سورۃ المائدة کی آیت 67 کی تفسیر اور شیعہ کا امت مسلمہ کو…

سورۃ المائدة کی آیت 67 کی تفسیر اور شیعہ کا امت مسلمہ کو دھوکہ

  پروفیسر نقیہ کاظمی

صفحہ 1 از 5

 تفسیر آیت تبلیغ

 سورۃ المائدة کی آیت 67 کی تفسیر اور شیعہ کا امت مسلمہ کو دھوکہ کی حقیقت

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ﴿67﴾

(ترجمہ) اے رسولﷺ پہنچا دیجئے وہ باتیں جو اتاری گئیں آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اور اگر آپ نے (ایسا) نہ کیا تو نہیں پہنچائی آپ نے رسالت اس کی اور اللہ بچائے گا آپ کو لوگوں سے بےشک اللہ نہیں ہدایت کرتا کافر لوگوں کو ۔
آیت کی صحیح تفسیر جو کہ آیت کے الفاظ سے ظاہر ہے جس میں نہ روایت کے ملانے کی حاجت، نہ کسی اور کاروائی کی ضرورت یہ ہے احکام حق تعالی اپنے نبی کریم ﷺ کو حکم دے رہا ہے کہ جو جو احکام ہماری طرف سے نازل ہوئے ہیں ان سب کو بندوں تک پہنچا دیجیئے ورنہ آپ کے ذمہ فریضہ رسالت باقی رہ جائے گا اور کفار کی ایذارسانیوں کا خیال بلکل نہ کیجیئے ہم آپ کے محافظ ہیں یہ مضمون یعنی احکام الٰہی کے تبلیغ کی تاکید کچھ اسی آیت کے ساتھ مخصوص نہیں اور آیاتِ میں بھی ہے، قرآن مجید میں ابیسیوں آیتیں اس تاکید سے بھری ہوئی ہیں۔
اس آیت میں نہ خلافت کا تذکرہ ہے، نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کسی قسم کی فضیلت اس سے نکل
سکتی ہے، نہ آیت کو کسی خاص واقعہ سے کوئی تعلق ہے۔۔۔۔۔
♦️مگر شیعہ کہتے ہیں
کہ یہ آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلافصل کی بڑی روشن دلیل ہے حتیٰ کہ ان کے امام اعظم شیخ حلی نے "منہاج الکرامہ" میں آیت انما وليكم الله کے بعد اسی آیت کو ذکر کیا ہے۔
"شیعہ کہتے ہیں اس آیت میں جس چیز کی تبلیغ کا حکم ہے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت ہی کا حکم تھا عام احکام کی تبلیخ مراد نہیں ہے اور اسکے ساتھ انہوں نے ایک روایت بھی گھڑی ہے کہ "جب رسول اللہ نے اپنے آخری حج سے واپس ہوتے ہوئے مقام غدیر خم میں پہنچے تو جبرئیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا کہ خدا کا حکم یہ ہے کہ اس مجمع میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا اعلان کر دیا دیجیئے رسول ﷺ نے عذر کیا کہ مجھے خوف معلوم ہوتا ہے لوگ علی رضی اللہ عنہ کی خلافت سن کر آمادہ قتل و قتال ہو جائیں گے جبرئیل علیہ السلام نے واپس جا کر اللہ سے یہ سب ماجرا بیان کیا تب یہ آیت اتر ی کہ اے رسول الله کی طرف سے جو حکم نازل ہوا ہے اس کی تبلیغ کر دیں ورنہ آپ ادا کرنے والے فرائض رسالت کے نہ قرار پائیں گے مگر پھر بھی رسول صلی اللہ تعالیٰ کی ہمت نہ ہوئی اور انہوں نے عذر کیا تب اللہ نے ان کی حفاظت کا وعدہ کیا مجبور ہو کر رسول خدا نے سب کو جمع کیا اور علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا اعلان بالفاظ کیا کہ من کنت مولاه فعلی مولاه لہذا معلوم ہوا کہ اس آیت میں خاص حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے اعلان کا حکم ہے لفظ "ما" اس آیت میں اپنے معنی عام پر نہیں پس یہ آیت حضرت علی کے خلیفہ بلافصل ہونے کی واضح دلیل ہو گئی"
♦️ اہل سنت کہتے ہیں
کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ قصہ از سر تا پا غلط اور بے بنیاد ہے اہلسنت کی کتابوں میں ہمیں اس کا وجود نہیں ملتا اہل سنت کی کتابوں میں صرف آخری فقرہ من کنت مولا منقول ہے تو اس کو بھی محدثین نے کہا صحیح نہیں ہے
♦️علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ منہاج السنة میں لکھتے ہیں

اما قوله من کنت مولاه فعلی مولاه فلیس في الصحاح لكن هو مما او العلماء وتنازع الناس في صحته فنقل عن البخاري وابراهیم الحربي طائفة من أهل العلم بالحدیث انهم طعنوا فیه وضعفوه وقال ابومحمد بن حزم اما من کنت مولاه فعلی مولاه فلا یصح من طریق الثقات أصلا

ترجمہ
لیکن بقول من کنت مولاه فعلی مولاه صحیح احادیث میں نہیں ہے بلکہ وہ منجملہ ان چیزوں کے ہے جن کو علماء نے روایت کیا ہے مگر لوگوں اس کی صحت میں اختلاف کیا ہے،
♦️امام بخاری رحمہ اللہ اور ابراہیم ہربی دیگر اور علماء حدیث کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ انہوں نے اس روایت میں جرح کی اور اسکو ضعیف کہا اور
♦️ ابو محمد بن حزم کہتے ہیں کہ من کنت مولاه فعلی مولاه بسند ثقات کی طرح ثابت نہیں ہے۔
♦️علامه بن حجر مکی رحمتہ اللہ کی صواعق محرقہ میں لکھتے ہیں
الطاعنون في صحته جماعة من أئمة الحدیث. وعدوله المرجوع الیهم کابی داؤد السجستانی و ابی حاتم الرازی
اس حدیث کی صحت پر جرح کرنے والوں کی ایک جماعت ان ائمہ محدثین کی ہے جو بڑے معتبر ہیں اور جن پر جرح و تعدیل کا دارو مدار ہے ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ اور ابوحاتم رازی کے دوسری بات یہ ہے کہ اگر بالفرض من کنت مولاہ کو تسلیم کرلیا جائے
تو بھی اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا اعلان کجا کا اشارہ تک نہیں حضرت علی کی خلافت اس حدیث سے اس وقت ثابت ہوسکتی ہے جبکہ مولیٰ بمعنی حاکم ہو اور حدیث کا ترجمہ یہ ہو کہ میں جس کا حاکم ہوں علی بھی اس کے حاکم ہیں حالانکہ زبان عرب میں مولیٰ بمعنی حاکم نہیں آتا قرآن مجید میں ہے

فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَٰلِكَ ظَهِيرٌ (التحريم 4 )

صفحہ 1 از 5