حبیب کو حبیب سے ملا دو۔ (تحقیق) - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

حبیب کو حبیب سے ملا دو۔ (تحقیق)

  خادم الحدیث سید محمد عاقب حسین

صفحہ 1 از 4

حبیب کو حبیب سے ملا دو۔ ایک مشہور روایت کی تحقیق:

واقعہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپؓ نے مجھے اپنے سرہانے بٹھایا اور فرمایا اے علیؓ جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے اس ہاتھ سے غسل دینا جس ہاتھ سے تم نے حضور نبی اکرمﷺ‎ کو غسل دیا تھا، اور مجھے خوشبو لگانا اور حضورﷺ کے روضہ اقدس کے پاس پہنچا کر تدفین کے لیے اجازت طلب کرنا، اگر دیکھو کہ دروازہ کھول دیا گیا ہے تو مجھے وہاں دفن کر دینا، ورنہ واپس لا کر عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا، تا وقت کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے۔
سیدنا علیؓ بیان فرماتے ہیں کہ آپؓ کو غسل اور کفن دیا گیا اور میں نے سب سے پہلے روضہ رسول کے دروازے پر پہنچ کر اجازت طلب کی، میں نے عرض کیا یارسول اللہﷺ سیدنا ابوبکرؓ آپﷺ سے داخلے کی اجازت مانگ رہے ہیں، پھر میں نے دیکھا کہ روضہ اقدس کا دروازہ کھول دیا گیا اور آواز آئی
حبیب کو اس کے حبیب کے ہاں داخل کر دو، بے شک حبیب ملاقاتِ حبیب کے لیے مشتاق ہے۔
امام ابو القاسم ابنِ عساکرؒ (المتوفى: 571ھ) نے فرمایا:
أنبأنا أبو علی محمد بن محمد بن عبد العزيز بن المهدی وأخبرنا عنه أبو طاهر إبراهيم بن الحسن بن طاهر الحموی عنه أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن أحمد العتيقی سنة سبع وثلاثين وأربع مائة نا عمر بن محمد الزيات نا عبد الله بن الصقر نا الحسن بن موسى نا محمد بن عبد الله الطحان حدثنی أبو طاهر المقدسی عن عبد الجليل المزنی عن حبة العرنی عن علی بن أبی طالب قال لما حضرت أبا بکرؓ الوفاة أقعدنی عند رأسه وقال لی يا علیؓ إذا أنا مت فغسلنی بالكف الذی غسلت به رسول الله وحنطونی واذهبوا بی إلى البيت الذی فيه رسول الله فاستأذنوا فإن رأيتم الباب قد يفتح فادخلوا بی وإلا فردوی إلى مقابر المسلمين حتیٰ يحكم الله بين عباده قال فغسل وكفن وكنت أول من يأذن إلى الباب فقلت يا رسول اللهﷺ‎ هذا أبو بکرؓ مستأذن فرأيت الباب قد تفتح وسمعت قائلا يقول ادخلوا الحبيب إلى حبيبه فإن الحبيب إلى الحبيب مشتاق هذا منكر وراويه أبو الطاهر موسیٰ بن محمد بن عطاء المقدسی وعبد الجليل مجهول والمحفوظ أن الذی غسل أبا بکرؓ امرأته أسماء بنت عميسؓ۔
(تاریخِ دمشق لابنِ عساکر: جلد، 17 صفحہ،381)
موضوع:
خود امام ابنِ عساکرؒ اس کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: هذا منكراور یہ امام ابنِ عساکرؒ کا منہج ہے کہ وہ جس روایت کو منکر کہتے ہیں وہ ان کے نزدیک موضوع منگھڑت ہوتی ہے:
امام نور الدین ابنِ عراق الكنانیؒ م963ھ فرماتے ہیں:
كثيرا ما يقتصر ابنِ عساكرؒ على وصف الحديث بالنكارة وهو عنده موضوع۔
ترجمہ: ابن عساکرؒ اکثر حدیث کو نکارت یعنی منکر کے ساتھ وصف کرنے تک محدود رکھتے ہیں اور وہ ان کے نزدیک موضوع یعنی من گھڑت ہوتی ہے۔
(كتاب تنزيه الشريعة المرفوعة: جلد، 2 صفحہ، 277)
ثابت ہوا کہ حافظ ابنِ عساکرؒ کے نزدیک یہ روایت موضوع ہے۔
شیخ الاسلام والمسلمین امیر المؤمنین فی الحدیث حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ نے اپنی کتاب لسانُ المیزان میں اس روایت کو باطل کہا ملاحظہ ہو:
وعنه أبو طاهر المقدسی بخبر باطل أورده ابنِ عساكرؒ فی ترجمة أبی الصديقؓ وفيه: أن علياؓ قال: لما حضر أبو بكرؓ قال لی: إذا مت فاغسلونی واذهبوا بی إلى البيت الذی فيه النَّبِیﷺ۔
(لسان الميزان: جلد، 3 صفحہ، 448)
امام شمس الدین سخاویؒ نے حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ کے کلام کی موافقت کی۔
(التحفة اللطيفة فی تاريخ المدينة الشريفة: صفحہ، 109)
اس کی سند میں واقع راوی أبو الطاهر موسیٰ بن محمد بن عطاء المقدسی کذاب راوی ہے۔
1: أبو زرعة الرازیؒ: كان يكذب۔
ترجمہ: ابوزرعہ رازیؒ فرماتے ہیں وہ جھوٹ بولتا تھا۔
2: أبو جعفر العقيلیؒ: يحدث عن الثقات بالبواطيل والموضوعات۔
ترجمہ: ابوجعفر عقیلیؒ کہتے ہیں کہ یہ ثقہ راویوں سے جھوٹی اور من گھڑت روایات بیان کرتا ہے۔
3: موسیٰ بن سهل الرملی: أشهد عليه أنه كان يكذب۔
ترجمہ: موسیٰ بن سہل کہتے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ جھوٹ بولتا تھا۔
(تاريخ مدينة دمشق: جلد، 61 صفحہ، 202)
(كتاب الضعفاء والمتروكين لابنِ الجوزی: جلد، 2 صفحہ، 149)
(الجرح والتعديل لابنِ أبی حاتم: جلد، 8 صفحہ، 113)
4: أبو حاتم بن حبان البستی: لا تحل الرواية عنه كان يضع الحديث۔
ترجمہ: امام ابنِ حبانؒ کہتے ہیں کہ اس سے روایت کرنا حلال نہیں کیونکہ یہ احادیث گھڑنے والا ہے۔
(المجروحين لابنِ حبانؒ: جلد، 1 صفحہ، 242، 243)
(لسان الميزان: جلد، 6 صفحہ، 165)
5: أبو أحمد بن عدیؒ الجرجانج: منكر الحديث، يسرق الحديث۔ 
ترجمہ: امام ابنِ عدیؒ نے فرمایا یہ منکر الحدیث ہے اور روایات چوری کرتا ہے۔
(الكامل فی ضعفاء الرجال: جلد، 8 صفحہ، 63)
6: الذهبی: أحد المتروكين، ومرة: كذاب متهم وقال فی حديثه: هذا كذب و موضوع و باطل۔
ترجمہ: امام ذہبیؒ فرماتے ہیں یہ ان میں سے ایک ہے جن کی روایات کو ترک کیا گیا پھر دوسری کتاب میں فرماتے ہیں یہ جھوٹا ہے اور اس پر جھوٹا ہونے کا الزام ہے اور پھر آپ نے دوسری کتاب میں اس کی روایات کو نقل کرکے ان پر موضوع ٬ باطل اور کذب کا حکم لگایا
(تاريخ الإسلام ت بشار: جلد، 5 صفحہ، 708)
(المغني فج الضعفاء: جلد، 2 صفحہ، 686)
(ميزان الاعتدال: جلد، 4 صفحہ، 219، 220)
7: أبو حاتم الرازی: كان يكذب ويأتی بالأباطيل۔
ابو حاتم رازی فرماتے ہیں وہ جھوٹ بولتا تھا اور جھوٹی روایات کرتا تھا۔
(الجرح والتعديل لابنِ أبی حاتمؒ: جلد، 8 صفحہ، 161)
اسی وجہ سے یہ روایت باطل و مردود ہے نیز سند میں اور بھی علتیں ہیں:
امام عبد المنعم بن عبد الوهاب الحرانؒ (المتوفیٰ: 596ھ) نے فرمایا:
صفحہ 1 از 4