لفظ شیعہ کے لغوی معنی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

لفظ شیعہ کے لغوی معنی

  توقیر احمد

صفحہ 1 از 5

 لفظ شیعہ کی لغوی تعریف 

1۔۔امام ابن درید متوفی 321 ہجری فرماتے ہیں 

فلان من شیعة فلان ائ ممن یری رایہ 

یعنی کسی شخص کو دوسرے کا شیعہ اس وقت کہا جاتا ہے جب وہ اس کی رائے کا پیروکار ہوتا ہے نیز لفظ شیعہ تشییع اور مشایعة کا معنی ہے کسی کی مدد و حمایت اور تعاون کرنا 
ابن درید جمہرۃ اللغۃ جلد 3 صفحہ 63 
2۔۔امام ازہری متوفی 317 ہجری فرماتے ہیں 
لفظ شیعہ کا اطلاق کسی آدمی کے مددگاروں اور پیروکاروں پر کیا جاتا ہے ۔اسی طرح ہر وہ گروہ جو کسی ایک رائے پر متفق ہوں انہیں بھی شیعہ کہا جاتا ہے لفظ شیعہ کی جمع شیع اور اور اشیاع استعمال ہوتی ہے 
نیز شیعہ وہ قوم ہے جو خاندان نبوی سے محبت اور دوستی کا دعوی کرتی ہے کہتے ہیں 
شیعت النار تشییعا آگ پر کوئی چیز ڈال کر اس کو مزید بھڑ کانا
نیز کہا جاتا ہے شیعت فلانا یعنی میں فلاں شخص کے ساتھ اسے الوداع کرنے کے لیے نکلا 
اسی طرح کہا جاتا ہے شیعنا شھر رمضان بست من شوال یعنی میں نے ماہ رمضان کے پیچھے اور اس کے ساتھ ہی ماہ شوال کے چھ روزے رکھےعرب کہتے ہیں آتیک غدا او شیعہ 
یعنی میں کل یا اس کے پیچھے والےدن تمہارے پاس آؤں گا شیعہ بھی وہ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کے پیچھے چلتے ہیں اور شیعہ سے مراد وہ فرق ہیں جو اگرچہ ایک دوسرے کی پیروی کرتے ہیں لیکن ہر امر میں باہم متفق نہیں ہوتے  
الازہری تہذیب اللغۃ 
جلد 3 صفحہ 61 
3۔۔امام جوہری متوفی 400ھ ھجری فرماتے ہیں 
تشیع الرجل کا معنی ہے کہ فلاں شخص نے شیعہ ہونے کا اعلان کیا اور وہ لوگ جو باہم متفق ہو کر ایک دوسرے کی رائے تسلیم کرتے ہیں انہیں شیعہ کہا جاتا ہے
ذوالرمہ شاعر نے کہا 

استحدث الرکب عن اشیاعھم خبرا یعنی عن اصحابھم 
دیوان ذی الرمہ ص4
الصحاح للجوھری 3/1240

یعنی کیا قافلے والوں کو اپنے رفقاء کے بارے میں کوئی نئی خبر مل گئی ہے اس شعر میں ذوالرمہ نے لفظ اشیاع کو اصحاب کے معنی میں استعمال کیا ہے 
4۔۔علامہ ابن منظور افریقی متوفی 711 ہجری فرماتے ہیں 
شیعہ کا معنی پیروکار اور مددگار ہے اس کی جمع شیع اور جمع الجمع اشیاع ہے لفظ شیعہ کا اصل معنی لوگوں کا ایک فرقہ( گروہ) ہے اسایک ہی لفظ کا اطلاق واحد تثنیہ و جمع اور مزکر ومونث ہرایک معنوں میں ہوتا ہے اب یہ لفظ گرو کا مخصوص نام بن چکا ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل بیت سے ولایت ومحبت کا دعوی کرتا ہے جب کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص شیعہ میں سے ہے اور شیعہ مذہب میں یوں ہے تو اس سے وہی فرقہ مراد ہوتا ہے جس کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے دراصل شیعہ کا لفظ مشایعة سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے کسی کی پیروی اور ہمنوائی کرنا نیز شیعہ اس گروہ کو کہا جاتا ہے جو دوسروں کی رائے پر کاربند ہوتا ہے کہتے ہیں
تشایع القوم یعنی وہ قوم ایک دوسرے کی ہمنوا بن گئی تشیع الرجل فلاں شخص شیعہ ہوگیا 
شایعہ شیاعا وشیعِة یعنی دوسروں کے پیچھے چلنا نیز کہا جاتا ہے  فلان یشایعہ علی ذالک یعنی پھر وہ دوسرے کو تقویت پہنچاتا ہے  
لسان العرب مادہ شیع
5۔۔علامہ زبیدی متوفی 1205 ہجری فرماتے ہیں 
ہر وہ شخص جو کسی انسان کی معاونت اور اس کے لئے گروپ بندی کا مظاہرہ کرتا ہے وہ اس کا شیعہ بن جاتا ہے دراصل شیعہ لفظ مشایعة سے ماخوذ ہے  جس کا معنی ہے کسی کی پیروی کرنا ایک قول کے مطابق لفظ شیعہ کی یا (عین کلمہ) دراصل واوتھی جیسے کہتے ہیں 
شوع القوم اس نے اپنی قوم کو جمع کیا اب یہ لفظ اس فرقہ کا نام بن چکا ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل بیت سے دوستی اور محبت کا دعوی کرتا ہے ایسے بدعتی لوگ بے شمار ہیں جن میں سے زیادہ غلو کا شکار امامیہ فرقہ ہے جو آپنے ایک غائب امام کا منتظر ہے یہ فرقہ سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کو برا کہتا ہے اور جو ان میں زیادہ غالی ہیں وہ ان دونوں اصحاب رسولؐ کو معاذاللہ کافر قرار دیتے ہیں ان امامیہ میں کئی زندیقیت کی حد کو پہنچے ہوئے ہیں
تاج العروس جلد 5 صفحہ 405
خلاصہ۔۔۔لغوی اعتبار سے لفظ شیعہ۔ تشیع اور مشایعة متابعت نصرت معافقت رائے اتفاق اور تعاون کے معنے میں منحصر ہے
پھر یہ لفظ یعنی شیعہ اس فرقہ کےلیے عموما بطور نام استعمال ہونے لگا  جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اہل بیت سے محبت کا اعلان کرتا ہے جیسا کہ علامہ ابن منظور فیروز آبادی اور زبیدی نے ذکر کیا ہے لیکن شیعہ کے لئے اس نام کا بکثرت استعمال کرنا محل نظر ہے کیونکہ لفظ شیعہ کا لغوی معنیٰ ہے کسی کی متابعت اور معاونت کرنا لہذا اکثر شیعہ فرقے جن پر اس لفظ یعنی شیعہ کا اطلاق کیا جاتا ہے لغوی معنی کے لحاظ سے ان کا نام شیعہ رکھنا درست نہیں اس لئے کہ یہ لوگ درحقیقت اہل بیت کے پیروکار نہیں بلکہ ان کے مخالف اور ان کے راستے سے الگ ہونے والے ہیں اسی لغوی معنی کا اعتبار امام شریک بن عبداللہ نخعی کے ایک اثر میں نظر آتا ہے
کہ جب ایک شخص نے ان سے پوچھا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ میں سے کون افضل ہے انہوں نے جواب دیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس شخص نے کہا آپ شیعہ ہونے کے باوجود ایسی بات کہتے ہیں انہوں نے فرمایا ہاں کیوں کہ جو شخص اس بات کا اقرار نہیں کرتا وہ شیعہ نہیں ہے اللہ کی قسم ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ علیہ وسلم ممبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا 

الاان خیر ھذہ الامة بعد نبیھا ابوبکر ثم عمر 

صفحہ 1 از 5