اہم تر دروس و عبر اور فوائد
ابو شاہین(اول) یوم عاشوراء
ماہ محرم کا دسواں دن یوم عاشوراء کہلاتا ہے۔ اس دن میں کئی منکر بدعات ایجاد کی گئی اور اس دن کے بارے میں دو جماعتیں افراط و تفریط کا شکار ہو کر ہلاک ہو گئیں، اگر ایک جماعت اسے خوشی و مسرت اور شادمانی کا دن قرار دیتی ہے، تو دوسری حزن و ملال اور نوحہ خوانی کا۔
(الاعیاد و اثرہا علی المسلمین: صفحہ 241)
کچھ لوگوں نے قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ میں آخری حد تک غلو سے کام لیتے ہوئے ان کے یوم شہادت 10 محرم الحرام کو حزن و غم، رونے پیٹنے اور ماتم کا دن قرار دے دیا جسے وہ ہر سال دہرایا کرتے ہیں، انہوں نے اس فعل پر ایسے اجر و ثواب کو مرتب کر رکھا ہے۔ ان کے نزدیک یہ سب کچھ مغفرت و رحمت کا موجب اور ذنوب و خطایا کا کفارہ ہے۔ (العقیدۃ فی اہل البیت بین الافراط و التفریط: صفحہ 690)
طوسی اپنی امالی میں اپنی سند سے علی رضا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: جو شخص عاشوراء کے دن اپنی ضروریات کے لیے حزن و غم اور رونے کا دن بناتا ہے، اس کے لیے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کو خوشی و شادمانی کا دن بنا دے گا اور جنت میں اس کی آنکھیں ٹھنڈی کر دے گا۔ (امالی الطوسی: صفحہ 196 بحار الانوار: جلد، 66 صفحہ 286)
جعفر بن محمدؒ فرماتے ہیں: جس شخص نے ہمارے گرائے گئے خون کے لیے یا ہمارے سلب کیے گئے حق کے لیے یا ہماری پامال کی گئی، عزت کے لیے یا ہمارے شیعہ میں سے کسی ایک کے لیے اپنی آنکھ سے آنسو بہایا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے کئی صدیوں تک جنت میں ٹھہرائے گا۔ (ایضاً: جلد، 66 صفحہہ 279 امالی المفید: صفحہ 112)
برقی اپنی سند کے ساتھ جعفر صادق سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ’’جس شخص کے پاس حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا جائے اور اس کی آنکھ سے مچھر کے پر کے برابر آنسو نکل آئے تو اس کے تمام گناہ معاف کر دئیے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ "(المحاسن: صفحہ 36) بحار الانوار: جلد، 66 صفحہ 289)
مجلسی نے ایک باب اس عنوان سے قائم کیا ہے: ’’ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر تمام ائمہ کے مصائب پر رونے کا ثواب‘‘ اس باب کے تحت اس نے اڑتیس سے زیادہ روایات ذکر کی ہیں۔ (بحار الانوار: جلد، 66 صفحہ 278 اور 279)
ان میں سے ایک روایت یہ ہے کہ ابو عبداللہ فرماتے ہیں: ہر جزع و فزع اور رونا مکروہ ہے، علاوہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر رونے دھونے اور جزع و فزع کرنے کے۔ (البحار: جلد، 66 صفحہ 280) بلکہ ان کا تو یہ بھی دعویٰ ہے کہ قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پر آسمان بھی روئے اور زمین بھی، آسمان نے خون اور سرخ مٹی کی بارش برسائی۔ قتلِ حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما پر فرشتے، جن اور تمام مخلوق روئی۔ (ایضاً: جلد، 66 صفحہ 255 اور 256) صرف اسی پر بس نہیں بلکہ انہوں نے یوم عاشوراء کی حرمت کا فتویٰ جاری کیا اور یہاں تک کہہ ڈالا کہ یوم عاشوراء کا روزہ رکھنے والا حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور اہلِ بیت کا دشمن ہے۔
(العقیدۃ فی اہل البیت: صفحہ 692)
کلینی اپنی سند سے جعفر بن عیسیٰؒ سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا: میں نے علی رضا رحمۃ اللہ سے یوم عاشوراء کے روزے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: تو مجھ سے ابن مرجانہ کے روزے کے بارے میں سوال کرتا ہے؟ یہ وہ دن ہے جس میں آل زیاد کے حرام زادوں نے قتل سیدنا حسینؓ کی وجہ سے روزہ رکھا اور وہ ایسا دن ہے جس کے ساتھ آل محمد اور مسلمان بدفالی لیتے ہیں، اس دن نہ تو روزہ رکھا جائے اور نہ اس کے ساتھ تبرک حاصل کیا جائے اور سوموار کا دن منحوس ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح کو قبض کیا، آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو بھی تکلیف پہنچی، سوموار کے دن پہنچی۔ ہم تو اس دن کے ساتھ بدفالی لیتے ہیں، جبکہ ابن مرجانہ اس کے ساتھ تبرک حاصل کرتا ہے، جو شخص ان دونوں دنوں کا روزہ رکھے یا ان کے ساتھ تبرک حاصل کرے، تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا دل مسخ ہو چکا ہو گا اور اس کا حشر ان لوگوں کے ساتھ ہو گا، جنہوں نے ان دونوں دنوں کے روزے کو رواج دیا اور ان کے ساتھ برکت حاصل کی۔ (الکافی: جلد، 6 صفحہ 164 الاستبصار: جلد، 2 صفحہ 35 البحار: جلد، 65 صفحہ 59)
352 ہجری میں بنو بویہ کی حکومت کے دوران میں معز الدولہ بن بابویہ نے اہل بغداد کو عاشوراء کے دن سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پر نوحہ کرنے کا حکم دیا، اس کے حکم سے بازار بند کر دئیے جاتے، کھانا پکانے والوں کو کھانے پکانے سے روک دیا جاتا، عورتیں ننگے منہ باہر نکلتیں اور اپنے سینوں اور چہروں پر طمانچے مارتے ہوئے لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرتیں۔ حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما پر نوحہ کرنے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔ (العبر للذہبی: جلد، 2 صفحہ 89 البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ 577)
اسی طرح دولت عبیدیہ فاطمیہ نے یوم عاشوراء کو حزن و غم اور نوحہ کے دن کے طور پر منایا، اس دن بازار بند کر دئیے جاتے، گلیوں بازاروں میں نوحہ خوانی ہوتی، خود خلیفہ اور اس کے ساتھ قاضی حضرات، امراء اور معززین غم ناک حالت میں بیٹھ جاتے، بازاروں میں ننگے پاؤ ں چلتے، شعراء اہلِ بیت کے مرثیے پڑھتے اور واعظین و خطباء شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے من گھڑت قصے کہانیاں بیان کرتے، خود بھی روتے اور دوسروں کو بھی رلاتے۔ (الغطط للمقریزی: جلد، 1 صفحہ 631)
ان دنوں گلیوں بازاروں میں تعزیتی جلوس نکالے جاتے، رخسار پیٹے جاتے اور زنجیر زنی کی جاتی، جس سے خون بہہ پڑتا ہے۔ (العقیدہ فی اہل البیت: صفحہ 696)
ابن کثیرؒ 600 ہجری کی حدود میں بنوبویہ کی حکومت کے ایام میں کتاب و سنت کی حدود سے متجاوز عاشورۂ محرم کی تصویر کشی کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’اس دن بغداد اور دوسرے شہروں میں ڈھول بجائے جاتے، راستوں اور بازاروں میں راکھ اور توڑی اڑائی جاتی، دکانوں پر ٹاٹ لٹکا دئیے جاتے اور لوگ غم کا اظہار کرتے اور روتے پیٹتے، بہت سے لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے غم اور ان کی موافقت میں پانی نہ پیتے اس لیے کہ انہیں شدید پیاس کی حالت میں قتل کیا گیا تھا، پھر عورتیں چہرے کھول کر نوحہ کرتیں، روتیں اور بین کرتیں، اپنے سینوں اور چہروں پر طمانچے مارتے ہوئے ننگے پاؤ ں بازاروں میں نکلتیں، اس قسم کے اور بھی کئی رسوائی کے کام کیے جاتے، قبیح بدعات و خرافات کا ارتکاب کیا جاتا، اس قسم کے کاموں سے ان کا اصل مقصد بنو امیہ کی حکومت کو بدنام کرنا ہوتا تھا اس لیے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ان کے دَورِ حکومت میں قتل ہوئے تھے۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ 577)
اثنا عشری علماء تعزیتی جلوسوں کے جواز کے قائل ہیں۔ میرے ایک سوال کے جواب میں محمد حسین غروی نے لکھا:
1۔ عاشورۂ محرم کے دن گلیوں اور بازاروں میں تعزیتی جلوسوں کے جواز میں کوئی شبہ نہیں ہے، یہ ہر قریب اور بعید تک حسینی پیغام پہنچانے کا آسان ترین طریقہ ہے اور اس سے مظلوم شہید کو پرسا دینے کی رسم بھی ادا ہوتی ہے۔
2۔ رخساروں اور سینوں پر طمانچے مارنے کے جواز میں بھی کوئی اشکال نہیں ہے۔ بلکہ ایک حد تک زنجیر زنی کا جواز بھی موجود ہے۔ اگر زنجیر زنی سے قدرے خون نکل آئے اور اس سے ماتمی حضرات کو تکلیف پہنچے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، اگر تلوار زنی سے اس قدر خون بہ نکلے کہ وہ زیادہ ضرر رساں نہ ہو، تو راجح قول کی رُو سے اس کا جواز بھی موجود ہے۔
3۔ رونے، رلانے اور عزا داری کے لیے امامیہ شیعہ جو 7 صدیوں سے تشبیہات و تمثیلات کا رواج اپنائے ہوئے ہیں تو ان کے جواز میں بھی کوئی اشکال نہیں ہے۔ ان کے نزدیک آج یہ فتویٰ معمول بہا ہے اور اس پر ان کا اجماع ہے۔ اکثر اثنا عشری علماء تو اسے واجب قرار دیتے ہیں۔
(مقتل الحسین و فتاوی العلماء الاعلام فی تشجیع الشعائر، شیخ مرتضی عباد: صفحہ 12 تا 40 العقیدۃ فی اہل البیت: صفحہ 495)
ان مظاہر کے بارے میں ناصر الدین شاہ رقم طراز ہیں: ’’ہندوستان، پاکستان، ایران اور عراق میں لوگ گلیوں بازاروں میں تعزیے نکالتے، ان کے ساتھ ننگے پاؤ ں چلتے اور لوہے کی ایسی زنجیروں سے ماتم کرتے ہیں، جن کے ساتھ چھوٹے چھوٹے اور تیز دھار بلیڈ یا چھریاں بندھی ہوتی ہیں۔ بعض لوگ تو اس زور سے ماتم کرتے ہیں کہ ان کے جسم سے خون بہنے لگتا ہے، اور بعض لوگ مر بھی جاتے ہیں، جبکہ عورتیں گھروں میں بیٹھ کر آہ و بکا کرتیں اور اپنے ہاتھوں سے ماتم کرتی ہیں اور یہ سب کچھ اس سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے غم اور احترام میں ہوتا ہے، جو ان کے خیال میں مظلومانہ انداز میں مقتول ہوئے۔‘‘ (العقائد الشیعیۃ: صفحہ 135)
سیّد محسن امین حسینی ماتمی مجالس کے انعقاد کے اسباب گنواتے ہوئے رقم طراز ہے:
’’اس قسم کے ماتمی پروگراموں کا مقصد ان کی مظلومانہ شہادت پر کبھی آواز کے ساتھ اور کبھی آواز کے بغیر رونا، حزن و تاسف اور تکلیف و الم کا اظہار کرنا ہوتا ہے اور اس دوران مرثیہ خوانی اور نوحہ خوانی کے ذریعے سے معتقدین کو غم کے اظہار پر اور رونے کے لیے آمادہ کرنا ہوتا ہے۔‘‘
(اقتناع اللائم علی اقامۃ الماتم: صفحہ 2)
خمینی لکھتا ہے:
’’سیّد الشہداء پر رونے اور حسینی مجالس کے انعقاد نے ہی چودہ صدیوں سے اسلام کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دے رکھا ہے۔‘‘ (عقیدۃ اہل السنۃ فی اہل البیت: صفحہ 496 نقلا عن کشف الاسرار)
حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما مذکورہ بالا افعال سے بری الذمہ ہیں، اس لیے کہ جس اسلام کو ان کے نانا صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے وہ تو ان جیسے افعال کو جائز قرار نہیں دیتا۔ ان کا تو ارشاد گرامی ہے:
’’رخسار پیٹنے والا، گریبان چاک کرنے والا اور جاہلیت کی باتیں لکھنے والا ہم مسلمانوں میں سے نہیں ہے۔‘‘ (بخاری: رقم الحدیث 1294)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ارشاد مبارک ہے: ’’اگر نوحہ کرنے والی مرنے سے پہلے پہلے توبہ نہ کرے تو اسے
قیامت کے دن اس حال میں کھڑا کیا جائے گا کہ اس نے گندھک کی شلوار اور خارشی قمیص پہن رکھی ہو گی۔‘‘ (مسلم: رقم الحدیث 934)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ’’میں چیخنے چلانے والی، بال نوچنے والی اور گریبان چاک کرنے والی سے لاتعلق ہوں۔‘‘ (ایضاً: رقم الحدیث 167)
حسینیت کے شعائر کے تحت جو کیا جاتا ہے مثلاً طمانچے مارنا، نوحہ کرنا، سیاہ لباس پہننا وغیرہ اور جس کے جواز کا ان کے علماء و مفتیان فتویٰ دے رہے ہیں، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک اور ائمہ اہلِ بیت کی زبانوں سے حرام قرار پا چکا ہے اور یہ سب کچھ شیعہ کے قدیم اور جدید مصادر میں موجود ہے اور اس تحریم کا ان کے شیوخ اور سرکردہ لوگ اعتراف کرتے ہیں۔
محمد بن علی بن حسین بن بابویہ قمی، جوصدوق کے لقب سے معروف ہے، کا کہنا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’نوحہ کرنا زمانہ جاہلیت کا فعل ہے۔‘‘ (من لا یحضرہ الفقیہ: جلد، 6 صفحہ 271 اور 272)
محمد باقر مجلسی نے بھی اسے انہی الفاظ میں روایت کیا ہے۔ (بحار الانوار: جلد، 82 صفحہ 103)
یہ لوگ جس نوحہ اور آہ و بکا پر نسلاً بعد نسل عمل پیرا ہیں وہ زمانہ جاہلیت کا عمل ہے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مطلع فرمایا ہے۔ ( من قتل الحسین: صفحہ 73) جو روایات شیعہ کو ان امور سے منع کرتی ہیں، جن کا ارتکاب وہ اپنی مجالس و محافل میں کیا کرتے ہیں، ان میں سے امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد بھی ہے: ’’اس شہر میں میت پر نوحہ کرنے سے منع کرو جہاں تمہاری حکومت ہو۔‘‘
(مستدرک الوسائل للنوری: جلد، 1 صفحہ 44)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی کا ارشاد ہے: ’’تین کام زمانہ جاہلیت کے اعمال میں سے ہیں جن پر لوگ قیامت تک عمل کرتے رہیں گے: (1) ستاروں کی وجہ سے بارش مانگنا (2) انساب میں طعن کرنا اور (3) مردوں پر نوحہ کرنا۔‘‘ (بحار الانوار: جلد، 82 صفحہ 101) امام محمد باقر کا قول ہے: ’’چہرہ اور سینہ پیٹنا اور بال نوچنا بے صبری کی انتہاء ہے، نوحہ کرنے والا صبر کا دامن چھوڑ دیتا اور غلط راستہ اختیار کرتا ہے۔‘‘
(الکافی، الکلینی: جلد، 3 صفحہ 222 اور 223)
سر پر خنجر اور تلواریں مارنے اور خون بہانے کے بارے میں شیخ حسن مغنیہ فرماتے ہیں: امر واقع یہ ہے کہکہ ان چیزوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کے بارے میں کوئی صریح نص وارد نہیں ہے، مگر یہ ایک عمدہ اور قابل تعریف جذبہ ہے، جس سے مومنین کے نفوس میں اس لیے جوش دلایا جاتا ہے کہ کربلا کے دل فگار واقعہ میں مقدس خون بہائے گئے۔ (آداب المنابر: صفحہ 182)
مگر یہ بات یقینی ہے کہ ان امور کا شمار منکرات اور بدترین قسم کی بدعات میں ہوتا ہے۔ (من قتل الحسین: صفحہ 83) اسلام نے ہمیں آداب مصائب کی تعلیم دی ہے۔ شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ ایک بہت بڑی مصیبت ہے اور مصائب کے مواقع پر چند آدابِ اسلام مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ مصائب پر صبر کرنا
مصیبت کا سب سے بڑا ادب یہ ہے کہ انسان مصیبت آنے پر صبر کرے، صبر کا تقاضا یہ ہے کہ انسان دل کو ناراضی سے زبان کو شکوہ و شکایت سے اور جوارح کو ان اعمال و افعال سے روکے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنتے ہیں، مثلاً رخسار پیٹنا، گریبان چاک کرنا، چہرے پر خراشیں لگانا، بال نوچنا اور جاہلانہ انداز میں واویلا کرنا۔ اسلامی تعلیمات کی رُو سے مصیبت کی خبر سننے کے ساتھ ہی انسان کو صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’صبر پہلے صدمہ کے وقت ہوتا ہے۔‘‘ (بخاری: رقم الحدیث، 1283)
2: مصیبت پر صبر کر کے ثواب حاصل کرنا
انسان کو چاہیے کہ وہ مصیبت پر صبر کر کے اس پر اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید رکھے، کیونکہ ایسا کرنے کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاصْبِرْ عَلٰی مَآ اَصَابَکَ اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِo (سورۃ لقمٰن: آیت 17)
’’اور تم پر جو مصیبت آئے اس پر صبر کرنا، یقینا یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے۔‘‘
انسان اگر کسی پیاری چیز کو گم پائے تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد کرنا چاہیے: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں اپنے بندے کی کسی پیاری چیز کو قبض کر لوں اور وہ اس سے ثواب کا ارادہ کرے تو میرے پاس جنت کے علاوہ اس کی اور کوئی جزا نہیں ہے۔‘‘ (بخاری: رقم الحدیث 4624) پیاری چیز، مثلاً بیٹا، باپ یا اس جیسی کوئی چیز۔ اللہ رب کائنات نے مصائب پر صبر کرنے کے بدلے اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ صبر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کے لیے ہو، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآئَ وَجْہِ رَبِّہِمْ (الرعد: 22)
’’اور وہ لوگ جو اپنے رب کی رضامندی کی جستجو کے لیے صبر کرتے ہیں ۔‘‘
لہٰذا صبر اللہ رب العزت کے لیے ہونا چاہیے، اس آدمی جیسا صبر جو اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر راضی ہو اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔ (موسوعۃ الآداب الاسلامیۃ، عبدالعزیز فتحی: جلد، 2 صفحہ 786)
3۔ ’’اِنَّا لِلّٰہِ‘‘ اور مصیبت کی دعا پڑھنا
جب کوئی مصیبت آئے تو آدمی یہ دعا پڑھا کرے:
اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اَللّٰہُمَّ اَجِرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَ اَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْہَا
’’ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ، یا اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر عطا فرما اور مجھے اس کا نعم البدل عطا فرما۔‘‘
ارشاد ربانی ہے:
وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَo الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْ ٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَo اُولٰٓئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَ رَحْمَۃٌ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُوْنَ (البقرۃ: 155-157)
’’جنہیں جب کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملک ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ، ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’جس بندۂ مسلم کو کوئی مصیبت آئے پھر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ((اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اَللّٰہُمَّ اَجِرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَ اَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْہَا)) پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا۔‘‘ (مسلم: 918)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
’’جب میرے خاوند ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے کہا: مسلمانوں میں ابو سلمہ سے بہتر کون ہے؟ پھر میں انا للہ پڑھتی رہی، تو اللہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرما دئیے۔‘‘ (ایضاً)
مصیبت زدہ انسان یہ دعا بھی پڑھا کرے:
اَللّٰہُ رَبِّیْ لَا شَرِیْکَ لَہٗ
’’اللہ میرا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔‘‘
یہ دعا پڑھنے کی وجہ سے باذن اللہ اس کی مصیبتیں اور پریشانیاں دُور ہو جائیں گی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص کو کوئی پریشانی، غم، بیماری یا کوئی سختی لاحق ہو جائے اور وہ یہ دعا پڑھے:
اَللّٰہُ رَبِّیْ لَا شَرِیْکَ لَہٗ
"تو اس سے ان چیزوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔‘‘ (صحیح الجامع: رقم الحدیث 6049) اسی طرح وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کردہ دعائے مکروب پڑھا کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’مصیبت زدہ کی دعائیں یہ ہیں:
اَللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ اَرْجُوْ فَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ وَ اَصْلِحْ لِیْ شَاْنِیْ کُلَّہٗ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ (سنن ابی داود: رقم الحدیث 5090 صحیح الجامع: رقم 3388)
’’اے اللہ ! میں تیری رحمت کی اُمید رکھتا ہوں، تو پل بھر کے لیے بھی مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر اور میرا سارا معاملہ درست کر دے، تیرے سوال کوئی معبود نہیں۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ’’جب اسے کسی رنج و کرب کا سامنا ہو تو وہ یہ دعا پڑھا کرے:
یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ (سنن الترمذی: رقم 3540)
’’اے زندہ اور تھامنے والے! میں تیری رحمت کی مدد مانگتا ہوں۔‘‘
4۔ اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی ہر چیز سے اجتناب کرنا
مثلاً زبان سے برائی کا اظہار کرنا، چہرے پر طمانچے مارنا، گریبان چاک کرنا، بال نوچنا، نوحہ کرنا، لوگوں سے شکایت کرنا، موت اور بربادی کی دعا کرنا، وغیرہ، یہ سب کام اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والے اور صبر و رضا کے منافی ہیں۔ (موسوعۃ الآداب الاسلامیۃ: جلد، 2 صفحہ 788)
5۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو یاد کر کے اپنی مصیبت کو کم تر خیال کرنا
اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور اس کی وجہ سے آسمان سے وحی کے سلسلہ کا منقطع ہو جانا امت اور اس کے ہر فرد کے لیے بہت بڑی مصیبت تھی۔ اگر مصیبت زدہ شخص اس بات کو یاد کرے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی مصیبت کے مقابلہ میں اس مصیبت کی کوئی حیثیت نہیں ہے تو اس کی مصیبت آسان پڑ جائے گی، اس لیے کہ بڑی مصیبت صرف اسی صورت میں ہلکی نظر آئے گی جب اس سے بھی بڑی مصیبت کو یاد کیاجائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
’’جب تم میں سے کسی شخص کو کوئی مصیبت آئے تو وہ اس مصیبت کو یاد کرے جو اسے میری وجہ سے پہنچی، اس لیے کہ یہ سب سے بڑی مصیبت ہے۔‘‘ (البیہقی فی شعب الایمان: رقم، 10152 صحیح الجامع: 347)