مولانا جامی رحمۃاللہ کی شخصیت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مولانا جامی رحمۃاللہ کی شخصیت

  محمد ظفر اقبال

پھر خود حضرت مولانا عبدالرحمٰن جامیؒ کی شخصیت پر بڑا نزاع ہے۔ بعض لوگوں نے ان کو مائل بہ تشیع اور بعضوں نے ان کو اہلِ تقیہ میں شمار کیا ہے، اور کہا ہے کہ مولانا جامیؒ عقیدۃً و مسلکاً اہلِ سنت سے دور اور اہلِ تشیع سے قریب ہیں۔ 

اور انہوں نے خصوصاً خلفائے راشدینؓ کی مدح میں جو اشعار کہے ہیں وہ بر بنائے تقیہ ہیں، ورنہ جامیؒ نے اپنی کتابوں، خصوصاً شواہد النبوۃ میں جن عقائد کی ترویج کی ہے وہ خالصتاً شیعہ عقائد ہیں۔ 

خود مولانا جامیؒ کے حالات پر مشتمل کتاب جامی (مولانا جامیؒ کے حالات میں عارف نوشاہی صاحب کی مذکورہ کتاب کے حوالے حضرت مولانا محمد علی مرحوم کی فاضلانہ کتاب میزان الکتب، صفحہ 511، 513 سے ماخوذ ہیں۔) کے مصنف سید عارف نوشاہی نے باب: جامیؒ کے مذہبی عقائد کے تحت لکھا ہے:  

1: وہ شیعہ مائل سنی تھے۔ (جامی: صفحہ  254)  

2: مختصر یہ کہ مذکورہ کتاب شواہد النبوۃ کے مندرجات سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ اس کا مصنف ایک سنی ہے جس کا دل تعصب سے پاک ہے، مگر ساتھ ہی وہ عقائدِ امامیہ کی طرف بھی راغب ہے۔ (ایضاً) 

3: جامی کے افکار میں دونوں عقیدوں، شیعہ و سنی کے امتزاج کی دلیل ہے۔ (ایضاً: صفحہ  255) 

4: جو ایرانی شیعہ جامیؒ سے عقیدت رکھتے ہیں، وہ جامیؒ کو باطنی طور پر ایک خالص العقیدہ شیعہ ثابت کرنے کی کوش کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں خلفائے ثلاثہؓ کی مدح میں یہ مقالات اور اشعار جامیؒ کا تقیہ ہیں۔ چنانچہ سلسلۃ الذہب (مصنفہ جامی) کے مندرجہ ذیل قطعے کے آخری شعر میں یہ حضرات خلفائے ثلاثہؓ کی قدح اور امیر المؤمنین حضرت علیؓ کے حق ہونے کی طرف اشارۃً و کنایۃً قیاس کرتے ہیں۔ وہ شعر یہ ہے:  

پنجہ درکن اسد اللہی را، 

بیخ برکن دو سه روباہی را 

(ایضاً: صفحہ 256)    

شیخ عباس قمی نے اپنی کتاب الکنی والالقاب میں جامی کے متعلق لکھا ہے:  

المولى عبدالرحمٰن بن أحمد بن محمد الدشتی الفارسی الصوفی، النحوی، الصرفی، الشاعر الفاضل ويقال له الجامی لأنه ولد ببلدة جام من بلاد ما وراء النهر سنة 817 ھ، وله لسلسلة الأبرار و شواہد النبوۃ فی فضائل النبیﷺ والأئمہ وهل هو من علماء السنة كما هو الظاهر منه، بل من المتعصبين كما هو الغالب على أهل بلاد تركستان وما وراء النهر؟ ولذا بالغ فی التشيع القاضی نور الله مع مذاقه الوسیع، أو أنه كان ظاهراً من المخالفین، وفی الباطن من الشیعۃ الخالصین، ولم یبرز ما فی قلبه تقية، كما یشهد بذلك بعض أشعاره، منها ما فی سلسلۃ الأبرار قوله: 

پنجہ برکن اسد اللہی را 

بیخ برکن دوسه روباہی را 

واعتضده السید الأجل الأمير محمد حسين الخاتون آبادی سبط العلامة المجلسی، وینقل حکایة فی ذلك مسنداً، وحاصلها أن الشیخ علی بن عبد العالی، كان رفیقاً مع الجامی فی سفر زیارۃ أئمہ العراق علیہم السلام، وكان یتقیہ، فلما وصلوا إلى بغداد ذهبا إلى ساحل الدجلة للتنزه، فجاء درویش قلندر، وقرأ قصیدة غراء فی مدح مولانا أمیر المؤمنین، فلما سمعها الجامی بکی وسجد بکی فی سجوده، ثم أعطاه جایزة، ثم قال فی سبب ذلك: اعلم أنی شیعی من خلص الإمامیة، ولكن التقیة واجبة، وهذه القصیدة منی، وأشکر الله أنھا صارت بحیث یقرأها القاری فی هذا المکان 

ثم قال الخاتون آبادی: وأخبرنی بعض الثقات من الأفاضل نقلاً عمن یثق به أن كل من كان فی دار الجامی من الخدم والعیال والعشیرة كانوا على مذہب الإمامیة، ونقلوا عنہ أنہ كان یبالغ فی الوصیة بأعمال التقیة سیما إذا أراد سفراً، والله العالم بالسرائر 

(الکنی والالقاب: جلد 2 صفحہ  138، 139 تحت: الجامی)  

مولوی عبدالرحمٰن بن احمد بن محمد دشتی، فارسی، صوفی، نحوی، صرفی، شاعر اور فاضل تھے۔ جامی انہیں اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ ماوراء النہر کے شہر جام میں 817ھ میں پیدا ہوئے۔ ان کی تصانیف میں سلسلۃ الأبرار اور شواہد النبوۃ ہیں، جو آنحضرتﷺ اور ائمہ کرام کے فضائل میں لکھی گئی ہیں۔ کیا جامیؒ سنی علماء میں سے ہیں جیسا کہ ظاہر ہوتا ہے؟ بلکہ وہ متعصب سنی ہیں، جیسا کہ ترکستان اور ماوراء النہر کے علاقوں میں مشہور ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنی طبیعت کی وسعت کے باوجود قاضی نوراللہ شوستری پر سخت تشنیع کی ہے، یا یہ کہ جامیؒ بظاہر مخالفین یعنی سنیوں میں سے تھے، لیکن باطنی طور پر خالص شیعوں میں سے تھے، اور جو ان کے دل میں تھا وہ از روئے تقیہ ظاہر نہ کیا۔ اس بات کی گواہی ان کے بعض اشعار دیتے ہیں، جیسا کہ سلسلۃ الأبرار کا یہ شعر ہے:

پنجہ برکن اسداللہی را، 

بیخ برکن دوسہ روباہی را 

اور اس بات کو امیر سید محمد حسین الخاتون آبادی، نواسہ ملا محمد باقر مجلسی کی ذکر کردہ حکایت سے مزید مضبوطی حاصل ہوتی ہے۔ اس باسند حکایت کا خلاصہ ہے کہ: شیخ علی بن عبد العالی ایک مرتبہ سفر میں جامیؒ کے رفیق تھے، جو عراق میں ائمہ کرام کی قبور کی زیارت کے سلسلے میں کیا گیا تھا۔ وہ تقیہ کرتے تھے۔ جب یہ بغداد پہنچے تو دونوں ساحلِ دجلہ کی طرف چل دیے۔ اتنے میں ایک درویش قلندر آیا اور اس نے ایک نہایت عمدہ قصیدہ مدحِ مولانا امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں پڑھا۔ جب جامیؒ نے یہ قصیدہ سنا تو رو پڑے اور سجدہ ریز ہو کر روتے رہے، پھر اس (قصیدہ خواں) کو انعام دیا۔ پھر فرمایا: تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میں شیعہ ہوں اور مخلص امامی ہوں، البتہ تقیہ واجب ہے اور یہ قصیدہ میرا لکھا ہوا ہے، اور میں شکرِ الہٰی بجا لاتا ہوں کہ اس نے قصیدے کو اس مقام پر پہنچایا۔ پھر محمد حسین خاتون آبادی نے کہا: مجھے ثقہ فاضلین میں سے کسی نے بتایا، اور وہ اس بات کو معتبر لوگوں سے روایت کرتا ہے کہ جامی کے گھر کے تمام افراد، بال بچے اور خاندان کے لوگ مذہبِ امامیہ پر تھے، اور جامیؒ تقیہ کے متعلق نہایت کڑی وصیت کرتے تھے، خاص کر جب وہ سفر کا ارادہ کرتے۔ اور اللہ ہی بھیدوں کو جاننے والا ہے۔  

عباس قمی نے جامیؒ کے شیعہ ہونے پر جو حکایت بیان کی ہے، وہ دیوانِ کامل جامی بخشش دہم صفحہ 194 پر بھی موجود ہے۔