ابتلاء اور حبشہ کی طرف ہجرت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ابتلاء اور حبشہ کی طرف ہجرت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

ابتلاء اور حبشہ کی طرف ہجرت

ابتلاء کی سنتِ الہٰی افراد و جماعت اور اقوام و ملل میں جاری ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں یہ سنت جاری رہی انہوں نے ان مصائب و آلام کا اس طرح مردانہ وار سامنا کیا جس سے دیوہیکل پہاڑ عاجز آ جائیں۔ اللہ کی راہ میں انہوں نے اپنا مال و خون بہایا اور مشقتیں برداشت کیں، اعلیٰ حسب و نسب کے مسلمان بھی اس ابتلاء سے محفوظ نہ رہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی اپنے چچا حکم بن ابی العاص بن امیہ کے ہاتھوں اللہ کی راہ میں اذیت پہنچائے گئے۔ چچا نے آپؓ کو رسّی سے جکڑ دیا اور کہا کیا تم نے اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑ کر نئے دین کو اختیار کر لیا ہے؟ میں تم کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ تم اس دین سے پھر نہیں جاتے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میں کبھی اس دین کو چھوڑ نہیں سکتا، جب حکم نے دین پر استقامت اور ان کی اپنے موقف میں صلابت دیکھی تو چھوڑ دیا۔

(التمہید و البیان: صفحہ، 22)

ایذا رسانی کا یہ سلسلہ تمام مسلمانوں کے ساتھ شدت اختیار کر گیا اور حد سے تجاوز کر گیا، سیدنا یاسر اور ان کی بیوی رضی اللہ عنہما شہید کر دیے گئے۔ اس صورتِ حال سے رسول اللہﷺ سخت پریشان ہوئے اور مسلمانوں کے سلسلہ میں فکر مند ہوئے کہ ان کے لیے جائے سکون کہاں ہے؟ پھر آپﷺ کو حبشہ کا خیال آیا اور مسلمانوں سے فرمایا:

لو خرجتم إلی الحبشۃ فإن بہا ملکا صالحا لا یظلم عندہ احد۔

ترجمہ: ’’اگر تم حبشہ چلے جاؤ تو بہتر ہو گا، وہاں صالح بادشاہ ہے اس کے یہاں کسی پر ظلم نہیں ہوتا ہے۔‘‘

(الھجرۃ فی القرآن الکریم: صفحہ، 290 السیرۃ النبویۃ لابنِ ہشام: جلد، 1 صفحہ، 413)

حبشہ کی طرف ہجرت کا آغاز ہوا اور رسول اللہﷺ الم زدہ ہوئے، آپﷺ دیکھ رہے تھے کہ مسلمان چپکے چپکے مکہ سے نکل رہے ہیں

(دماء علی قمیص عثمان: صفحہ، 15 الطبقات: جلد، 1 صفحہ، 204)

اور سمندری سفر کر رہے ہیں۔ بعض سواری پر اور بعض پیدل چل کر بحرِ احمر کے ساحل پر پہنچے پھر سب نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر بنا لیا، اللہ کی مشیت سے انہیں دو کشتیاں مل گئیں اور نصف نصف دینار کے عوض سب سوار ہو گئے۔ جب قریش کو ان کے سلسلہ میں خبر ملی تو جلدی سے ساحل سمندر پہنچے لیکن دونوں کشتیاں روانہ ہو چکی تھیں۔

(الطبقات: جلد، 1 صفحہ، 204 تاریخ الطبری: جلد، 2 صفحہ، 69)

حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا شرف پہلی اور دوسری مرتبہ جن نفوس کو حاصل ہوا ان میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما اور ان کی زوجہ محترمہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا شامل ہیں۔

یہ لوگ رجب 5 نبوی میں حبشہ پہنچے، وہاں انہیں امن و امان اور عبادت کی آزادی حاصل ہوئی، قرآن پاک نے ہجرتِ حبشہ کا ذکر کیا ہے۔

ارشادِ الہٰی ہے:

وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِی اللّٰهِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْيَا حَسَنَةً وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ (سورة النحل: آیت، 41)

ترجمہ: ’’جن لوگوں نے ظلم برداشت کرنے کے بعد اللہ کی راہ میں ترکِ وطن کیا ہے ہم انہیں بہتر سے بہتر ٹھکانا دنیا میں عطا فرمائیں گے اور آخرت کا ثواب تو بہت ہی بڑا ہے کاش! لوگ اس سے واقف ہوتے۔‘‘

امام قرطبی رحمۃ اللہ نے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں حضرت قتادہ رحمۃ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ یہاں مقصود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں جن پر مکہ کے مشرکین نے ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے اور انہیں مکہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا یہاں تک کہ ان کا ایک گروہ حبشہ جا پہنچا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مدینہ میں جائے قرار عطا فرمایا، اور ان کے لیے اہلِ ایمان میں سے انصار بنائے۔

(الجامع لاحکام القرآن، القرطبی: جلد، 10 صفحہ، 107)

ارشاد الہٰی ہے:

قُلْ يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِی هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَأَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ (سورة الزمر: آیت، 10)

ترجمہ: ’’کہہ دو کہ اے میرے ایمان والے بندو! اپنے رب سے ڈرتے رہو، جو اس دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لیے نیک بدلہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین کشادہ ہے، صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا بے شمار اجر دیا جاتا ہے۔‘‘

سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے مقصود سیدنا جعفرؓ بن ابی طالب اور وہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں جنہوں نے ان کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ 

(الجامع لاحکام القرآن، القرطبی: جلد، 15 صفحہ، 240 )

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس ہجرت سے استفادہ کیا، اپنے تجربات میں اضافہ کیا اور اس بابرکت سفر میں دروس و اسباق حاصل کیے ان میں سے اہم ترین دروس و عبریہ تھے:

1: دہشت گردوں اور گمراہوں کے انواع و اقسام کے مظالم کے باوجود اہلِ ایمان کا اپنے عقیدہ پر ثابت قدم رہنا ان کے صدقِ ایمان، اخلاص عقیدہ اور بلندی نفس کی دلیل ہے کیوں کہ یہ لوگ راحت ضمیر، اطمینانِ نفس و عقل اور اللہ کی رضا کو جسمانی تعذیب و حرمان اور جو تکلیف انہیں پہنچتی ہے اس سے کہیں زیادہ عظیم تصور کرتے ہیں، کیوں کہ مومنین صادقین اور مخلصین داعیان کے یہاں غلبہ ہمیشہ ارواح کو حاصل ہوتا ہے اجسام کو نہیں، یہ نفوس ارواح کے مطالب کو پورا کرنے میں جلدی کرتے ہیں اور اجسام کے مطالب، راحت و آرام، لذت و آسودگی کی پروا نہیں کرتے اور اسی طرح دعوت و تحریکات پروان چڑھتی ہیں اور ظلم و جہالت سے لوگوں کو نجات ملتی ہے۔

(السیرۃ النبویۃ، الدکتور مصطفٰی السباعی: صفحہ، 57)

صفحہ 1 از 2