Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دروس و عبر

  علی محمد الصلابی

مذکورہ تفصیل سے ہم بعض دروس و عبر اور فوائد اخذ کر سکتے ہیں:

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی عراق کي طرف روانگي: یہ روانگی رجب 12 ہجری میں پیش آئی اور بعض روایات میں محرم 12 ہجری مذکور ہے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 347)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور فن لشکر کشي: سیدنا ابوبکرؓ نے اپنے دونوں قائدین حضرت خالد و حضرت عیاض رضی اللہ عنہما کو جو احکام دیے وہ انتہائی ترقی یافتہ فن لشکر کشی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کے آپؓ ماہر تھے۔ آپؓ نے انہیں حکیمانہ ٹیکنیکل عسکری تعلیمات دیں۔ دونوں قائدین کے لیے جغرافیائی اعتبار سے عراق میں داخل ہونے کا مقام متعین کیا گویا کہ آپؓ بذات خود حجاز میں مرکز قیادت (آپریشن روم) میں بیٹھ کر فوج کی قیادت فرما رہے ہیں اور عراق کا مکمل نقشہ آپؓ کے سامنے ہے جس کے اندر تمام راستے، مقامات اور ہموار و غیر ہموار حصے نمایاں ہیں۔ پھر آپؓ ان دونوں قائدین میں سے سيدنا خالد رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے ہیں کہ وہ عراق میں جنوب مغرب سے اس کے نشیبی حصہ اَبلہ کے مقام سے داخل ہوں اور حضرت عیاضؓ کو حکم دیتے ہیں کہ وہ عراق کے بالائی حصہ شمال مشرق سے مصیخ کے مقام سے داخل ہوں اور انہیں حکم دیتے ہیں کہ عراق کے وسط میں پہنچ کر دونوں ایک ساتھ مل جائیں۔ اس کے باوجود یہ حکم دینا نہ بھولے کہ کسی کو فوج میں بھرتی پر مجبور نہ کرنا اور موجودہ لوگوں میں سے کسی کو قتال کے لیے اپنے ساتھ باقی رہنے پر مجبور نہ کرنا۔ آپ کی نظر میں فوج میں بھرتی اجباری نہ تھی بلکہ اختیاری تھی۔

(الفن العسکری الاسلامی: صفحہ  83، 84)

فوجی اہمیت کے پیش نظر حیرہ کا انتخاب: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ عسکری اہمیت کے پیشِ نظر حیرہ پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ حیرہ کوفہ سے جنوب میں تین میل کی مسافت پر واقع ہے اور نجف سے جنوب مشرق میں شہسوار کے لیے ایک گھنٹہ کی مسافت پر پڑتا ہے۔ نقشہ پر نگاہ ڈالنے والا پہلی ہی فرصت میں اس مقام کی فوجی اہمیت کو سمجھ سکتا ہے۔ حیرہ کی حیثیت ایک مرکز اتصالات کی ہے جہاں تمام راستہ آکر ملتے ہیں۔ یہ مشرق میں دریائے فرات کے ذریعہ سے مدائن سے جا ملتا ہے اور شمال میں ہیت اور انبار سے جا ملتا ہے اور مغرب میں شام سے جا ملتا ہے۔ اسی طرح بصرہ کے علاقہ میں ابلہ سے ملتا ہے۔ سواد میں کسکر اور دجلہ پر واقع نعمانیہ سے جا ملتا ہے۔ اس سے اس مقام پر قبضہ کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ سیدنا ابوبکرؓ نے دونوں افواج؛ لشکر حضرت خالدؓ اور لشکر سیدنا عیاضؓ کے لیے اس کو ہدف اور مرکز قرار دے کر بہت صحیح کیا کیونکہ حیرہ عراق کا دل ہے اور مدائن سے قریب تر اہم علاقہ ہے، جو فارسی سلطنت کا پایہ تخت تھا۔ یہ لوگ حیرہ کی جنگی اہمیت کو سمجھتے تھے، اسی لیے وہ اس پر قبضہ بحال کرنے کے لیے برابر فوجی دستے بھیجتے رہتے تھے کیونکہ حیرہ پر جو قابض ہو اس کے لیے فرات کے مغربی علاقہ پر مکمل قبضہ جمانا آسان ہو گا اور پھر شام میں روم سے قتال کرنے میں یہ مقام اسلامی فوج کے لیے اہمیت کا حامل تھا۔

(معارک خالد بن ولید ضد الفرس: عبدالجبار السامرائی صفحہ 35)

توحات میں حیرہ تک پہنچنے کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی منصوبہ بندی جدید عسکری منصوبے میں چہار جانب سے مختلف افواج سے گھیراؤ کی مہم سے معروف ہے۔ اس سے یہ بات مؤکد ہو جاتی ہے کہ جہاد کے ذریعہ سے فتح عراق اور جزیرہ عرب کے مختلف اطراف کو ضم کرنے کی مہم محض اچانک وقوع پذیر ہونے والی یا حادثات کا نتیجہ نہ تھی۔

(سیدنا ابوبکر الصدیقؓ: نزار الحدیثی، وخالد الجنابی صفحہ 45)

ریسرچ اور تحقیق کرنے والوں کے لیے جہادی منصوبہ بندی کے سلسلہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فقاہت اور فہم و فراست نمایاں ہوتی ہے کہ فوج کی تنظیم، اس کی رہنمائی اور اس کے واجبات و اہداف کی تحدید اور ان کے درمیان تعاؤن کی تنسیق اور میدان جنگ میں توازن برقرار رکھنے سے متعلق قرارداد اختیار کرنے پر مرکوز تھی لیکن آپؓ قائدین کو عسکری عمل میں آزاد چھوڑ دیتے تھے کہ قتال کے لیے جو اسلوب مناسب سمجھیں اختیار کریں اور مد مقابل کے اعتبار سے موقع و محل جس کا متقاضی ہو وہ طریقہ کار اپنائیں۔

(مشاہیر الخلفاء والامراء: الصدیق: بسام العسلی صفحہ127)

حضرت مثنٰی بن حارثہ رضی اللہ عنہ کي تواضع و خاکساري: جہاد عراق کے سلسلہ میں قابل ذکر مؤقف سیدنا مثنیٰ بن حارثہ شیبانیؓ کا ہے۔ وہ اپنی قوم کو لے کر عراق میں دشمنوں سے مصروف قتال تھے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر ہوئی تو سيدنا ابوبکرؓ نے انہیں امیر مقرر کر دیا یہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے عراق پہنچنے سے قبل کا واقعہ ہے اور جب سيدنا ابوبکرؓ فارس پر حملہ آور ہونے کی طرف متوجہ ہوئے تو آپؓ نے اس مہم کے لیے حضرت خالدؓ کو زیادہ موزوں سمجھا اور انہیں اس مہم پر روانہ کیا۔ سيدنا مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو خط تحریر کیا کہ وہ حضرت خالدؓ کے ساتھ شامل ہو جائیں اور ان کی اطاعت کو قبول کریں۔ یہ پیغام ملتے ہی بلا کسی تردد و ہچکچاہٹ کے آپؓ نے جلدی کی اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اور آپؓ کی فوج سے جا ملے، حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا یہ مؤقف قابل ذکر ہے کہ کثرت فوج اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے قبل لشکر عراق کی امارت سے دھوکا نہ کھائے اور اس کی وجہ سے اپنے آپ کو حضرت خالدؓ سے زیادہ امارت کا مستحق نہ سمجھا۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 130)

جہاد في سبیل اللہ کے سلسلہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کي احتیاط: سیدنا ابوبکرؓ نے حضرت خالد اور حضرت عیاض رضی اللہ عنہما کو جو خط تحریر کیا اس میں یہ تعلیم تھی کہ جن لوگوں نے مرتدین سے قتال کیا اور خود اسلام پر رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد ثابت قدم رہے، ان کو جہاد عراق میں ساتھ لے کر نکلیں اور جو لوگ ارتداد کا شکار ہو چکے ہیں ان میں سے کوئی بھی تمہارے ساتھ جہاد میں شریک نہ ہو، یہاں تک کہ میں کوئی دوسرا فیصلہ کروں۔ لہٰذا ابتدائی مہمات میں کوئی مرتد شریک نہ ہوا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 163)

اس کے بعد جب ان کی استقامت ثابت ہو گئی تو بعد کی مہمات میں انہوں نے شرکت کی جیسا کہ عنقریب ان شاء اللہ اس کا ذکر آئے گا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ مؤقف جہاد فی سبیل اللہ کے سلسلہ میں احتیاط پر مبنی تھا تا کہ دنیا دار لوگ شریک ہو کر مجاہدین کی ناکامی اور ان کی صفوں میں خلل اور اختلاف کا سبب نہ بنیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ تربیتی درس ہے جو آپؓ نے نبی کریمﷺ کے قیمتی دروس سے سیکھا تھا کہ اسلامی صف کو ہر طرح کی آلودگی اور عیوب و نقائص سے پاک رکھا جائے اور سب کا ہدف ایک ہو تا کہ یہ عمل خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو اور پھر اس طرح ان خطرناک الٹے نتائج سے محفوظ رہیں جو اہداف کے اختلاف کے سبب رونما ہوتے ہیں۔ سیدنا ابوبکرؓ اس اہم اور بلند ترین اصول کے بڑے حریص رہے، باوجود یہ کہ اسلامی فوج کو اس وقت افراد کی سخت ضرورت تھی، جو اس بات پر آپؓ کی مکمل قناعت کی دلیل ہے کہ اصل اعتبار ہدف کی بلندی اور اخلاص کا ہے، کثرت عدد کا نہیں۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 131)

لوگوں کے ساتھ نرمی اور عراق کے کسانوں کے سلسلہ میں وصیت: حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے سیدنا ابوبکرؓ کا یہ کہنا: اہل فارس اور جو اقوام بھی ان کے ملک میں ہوں ان کو اپنے سے ملاؤ.

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 159)

یہ قول جہاد اسلامی کے مقصد کو واضح کرتا ہے۔ اسلامی جہاد دعوتی جہاد ہے جس کا مقصد لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے کی دعوت دینا ہے۔ اور جب کافر حکومتوں کی موجودگی میں لوگوں تک اسلامی دعوت پہنچانا ممکن نہ ہو تو پھر ان حکومتوں کا ازالہ ضروری ہے تا کہ ان ممالک کے لوگ اسلام میں داخل ہو سکیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جتنے معرکے کیے ان سب میں یہ مقصد بالکل ظاہر ہے چنانچہ سب سے پہلے وہ دشمنوں کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کرتے اگر وہ قبول کر لیں تو انہیں مسلمانوں کے تمام حقوق حاصل ہوں گے اور تمام ذمہ داریاں عائد ہوں گی اور اگر اسلام قبول کرنے سے انکاری ہوں مگر اسلامی حکومت کو تسلیم کریں تو مسلمانوں کی طرف سے اپنی حفاظت کے عوض جزیہ ادا کریں اور یہ بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہوں تو پھر ان سے اللہ کا کلمہ بلند ہونے تک قتال کرنا ہے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 130)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسلامی فوج کے قائدین کو یہ وصیت کی کہ وہ عراق کے کسانوں اور اہل سواد کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں کیونکہ آپؓ لوگوں کی ہدایت اور اساسیات ثروت کی حفاظت کے بڑے دلدادہ اور حریص تھے آپؓ یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ عمران و آبادی حکومت کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی، اسی طرح زراعت ثروت کے مصادر میں سے ہے اور لوگوں کی زندگی اور معیشت سے اس کا گہرا تعلق ہے۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ، 342)

وہ فوج شکست نہیں کھا سکتی جس میں ان جیسے لوگ ہوں: جب سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عراق جاتے ہوئے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مدد طلب کی تو سیدنا ابوبکرؓ نے سيدنا قعقاع بن عمرو تمیمی رضی اللہ عنہ کو ان کی مدد کے لیے روانہ کیا۔ آپؓ سے کہا گیا: آپؓ نے ایسے شخص، جس کا لشکر بکھر چکا ہے، کی مدد کے لیے صرف ایک شخص کو روانہ کیا ہے؟ تو آپؓ نے فرمایا: وہ فوج شکست نہیں کھا سکتی جن میں ان جیسے لوگ ہوں۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 163)

 یہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فراست تھی جسے بعد میں عراق کے واقعات نے واضح کر دیا۔ سیدنا ابوبکرؓ لوگوں کو اور ان کی طاقتوں اور مختلف صلاحیتوں کو دوسروں کی بہ نسبت زیادہ جانتے تھے۔(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 129)