Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قرآن اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زندگی پر اس کے اثرات

  علی محمد محمد الصلابی

اللہ کی ذات، کائنات، زندگی، جنت، جہنم اور قضاء و قدر کے بارے میں سیدنا علیؓ کا تصور:

سیدنا علیؓ نے بھی دیگر خلفائے راشدینؓ اور صحابہ کرامؓ کی طرح قرآنی خطوط اطوار پر ترتیب پائی تھی اور نبی اکرمﷺ آپ کے مربی تھے، آپﷺ ہمیشہ یہ باور کرانے کے لیے کوشاں رہے کہ شریعت اسلامی کا منبع و مصدر صرف ایک ہے اور قرآن و سنت ہی نظام زندگی کا اساسی منہج ہونا چاہیے۔

چنانچہ اس دور کے مسلم افراد، خاندان اور جماعتوں نے عقائد، عبادات، معاملات اور اخلاقیات وغیرہ میں کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ کے مطابق تربیت پائی، حضرت علیؓ نے زبانِ رسالت سے جن قرآنی آیات کو سنا، انھوں نے سیدنا علیؓ کی اسلامی شخصیت کو نکھارنے اور سنوارنے میں بہت اہم کردار ادا کیا، حضرت علیؓ کے دل کو پاکی، نفس کو للہیت، عقل کو روشنی اور روح کو تازگی ملی اور آپؓ اپنے اعلیٰ اقدار، بلند احساسات، عظیم مقاصد اور مثالی سلوک کے ساتھ ایک نئے انسان کی شکل میں ابھرے۔

(السیرۃ النبویۃ: علی محمد محمد الصلّابی: جلد 1 صفحہ 145)۔

حضرت علیؓ نے قرآنی آیات اور تربیت نبوی کے ذریعہ سے اچھی طرح جان لیا کہ وہ حقیقی معبود کون ہو سکتا ہے، جس کی عبادت کرنا چاہیے اور نبیﷺ کی تربیت بھی ایسی تھی کہ قرآنی آیات کی عظمت و معانی کو خوب اچھی طرح ان کے دل و دماغ میں بٹھانے کی کوشش کرتے، آپﷺ کی تربیت اس بات پر مرکوز تھی کہ تمام صحابہ کرامؓ کے سامنے ان کے حقیقی رب اور اس رب کے حقوق کا صحیح تصور واضح ہو جائے، کیونکہ آپﷺ جانتے تھے کہ جب نفوس پاک صاف ہوں گے اور فطرت راہ راست پر آجائے گی تو یہی تصور یقین اور ایمان کا سبب بنے گا۔

اس طرح سے اللہ تعالیٰ، کائنات، زندگی، جنت اور جہنم، قضا و قدر، انسانی وجود کی حقیقت اور شیطان نیز اس کی محاذ آرائی یہ سب چیزیں سیدنا علیؓ کی نگاہ میں قرآن کریم اور سنت نبویﷺ سے ماخوذ تھیں۔

یقیناً اللہ تعالیٰ نقائص و عیوب سے پاک صاف اور اوصاف حمیدہ میں باکمال ہے، وہ یکتا ہے جس کا کوئی شریک نہیں، نہ ہی کوئی بیوی اور نہ ہی کوئی اولاد ہے، وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا، مالک اور اس کا مدبر ہے۔ ارشاد الہٰی ہے:

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ فِىۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ يُغۡشِى الَّيۡلَ النَّهَارَ يَطۡلُبُهٗ حَثِيۡثًا وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ وَالنُّجُوۡمَ مُسَخَّرٰتٍ بِاَمۡرِهٖ اَلَا لَـهُ الۡخَـلۡقُ وَالۡاَمۡرُ‌ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ۞ (سورۃ الأعراف آیت 54)

ترجمہ: یقیناً تمہارا پروردگار وہ اللہ ہے جس نے سارے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے۔ پھر اس نے عرش پر استواء فرمایا۔ وہ دن کو رات کی چادر اڑھا دیتا ہے، جو تیز رفتاری سے چلتی ہوئی اس کو آدبوچتی ہے۔ اور اس نے سورج اور چاند تارے پیدا کیے ہیں جو سب اس کے حکم کے آگے رام ہیں۔ یاد رکھو کہ پیدا کرنا اور حکم دینا سب اسی کا کام ہے۔ بڑی برکت والا ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

اور یہ کہ اس کائنات میں چھوٹی بڑی ظاہر یا پوشیدہ غرض یہ کہ ساری نعمتیں اللہ ہی کی طرف سے ہیں:

وَمَا بِكُمۡ مِّنۡ نّـِعۡمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ‌ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيۡهِ تَجْئَرُوۡنَ‌۞ (سورۃ النحل آیت 53)

ترجمہ: اور تم کو جو نعمت بھی حاصل ہوتی ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی سے فریادیں کرتے ہو۔

اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے، زمین و آسمان کی کوئی باریک سے باریک چیز حتیٰ کہ انسان جو بولتا ہے یا جسے دل میں رکھتا ہے، کوئی بھی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے، وہ اپنے فرشتوں کے ذریعہ سے انسان کے تمام اعمال کو چھوٹے ہوں یا بڑے کتاب میں لکھتا رہتا ہے، مناسب گھڑی اور مناسب وقت میں اسے اس کے سامنے کھولے گا:

مَا يَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ اِلَّا لَدَيۡهِ رَقِيۡبٌ عَتِيۡدٌ۞ (سورۃ ق آیت 18)

ترجمہ: انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اس پر ایک نگران مقرر ہوتا ہے، ہر وقت (لکھنے کے لیے) تیار۔

حضرت علیؓ نے یہ تعلیم پائی کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مرضی اور ان کی خواہشات کے خلاف کچھ چیزوں کے ذریعہ سے انھیں آزماتا ہے، تاکہ انسان کو ان کی اصلیت بتا دے کہ ان میں کون ہے جو ظاہر و باطن ہر اعتبار سے خود کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دے اور اس کی قضاء اور قدر پر راضی ہو جائے، پھر وہ اس لائق بن سکے کہ خلافت، امامت اور قیادت کی باگ ڈور سنبھالے۔ اور کون ہے جو اللہ کی قضاء و قدر پر غصے اور ناراض ہو جاتا ہے، پھر وہ کسی چیز کا حق دار نہیں بن سکتا اور نہ اسے کوئی چیز سونپی جاسکتی ہے:

اۨلَّذِىۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَيٰوةَ لِيَبۡلُوَكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الۡعَزِيۡزُالۡغَفُوۡرُ۞ (سورۃ الملك آیت 2)

ترجمہ: جس نے موت اور زندگی اس لیے پیدا کی تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ بہتر ہے، اور وہی ہے جو مکمل اقتدار کا مالک، بہت بخشنے والا ہے۔

جو شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہے، اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے اور ہر کام میں اللہ کے حکم پر عمل کرنے کو تیار رہتا ہے، اللہ اسے اپنی توفیق، تائید اور نصرت سے نوازتا ہے:

اِنَّ وَلىِّ اللّٰهُ الَّذِىۡ نَزَّلَ الۡـكِتٰبَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيۡنَ‏۞(سورۃ الأعراف آیت 196)

ترجمہ: میرا رکھوالا تو اللہ ہے جس نے کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک لوگوں کی رکھوالی کرتا ہے۔

سیدنا علیؓ نے خوب اچھی طرح یہ تعلیم پائی تھی کہ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر واجبی حق یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کریں، اسی کی وحدانیت کا اقرار کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں:

بَلِ اللّٰهَ فَاعۡبُدۡوَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ۞ (سورۃ الزمر آیت 66)

ترجمہ: لہٰذا اس کے بجائے تم اللہ ہی کی عبادت کرو اور شکر گزار لوگوں میں شامل ہوجاؤ

ارشاد الٰہی ہے:

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدِ افۡتَـرٰۤى اِثۡمًا عَظِيۡمًا‏۞(سورۃ النساء آیت: 48)

ترجمہ: بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر بات کو جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے وہ ایسا بہتان باندھتا ہے جو بڑا زبردست گناہ ہے۔

اسی طرح آپ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس توحید اور عبودیت کے مضمون و تقاضا کو خاص طور سے قرآن میں ذکر کیا ہے۔ رہا کائنات کے بارے میں آپ کا تصور تو اس سلسلہ میں آپ کے سامنے اللہ کا یہ فرمان تھا:

قُلۡ اَئِنَّكُمۡ لَتَكۡفُرُوۡنَ بِالَّذِىۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِىۡ يَوۡمَيۡنِ وَتَجۡعَلُوۡنَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا‌ ذٰلِكَ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ‌۞ وَجَعَلَ فِيۡهَا رَوَاسِىَ مِنۡ فَوۡقِهَا وَبٰرَكَ فِيۡهَا وَقَدَّرَ فِيۡهَاۤ اَقۡوَاتَهَا فِىۡۤ اَرۡبَعَةِ اَيَّامٍ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِيۡنَ۞ ثُمَّ اسۡتَـوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآئِعِيۡنَ۞ فَقَضٰٮهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِىۡ يَوۡمَيۡنِ وَاَوۡحٰى فِىۡ كُلِّ سَمَآءٍ اَمۡرَهَا‌وَزَيَّـنَّـا السَّمَآءَ الدُّنۡيَا بِمَصَابِيۡحَ وَحِفۡظًا ذٰ لِكَ تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ ۞ (سورۃ فصلت آیت 9، 10، 11، 12)

ترجمہ: کہہ دو کہ: کیا تم واقعی اس ذات کے ساتھ کفر کا معاملہ کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو؟ وہ ذات تو سارے جہانوں کی پرورش کرنے والی ہے۔ اور اس نے زمین میں جمے ہوئے پہاڑ پیدا کیے جو اس کے اوپر ابھرے ہوئے ہیں اور اس میں برکت ڈال دی اور اس میں توازن کے ساتھ اس کی غذائیں پیدا کیں۔ سب کچھ چار دن میں تمام سوال کرنے والوں کے لیے برابر۔ چنانچہ اس نے دو دن میں اپنے فیصلے کے تحت ان کے سات آسمان بنا دئیے اور ہر آسمان میں اس کے مناسب حکم بھیج دیا اور ہم نے اس قریب والے آسمان کو چراغوں سے سجایا اور اسے خوب محفوط کر دیا۔ یہ اس ذات کی نپی تلی منصوبہ بندی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کا علم بھی مکمل۔

آپ کو دنیوی زندگی کے بارے میں کامل یقین تھا کہ یہ خواہ کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو جائے، بالآخراس کا انجام زوال و فنا ہی ہے، اس کی آسائشیں کتنی ہی کیوں نہ میسر ہوں، تاہم وہ کم اور بےوقعت ہیں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَاضۡرِبۡ لَهُمۡ مَّثَلَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا كَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ فَاَصۡبَحَ هَشِيۡمًا تَذۡرُوۡهُ الرِّيٰحُ‌ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ مُّقۡتَدِرًا۞ اَلۡمَالُ وَالۡبَـنُوۡنَ زِيۡنَةُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا‌وَالۡبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيۡرٌ عِنۡدَ رَبِّكَ ثَوَابًاوَّخَيۡرٌ اَمَلًا۞(سورۃ الكهف آیت 46)

ترجمہ: اور ان لوگوں سے دنیوی زندگی کی یہ مثال بھی بیان کردو کہ وہ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا، تو اس سے زمین کا سبزہ خوب گھنا ہوگیا، پھر وہ ایسا ریزہ ریزہ ہوا کہ اسے ہوائیں اڑا لے جاتی ہیں۔ اور اللہ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے۔ مال اور اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہیں، اور جو نیکیاں پائیدار رہنے والی ہیں، وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں، اور امید وابستہ کرنے کے لیے بھی بہتر۔

اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ہر مسلم فرد کے لیے زندگی کی حقیقت کو واضح کیا ہے کہ دنیا اصل کرامت اور اعزاز کا مسکن نہیں ہے، بلکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے، ان آیات میں یہ ہدایت ہے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا سچا محب ہو اسے اپنی ہر خواہش پر اللہ اور اس کے رسول کی رضامندی کو مقدم رکھنا چاہیے، اگرچہ اس کے لیے زندگی اور دنیا کی تمام آسائشوں کی قیمت چکانا پڑے۔ اس حقیقت کو حضرت علیؓ نے ان الفاظ سے تعبیر کیا ہے ’’دور رہ، دور رہ، میں نے تجھے تینوں طلاقیں دے دی ہیں، اب رجعت کی گنجائش نہیں، تیری زندگی بڑی مختصر اور تیرا خوف بہت کم ہے، ہائے افسوس! آخرت کی زندگی کہ اس کا زاد سفر بہت کم ہے اور سفر لمبا ہے اور راستہ وحشت ناک ہے۔ (الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 1108)۔

حضرت علیؓ نے جنت اور حصول جنت کا عقیدہ ان آیات سے سیکھا تھا، جن میں ان دونوں کی کیفیت بتائی گئی ہے، پھر آپ ان لوگوں میں سے ہوگئے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: 

تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا وَّمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۞ فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِىَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ‌جَزَآءًبِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ۞(سورۃ السجدة آیت 16، 17)

ترجمہ: ان کے پہلو (رات کے وقت) اپنے بستروں سے جدا ہوتے ہیں وہ اپنے پروردگار کو ڈر اور امید (کے ملے جذبات) کے ساتھ پکار رہے ہوتے ہیں اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے، وہ اس میں سے (نیکی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔

جہنم کے بارے میں بھی حضرت علیؓ کا تصور قرآنی تعلیمات کا پرتو تھا جس نے آپ کی زندگی میں شریعتِ الہٰی سے کبھی انحراف نہ ہونے دیا، آپ کی زندگی کا بغور مطالعہ کرنے والے کو صاف نظر آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مر مٹنے کا جذبہ اور اس کی گرفت و عذاب سے سخت خوف کا احساس آپ پر مکمل طور سے غالب تھا، اس باب کے تابندہ نقوش ان شاءاللہ اس کتاب میں آگے آئیں گے۔

’’قضاء و قدر‘‘ کے بارے میں صحیح مفہوم بھی آپ نے قرآنی تعلیمات اور سنت نبوی سے حاصل کیا تھا اور وہ آپ کے دل و دماغ میں اچھی طرح راسخ ہوگیا تھا۔ قضاء اور قضاء کے درجات و مراتب (قضاء و قدر پر ایمان کے چار مراتب ہیں:

1: اللہ کے علم محیط پر ایمان 

 2: کتابت تقدیر پر ایمان 

3: اللہ کی نافذ ہونے والی مشیت و ارادہ پر ایمان 4: اللہ کے ہر چیز کا خالق ہونے پر ایمان۔ مترجم)

کا بھی آپ کو ادراک تھا، چنانچہ اس کے پہلے درجہ یعنی ’’علم الہیٰ‘‘ کے بارے میں آپ کو یقین تھا کہ اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے، جیسا کہ ارشاد الہٰی ہے:

وَمَا تَكُوۡنُ فِىۡ شَاۡنٍ وَّمَا تَتۡلُوۡا مِنۡهُ مِنۡ قُرۡاٰنٍ وَّلَا تَعۡمَلُوۡنَ مِنۡ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيۡكُمۡ شُهُوۡدًا اِذۡ تُفِيۡضُوۡنَ فِيۡهِ‌وَمَا يَعۡزُبُ عَنۡ رَّبِّكَ مِنۡ مِّثۡقَالِ ذَرَّةٍ فِى الۡاَرۡضِ وَلَا فِى السَّمَآءِ وَلَاۤ اَصۡغَرَ مِنۡ ذٰلِكَ وَلَاۤ اَكۡبَرَ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ۞(سورۃ يونس آیت 61)

ترجمہ: اور (اے پیغمبر) تم جس حالت میں بھی ہوتے ہو اور قرآن کا جو حصہ بھی تلاوت کرتے ہو اور (اے لوگو) تم جو کام بھی کرتے ہو، تو جس وقت تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو ہم تمہیں دیکھتے رہتے ہیں اور تمہارے رب سے کوئی ذرہ برابر چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے، نہ زمین میں نہ آسمان میں، نہ اس سے چھوٹی، نہ بڑی، مگر وہ ایک واضح کتاب میں درج ہے۔

اور تقدیر پر ایمان لانے کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ کائنات میں جو کچھ بھی واقع ہوگا اسے اللہ نے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے:

اِنَّا نَحۡنُ نُحۡىِ الۡمَوۡتٰى وَنَكۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا وَاٰثَارَهُمۡ وَكُلَّ شَىۡءٍ اَحۡصَيۡنٰهُ فِىۡۤ اِمَامٍ مُّبِيۡنٍ ۞ (سورۃ يس آیت 12)

ترجمہ: یقیناً ہم ہی مردوں کو زندہ کریں گے، اور جو کچھ عمل انہوں نے آگے بھیجے ہیں ہم ان کو بھی لکھتے جاتے ہیں اور ان کے کاموں کے جو اثرات ہیں ان کو بھی۔ اور ہم نے ایک واضح کتاب میں ہر ہر چیز کا پورا احاطہ کر رکھا ہے۔ 

آپ اس حقیقت سے اچھی طرح آشنا تھے کہ انسانوں کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور عمدہ شکل و صورت، معتدل قد و قامت، عقل، قوت گویائی اور اچھے برے کی تمیز کا ملکہ دے کر اسے اعزاز بخشا، اس کے لیے زمین و آسمان کو مسخر کیا، اسے دیگر مخلوقات پر فضیلت عطا کی اور اس کے درمیان انبیاء کو بھیج کر اس پر احسان کیا، انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی تکریم و اعزاز کی سب سے بڑی علامت تو یہ ہے کہ اس نے اسے اپنی محبت و رضا کا اہل قرار دیا کہ جسے انسان اس نبی مکرمﷺ کی اتباع کے ذریعہ سے حاصل کر سکتا ہے، جس نے دنیا میں بہترین زندگی گزارنے اور آخرت کی ابدی نعمتوں سے سرفراز کرنے کے لیے اسے اسلام کی طرف دعوت دی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

مَنۡ عَمِلَ صَالِحًـا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَـنُحۡيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً‌وَلَـنَجۡزِيَـنَّهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏۞ (سورۃ النحل آیت 97)

ترجمہ: جس شخص نے بھی مومن ہونے کی حالت میں نیک عمل کیا ہوگا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے، اور ایسے لوگوں کو ان کے بہترین اعمال کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔

تقدیر کے تیسرے درجہ پر آپ کو اس طرح یقین تھا کہ لوح محفوظ میں ضبط کی ہوئی چیزوں کو اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے نافذ کرتا ہے، اسے اس پر مکمل قدرت ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَمَاكَانَ اللّٰهُ لِيُعۡجِزَهٗ مِنۡ شَىۡءٍ فِى السَّمٰوٰتِ وَلَا فِى الۡاَرۡضِ اِنَّهٗ كَانَ عَلِيۡمًا قَدِيۡرًا‏۞ (سورۃ فاطر آیت 44)

ترجمہ: اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ آسمانوں یا زمین کی کوئی چیز اسے عاجز کر سکے۔ بیشک وہ علم کا بھی مالک ہے، قدرت کا بھی مالک۔

تقدیر کے آخری و چوتھے درجہ پر حضرت علیؓ کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ اپنی مرضی و مشیت کے مطابق جس چیز کو چاہتا ہے دنیا میں وجود بخشتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ‌ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌خَالِقُ كُلِّ شَىۡءٍ فَاعۡبُدُوۡهُ‌ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ وَّكِيۡلٌ۞ (سورۃ الأنعام آیت 102)

ترجمہ: لوگو! وہ ہے اللہ جو تمہارا پالنے والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ہر چیز کا خالق ہے۔ لہٰذا اس کی عبادت کرو۔ وہ ہر چیز کی نگرانی کرنے والا ہے۔

چنانچہ ایمان بالقضاء و القدر کے اس صحیح مفہوم اور دل و دماغ میں اس عقیدہ کے رسوخ و استحکام سے نہایت نفع بخش و کار آمد نتائج سامنے آئے اور اس کے اثرات آپ کی زندگی میں نمایاں رہے، آپ نے قرآن پڑھا، غور کیا، اور جسم و جان، بلکہ پوری بنی نوع انسانیت کی حقیقت کو پہچانا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ انسانی وجود کی دو بنیادی اساس ہیں، ایک وہ جسے ’’خلقت اوّل‘‘ کہا جاتا ہے جس میں انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا، اسے اللہ نے سنوارا اور برابر کیا، پھر اس میں روح پھونکی اور دوسرا وہ جس میں نوع انسانی کی تخلیق نطفہ سے ہوئی۔

(اصول التربیۃ: النحلاوی: صفحہ 31)۔

چنانچہ ارشاد الہٰی ہے:

الَّذِىۡۤ اَحۡسَنَ كُلَّ شَىۡءٍ خَلَقَهٗ‌ وَبَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِيۡنٍ۞ ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَهٗ مِنۡ سُلٰلَةٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّهِيۡنٍ‌۞ ثُمَّ سَوّٰٮهُ وَنَفَخَ فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِهٖ‌ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمۡعَ وَالۡاَبۡصَارَ وَالۡاَفۡئِدَةَ ‌قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ۞ (سورۃ السجدة آیت 7 تا 9)

ترجمہ: اس نے جو چیز بھی پیدا کی، اسے خوب بنایا، اور انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی۔ پھر اس کی نسل ایک نچوڑے ہوئے حقیر پانی سے چلائی۔ پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی، اور (انسانو) تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل پیدا کیے۔ تم لوگ شکر تھوڑا ہی کرتے ہو۔

حضرت علیؓ نے اس حقیقت کو اچھی طرح پہچانا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا۔ اچھی شکل و صورت اور معتدل قد و قامت کے ذریعہ سے شرف بخشا اور اسے عقل و تمیز اور قوت گویائی عطا فرمائی۔ آسمان و زمین کی تمام اشیاء کو اس کے لیے مسخر فرمایا اور بہت سی مخلوقات پر اس کو فضیلت بخشی اور انبیاء و رسل کو مبعوث کر کے اس کو عز و شرف بخشا۔ آپ کے سامنے یہ حقیقت آشکارا ہوئی کہ انسان کے تکریم الہٰی کے مظاہر میں سے بہترین مظہر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی محبت و رضا کا اہل قرار دیا اور یہ نبی کریمﷺ کی سچی اتباع سے حاصل ہو سکتی ہے جنھوں نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تاکہ دنیا میں پاکیزہ زندگی گزاریں اور آخرت میں دائمی نعمت سے سرفراز ہوں۔

 ارشاد الہٰی ہے:

مَنۡ عَمِلَ صَالِحًـا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَـنُحۡيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً‌وَلَـنَجۡزِيَـنَّهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏۞ (سورۃ النحل آیت 97)

ترجمہ: جس شخص نے بھی مومن ہونے کی حالت میں نیک عمل کیا ہوگا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے، اور ایسے لوگوں کو ان کے بہترین اعمال کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔

امیر المؤمنین علیؓ نے قرآن کا بغور مطالعہ کر کے انسان اور شیطان کے درمیان جاری جنگ کی حقیقت کو پہچانا اور بخوبی آگاہ ہوئے کہ شیطان انسان پر اس کے آگے پیچھے، دائیں اور بائیں ہر طرف سے حملہ آور ہوتا ہے، اسے گناہ کرنے پر ابھارتا ہے اور اس کی خفتہ شہوات کو ہوا دیتا ہے، اسی وجہ سے آپ اپنے دشمن کو شکست دینے کے لیے اللہ سے ہمیشہ مدد مانگتے تھے اور اپنی پوری زندگی اس معرکہ میں کامیاب رہے، قرآن کریم میں آدم اور ابلیس کا واقعہ پڑھا اور اس حقیقت تک پہنچے کہ آدم علیہ السلام ہی سے بنی نوع انسان کا وجود ہوا ہے اور اسلام کی روح یہ ہے کہ اللہ کی مطلق اطاعت کی جائے، نیز یہ کہ انسان سے غلطی و گناہ واقع ہو سکتے ہیں۔ آدم علیہ السلام کی لغزش سے آپ نے یہ بھی سیکھا کہ مسلمان کو اللہ کی ذات پر اعتماد اور کامل توکل کرنا چاہیے اور یہ کہ مومن کی زندگی میں توبہ و استغفار کی کافی اہمیت ہے، اسے حسد اور تکبر و غرور سے بچانا ضروری ہے اور ہر چیز پر اللہ کی رضا کو مقدم کرنا لازم ہے، نیز یہ کہ اپنے رفقاء و دینی بھائیوں کے ساتھ بہتر انداز میں گفتگو کرنا چاہیے۔ ارشاد الہٰی ہے:

وَقُلْ لِّعِبَادِىۡ يَقُوۡلُواالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ‌ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ يَنۡزَغُ بَيۡنَهُمۡ‌ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِيۡنًا۞(سورۃ الإسراء آیت 53)

ترجمہ: میرے (مومن) بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہا کریں جو بہترین ہو۔ درحقیقت شیطان لوگوں کے درمیان فساد ڈالتا ہے۔ شیطان یقینی طور پر انسان کا کھلا دشمن ہے۔

سیدنا علیؓ نے مختلف عبادات کے ذریعہ سے اپنے احباب و رفقاء کی روحانی تربیت اور قلبی تطہیر کے لیے نبی کریمﷺ کا اسلوب اختیار کیا اور انھیں قرآن کریم کے اخلاقی منہج پر گامزن کیا۔