Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دروس و عبر

  علی محمد الصلابی

لشکر اسامہ کی روانگی کے واقعے سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور اس عہد کے نوجوانوں کو بہت سارے دروس و عبر حاصل ہوئے۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

ا: حالات بدلتے رہتے ہیں، مشکلات اہل ایمان کو دین سے غافل نہیں کرسکتیں:

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے امت کو مشکلات و مصائب پر صبر کرنا سکھایا، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونے کا درس دیا:

اِنَّ رَحۡمَتَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ مِّنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۞ 

(سورۃ الأعراف آیت 56)

ترجمہ: یقیناً اللہ کی رحمت نیک لوگوں سے قریب ہے۔

مسلمان کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پریشانی کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، مصیبت کتنی ہی سخت کیو ں نہ ہو اللہ کا یہ ثابت شدہ نظام ہے:

فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا ۞اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا۞

(سورۃ الشرح آیت 5، 6)

ترجمہ: چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ مشکلات کے ساتھ آسانی بھی ہوتی ہے۔ یقیناً مشکلات کے ساتھ آسانی بھی ہوتی ہے۔

مسلمان کا معاملہ اس دنیا میں بڑا عجیب ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:

’’مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے، اس کا سب کچھ خیر ہے، اور یہ صرف مومن کی شان ہے، اسے اگر خوشی حاصل ہوئی اور اس پر شکر گزار ہوا تو اس کے لیے خیر و بھلائی ہے اور اگر اسے مصیبت پہنچی اور اس پر صبر کیا تو اس کے لیے خیر و بھلائی۔‘‘

(صحیح مسلم: جلد 4 صفحہ 2295)

اس لیے پریشانیاں کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، مصیبتیں کتنی ہی سخت کیوں نہ ہوں، اہل ایمان کو دین سے غافل نہیں کرسکتیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دین سے غافل نہ کرسکی، اور مسلمانوں کے تاریک اور سخت ترین حالات میں بھی لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کو روانگی کا حکم دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دینی امور کے اہتمام کا جو سبق سیکھا تھا وہ ہر چیز پر مقدم تھا، اور یہ چیز سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی وفات تک باقی رہی۔

(قصۃ بعث أبی بکر جیش أسامۃ: صفحہ 24) 

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے بھی اس سبق کو سیکھا اور زندگی بھر اس پر کار بند رہے۔