معرکہ نہاوند فتح الفتوح
علی محمد الصلابیمسلمانوں نے متعدد معرکوں میں پے در پے ایرانی فوج پر فتح حاصل کی تھی اور مسلسل ان کی شکست خوردہ باقی ماندہ فوج کو پیچھے دھکیل رہے تھے، انہیں سانس لینے کا موقع نہ دیتے تھے۔ عراق میں معرکہ قادسیہ میں شاندار فتح سے لے کر نہاوند کی فیصلہ کن جنگ تک چار سال کا عرصہ گزرا جس میں مسلمانوں نے کئی کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کا لشکر فتح پر فتح پانے کے باوجود اپنی پیش قدمی کو جاری رکھے ہوئے تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اس وقت سن رسیدہ شہنشاہیت کے بھگوڑوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے لیکن ایک طویل عرصے سے جنگ میں مصروف فوج کی تنظیم نو اور مفتوحہ علاقوں کے نظم و نسق کو بہتر بنانے کے پیش نظر اگر دربار خلافت سے یہ فاروقی حکم نہ آتا کہ اب پیش قدمی روک دی جائے اور فوج زاغروس کے پہاڑوں سے آگے نہ بڑھے تو یقیناً ایرانیوں کا اسی وقت صفایا ہو جاتا۔
(الفن العسکری الإسلامی: صفحہ 284)
مسلمانوں کے ہاتھوں مسلسل ہزیمت اور خاص طور سے معرکہ قادسیہ کے بعد کے حالات نے ایرانیوں کی غیرت کو للکارا اور ان کی زندگی کو بے کیف کر دیا لیکن تنہا ان حالات کا مقابلہ کرنا ان کے بس کی بات نہ تھی، اس لیے ان کے سرداروں اور رؤسا نے اپنے بادشاہ یزدگرد کے نام پیغام بھیجا اور مسلمانوں کے خلاف نئے سرے سے جنگ چھیڑنے کی اپیل کی۔ یزدگرد نے اپیل منظور کر کے جنگ کا پختہ ارادہ کر لیا اور دوبارہ زور شور کے ساتھ مسلمانوں سے معرکہ آرائی کے لیے جنگی تیاریاں شروع کر دیں تاکہ سلطنت کی باقی ماندہ پناہ گاہوں اور قلعوں سے قوت لی جا سکے۔ چنانچہ باب سے لے کر سجستان اور خراسان تک کے پہاڑی علاقوں کے باشندوں کے نام خط لکھا کہ سب لوگ مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے نکل پڑیں اور نہاوند میں اکٹھے ہوں۔ گویا نہاوند مقابلہ کا وہ آخری مرکز ٹھہرا جس پر یزدگرد نے دستخط کیے اور یہی میدان جنگ قرار دیا گیا۔ نہاوند ایک محفوظ شہر ہے جو ہر طرف سے پہاڑیوں سے گھرا ہوا ہے، وہاں تک پہنچنا آسان نہیں، دشوار گزار راستوں سے چل کر ہی وہاں پہنچا جا سکتا ہے۔ ایرانی اس شہر میں اکٹھے ہونے لگے، تیس ہزار (30٫000) باب سے، ساٹھ ہزار (60٫000) خراسان سے اور ساٹھ ہزار سجستان سے حلوان پہنچ کر یزدگرد کے کل ایک لاکھ پچاس ہزار (1٫50٫000) جنگجو جمع ہوگئے۔ یزدگرد نے فیرزان کو ان کا سپہ سالار مقرر کیا۔
(الفن العسکری الإسلامی: صفحہ 285)
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو فارسی فوج کے اس اجتماع کا علم اس وقت ہوا جب آپؓ کوفہ میں تھے، آپؓ نے وہیں سے امیرالمؤمنینؓ کو تفصیلی صورت حال سے باخبر کیا اور مستقبل کی کارروائی کے بارے میں اجازت طلب کی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں ارکان شوریٰ کی ایک مجلس منعقد کی اور درپیش مسئلہ میں ان سے مشورہ طلب کیا، پھر سب کے مشورہ سے یہ قرارداد پاس کی کہ ایرانیوں سے ان کی آخری پناہ گاہ یعنی نہاوند میں جنگ کرنے کے لیے اسلامی فوج بھیجی جائے۔ حضرت نعمان بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہ اس وقت کسکر کے گورنر تھے اور اس سے پہلے خلیفہ کے نام یہ درخواست دے چکے تھے کہ میری اور کسکر والوں کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس کے پہلو میں کوئی بدکار دو شیزہ بن سنور کر بیٹھی ہو۔ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ مجھے کسکر سے معزول کر کے مسلمانوں کی کسی فوج کے ساتھ جہاد پر بھیج دیں۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 109)
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کی اس درخواست کو سامنے رکھتے ہوئے مجلس شوریٰ کی دوسری قرارداد یہ پاس ہوئی کہ نہاوند میں اسلامی فوج کا سپہ سالار حضرت نعمان بن مقرنؓ کو بنایا جائے اس کے بعد خلیفہ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس منصوبہ سازی کے ساتھ اسلامی فوج کو تیار کیا:
پورے اسلامی لشکر کے سپہ سالار: کسکر کے سابق گورنر حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ
کوفہ سے جانے والی فوج کے جرنیل: حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ
بصرہ سے روانہ ہونے والی فوج کے جرنیل: وہاں کے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ
مہاجرین اور انصار کی فوج کے جرنیل: حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما
اور سلمیٰ بن القین، حرملہ بن مریطہ، زر بن کلیب، اسود بن ربیعہ رضی اللہ عنہم وغیرہ دیگر قائدین اسلام ’’اہواز‘‘ میں اور بلاد فارس میں جو لوگ ادھر ادھر ہیں وہ اپنی جگہوں پر تیار رہیں گے اور دشمنوں پر نگاہ رکھیں گے کہ عراقی ذمیوں اور ایرانی دشمنوں کے درمیان باہمی رابطہ نہ ہو سکے اور دشمن ذمیوں کو جنگ پر نہ ابھار سکے۔
امیرالمؤمنین رضی اللہ عنہ نے اس منصوبہ بندی کے ساتھ تمام ریاستوں کے گورنروں اور قائدین کو اپنی ہدایات لکھ بھیجیں اور تیس ہزار مسلم مجاہدین کو جنگ کے لیے اکٹھا کر لیا۔
(الفن العسکری الإسلامی: صفحہ 286)
اس طرح یہ اسلامی لشکر حضرت نعمان بن مقرنؓ کی سپہ سالاری میں نہاوند کی طرف روانہ ہوگیا، وہاں پہنچنے پر فوج کو اندازہ ہوا کہ نہاوند کافی محفوظ ہے اور پہاڑیوں سے گھرا ہوا ہے اس کے چاروں طرف خندق کھودی گئی ہے اور خندق کے سامنے چوکور خاردار تاروں کی باڑ لگا دی گئی ہے، چوکور کانٹوں کی ایک نوک زمین میں اور تین اوپر ہیں اور کہیں زمین پر دو اوپر ہیں اور دو نیچے۔ اس باڑ کا مقصد یہ تھا کہ حملہ آوروں کی پیش قدمی کو روکا جا سکے یا کم از کم یہ کانٹے حملے آوروں کے گھوڑوں کے پاؤں میں دھنس جائیں اور ان کے کھروں میں سوراخ ہو جائیں، پھر وہ چلنے کے قابل نہ رہیں گے اور ایرانیوں کی فوج شہر پناہ کے اندر مکمل تیاری سے ہوگی۔ ادھر مسلمانوں کی فوج میں آج وہ لوگ بھی نظر آرہے تھے جنہیں معرکہ قادسیہ میں شرکت کا موقع نہ ملا تھا۔ ایرانی لشکر کے سپہ سالار فیرزان نے مقابلہ کی تدبیر اختیار کرتے ہوئے ان تمام راستوں پر ماہر تیر اندازوں کو مقرر کر دیا تھا جدھر سے مسلم فوج کی در اندازی کا اندیشہ تھا تاکہ انہیں آگے بڑھنے کا موقع نہ مل سکے اور تیر انداز انہیں مشغول رکھیں۔
(الفن العسکری الإسلامی: صفحہ 288)
مسلم شہسوار اپنے گھوڑوں کے ساتھ آگے بڑھے، گھوڑوں کو دشمن کی خار دار باڑ اور خندق کا سامنا کرنا پڑا اور اگر کوئی شہسوار شہر پناہ کے قریب پہنچ بھی جاتا تو تیر انداز اس پر تیروں کی بوچھاڑ کر دیتے۔ بالآخر مسلم فوج کے اگلے دستے کو مایوسی ہوئی اور شہر پناہ کے اندر جانے سے عاجز رہے۔ کئی دنوں تک یہی حالت برقرار رہی تو حضرت نعمان بن مقرنؓ نے اسلامی فوج کی سرکردہ شخصیتوں کو صورت حال پر غور و خوض کے لیے دعوت دی۔ طلیحہ بن خویلد اسدی کی تجویز کے مطابق سب لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ شہسواروں کا ایک دستہ آگے بڑھ کر ایرانیوں سے جنگ چھیڑے اور ایسا ماحول پیدا کر دے کہ ایرانی جنگ کرنے کے لیے شہر پناہ سے باہر نکل آئیں اور جب وہ باہر نکل آئیں تو ان کی پیش قدمی کے سامنے شہسواروں کا دستہ پیچھے ہٹتا جائے، دشمن اسے مسلمانوں کی کمزوری اور اپنی فتح پر محمول کریں گے، انہیں یہ امید ہوگی کہ اپنے سامنے پیچھے ہٹتے ہوئے شہسواروں کو جلد ہی پکڑ لیں گے۔ حالانکہ اپنی شکست خوردگی کا مظاہرہ کرنے والا یہ دستہ درحقیقت ایرانیوں کو ڈھیل دے رہا ہوگا تاکہ وہ میدان جنگ اور اپنی شہر پناہ سے جتنا دور باہر نکل سکتے ہیں نکل جائیں۔ پھر اچانک بنکروں میں چھپے ہوئے مجاہدین پیچھے سے ان پر زبردست حملہ کر کے انہیں خوب لتاڑیں گے اور دشمن اپنے متعینہ میدان جنگ، حفاظتی خندق اور شہر پناہ سے کافی دور پڑا ہوگا۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 113)