قرآن اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زندگی پر اس کے اثرات -…

قرآن اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زندگی پر اس کے اثرات

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

اللہ کی ذات، کائنات، زندگی، جنت، جہنم اور قضاء و قدر کے بارے میں سیدنا علیؓ کا تصور:

سیدنا علیؓ نے بھی دیگر خلفائے راشدینؓ اور صحابہ کرامؓ کی طرح قرآنی خطوط اطوار پر ترتیب پائی تھی اور نبی اکرمﷺ آپ کے مربی تھے، آپﷺ ہمیشہ یہ باور کرانے کے لیے کوشاں رہے کہ شریعت اسلامی کا منبع و مصدر صرف ایک ہے اور قرآن و سنت ہی نظام زندگی کا اساسی منہج ہونا چاہیے۔

چنانچہ اس دور کے مسلم افراد، خاندان اور جماعتوں نے عقائد، عبادات، معاملات اور اخلاقیات وغیرہ میں کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ کے مطابق تربیت پائی، حضرت علیؓ نے زبانِ رسالت سے جن قرآنی آیات کو سنا، انھوں نے سیدنا علیؓ کی اسلامی شخصیت کو نکھارنے اور سنوارنے میں بہت اہم کردار ادا کیا، حضرت علیؓ کے دل کو پاکی، نفس کو للہیت، عقل کو روشنی اور روح کو تازگی ملی اور آپؓ اپنے اعلیٰ اقدار، بلند احساسات، عظیم مقاصد اور مثالی سلوک کے ساتھ ایک نئے انسان کی شکل میں ابھرے۔

(السیرۃ النبویۃ: علی محمد محمد الصلّابی: جلد 1 صفحہ 145)۔

حضرت علیؓ نے قرآنی آیات اور تربیت نبوی کے ذریعہ سے اچھی طرح جان لیا کہ وہ حقیقی معبود کون ہو سکتا ہے، جس کی عبادت کرنا چاہیے اور نبیﷺ کی تربیت بھی ایسی تھی کہ قرآنی آیات کی عظمت و معانی کو خوب اچھی طرح ان کے دل و دماغ میں بٹھانے کی کوشش کرتے، آپﷺ کی تربیت اس بات پر مرکوز تھی کہ تمام صحابہ کرامؓ کے سامنے ان کے حقیقی رب اور اس رب کے حقوق کا صحیح تصور واضح ہو جائے، کیونکہ آپﷺ جانتے تھے کہ جب نفوس پاک صاف ہوں گے اور فطرت راہ راست پر آجائے گی تو یہی تصور یقین اور ایمان کا سبب بنے گا۔

اس طرح سے اللہ تعالیٰ، کائنات، زندگی، جنت اور جہنم، قضا و قدر، انسانی وجود کی حقیقت اور شیطان نیز اس کی محاذ آرائی یہ سب چیزیں سیدنا علیؓ کی نگاہ میں قرآن کریم اور سنت نبویﷺ سے ماخوذ تھیں۔

یقیناً اللہ تعالیٰ نقائص و عیوب سے پاک صاف اور اوصاف حمیدہ میں باکمال ہے، وہ یکتا ہے جس کا کوئی شریک نہیں، نہ ہی کوئی بیوی اور نہ ہی کوئی اولاد ہے، وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا، مالک اور اس کا مدبر ہے۔ ارشاد الہٰی ہے:

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِىۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ يُغۡشِى الَّيۡلَ النَّهَارَ يَطۡلُبُهٗ حَثِيۡثًا وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ وَالنُّجُوۡمَ مُسَخَّرٰتٍ بِاَمۡرِهٖ اَلَا لَـهُ الۡخَـلۡقُ وَالۡاَمۡرُ‌ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ۞ (سورۃ الأعراف آیت 54)

ترجمہ: یقیناً تمہارا پروردگار وہ اللہ ہے جس نے سارے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے۔ پھر اس نے عرش پر استواء فرمایا۔ وہ دن کو رات کی چادر اڑھا دیتا ہے، جو تیز رفتاری سے چلتی ہوئی اس کو آدبوچتی ہے۔ اور اس نے سورج اور چاند تارے پیدا کیے ہیں جو سب اس کے حکم کے آگے رام ہیں۔ یاد رکھو کہ پیدا کرنا اور حکم دینا سب اسی کا کام ہے۔ بڑی برکت والا ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

اور یہ کہ اس کائنات میں چھوٹی بڑی ظاہر یا پوشیدہ غرض یہ کہ ساری نعمتیں اللہ ہی کی طرف سے ہیں:

وَمَا بِكُمۡ مِّنۡ نّـِعۡمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ‌ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيۡهِ تَجْئَرُوۡنَ‌۞ (سورۃ النحل آیت 53)

ترجمہ: اور تم کو جو نعمت بھی حاصل ہوتی ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی سے فریادیں کرتے ہو۔

اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے، زمین و آسمان کی کوئی باریک سے باریک چیز حتیٰ کہ انسان جو بولتا ہے یا جسے دل میں رکھتا ہے، کوئی بھی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے، وہ اپنے فرشتوں کے ذریعہ سے انسان کے تمام اعمال کو چھوٹے ہوں یا بڑے کتاب میں لکھتا رہتا ہے، مناسب گھڑی اور مناسب وقت میں اسے اس کے سامنے کھولے گا:

مَا يَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ اِلَّا لَدَيۡهِ رَقِيۡبٌ عَتِيۡدٌ۞ (سورۃ ق آیت 18)

ترجمہ: انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اس پر ایک نگران مقرر ہوتا ہے، ہر وقت (لکھنے کے لیے) تیار۔

حضرت علیؓ نے یہ تعلیم پائی کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مرضی اور ان کی خواہشات کے خلاف کچھ چیزوں کے ذریعہ سے انھیں آزماتا ہے، تاکہ انسان کو ان کی اصلیت بتا دے کہ ان میں کون ہے جو ظاہر و باطن ہر اعتبار سے خود کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دے اور اس کی قضاء اور قدر پر راضی ہو جائے، پھر وہ اس لائق بن سکے کہ خلافت، امامت اور قیادت کی باگ ڈور سنبھالے۔ اور کون ہے جو اللہ کی قضاء و قدر پر غصے اور ناراض ہو جاتا ہے، پھر وہ کسی چیز کا حق دار نہیں بن سکتا اور نہ اسے کوئی چیز سونپی جاسکتی ہے:

اۨلَّذِىۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَيٰوةَ لِيَبۡلُوَكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الۡعَزِيۡزُالۡغَفُوۡرُ۞ (سورۃ الملك آیت 2)

ترجمہ: جس نے موت اور زندگی اس لیے پیدا کی تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ بہتر ہے، اور وہی ہے جو مکمل اقتدار کا مالک، بہت بخشنے والا ہے۔

جو شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہے، اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے اور ہر کام میں اللہ کے حکم پر عمل کرنے کو تیار رہتا ہے، اللہ اسے اپنی توفیق، تائید اور نصرت سے نوازتا ہے:

اِنَّ وَلىِّ اللّٰهُ الَّذِىۡ نَزَّلَ الۡـكِتٰبَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيۡنَ‏۞(سورۃ الأعراف آیت 196)

ترجمہ: میرا رکھوالا تو اللہ ہے جس نے کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک لوگوں کی رکھوالی کرتا ہے۔

سیدنا علیؓ نے خوب اچھی طرح یہ تعلیم پائی تھی کہ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر واجبی حق یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کریں، اسی کی وحدانیت کا اقرار کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں:

بَلِ اللّٰهَ فَاعۡبُدۡوَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ۞ (سورۃ الزمر آیت 66)

ترجمہ: لہٰذا اس کے بجائے تم اللہ ہی کی عبادت کرو اور شکر گزار لوگوں میں شامل ہوجاؤ

ارشاد الٰہی ہے:

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدِ افۡتَـرٰۤى اِثۡمًا عَظِيۡمًا‏۞(سورۃ النساء آیت: 48)

صفحہ 1 از 4