سیدنا حسینؓ شہید کر دیے گئے
مولانا اقبال رنگونیسیدنا حسینؓ نے اپنی بات ان تک پہنچا دی تھی آپؓ چاہتے تھے کہ یہ معاملہ امن کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچ جائے ابنِ زیاد اور شمر نے آپ کے پیغام امن کو جنگ میں بدلنے کی پوری منصوبہ بندی کر رکھی تھی وہ نہ چاہتے تھے کہ یہ مسئلہ پُر امن طور پر حل ہو جائے وہ جانتے تھے کہ اگر سیدنا حسینؓ اور یزید کے درمیان ملاقات ہو جاتی تو ان کے ناپاک ارادے اور مکروہ منصوبے ناکام ہو جائیں گے اس لیے وہ اس بات پر مصر رہے کہ سیدنا حسینؓ اپنے آپ کو پہلے ہمارے حوالے کریں، ہماری بیعت کریں، پھر بات آگے چلے گی مگر سیدنا حسینؓ نے ابن زیاد کی بات قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
پھر وہاں تاریخ کا وہ المناک، غمناک اور افسوسناک حادثہ رونما ہوا، جس کے تکلیف دہ اثرات سے امتِ مسلمہ اب تک تڑپ رہی ہے آپ کے سامنے آپ کے اہل و عیال اور دوست احباب یکے بعد دیگرے شہید ہوتے گئے چھوٹے بچے آپ کے ہاتھ پر تھے، ظالموں نے انہیں بھی اپنے ظلم کا نشانہ بنا لیا سیدنا حسینؓ اکیلے رہ گئے ظالموں نے آپ کو پے در پے حملے کر کے زخمی کر دیا تھا زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے آپ کی طاقت جواب دے گئی اور شقی القلب کوفیوں نے آپ کو نہایت ہی بے رحمی سے شہید کر دیا۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
حجۃ الاسلام سیدنا مولانا محمد قاسم نانوتویؒ (1297ھ) لکھتے ہیں:
مگر انجام کار بہ وجہِ نقضِ عہدِ کوفیاں، تدبیرِ حضرتِ سید الشہداء علیہ السلام نر نشانہ ننشست و روزِ عاشورا قیامت قبل از قیامت در میدانِ کربلا برخاست۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
(شہادتِ امام حسینؓ اور کردارِ یزید: صفحہ 79)
مگر آخر کار کوفیوں کے وعدہ توڑنے، دھوکہ دینے کی وجہ سے حضرتِ سید الشہداء حسینؓ اپنی تدبیر میں کامیاب نہ ہو سکے، اور عاشورہ کے دن قیامت سے پہلے میدانِ کربلا میں قیامت برپا ہو گئی تھی۔
مؤرخین لکھتے ہیں کہ بدن کے مختلف حصوں پر زخموں کے علاوہ 33 زخم تیروں کے اور 34 زخم تلواروں کے تھے۔ آپؓ نے 10 محرم 61ھ، جمعہ کے دن عصر کے وقت عراق کے شہرِ کربلا میں جامِ شہادت نوش کیا۔ اس وقت آپؓ کی عمر 57 سال تھی سیدنا حسینؓ کو شہید کرنے والا قبیلہِ مزحج کا ایک بدبخت ملعون تھا سیدنا حسینؓ کے ساتھ 72 حضرات بھی شہید ہوئے حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آپ کے ساتھ شہید ہونے والوں میں 17 افراد سیدہ فاطمہؓ کی اولاد میں سے تھے۔
(البدایہ: جلد 9 صفحہ 189، 212)
