اہم تر دروس و عبر اور فوائد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

اہم تر دروس و عبر اور فوائد

  ابو شاہین

صفحہ 1 از 4

(اول) یوم عاشوراء

ماہ محرم کا دسواں دن یوم عاشوراء کہلاتا ہے۔ اس دن میں کئی منکر بدعات ایجاد کی گئی اور اس دن کے بارے میں دو جماعتیں افراط و تفریط کا شکار ہو کر ہلاک ہو گئیں، اگر ایک جماعت اسے خوشی و مسرت اور شادمانی کا دن قرار دیتی ہے، تو دوسری حزن و ملال اور نوحہ خوانی کا۔

 (الاعیاد و اثرہا علی المسلمین: صفحہ 241)

کچھ لوگوں نے قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ میں آخری حد تک غلو سے کام لیتے ہوئے ان کے یوم شہادت 10 محرم الحرام کو حزن و غم، رونے پیٹنے اور ماتم کا دن قرار دے دیا جسے وہ ہر سال دہرایا کرتے ہیں، انہوں نے اس فعل پر ایسے اجر و ثواب کو مرتب کر رکھا ہے۔ ان کے نزدیک یہ سب کچھ مغفرت و رحمت کا موجب اور ذنوب و خطایا کا کفارہ ہے۔ (العقیدۃ فی اہل البیت بین الافراط و التفریط: صفحہ 690)

طوسی اپنی امالی میں اپنی سند سے علی رضا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: جو شخص عاشوراء کے دن اپنی ضروریات کے لیے حزن و غم اور رونے کا دن بناتا ہے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کو خوشی و شادمانی کا دن بنا دے گا اور جنت میں اس کی آنکھیں ٹھنڈی کر دے گا۔ (امالی الطوسی: صفحہ 196 بحار الانوار: جلد، 66 صفحہ 286)

 جعفر بن محمدؒ فرماتے ہیں: جس شخص نے ہمارے گرائے گئے خون کے لیے یا ہمارے سلب کیے گئے حق کے لیے یا ہماری پامال کی گئی، عزت کے لیے یا ہمارے شیعہ میں سے کسی ایک کے لیے اپنی آنکھ سے آنسو بہایا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے کئی صدیوں تک جنت میں ٹھہرائے گا۔ (ایضاً: جلد، 66 صفحہہ 279 امالی المفید: صفحہ 112) 

برقی اپنی سند کے ساتھ جعفر صادق سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ’’جس شخص کے پاس حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا جائے اور اس کی آنکھ سے مچھر کے پر کے برابر آنسو نکل آئے تو اس کے تمام گناہ معاف کر دئیے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ "(المحاسن: صفحہ 36) بحار الانوار: جلد، 66 صفحہ 289)

 مجلسی نے ایک باب اس عنوان سے قائم کیا ہے: ’’ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر تمام ائمہ کے مصائب پر رونے کا ثواب‘‘ اس باب کے تحت اس نے اڑتیس سے زیادہ روایات ذکر کی ہیں۔ (بحار الانوار: جلد، 66 صفحہ 278 اور 279)

ان میں سے ایک روایت یہ ہے کہ ابو عبداللہ فرماتے ہیں: ہر جزع و فزع اور رونا مکروہ ہے، علاوہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر رونے دھونے اور جزع و فزع کرنے کے۔ (البحار: جلد، 66 صفحہ 280) بلکہ ان کا تو یہ بھی دعویٰ ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پر آسمان بھی روئے اور زمین بھی، آسمان نے خون اور سرخ مٹی کی بارش برسائی۔ قتلِ حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما پر فرشتے، جن اور تمام مخلوق روئی۔ (ایضاً: جلد، 66 صفحہ 255 اور 256) صرف اسی پر بس نہیں بلکہ انہوں نے یوم عاشوراء کی حرمت کا فتویٰ جاری کیا اور یہاں تک کہہ ڈالا کہ یوم عاشوراء کا روزہ رکھنے والا حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت کا دشمن ہے۔

(العقیدۃ فی اہل البیت: صفحہ 692)

کلینی اپنی سند سے جعفر بن عیسیٰؒ سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا: میں نے علی رضا رحمۃ اللہ سے یوم عاشوراء کے روزے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: تو مجھ سے ابن مرجانہ کے روزے کے بارے میں سوال کرتا ہے؟ یہ وہ دن ہے جس میں آل زیاد کے حرام زادوں نے قتل سیدنا حسینؓ کی وجہ سے روزہ رکھا اور وہ ایسا دن ہے جس کے ساتھ آل محمد اور مسلمان بدفالی لیتے ہیں، اس دن نہ تو روزہ رکھا جائے اور نہ اس کے ساتھ تبرک حاصل کیا جائے اور سوموار کا دن منحوس ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کو قبض کیا، آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو بھی تکلیف پہنچی، سوموار کے دن پہنچی۔ ہم تو اس دن کے ساتھ بدفالی لیتے ہیں، جبکہ ابن مرجانہ اس کے ساتھ تبرک حاصل کرتا ہے، جو شخص ان دونوں دنوں کا روزہ رکھے یا ان کے ساتھ تبرک حاصل کرے، تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا دل مسخ ہو چکا ہو گا اور اس کا حشر ان لوگوں کے ساتھ ہو گا، جنہوں نے ان دونوں دنوں کے روزے کو رواج دیا اور ان کے ساتھ برکت حاصل کی۔ (الکافی: جلد، 6 صفحہ 164 الاستبصار: جلد، 2 صفحہ 35 البحار: جلد، 65 صفحہ 59)

352 ہجری میں بنو بویہ کی حکومت کے دوران میں معز الدولہ بن بابویہ نے اہل بغداد کو عاشوراء کے دن سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پر نوحہ کرنے کا حکم دیا، اس کے حکم سے بازار بند کر دئیے جاتے، کھانا پکانے والوں کو کھانے پکانے سے روک دیا جاتا، عورتیں ننگے منہ باہر نکلتیں اور اپنے سینوں اور چہروں پر طمانچے مارتے ہوئے لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرتیں۔ حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما پر نوحہ کرنے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔ (العبر للذہبی: جلد، 2 صفحہ 89 البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ 577)

 اسی طرح دولت عبیدیہ فاطمیہ نے یوم عاشوراء کو حزن و غم اور نوحہ کے دن کے طور پر منایا، اس دن بازار بند کر دئیے جاتے، گلیوں بازاروں میں نوحہ خوانی ہوتی، خود خلیفہ اور اس کے ساتھ قاضی حضرات، امراء اور معززین غم ناک حالت میں بیٹھ جاتے، بازاروں میں ننگے پاؤ ں چلتے، شعراء اہلِ بیت کے مرثیے پڑھتے اور واعظین و خطباء شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے من گھڑت قصے کہانیاں بیان کرتے، خود بھی روتے اور دوسروں کو بھی رلاتے۔ (الغطط للمقریزی: جلد، 1 صفحہ 631)

ان دنوں گلیوں بازاروں میں تعزیتی جلوس نکالے جاتے، رخسار پیٹے جاتے اور زنجیر زنی کی جاتی، جس سے خون بہہ پڑتا ہے۔ (العقیدہ فی اہل البیت: صفحہ 696)

صفحہ 1 از 4