کے زیر نگیں ہوئے۔

(إتمام الوفاء: صفحہ 82)

نہایت حکمت عملی اور منصوبہ بندی سے مسلمانوں کے حملے جاری رہے، یہاں تک کہ ان کے فاتحانہ قدم مدائن تک پہنچ گئے چونکہ سیدنا عمر فاروقؓ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو ہدایت دی تھی کہ وہاں کے کاشتکاروں سے حسن سلوک کرنا اور ان کے عہد و پیمان کی رعایت کرنا، اس لیے اس کا بہت خوش آئند نتیجہ سامنے آیا۔ لاتعداد کاشتکاروں نے مسلمانوں کی اطاعت قبول کر لی اور ذمی بن کر رہنا گوارا کر لیا۔ وہ اسلامی فوج کے حسن سلوک اور عدل و مساوات سے بہت متاثر ہوئے، انہوں نے محسوس کیا کہ کائنات کے معبود حقیقی کے سامنے ان کا امیر بھی ایک ادنیٰ غلام کی طرح ہے، کوئی ظلم اور فساد نہیں ایک زمانے سے ان کی گردنوں میں غلامی کا طوق اور سروں پر تکبر و غرور کا جو بوجھ تھا اب اس سے ان کی گردنیں اور سر آزاد ہو چکے تھے، اب وہ سبھی اللہ واحد کے پرستار نظر آنے لگے۔

دربار خلافت کی ہدایت کے مطابق حضرت سعدؓ مدائن کی طرف متوجہ ہوئے۔ زہرہ بن حویہ کی قیادت میں مقدمۃ الجیش روانہ کیا اور ان کے پیچھے ہی دوسرا فوجی دستہ عبداللہ بن معتم، تیسرا دستہ شرحبیل بن سمط اور چوتھا اپنے بھتیجے ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بھیجا۔ البتہ اس مقام پر اپنی نیابت کے لیے حضرت خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کے بجائے ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا۔ مذکورہ دستوں کے پیچھے ہی باقی ماندہ فوج لے کر خود سعد رضی اللہ عنہ بھی ان سے جا ملے اور فوج کے پچھلے حصے کی قیادت خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو سونپ دی۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 11 صفحہ 155)

زہرہ، جو مقدمۃ الجیش کی قیادت کر رہے تھے، مدائن کی طرف آگے بڑھے، مدائن ہی فارسی حکومت کا دارالسلطنت تھا۔ جغرافیائی اعتبار سے دریائے دجلہ کے مشرق و مغرب دونوں سمتوں میں اس کی سرحدیں پھیلتی تھیں۔ دریائے دجلہ کا مغربی علاقہ ’’بہر سیر‘‘ کے نام سے اور مشرقی علاقہ ’’اسبانیر‘‘ اور ’’طیسفون‘‘ کے نام سے معروف تھا۔ زہرہ نے ’’بہر سیر‘‘ میں اپنی فوج اتاری اور شہر کا محاصرہ شروع کیا۔ پیچھے ہی حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اپنی فوج اور اس کے قائد ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدائن کے مغربی علاقہ ’’بہرسیر‘‘ میں پہنچ گئے، یہیں پر ایرانی بادشاہ یزدگرد رہتا تھا۔ مسلمانوں نے مسلسل دو مہینے اس ایرانی پایۂ تخت کا محاصرہ کیا فارسی فوج کبھی کبھار مقابلہ کے لیے باہر نکلتی لیکن مقابلہ کی تاب نہ لا کر واپس بھاگ جاتی۔ اسی دوران زہرہ بن حویہ کو دشمن کو ایک تیر آکر لگ گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ زہرہ نے جو زرہ پہن رکھی تھی وہ بعض جگہوں سے ٹوٹی ہوئی تھی۔ جب تیر ان کے جسم میں اتر گیا تو ان سے بعض لوگوں نے کہا کہ اگر آپ اس ٹوٹی ہوئی زرہ کو درست کروا لیں تو بہتر ہو گا۔ آپ نے پوچھا: کیوں؟ لوگوں نے کہا: ہمیں خوف ہے کہ کہیں کوئی تیر آپ کو زخمی نہ کر دے۔ آپ نے جواب دیا: اللہ کے نزدیک میرے لیے یہ چیز قابل اعزاز ہوگی کہ ایک نہیں فارسی فوج کے تمام تیر اس ٹوٹی ہوئی زرہ کے راستے میرے جسم میں پیوست ہو جائیں۔ چنانچہ ان کی خواہش کے مطابق ایسے ہی ہوا اور وہ اللہ کے نزدیک معزز رہے۔ اس دن سب سے پہلے دشمن کے تیر نے آپ کو زخمی کیا۔ بعض لوگوں نے کہا: اسے ان کے جسم سے نکال دو، تو آپؓ نے جواب دیا: مجھے چھوڑ دو جب تک میرے جسم میں جان ہے، شاید کسی مقابل کو نیزہ، تلوار یا طاقت کے ذریعہ سے موت کے گھاٹ اتار سکوں۔ یہ کہہ کر دشمن کی طرف لپکے اور اصطخر کے شہر یار نامی ایک فارسی کو تہ تیغ کر دیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 454)

مسلمانوں کی طرف سے تقریباً دو مہینے ’’بہرسیر‘‘ کا محاصرہ جاری رہا، اس دوران فارسی حلفاء کی طرف سے تیار کی گئی بیس منجنیقوں کے ذریعہ سے مسلمان فوجیں دشمن کے علاقہ پر پتھر برساتی رہیں۔ جس کی وجہ سے دشمن کو مزید کسی تیاری کا موقع نہ مل سکا اور ان کی صبح و شام خوف وہراس میں گزرنے لگی۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 453)

ہم یہاں ذرا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کمال دانائی دیکھیں کہ جب بھی انہیں مدد کے مادی اسباب سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا اسے ہاتھ سے نہ گنوایا اور اس ارشاد الہٰی کو یاد رکھا

وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ۞ (سورۃ الأنفال آیت: 60)

ترجمہ: اور (مسلمانو) جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں ان سے مقابلے کے لیے تیار کرو۔

یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب مدد کے روحانی ومعنوی اسباب مہیا کرنے میں وہ ساری دنیا سے آگے تھے اور معنوی اسباب میں سے جو خاص صفت ان میں نمایاں تھی وہ تھی اعتماد الہٰی، ذکر الہٰی اور رب عظیم کے سامنے دست دعا کی درازی۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 11 صفحہ 163)