خلاصہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

خلاصہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 7

1۔ خلفائے راشدینؓ کی سیرت اور ان کی تابناک تاریخ ایمان اور صحیح اسلامی جذبات کے مصادر میں سے ہے، جس سے امت برابر ایمانی روشنی حاصل کر رہی ہے اور اس سے سامان دعوت لے کر لوگوں کے دلوں میں انوار حق روشن کر رہی ہے تاکہ اسلامی دعوت و تاریخ اعدائے اسلام کے باطل جھونکوں سے بجھنے نہ پائے۔

2۔ مسلمان بلکہ پوری انسانیت کو آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل، حقائق اور ان کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کے آثار کی معرفت حاصل کریں اور اس علو منزلت کو جانیں جس کی وجہ سے وہ بشریت کی تاریخ میں نادر مثالی حیثیت کے حامل قرار پائے۔

3۔ اسلامی تاریخ عام طور سے اور صدر اول کی تاریخ خاص طور سے تزویر، تشکیک اور تحریف و تبدیل اور حذف و اضافہ کا شکار ہوئی ہے۔ یہ بدترین کارنامے روافض و مستشرقین، یہود و نصاریٰ اور لادینی ذہنیت کے حاملین نے انجام دیے ہیں۔ اس لیے امت پر فرض کفایہ ہے کہ وہ حقائق کی تصحیح کریں۔ جو شخص اپنے اندر صدر اول کی تاریخ کی تصحیح کی صلاحیت رکھتا ہے اس کو اسے افضل ترین عبادت تصور کرتے ہوئے اپنی مقدور بھر جدوجہد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے تاکہ نوجوانان امت کے سامنے ان کے اسلاف کی صالح مثال ہو، جس کی وہ اقتداء کریں اور ان کے منہج پر چل کر اپنی سیرت وکردار کی اصلاح کریں اور وہ تابناک عہد تازہ کر دیں۔

4۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سیرت دروس و عبر سے بھری ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکرؓ کی شخصیت تاریخ اسلام میں سب سے عظیم ہے۔ یہ صحابی جلیل دور جاہلیت ہی سے مکارم اخلاق اور صفات حمیدہ سے متصف رہے، نہ کبھی کسی بت کو سجدہ کیا اور نہ شراب پی۔

5۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ انساب کے عالم تھے اور عربوں کے دلوں میں آپؓ کی جو محبوب ترین خصوصیت تھی، وہ یہ کہ انساب میں عیب نہیں نکالتے تھے اور نہ ان کے عیوب اور نقائص کا تذکرہ فرماتے۔ آپؓ قریش میں سب سے بڑے انساب کے ماہر اور قریش کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔ آپؓ تجارت میں مشہور تھے، اپنا مال پوری فیاضی وسخاوت کے ساتھ خرچ کرتے اور جاہلیت میں یہ بات آپ کے سلسلہ میں معروف تھی۔

6۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک عظیم گراں مایہ خزانہ تھے، جسے اللہ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کر رکھا تھا، قریش کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھے۔ بلند اخلاق اور نرم خوئی کی وجہ سے لوگ آپؓ کے گرویدہ ہو جاتے اور آپؓ کا شمار ان عظیم لوگوں میں ہوتا تھا جو دوسروں سے مانوس ہوتے اور لوگ ان سے مانوس ہوتے ہیں۔

7۔ دعوت الی اللہ کے سلسلہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جدوجہد اس دین پر ایمان اور اللہ و رسول کی فرمانبرداری کی وہ تصویر پیش کرتی ہے جو ایک مومن صادق کی تصویر ہوتی ہے جس کو اس وقت تک قرار و سکون نہیں آتا جب تک لوگوں کے درمیان وہ چیز عام نہ ہو جائے جس پر وہ ایمان لایا ہے۔

8۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ابتلاء و آزمائش سے دوچار ہوئے، دین کی خاطر آپؓ کو اذیت پہنچائی گئی، آپؓ کے سر پر مٹی ڈالی گئی، مسجد حرام میں جوتوں سے پٹائی ہوئی، یہاں تک کہ چہرے اور ناک کا پتہ نہیں چل رہا تھا، لوگ اٹھا کر گھر لائے۔

9۔ جرأت اور شجاعت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ممتاز صفات میں سے تھے۔ آپؓ حق کے بارے میں کسی سے خوف نہیں کھاتے تھے، دین حق کی نصرت اور اس پر عمل پیرا ہونے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کرنے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہیں کرتے تھے۔

10 ستائے ہوئے مسلمانوں کی گردن آزاد کرانے کی پالیسی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یہ منہج مستضعفین کو تعذیب سے نجات دلانے کے لیے اسلامی قیادت کے تیار کردہ منصوبہ میں شامل کیا گیا۔ آپؓ نے اسلامی دعوت کو مال اور افراد کے ذریعہ سے قوت بخشی، مسلمان غلام اور لونڈیوں کو خرید کر اللہ واسطے آزاد کر دیتے۔

11۔ آپؓ نے علم انساب کو دعوت الی اللہ کے وسائل کے طور پر استعمال کیا۔ اسی لیے عرب کے بازاروں میں قبائل کو دعوت دیتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہتے۔

12۔ مدینہ کی طرف ہجرت کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق سفر رہے۔ اسلام کی دعوت کے طلوع سے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک آپ کا دایاں بازو رہے۔ پوری خاموشی اور گہرائی و گیرائی کے ساتھ سرچشمہ نبوت سے حکمت وایمان، یقین وعزیمت، تقویٰ واخلاص کا جام نوش فرماتے رہے۔ اس صحبت کے نتیجہ میں صلاح و صدیقیت، ذکر و بیدار مغزی، حب و صفائے عزیمت وپختگی کے ثمرات چنے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ وغیرہ (مثلاً لشکر اسامہ کو روانہ کرنا، حروب ارتداد) میں نمایاں اور قابل قدر مؤقف اختیار کیا۔ آپ نے فاسد کو درست کیا، منہدم کو تعمیر کیا، بکھرے ہوؤں کو جوڑا اور منحرف کو سیدھا کیا۔

13۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے، کوئی غزوہ آپ سے نہ چھوٹا اور احد کے روز جب سب لوگ بھاگ کھڑے ہوئے تو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ڈٹے رہے اور تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا عظیم پرچم آپؓ کو عطا کیا۔

14۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مدنی زندگی دروس و عبر سے بھری ہوئی ہے۔ فہم اسلام اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلہ میں ہمارے لیے زندہ مثال سیدنا ابوبکرؓ نے چھوڑی ہے۔ آپ کی شخصیت عظیم صفات کے ساتھ ممتاز ہے۔ بہت سی احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی مدح و تعریف اور دیگر صحابہ کرامؓ پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت و فوقیت بیان فرمائی ہے۔

صفحہ 1 از 7