تفسیر آیت تبلیغ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تفسیر آیت تبلیغ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 4

 سورۃ المائدة کی آیت 67 کی تفسیر اور شیعہ کا امت مسلمہ کو دھوکہ کی حقیقت:

يٰۤـاَيُّهَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ‌وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَابَلَّغۡتَ رِسٰلَـتَهٗ‌وَاللّٰهُ يَعۡصِمُكَ مِنَ النَّاسِ‌اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡـكٰفِرِيۡنَ۞ (سورۃ المائدة آیت 67)

ترجمہ: اے رسول! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی تبلیغ کرو۔ اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو (اس کا مطلب یہ ہوگا کہ) تم نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تمہیں لوگوں (کی سازشوں) سے بچائے گا۔ یقین رکھو کہ اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

 آیت کی صحیح تفسیر: آیت کی صحیح تفسیر جو کہ آیت کے الفاظ سے ظاہر ہے جس میں نہ روایت کے ملانے کی حاجت، نہ کسی اور کاروائی کی ضرورت یہ ہے احکام حق تعالیٰ اپنے نبی کریمﷺ کو حکم دے رہا ہے کہ جو جو احکام ہماری طرف سے نازل ہوئے ہیں ان سب کو بندوں تک پہنچا دیجیے ورنہ آپ کے ذمہ فریضہ رسالت باقی رہ جائے گا اور کفار کی ایذا رسانیوں کا خیال بلکل نہ کیجیے ہم آپ کے محافظ ہیں یہ مضمون یعنی احکام الٰہی کے تبلیغ کی تاکید کچھ اسی آیت کے ساتھ مخصوص نہیں اور آیات میں بھی ہے، قرآن مجید میں ایسی آیتیں اس تاکید سے بھری ہوئی ہیں۔

اس آیت میں نہ خلافت کا تذکرہ ہے، نہ حضرت علیؓ کی کسی قسم کی فضیلت اس سے نکل سکتی ہے، نہ آیت کو کسی خاص واقعہ سے کوئی تعلق ہے۔                  

مگر شیعہ کہتے ہیں: کہ یہ آیت حضرت علیؓ کی خلافت بلافصل کی بڑی روشن دلیل ہے حتیٰ کہ ان کے امام اعظم شیخ حلی نے "منہاج الکرامہ" میں آیت انما وليكم اللہ کے بعد اسی آیت کو ذکر کیا ہے۔ 

"شیعہ کہتے ہیں اس آیت میں جس چیز کی تبلیغ کا حکم ہے وہ حضرت علیؓ کی خلافت ہی کا حکم تھا عام احکام کی تبلیخ مراد نہیں ہے اور اس کے ساتھ انہوں نے ایک روایت بھی گھڑی ہے کہ "جب رسول اللہﷺ نے اپنے آخری حج سے واپس ہوتے ہوئے مقام غدیر خم میں پہنچے تو جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا کہ خدا کا حکم یہ ہے کہ اس مجمع میں حضرت علیؓ کی خلافت کا اعلان کر دیا دیجیے رسول ﷺ نے عذر کیا کہ مجھے خوف معلوم ہوتا ہے لوگ علیؓ کی خلافت سن کر آمادہ قتل و قتال ہو جائیں گے۔ جبرائیل علیہ السلام نے واپس جا کر اللہ سے یہ سب ماجرا بیان کیا تب یہ آیت اتری کہ اے رسول اللہ کی طرف سے جو حکم نازل ہوا ہے اس کی تبلیغ کر دیں ورنہ آپ ادا کرنے والے فرائض رسالت کے نہ قرار پائیں گے مگر پھر بھی رسول اللہ کی ہمت نہ ہوئی اور انہوں نے عذر کیا تب اللہ نے ان کی حفاظت کا وعدہ کیا مجبور ہو کر رسول خدا نے سب کو جمع کیا اور علی (رضی اللہ عنہ) کی خلافت کا اعلان بالفاظ کیا کہ من کنت مولاه فعلی مولاه

لہٰذا معلوم ہوا کہ اس آیت میں خاص حضرت علیؓ کی خلافت کے اعلان کا حکم ہے لفظ "ما" اس آیت میں اپنے معنیٰ عام پر نہیں پس یہ آیت حضرت علی کے خلیفہ بلافصل ہونے کی واضح دلیل ہو گئی۔

اہل سنت کہتے ہیں: کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ قصہ از سر تا پا غلط اور بےبنیاد ہے اہلسنت کی کتابوں میں ہمیں اس کا وجود نہیں ملتا اہل سنت کی کتابوں میں صرف آخری فقرہ من کنت مولا منقول ہے تو اس کو بھی محدثین نے کہا صحیح نہیں ہے۔

علامہ ابن تیمیہ رحمۃاللہ منہاج السنۃ میں لکھتے ہیں:

اما قوله من کنت مولاه فعلی مولاه فلیس في الصحاح لكن هو مما او العلماء وتنازع الناس في صحته فنقل عن البخاري وابراهیم الحربي طائفة من أهل العلم بالحدیث انهم طعنوا فیه وضعفوه وقال ابومحمد بن حزم اما من کنت مولاه فعلی مولاه فلا یصح من طریق الثقات أصلا

ترجمہ: لیکن بقول من کنت مولاه فعلی مولاه صحیح احادیث میں نہیں ہے بلکہ وہ من جملہ ان چیزوں کے ہے جن کو علماء نے روایت کیا ہے مگر لوگوں نے اس کی صحت میں اختلاف کیا ہے۔

امام بخاری رحمۃاللہ اور ابراہیم ہربی دیگر اور علماء حدیث کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ انہوں نے اس روایت میں جرح کی اور اس کو ضعیف کہا اور ابو محمد بن حزم کہتے ہیں کہ: من کنت مولاه فعلی مولاه بسند ثقات کی طرح ثابت نہیں ہے۔

علامہ بن حجر مکی رحمۃاللہ کی صواعق محرقہ میں لکھتے ہیں:

الطاعنون في صحته جماعة من أئمة الحدیث وعدوله المرجوع الیهم کابی داؤد السجستانی و ابی حاتم الرازی

اس حدیث کی صحت پر جرح کرنے والوں کی ایک جماعت ان ائمہ محدثین کی ہے جو بڑے معتبر ہیں اور جن پر جرح و تعدیل کا دارومدار ہے ابو داؤد سجستانی رحمۃاللہ اور ابوحاتم رازی کی دوسری بات یہ ہے کہ اگر بالفرض من کنت مولاہ کو تسلیم کر لیا جائے تو بھی اس میں حضرت علیؓ کی خلافت کا اعلان کجا کا اشارہ تک نہیں حضرت علی کی خلافت اس حدیث سے اس وقت ثابت ہو سکتی ہے جبکہ مولیٰ بمعنیٰ حاکم ہو اور حدیث کا ترجمہ یہ ہو کہ میں جس کا حاکم ہوں علی بھی اس کے حاکم ہیں حالانکہ زبان عرب میں مولیٰ بمعنیٰ حاکم نہیں آتا۔

قرآن مجید میں ہے:

 فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰٮهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ۞(سورۃ التحريم آیت 4)

ترجمہ: پس بےشک (یاد رکھو کہ) ان کا ساتھی اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک مسلمان ہیں، اور اس کے علاوہ فرشتے ان کے مددگار ہیں۔

اگر مولیٰ بمعنی حاکم ہو تو اس آیت مطلب یہ ہوگا

کہ جبرائیل اور مؤمنین صالحین رسول اللہﷺ کے حاکم ہیں۔ معاذ اللہ منه۔

لہٰذا اس روایت کو صحیح مان لینے سے بھی کچھ نتیجہ حاصل نہ ہوا اور نہ اس حدیث میں حضرت علیؓ کی خلافت کا ذکر ثابت ہوا اور نہ یہ حدیث آیت کے ساتھ کوئی تعلق پیدا نہ کر سکی۔ 

شیعوں کے امام المناظرین شیعہ مجتہد حامد حسین نے اپنی مشہور کتاب عبقات الانوار میں بڑا زور اس بات پر دیا ہے کہ مولیٰ بمعنیٰ حاکم آتا ہے ان شاء اللہ تعالی جب شرح احادیث کا سلسلہ شروع ہو گا اس وقت عبقات کے لفظ لفظ کا رد کر کے دکھا دیا جائے گا کہ مولیٰ بمعنیٰ حاکم ہرگز مستعمل نہیں اور جو عبارتیں مجتہد شیعہ حامد حسین نے نقل کی ہیں ان کا مطلب ہی وہ نہی سمجھے۔

 تںیسری بات یہ ہے کہ اس آیت کا بروز غدیر نازل ہونا بھی غلط ہے یہ آیت غدیر خم کے موقع سے بہت پہلے نازل ہو چکی تھی۔

صفحہ 1 از 4