3:آل علیؓ اور آل عثمانؓ کے درمیان رشتہ داریاں:
بنو ہاشم اور بنو امیہ کے درمیان کوئی رنجش، عداوت، اور نفرت ہرگز نہ تھی، یہ سب دشمنانِ اسلام کی افترا پردازیاں ہیں، انھوں نے من گھڑت طور سے فرضی قصوں اور اساطیر کا جال بُنا ہے، ہر انصاف پسند جو کہ گہرائی سے اس موضوع کا جائزہ لے گا اس کے سامنے یہ حقیقت عیاں ہو جائے گی کہ اسلام سے قبل اور اس کے بعد دونوں ادوار میں دونوں قبائل کے درمیان عم زاد بھائیوں، ماموں زاد بھائیوں اور بھتیجوں کا تعلق رہا ہے۔ ان کی آپسی قرابت داریاں کافی گہری اور مضبوط تھیں وہ ہر ایک دوسرے سے محبت اور اس کا احترام واکرام کرتے تھے، دکھ درد میں شریک ہوتے تھے، دونوں ایک ہی باپ کی اولادتھیں اور سب کے دادا ایک ہی تھے، وہ ایک ہی درخت کی مختلف شاخیں تھیں، سب ایک ہی چشمہ صافی کی پیداوار تھے اور سب نے اللہ کے اسی دین حنیف کا پھل کھایا جسے صادق و امین، مربی ومعلم اور خاتم الانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا۔
ابو سفیان اور عباس رضی اللہ عنہما کی دوستی ضرب المثل تھی،
(الشیعۃ وأہل البیت: صفحہ 141)
اسی طرح اسلام سے پہلے اور اس کے بعد دونوں خاندانوں کے درمیان سسرالی رشتہ داریاں برابر برقرار رہیں۔ نبی کریمﷺ نے اپنی چار بیٹیوں میں سے تین کا نکاح بنو امیہ ہی میں کیا، ان میں ایک ابوالعاص بن ربیعؓ تھے، دوسرے عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ رضی اللہ عنہ تھے، یہ دونوں بنو امیہ ہی کے فرد تھے۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کے داماد تو تھے ہی، آپ کی اس پھوپھی کی بیٹی کے بیٹے تھے جو آپﷺ کے والد عبداللہ بن عبدالمطلب کے ساتھ جڑواں پیدا ہوئی تھیں، سیدنا عثمانؓ کی والدہ کا نام ارویٰ بنت کریز بن حبیب بن عبد شمس ہے اور حضرت عثمانؓ کی نانی ام حکیم، بیضاء بنت عبدالمطلب ہیں جو کہ نبی کریمﷺ کی پھوپھی ہیں۔ اس طرح سے حضرت عثمان بن عفانؓ کے بعد بنو ہاشم کے گھرانے میں ان کے بیٹے ابان بن عثمان کا رشتہ ہوا، ان کی زوجیت میں ام کلثوم بنت عبداللہ بن جعفر طیار بن ابوطالب تھیں اور جعفر طیارؓ کے حقیقی بھائی ہیں۔
(المعارف: الدینوری: صفحہ 86 الشیعہ و أہل البیت صفحہ 141)۔
نیز حضرت علیؓ کی پوتی یعنی حضرت حسینؓ کی بیٹی سکینہ، حضرت عثمانؓ کے پوتے حضرت زید بن عمرو بن عثمان رضی اللہ عنہم سے منسوب تھیں اور اسی طرح حضرت علیؓ کی دوسری پوتی یعنی حسین کی بیٹی فاطمہ، عثمان کے دوسرے پوتے محمد بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان سے منسوب تھیں، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ خاندان بنوامیہ کے سردار ابو سفیان کی بیٹی سیدہ ام حبیبہؓ، خاندان بنو ہاشم کے سردار سید ولد آدم محمدﷺ کی بیوی تھیں، یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے۔ اسی طرح ہند بنت ابی سفیان حارث بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم کی منکوحہ تھی،جن کے بطن سے حارث کے بیٹے محمد پیدا ہوئے۔
(طبقات ابن سد: جلد 5 صفحہ 15،
الإصابۃ: جلد 3 صفحہ 58 ،59)۔
اس سلسلہ کی اور بھی کڑیاں ہیں مثلاً لبابہ بنت عبیداللہ بن عباس بن عبدالمطلب نے عباس بن علی بن ابی طالب سے شادی کی، پھر ان سے جدائی کے بعد لبابہ کا نکاح حضرت معاویہؓ کے بھتیجے ولید بن عتبہ بن ابی سفیان سے ہوگیا۔
(نسب قریش: صفحہ 133،
الشیعۃ وأہل البیت: صفحہ 143)۔
رملہ بنت محمد بن جعفر طیار بن ابی طالب نے سلیمان بن ہشام بن عبدالملک اموی سے نکاح کیا اور ان کے بعد ابو القاسم بن ولید بن عتبہ ابو سفیان سے نکاح کیا۔
(الشیعۃ واہل البیت: صفحہ 143)۔
سیدنا علی بن ابی طالب کی بیٹی رمل کا نکاح مروان بن حکم بن ابی العاص بن امیہ کے بیٹے سے ہوا۔
(الشیعۃ وأہل البیت: صفحہ 143)
حضرت علیؓ کی بیٹی رملہ پہلے ابوالھیاج کی زوجیت میں تھیں اور ان سے جدائی کے بعد معاویہ بن مروان بن حکم بن ابی العاص سے منسوب ہوئیں۔
(جمہرۃ أنساب العرب: صفحہ 87،
نسب قریش: صفحہ 45)
اسی طرح حضرت علیؓ بن ابی طالب کی پوتی کا نکاح مروان بن حکم کے پوتے سے ہوا، جس کی تفصیل یہ ہے کہ نفیسہ بنت زید بن حسن بن علی بن ابی طالب کی شادی ولید بن عبدالملک بن مروان سے ہوئی، اور انھیں کی زوجیت میں وفات ہوئی، ان کی ماں کا نام لبابہ بنت عبداللہ بن عباس تھا۔
(طبقات ابن سعد: جلد 5 صفحہ 234)
خلاصہ یہ ہے کہ میں نے یہاں بالا ختصار چند رشتوں کا تذکرہ کیا ہے اور حق کے مثلاشی کے لیے ان شاء اللہ اتنی ہی مثالیں کافی ہیں۔
(الشیعۃ وأہل البیت: صفحہ 144)۔