Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اللہ، کائنات، زندگی، جنت اور جہنم سے متعلق امیر المؤمنین حسن رضی اللہ عنہ کے خیالات

  علی محمد الصلابی

اپنے والد کی تربیت اور قرآن کریم کے واسطے سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اللہ کی معرفت حاصل ہوئی، اس طرح اللہ، کائنات، زندگی، جنت و جہنم، قضا و قدر، انسان کی حقیقت اور شیطان کے ساتھ اس کی کشمکش سے متعلق سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے خیالات قرآن کریم اور طریقۂ نبویﷺ سے مستفاد ہیں۔

 اللہ تعالیٰ کی ذات تمام نقائص سے مبرا اور لامتناہی کمالات سے متصف ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کی بیوی ہے نہ بچے۔

 اللہ تعالیٰ نے اس عبودیت و توحید کے مفہوم کو واضح انداز میں بیان کیا ہے۔

(منہج الرسول فی غرس الروح الجہادیۃ: صفحہ 10 تا 16)

کائنات سے متعلق سیدنا حسنؓ کے خیالات ان آیتوں سے ماخوذ ہیں:

قُلۡ اَئِنَّكُمۡ لَتَكۡفُرُوۡنَ بِالَّذِىۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِىۡ يَوۡمَيۡنِ وَتَجۡعَلُوۡنَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا‌ ذٰلِكَ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ‌۞ وَجَعَلَ فِيۡهَا رَوَاسِىَ مِنۡ فَوۡقِهَا وَبٰرَكَ فِيۡهَا وَقَدَّرَ فِيۡهَاۤ اَقۡوَاتَهَا فِىۡۤ اَرۡبَعَةِ اَيَّامٍ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِيۡنَ۞ ثُمَّ اسۡتَـوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآئِعِيۡنَ ۞ فَقَضٰٮهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِىۡ يَوۡمَيۡنِ وَاَوۡحٰى فِىۡ كُلِّ سَمَآءٍ اَمۡرَهَا‌ وَزَ يَّـنَّـا السَّمَآءَ الدُّنۡيَا بِمَصَابِيۡحَ وَحِفۡظًا ‌ذٰلِكَ تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ ۞

(سورۃ فصلت آیت 9 تا 12)

ترجمہ: کہہ دو کہ: کیا تم واقعی اس ذات کے ساتھ کفر کا معاملہ کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہو؟ وہ ذات تو سارے جہانوں کی پرورش کرنے والی ہے۔ اور اس نے زمین میں جمے ہوئے پہاڑ پیدا کیے جو اس کے اوپر ابھرے ہوئے ہیں اور اس میں برکت ڈال دی اور اس میں توازن کے ساتھ اس کی غذائیں پیدا کیں۔ سب کچھ چار دن میں تمام سوال کرنے والوں کے لیے برابر۔ پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ اس وقت دھویں کی شکل میں تھا اور اس سے اور زمین سے کہا: چلے آؤ چاہے خوشی سے یا زبردستی۔ دونوں نے کہا : ہم خوشی خوشی آتے ہیں۔ چنانچہ اس نے دو دن میں اپنے فیصلے کے تحت ان کے سات آسمان بنا دئیے اور ہر آسمان میں اس کے مناسب حکم بھیج دیا اور ہم نے اس قریب والے آسمان کو چراغوں سے سجایا اور اسے خوب محفوط کردیا۔ یہ اس ذات کی نپی تلی منصوبہ بندی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے، جس کا علم بھی مکمل۔

یہ زندگی جتنی بھی لمبی ہو اس کو ختم ہونا ہے اور متاعِ زندگی جتنی بھی عظیم ہو درحقیقت بہت مختصر اور حقیر ہے۔ ارشاد الہٰی ہے:

اِنَّمَا مَثَلُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا كَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ مِمَّا يَاۡكُلُ النَّاسُ وَالۡاَنۡعَامُ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الۡاَرۡضُ زُخۡرُفَهَا وَازَّيَّنَتۡ وَظَنَّ اَهۡلُهَاۤ اَنَّهُمۡ قٰدِرُوۡنَ عَلَيۡهَاۤ اَتٰٮهَاۤ اَمۡرُنَا لَيۡلًا اَوۡ نَهَارًا فَجَعَلۡنٰهَا حَصِيۡدًا كَاَنۡ لَّمۡ تَغۡنَ بِالۡاَمۡسِ‌ كَذٰلِكَ نُـفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّتَفَكَّرُوۡنَ ۞ (سورۃ يونس آیت 24)

ترجمہ: دنیوی زندگی کی مثال تو کچھ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا جس کی وجہ سے زمین سے اگنے والی وہ چیزیں خوب گھنی ہوگئیں جو انسان اور مویشی کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا یہ زیور پہن لیا، اور سنگھار کر کے خوشنما ہوگئی اور اس کے مالک سمجھنے لگے کہ بس اب یہ پوری طرح ان کے قابو میں ہے، تو کسی رات یا دن کے وقت ہمارا حکم آگیا (کہ اس پر کوئی آفت آجائے) اور ہم نے اس کو کٹی ہوئی کھیتی کی سپاٹ زمین میں اس طرح تبدیل کردیا جیسے کل وہ تھی ہی نہیں۔ اسی طرح ہم نشانیوں کو ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔

جنت سے متعلق سیدنا حسنؓ کے خیالات قرآنی آیات سے مستفاد ہیں۔ چنانچہ یہی تصور سیدنا حسنؓ کے ذہن و دماغ پر چھایا رہتا تھا، سیدنا حسنؓ کی سیرت پڑھنے والے پر یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی کہ آپ کے دل و دماغ کی گہرائی میں اللہ کے سامنے حاضری اور اس کے عذاب و عقاب کی سختی کا تصور رچا بسا تھا، کتاب اللہ و سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی سیدنا حسنؓ نے قضا و قدر کا مفہوم سمجھا تھا، اور یہ مفہوم سیدنا حسنؓ کے قلب و جگر میں پیوست تھا، جیسا کہ ارشاد باری ہے: 

قُلْ لَّنۡ يُّصِيۡبَـنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَـنَا هُوَ مَوۡلٰٮنَا وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۞ (سورۃ التوبة آیت 51)

ترجمہ: کہہ دو کہ: اللہ نے ہمارے مقدر میں جو تکلیف لکھ دی ہے ہمیں اس کے سوا کوئی اور تکلیف ہرگز نہیں پہنچ سکتی۔ وہ ہمارا رکھوالا ہے، اور اللہ ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے۔

قرآن کریم ہی سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو انسان اور شیطان کی کشمکش کی حقیقت کا پتہ چلا، یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ دشمن انسان پر ہر چہار جانب سے حملہ آور ہوتا ہے، معصیت الہٰی پر اسے اکساتا ہے اور اس میں نفسانی خواہشات کے جذبات کو برانگیختہ کرتا ہے، چنانچہ ابلیس لعین کے خلاف آپ اللہ کی مدد طلب کرتے، نتیجتاً آپ اپنی زندگی میں اس کے خلاف کامیاب و کامران رہے۔

حضرت آدم علیہ السلام کی غلطی سے آپ نے یہ سبق سیکھا کہ ایک مسلمان کو اپنے رب پر بھروسا کرنا چاہیے، مومن کی زندگی میں توبہ و استغفار کی بڑی اہمیت ہے، حسد اور کبر و غرور سے بچنا ضروری ہے، ساتھیوں کے ساتھ اچھے اسلوب میں ہم کلام ہونا بہت ہی اہم ہے۔ جیسا کہ ارشاد الہٰی ہے:

وَقُلْ لِّعِبَادِىۡ يَقُوۡلُوا الَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ‌ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ يَنۡزَغُ بَيۡنَهُمۡ‌ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِيۡنًا ۞ (سورۃ الإسراء آیت 53)

ترجمہ: میرے (مومن) بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہا کریں جو بہترین ہو۔ درحقیقت شیطان لوگوں کے درمیان فساد ڈالتا ہے۔ شیطان یقینی طور پر انسان کا کھلا دشمن ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو قرآن کریم کی روشنی میں زندگی گزارنے کا اعزاز بخشا، چنانچہ سیدنا حسنؓ نے ایسی ہی زندگی گزاری، سیدنا حسنؓ نے اپنے اصول و فروع کو کتاب اللہ و سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ کیا، سیدنا حسنؓ کا شمار ان ائمہ میں ہوتا ہے جو لوگوں کے لیے زندگی کی شاہراہ متعین کرتے ہیں اور جن کے اقوال و افعال اس کی زندگی میں لوگوں کے لیے نمونہ ہوا کرتے ہیں، سیدنا حسنؓ کو قرآن سے کافی شغف تھا، اسی لیے سیدنا حسنؓ کے خطبوں کی بنیاد قرآن پر ہی ہوتی تھی، چنانچہ سیدنا حسنؓ کے بارے میں مروی ہے کہ سیدنا حسنؓ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، منبر پر سورۂ ابراہیم پڑھنا شروع کردی تاآنکہ اسے ختم کردیا۔

(الطبقات تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 278، اس کی سند ضعیف ہے۔)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ آپ جمعہ کے خطبہ میں سورۂ ق کی تلاوت کیا کرتے تھے، چنانچہ امام مسلمؒ نے ام ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے سورہ ق کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن سن کر کیا ہے، آپ ہر جمعہ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے اسے پڑھتے تھے۔

(صحیح مسلم: رقم: 873)

ابن ماجہ نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر سورۂ ملک کی تلاوت کی، کئی واقعات کے ذریعہ سے آپ نے ہمیں نصیحت کی، ابوالدرداء رضی اللہ عنہ یا ابوذر رضی اللہ عنہ نے میری جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا: یہ سورت کب نازل ہوئی؟ میں نے اسے اب تک نہیں سنا تھا، آپ نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔

(سنن ابن ماجہ: رقم: 1111، اس کی سند حسن ہے۔)

اسی لیے خطبے سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بیان کرتے ہوئے امام ابن القیم رحمۃاللہ کہتے ہیں:

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر قرآن کریم کے ذریعہ سے خطبہ دیا کرتے تھے۔‘‘

(زاد المعاد: جلد 1 صفحہ 43)

اسی بناء پر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما قرآنی آیات کے ذریعہ سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، اور انھیں ان آیات کو سناتے تھے، اچھی آواز، خشوع و خضوع، تدبر، تذکیر اور اتقان کے ساتھ پڑھنے کا جو نبویﷺ طریقہ تھا وہی طریقہ سیدنا حسنؓ بھی اپناتے تھے، نتیجتاً دل لرز جاتے، آنکھیں اشکبار ہوجاتیں، سورۂ ابراہیم جسے سیدنا حسنؓ نے منبر پر پورا پڑھا تھا، پر غور و خوض کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اہم موضوعات درج ذیل ہیں:

 بنیادی عقائد کو ثابت کرنا: جیسے اللہ پر، رسولوں پر، قیامت پر اور حساب و کتاب پر ایمان لانا، توحید کو ثابت کرنا، آسمانوں اور زمین کے خالق معبود برحق کے اوصاف بیان کرنا، نزول قرآن کا مقصد یعنی لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی جانب لے جانے کو بیان کرنا، گمراہی سے بچانے، اللہ کی عبادت، فضائل اور بنیادی عقائد میں رسولوں کی دعوت کا متحد ہونا۔

وعدہ اور وعید: کافروں کی مذمت اور کفر کے باعث انھیں سخت عذاب کی وعید اور دھمکی، مومنوں کو ان کے اچھے اعمال پر جنت کا وعدہ (آیت 2، 23، 28 سے 31 تک)

 افہام و تفہیم: آسانی کے لیے رسولوں کو انھی کی قوموں کی زبان میں بھیجنے کے بارے میں گفتگو۔ (سورۃ ق آیت 4)

سابقہ رسولوں کے ساتھ ان کی قوموں کے برتاؤ کو بیان کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا، اور ان کے اوپر آئے ہوئے عذابوں کو بیان کرکے نصیحت کرنا۔ (آیات 9 تا 18)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اپنے قوم سے گفتگو اور انھیں اللہ کی عبادت کی دعوت دینا۔ (آیات 5 تا 8)

 تعمیر کعبہ کے بعد ابراہیم علیہ السلام کی اہل مکہ کے لیے امن و امان، رزق، کعبہ کی جانب دلوں کے میلان، اپنے آپ کو اور اپنی آل و اولاد کو کی عبادت سے بچانے، بڑھاپے میں اولاد عطا کرنے پر رب کا شکر ادا کرنے، انھیں اور ان کی آل و اولاد کو نماز قائم کرنے کی توفیق دینے، اپنے، اپنے والدین اور تمام مومنوں کے لیے مغفرت طلب کرنے سے متعلق دعائیں۔ (آیات 35 تا 41)

آخرت میں جہنمیوں کے مابین گفتگو کا ایک منظر (آیات 19 تا 23)

حق و ایمان کے کلمے اور باطل و گمراہی کے کلمے کی بہترین درخت اور خراب درخت سے مثال دینا۔

(آیات 24 تا 27)

قیامت کی ہولناکیوں کو بیان کرنا، ظالموں کو دھمکی دینا، ان کے انواع و اقسام کے عذاب کو بیان کرنا۔

(آیات 42 تا 52)

 قیامت تک عذاب کو مؤخر کرنے کی حکمت کو بیان کرنا، اور اسی پر سورت ختم ہوئی ہے۔ (آیات 51 تا 52)

یہ ہیں سورۂ ابراہیم کے اہم موضوعات جسے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے خطبۂ جمعہ میں منبر پر پڑھا تھا۔

اسی طرح سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سونے کے لیے جب بستر پر لیٹتے تو سورۂ کہف کی تلاوت کرتے تھے، اس سورت کی ابتداء قرآن کی صفت بیان کرنے سے شروع ہوتی ہے کہ وہ بالکل درست کتاب ہے، اس کے الفاظ و معانی میں کسی قسم کا اختلاف اور تضاد نہیں ہے، اور وہ بشارت دینے کے لیے نازل ہوئی ہے، پھر زینت و جمال اور ایسے عجائب کی جانب توجہ دلائی ہے جو اللہ کی قدرت پر واضح طور سے دلالت کرتے ہیں، اس سورت میں اصحابِ کہف، خضر و موسیٰ علیہم السلام اور ذوالقرنین کے قصوں کو بیان کیا گیا ہے۔

اصحاب کہف کا قصہ، ہدایت کی اتباع اور صحیح عقیدے کی راہ میں مال و دولت، دوست و احباب، اعزہ و اقارب، اہل و عیال اور وطن کی قربانیوں کی نہایت عمدہ اور بہترین مثال ہے، ایک بت پرست بادشاہ کی پکڑ سے بچنے کے لیے یہ مومن نوجوان اپنے دین کے ساتھ بھاگ کھڑے ہوئے، اور پہاڑ کے ایک غار میں اکٹھے ہوئے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں تین سو نو ہجری سال تک سلا دیا، پھر انھیں اٹھایا تاکہ لوگوں کی نگاہوں کے سامنے دوبارہ پیدا کرنے اور اٹھانے پر اپنی قدرت کی دلیل قائم کردے۔

قصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ تواضع اپنائیں، فقیر مومنوں کے ساتھ اٹھیں بیٹھیں، اور دین کی دعوت دینے کے لیے جا جا کر صرف مالداروں کے پاس نہ بیٹھیں:

وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم۞ (سورۃ الکہف آیت 28)

’’اور اپنے آپ کو انھی کے ساتھ رکھا کرو جو اپنے پروردگار کو صبح شام پکارتے ہیں۔‘‘

پھر اللہ تعالیٰ نے حق کو ظاہر کرنے کے بعد کافروں کو دھمکی دی ہے اور آخرت میں ان کے لیے جو سخت عذاب تیار کر رکھا ہے اس کا تذکرہ کیا ہے، نیز اس کا ان جنتوں سے کیا ہے جنھیں اس نے صالح مومنوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ (آیات 30 تا 31)

ساٹھ سے اٹھتر نمبر کی آیات میں مذکور خضر و موسیٰ علیہم السلام کا قصہ حصولِ علم میں علماء کے لیے تواضع کی ایک بہترین مثال ہے اور یہ کہ دین کے اصول و فروع کے علاوہ ایک نیک بندے کے پاس کچھ ایسی باتوں کا علم ہوسکتا ہے جو انبیاء کے پاس نہ ہو، اس کی دلیل کشتی میں سوراخ کر دینا، بچے کو قتل کرنے کا واقعہ پیش آنا، اور گرتی دیوار کو ٹھیک کر دینا ہے۔

تراسی سے ننانوے تک کی آیتوں میں مذکور ذوالقرنین کے قصہ میں حاکموں اور بادشاہوں کے لیے عبرت ہے، اس لیے کہ یہ بادشاہ متقی، عادل اور صالح ہونے کے باعث سدّ بنا سکا اور دنیا پر حکومت قائم کر سکا، اسی قصے کے اثناء میں امر واقع سے مستفاد تین بہترین قسم کی مثالیں یہ ظاہر کرنے کے لیے ملتی ہیں کہ حق کا تعلق حکومت و مالداری سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ایمان سے ہے،

سب سے پہلی مثال دو باغ والوں کا قصہ ہے جس میں اپنے مال پر مغرور مالدار اور اپنے ایمان پر فخر کرنے والے فقیر کے مابین موازنہ کیا گیا ہے تاکہ غریب مومنوں اور مالدار مشرکوں کی حالت بیان کی جائے۔

دوسری مثال دنیاوی زندگی کی ہے تاکہ لوگوں کو آگاہ کیا جاسکے کہ یہ دنیا فنا اور ختم ہونے والی ہے، اس کے بعد ہی قیامت کے بعض ہیبت ناک مناظر کو ذکر کیا گیا ہے، جیسے پہاڑوں کا چلانا، لوگوں کو میدان محشر میں جمع کرنا، لوگوں میں ان کے نامۂ اعمال کو تقسیم کرنا۔

تیسری مثال ابلیس کا آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کرنے کا واقعہ ہے، تاکہ کبر و غرور اور اس کے نتیجے میں شیطان کو راندۂ درگاہ کرنے اور لوگوں کو اس کے شر سے آگاہ کرنے کے مابین اور اللہ کی عبودیت و تواضع اور اس کے نتیجے میں اللہ کی خوشنودی کے مابین موازنہ کیا جاسکے۔

اس کے بعد یہ بیان کیا گیا ہے کہ نصیحت و موعظت کے لیے، اللہ کی آیتوں سے اعراض کرنے پر ڈرانے، اور ان پر عمل کرنے پر بشارت دینے جیسی رسولوں کی ذمہ داریوں کو واضح کرنے کے لیے مثالوں کو بیان کرنے پر قرآن مجید میں کافی توجہ دی گئی ہے، سورت کا خاتمہ تین موضوعات پر ہوا ہے: پہلا کفار کے اعمال کے ناکارہ ہونے اور آخرت میں مفید نہ ہونے کا اعلان (100 تا 106)۔

دوسرا نیک اعمال کرنے والے مؤمنوں کو ابدی نعمتوں کی خوش خبری(107، 108)۔

تیسرا یہ کہ اللہ کا علم لامتناہی و لا محدود ہے(109، 110)۔

(التفسیر المنیر: جلد 16، صفحہ 197،198، 199)

آخری آیت میں اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تواضع کاحکم دیتے ہوئے فرمایا ہے:

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُكُمۡ يُوۡحٰٓى اِلَىَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمۡ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ‌ فَمَنۡ كَانَ يَرۡجُوۡالِقَآءَ رَبِّهٖ فَلۡيَـعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًـاوَّلَايُشۡرِكۡ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا ۞ (سورۃ الكهف آیت 110)

ترجمہ: کہہ دو کہ: میں تو تمہی جیسا ایک انسان ہوں (البتہ) مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تم سب کا خدا بس ایک خدا ہے۔ لہٰذا جس کسی کو اپنے مالک سے جاملنے کی امید ہو، اسے چاہیے کہ وہ نیک عمل کرے، اور اپنے مالک کی عبادت میں کسی اور کو شریک نہ ٹھہرائے۔

یعنی اے محمد! آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں انسان ہونے میں تمھی جیسا ہوں، نہ تو میں فرشتہ ہوں اور نہ ہی معبود، مجھے صرف انھی چیزوں کا علم ہے جنھیں میرے رب نے مجھے بتایا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی ہے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ کی تنہا و بے نیاز ذات ہے، اس کی الوہیت میں کوئی بھی شریک نہیں، جس معبود کی تمھیں لازمی طور سے عبادت کرنی ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔

فَمَنۡ كَانَ يَرۡجُوۡالِقَآءَ رَبِّهٖ فَلۡيَـعۡمَلۡ عَمَلًا صَالِحًـاوَّلَا يُشۡرِكۡ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۞ (سورۃ الكهف آیت 110)

ترجمہ: یعنی جسے اللہ کی ملاقات پر ایمان ہو، اور اس کی اطاعت کے عوض ثواب کی امید ہو تو اسے نیک اعمال کے ذریعہ سے اس کی قربت حاصل کرنی اور صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیے اور اس کی عبادت میں کسی بھی دوسری مخلوق کو شریک کرنے سے بچنا چاہیے، چاہے وہ شرکِ جلی ہو جیسے بتوں کی پوجا، یا غیر اللہ کو پکارنا، یا کسی مخلوق کے لیے نذر ماننا یا اس بات کا اعتقاد رکھنا کہ کوئی انسان ایسا فائدہ یا نقصان پہنچا سکتا ہے جو اللہ کے لیے خاص ہے یا اللہ کے شایانِ شان خوف و امید اور محبت جیسی عبادتوں کو غیر اللہ کی جانب پھیر دینا، یا شرکِ خفی ہو جیسے ریاکاری، دکھاوے اور شہرت کے لیے کوئی کام کرنا۔

(التفسیر المنیر: جلد 16 صفحہ 43)

ریا کاری شرک اصغر ہے، جیسا کہ فرمان نبوی ہے:

’’تمھارے سلسلے میں مجھے سب سے زیادہ خوف شرک اصغر کا ہے، لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! شرک اصغر کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ریاکاری، روز قیامت جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے رہا ہوگا فرمائے گا: ان کے پاس جاؤ جس کے لیے دنیا میں تم ریاکاری کرتے تھے اور دیکھو کیا تم ان کے پاس کوئی بدلہ پاتے ہو۔

(مسند أحمد: جلد 5 صفحہ 428، 429 اس کی سند حسن ہے۔)

آیت کریمہ نے قبولیت اعمال کی دونوں شرطوں کو ذکر کیا ہے:

1۔ اتباعِ رسول جس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے: فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا۔

2۔ عبادت صرف اللہ کی کی جائے، جس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے:

وَّلَا يُشۡرِكۡ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا

ان معانی اور آیات کو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ہر روز نہایت غور و فکر سے پڑھتے تھے، جن کا آپ کی ذات اور زندگی پر کافی اثر تھا، اسی طرح سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سیرت النبی کا کافی اہتمام کرتے تھے۔ سیرت النبیﷺ کا علم اس دور کی ثقافت کا اہم جز تھا، چنانچہ اسماعیل بن محمد بن سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں: میرے والد ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کے بارے میں بتلاتے تھے، ہم سے ان کا تذکرہ کرتے اور فرماتے: یہ تمھارے آباء و اجداد کے کارنامے ہیں، انھیں فراموش نہ کرو۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 2 صفحہ 242)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہمیں قرآن کی سورت کی مانند ہی مغازی کی تعلیم دی جاتی تھی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 2 صفحہ 242، السیرۃ النبویۃ للصلابی: جلد 1 صفحہ 6)

رہا معاملہ حدیثِ رسول کا تو سیدنا حسنؓ کے والد امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ خلفائے راشدینؓ میں احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ روایت کرنے والے تھے، اس کے اسباب یہ ہیں کہ بقیہ خلفاء کے بعد آپ کی وفات ہوئی ہے، سیدنا حسنؓ سے روایت کرنے والوں کی تعداد بھی زیادہ ہے، ایسے تابعین جو علم حاصل کرنے والے اور زیادہ سوال کرنے والے تھے مختلف مقامات میں پھیل چکے تھے، ایسے واقعات رونما ہوچکے تھے جو احادیث کی روایت اور انھیں دوسروں تک پہنچانے کے متقاضی تھے، چنانچہ راویوں نے آپ سے وہ تمام روایتیں پوری امانت و دیانت کے ساتھ نقل کیں جو انھیں ملیں، سیدنا علیؓ سے آپ کے بیٹے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے بھرپور استفادہ کیا۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ سیدنا حسنؓ کے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سارے واقعات اور احادیث کو سیدنا حسنؓ نے سیکھ لیا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب کرکے ان کو ذکر کیا ہے جیسا کہ میں نے پہلے ہی بیان کردیا ہے۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اپنی اولاد کو طلب علم پر ابھارتے چنانچہ آپ نے اپنے بیٹوں اور بھتیجوں کو بلا کر کہا: اے میرے بیٹو اور بھتیجو! تم آج چھوٹے ہو، عنقریب تم بڑے ہو جاؤ گے، اس لیے علم کو سیکھو، تم میں سے جو یاد کرلینے یا روایت کرنے سے قاصر ہو تو وہ لکھ کر اپنے گھر میں رکھے۔

(الطبقات: جلد 1 صفحہ 292، تحقیق السلمی، اس کی سند حسن ہے۔)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ قادر الکلام خطیب تھے۔ ایک دن امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: اے حسن کھڑے ہو، اور تقریر کرو، انھوں نے کہا: آپ کو دیکھ کر تقریر کرتے ہوئے میں ڈرتا ہوں، چنانچہ سیدنا علیؓ وہاں سے ہٹ کر ایسی جگہ چلے گئے جہاں سے آپ سن سکیں، اور وہ سیدنا حسنؓ کو نہ دیکھ سکیں، چنانچہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور حمد و ثنا کے بعد تقریر کی۔

(الطبقات: جلد 1 صفحہ 276، اس کی سند ضعیف اور مرسل ہے۔)

اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی:

ذُرِّيَّةً بَعۡضُهَا مِنۡ بَعۡضٍ‌ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ‌۞ (سورۃ آل عمران آیت 34)

ترجمہ: یہ ایسی نسل تھی جس کے افراد (نیکی اور اخلاص میں) ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے، اور اللہ (ہر ایک کی بات) سننے والا ہے، ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

خطابت، فصاحت و بلاغت اور قوتِ بیان سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے نانا اور والد سے ورثے میں ملی تھی، تاریخی کتابوں میں مذکور ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروّت سے متعلق بعض چیزوں کے بارے میں پوچھتے ہوئے کہا: اے میرے لاڈلے! ’’سداد‘‘ کیا ہے؟

جواب دیا: اے والد محترم! ’’سداد‘‘ نام ہے بری بات کا جواب بھلی بات سے دینے کا،

پوچھا: شرف کیا ہے؟ جواب دیا: آپس داری اور ہمدردی برتنا،

پوچھا: مروت کیا ہے؟ جواب دیا: پاک دامنی اور اپنے مال کی اصلاح۔

پوچھا: دُقَّہ کیا ہے؟ جواب دیا: معمولی چیز میں تامل اور حقیر چیز کو نہ دینا۔

پوچھا: ’’لؤم‘‘ کیا ہے؟ جواب دیا: انسان کا اپنی حفاظت کرنا، اور اپنی بیوی کو بے حفاظت چھوڑ دینا۔

پوچھا: سماحت کیا ہے؟ جواب دیا: تنگ دستی اور مال داری دونوں صورتوں میں خرچ کرنا،

پوچھا: شح کیا ہے؟ جواب دیا: تمھارے پاس جو موجود ہو اسے باعث شرف اور جو خرچ کردو اسے ضائع ہو جانے والی چیز سمجھو،

پوچھا: إخاء کیا ہے؟ جواب دیا: مشکل اور آسانی دونوں صورتوں میں وفاداری کا ثبوت دینا، پوچھا: جبن کیا ہے؟ جواب دیا: دوست کے خلاف شیر بننا اور دشمن کے خلاف بلی بن جانا،

پوچھا: غنیمت کیا ہے؟ جواب دیا: تقویٰ کی رغبت اور دنیا سے بے رغبتی،

پوچھا: حلم کیا ہے؟ جواب دیا: غصہ پی جانا اور نفس کو قابو میں رکھنا،

پوچھا: غنا کیا ہے؟ جواب دیا: اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ رزق پر چاہے کم ہی کیوں نہ ہو راضی رہنا، اس لیے کہ اصل مال داری دل کی مال داری ہے، پوچھا: فقر کیا ہے؟ جواب دیا: نفس ہر چیز کا لالچی ہو، پوچھا: ذل کیا ہے؟ جواب دیا: بھرپور وار سے گھبرا کر بھاگنا،

پوچھا: جرأت کیا ہے؟ جواب دیا: ساتھیوں کے ساتھ رہنا،

پوچھا: کلفت کیا ہے؟ جواب دیا: لایعنی بات کرنا۔ پوچھا: مجد کیا ہے؟ جواب دیا: مصیبت میں دینا اور جرم کو معاف کردینا،

پوچھا: عقل کیا ہے؟ جواب دیا: دل سے جن چیزوں کی حفاظت کا مطالبہ کیا جائے دل کا ان کی حفاظت کرنا۔

پوچھا: خرق (حماقت) کیا ہے؟ جواب دیا: حاکم وقت سے دشمنی کرنا اور بلند آواز سے اس سے گفتگو کرنا،

پوچھا: حزم کیا ہے؟ جواب دیا: ذمہ داروں کے ساتھ سوچ سمجھ اور آسانی سے پیش آنا، لوگوں کے سلسلے میں بدگمانی سے بچنا،

پوچھا: شرف کیا ہے؟ جواب دیا: بھائیوں کی موافقت اور پڑوسیوں کی حفاظت،

پوچھا: سفہ (بے وقوفی) کیا ہے؟ جواب دیا: گھٹیا لوگوں کی اتباع اور بھٹکے ہوئے لوگوں کے ساتھ رہنا،

پوچھا: غفلت کیا ہے؟ جواب دیا: مسجد کو چھوڑ دینا اور مفسد کی اطاعت کرنا۔

پوچھا: حرمان کیا ہے؟ جواب دیا: جو حصہ تمھیں دیا جا رہا ہو اسے چھوڑ دینا۔

پوچھا: سید کون ہے؟ جواب دیا: جو مال کے سلسلے میں زیادہ چالاکی برتنے والا نہ ہو، عزت و آبرو میں متشدد نہ ہو، اسے گالیاں دی جائیں تو اس کا جواب نہ دے، قبیلہ کے لوگوں کا خیال رکھے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے لاڈلے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے:

لَا فَقْرَ أَشَدُّ مِنَ الْجَہْلِ، وَلَا مَالَ أَعْوَدُ مِنَ الْعَقْلِ، وَ لَا وَحْدَۃَ أَوْحَشُ مِنَ الْعَجَبِ، وَ لَا مُظَاہَرَۃَ أَوْثَقُ مِنَ الْمُشَاوَرَۃِ، وَ لَا عَقْلَ کَالتَّدْبِیْرِ وَ لَا حَسَبَ کَحُسْنِ الْخُلُقِ، وَ لَا وَرَعَ کَالْکَفِّ، وَلَا عِبَادَۃَ کَالتَّفَکُّرِ، وَ لَا إِیْمَانَ کَالْحَیَائِ، وَ رَأْسُ الْإِیْماَنِ الصَّبْرُ، وَ آفَۃُ الْحَدِیْثِ الْکِذْبُ، وَ آفَۃُ الْعِلْمِ النِّسْیَانُ، وَ آفَۃُ الْحِلْمِ السَّفَہُ، وَ آفَۃُ الْعِبَادَۃِ الْفَتْرَۃُ، وَ آفَۃُ الظَّرْفِ الصَّلَفُ، وَ آفَۃُ الشُّجَاعَۃِ الْبَغْيُ، وَ آفَۃُ الْسَّمَاحَۃِ الْمَنُّ، وَ آفَۃُ الْجَمَالِ الْخُیَلَائُ وَ آفَۃُ الْحُبِّ الْفَخْرُ۔

’’جہالت سے بڑھ کر کوئی فقیری نہیں، عقل سے بڑھ کر کوئی مال نفع بخش نہیں، کبر و غرور سے زیادہ وحشت ناک کوئی تنہائی نہیں، مشاورت سے بڑھ کر کوئی دوسری چیز قابل بھروسا نہیں، تدبیر جیسی کوئی عقلمندی نہیں، حسن اخلاق جیسی کوئی قابل عزت چیز نہیں، گناہوں سے باز رہنے جیسا کوئی تقویٰ نہیں، کائنات میں غور و فکر جیسی کوئی عبادت نہیں، حیا جیسا ایمان کا کوئی جز نہیں، ایمان کا اعلیٰ ترین جز صبر ہے، گفتگو کی آفت جھوٹ ہے، علم کی آفت بھولنا ہے، بردباری کی آفت حماقت ہے، عبادت کی آفت سستی ہے، دانائی کی آفت شیخی ہے، بہادری کی آفت بغاوت ہے، بھلائی کی آفت احسان جتلانا ہے، جمال کی آفت گھمنڈ ہے، محبت کی آفت فخر ہے۔‘‘

پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے لاڈلے! کسی شخص کو ہرگز حقیر نہ سمجھو، اگر تم سے بڑا ہو تو اسے اپنے باپ جیسا اور اگر تمھارے جیسا ہو تو اسے اپنے بھائی جیسا، اور اگر تم سے چھوٹا ہو تو اسے اپنے بیٹے جیسا سمجھو، مروت کی انھی چیزوں کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے سوال کیا تھا۔

قاضی ابوالفرج فرماتے ہیں: ان مذکورہ باتوں میں بہت ساری حکمتیں اور فوائد مضمر ہیں، ان سے وہ شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو ان کی رعایت کرے، حفاظت کرے، یاد رکھے، ان پر عمل کرے، جو ان پر عمل کر کے، ان کی جانب رجوع کر کے اپنے نفس کو مؤدب و مہذب بنائے، ان پر عمل کرنے سے بھرپور فائدہ حاصل ہوگا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے امیر المؤمنین اور آپﷺ کے اصحاب کی روایت کردہ حدیثوں کے حفظ اور ان میں غور و فکر سے کوئی بھی صاحبِ عقل و علم و حکمت نیز قوم کا سردار مستغنی نہیں، نیک بخت وہ ہے جسے انھیں اپنانے کی توفیق ہوئی، نصیب والا وہ شخص ہے جسے ان کو اپنانے اور ان پر عمل کرنے کا موقع ملا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 202)

ابن کثیر رحمۃاللہ علیہ اس اثر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: لیکن یہ اثر اور اس میں مذکور مرفوع حدیث ضعیف ہے، اس کی متن میں نکارت کے ایسے الفاظ ہیں جو اس پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ محفوظ نہیں ہے۔ واللّٰہ أعلم۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 202۔ الطبرانی الکبیر: یہ حدیث موضوع ہے۔)

مذکورہ امور جو کتاب و سنت سے متعارض نہیں، نہ ہی ان پر کسی عقیدے اور عبادت کی بنیاد ہے، بلکہ وہ مکارم اخلاق کی دعوت دیتے ہیں، تو انھیں مان لینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ایمان و یقین کے مابین کتنی مسافت ہے؟ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: چار انگل، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیسے؟ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ایمان ہر وہ چیز ہے جسے تمھارے کان سنیں اور تمھارا دل اس کی تصدیق کرے، اور یقین ہر وہ چیز ہے جسے تمھاری آنکھیں دیکھیں اور تمھارا دل اس پر یقین کرے، اور آنکھ و کان کے مابین چار انگل سے زیادہ دوری نہیں ہے۔

(التبیین فی انساب القرشیین: صفحہ 127)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے اقوال میں سے درج ذیل چیزیں ہیں:

حُسْنُ السُّؤَالِ نِصْفُ الْعِلْمِ۔

(نور الأبصار للشبلنجی: صفحہ 122، الحسن بن علی رسالۃ ماجستیر: صفحہ 38)

’’اچھے ڈھنگ سے سوال نصف علم ہے۔‘‘

خاموشی کے بارے میں پوچھے جانے پر سیدنا حسنؓ نے فرمایا:

ہُوَ سَتْرُ الْعَیْبِ أَوْ زَیْنُ الْعِرْضِ۔ وَ فَاعِلُہٗ فِیْ رَاحَۃٍ وَ جَلِیْسُہُ فِیْ اَمَانٍ

(من أقوال الصحابۃ: صفحہ 67 نقلا عن الحسن بن علی رسالۃ ماجستیر: صفحہ 38)

’’وہ عیب کی پردہ پوشی یا عزت و آبرو کی زینت ہے۔ خاموشی اختیار کرنے والا آرام میں ہوتا ہے۔ اور اس کا ہم نشین امن وامان میں ہوتا ہے۔‘‘

سیدنا حسنؓ نے عربی زبان سیکھنے کی وصیت کی ہے۔

(مفتاح السعادۃ: احمد مصطفی: جلد 2 صفحہ 82 نقلا عن الحسن بن علی)

عربی زبان سیکھنے کے سلسلے میں سیدنا حسنؓ کی تاکید، پڑھنے بالخصوص قرآنی آیات پڑھنے میں قواعد کے تطبیق کی ضرورت کی تاکید ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے عربی زبان ہی میں قرآن مجید کو نازل فرمایا ہے، اور اسی میں اپنے دین کے احکام وفرائض کو بتلایا ہے، اسی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پیغام رسالت پہنچایا، اسی کے ذریعہ سے احادیث نبویہﷺ کی تعلیم دی، اسی میں علم و حکمت اور دینی امور پر مشتمل کتابیں تصنیف کی گئیں، اس لیے ہر نو عمر پر عربی زبان سیکھنا لازمی ہے، ورنہ وہ دین سے جاہل و علم میں ناقص رہے گا، ساتھ ہی ساتھ قرآن مجید فصاحت و بلاغت و بیان اور سننے میں مٹھاس سے بھرپور ہے۔

(نصیحۃ الملوک: صفحہ 350، للماوردی)

اسی طرح عربی زبان سیکھنے کے سلسلے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی تاکید یہ بتلاتی ہے کہ سیدنا حسنؓ عربی زبان کے ماہر تھے، چنانچہ آپؓ کا شمار فصحائے عرب میں ہوتا تھا۔

عمرو بن العلاء کا قول ہے:

ما رأیت أفصح من الحسن بن علی رضی اللّٰہ عنہما۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 4 صفحہ 132)

’’میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ فصیح شخص کو نہیں دیکھا۔‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے بہت سارے ہونہار شاگرد تھے، جن میں سے آپ کے بیٹے حسن، مسیب بن نجبہ، سوید بن غفلہ، علاء بن عبدالرحمٰن، شعبی، ہبیرہ بن مریم، اصبغ بن نباتہ، جابر بن خالد، ابوالحوراء، عیسیٰ بن مامون بن زرارہ، ابویحییٰ عمیر بن سعید نخعی، ابومریم قیس ثقفی، طحرب عجلی، محمد بن اسحاق کے والد اسحاق بن یسار، سفیان بن لیل اور عمر بن قیس تھے۔

(تاریخ دمشق: جلد 5 صفحہ 14)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہونے کے وقت دنیاوی و ذاتی مصلحت پر امت کے اتحاد اور خون کی حفاظت کو مقدم رکھنے سے متعلق شریعت کے مقاصد کی گہری معرفت اور مصالح و مفاسد کے جاننے میں آپ کی باریک بینی اور علمی تبحر کا پتہ چلتا ہے۔