Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

پہلا دستہ

  علی محمد الصلابی

پہلا دستہ

حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کی قیادت میں شہسواروں کا دستہ تھا، اس کی ذمہ داری تھی کہ شہر پناہ کے اندر گھس کر جنگ چھیڑنے کا آغاز کرے اور مذکورہ منصوبہ بندی پر عمل کرتے ہوئے دشمنوں کو بھٹکانے اور بہکانے کا کام کرے۔

دوسرا دستہ

حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بنکروں میں چھپ کر دشمن کے باہر نکلنے کا انتظار اور آگے نکل جانے کے بعد اچانک اس پر حملہ کرنے والوں کا پیادہ دستہ تھا۔

تیسرا دستہ

ان شہسواروں کا تھا جو میدان کارزار میں جان فروشی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں، ان کی ذمہ داری یہ تھی کہ بنکروں میں چھپے ہوئے مجاہدین کا پہلا دستہ جب حملہ آور ہو اور دشمن کو جنگ میں مشغول کر دے تب یہ لوگ اپنے اپنے بنکروں سے باہر آئیں اور جب تک حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کی اجازت نہ ملے خود بخود بنکروں سے باہر نہ نکلیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 114)

چنانچہ ہر دستہ نے اپنے فرائض کو سنبھالا، حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ نے منصوبہ بندی کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا اور انہیں اپنے مقصد میں بہترین کامیابی ملی، جب باہر نکل کر حضرت قعقاعؓ کے دستے کو دوڑاتی ہوئی ایرانی فوج نے خود کو پیچھے سے گھرا ہوا دیکھا اور دیکھا کہ مسلم فوج کی تلواریں مشرکین کی گردنوں کو گھاس کی طرح کاٹ رہی ہیں تو ان کے ہوش گم ہوگئے اور بھاگ بھاگ کر جائے پناہ تلاش کرنے لگے، انہیں کچھ نظر نہ آتا تھا، وہ اپنے ہی ہاتھوں سے کھودی ہوئی خندق اور خار دار باڑ میں پھنس کر اپنی جانیں گنوا رہے تھے اور مسلمان انہیں دوڑا دوڑا کر مارتے اور پیٹھ میں تلواریں گھونپتے۔ ہزاروں ایرانی فوج خندق میں گر کر ہلاک ہوئی اور حضرت قعقاعؓ فیرزان کو دوڑانے میں کامیاب ہوگئے۔ اسے دبوچا اور موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پھر پوری مسلم فوج نہاوند میں فاتح بن کر داخل ہوگئی۔ نہاوند کے بعد ہمدان پر بھی قبضہ ہوگیا اور اس کے بعد مسلم فوج نے بلاد فارس کے باقی ماندہ چھوٹے چھوٹے شہروں کو بلا کسی مزاحمت کے کچھ ہی دنوں میں فتح کر لیا اور نہاوند کے بعد ایرانی فوج پھر کبھی اکٹھی نہ ہو سکی۔ مسلمان ان کے شہروں اور زمین کے مالک ہوگئے۔ اس لیے معرکہ نہاوند کو فتح الفتوح کہا جاتا ہے۔

(الفن العسکری الإسلامی: صفحہ 294)

معرکہ نہاوند سے متعلق سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی فہم و فراست اس اعتبار سے نمایاں ہے کہ آپؓ نے خود اسلامی سلطنت کی مختلف ریاستوں سے اسلامی فوج کے جم غفیر کو اکٹھا تو کر ہی لیا، ساتھ ہی دشمن کو متحد ہونے کا کوئی موقع نہ دیا۔ سیدنا عمرؓ نے صرف اس پر بس نہ کیا کہ کوفہ اور بصرہ میں اپنے گورنروں اور جزیرہ عرب کے مختلف علاقوں میں دیگر قائدین کو ایرانیوں سے جنگ کرنے کے لیے اسلامی فوج تیار کرنے کا حکم دیا، بلکہ اہواز اور بلاد فارس کے بقیہ علاقوں میں مسلم قائدین و عمائدین کو حکم دیا کہ دشمن کو متحد نہ ہونے دیں۔ ان قائدین میں سلمیٰ بن القین، حرملہ بن مریطہ، زر بن کلیب اور اسود بن ربیعہ رضی اللہ عنہم جیسے لوگ قابل ذکر ہیں، ان لوگوں کی ذمہ داری تھی کہ فارس اور اہواز کی سرحد پر نگاہ رکھیں اور فارسی ذمیوں کو نہاوند میں جمع ہونے والی فارسی فوج سے ملنے کا موقع نہ دیں۔ ان قائدین نے اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائی، اصفہان و فارس کی سرحد پر اچھی طرح ڈٹے رہے اور نہاوند سے امداد کے سارے راستے مسدود کر دیے۔

(الفن العسکری الإسلامی: صفحہ 294)