Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عبادات کا اہتمام

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کتاب و سنت کے عمیق مطالعہ سے یہ سمجھ لیا تھا کہ عبادات کی انجام دہی کا نام ہی دین اسلام ہے، پورا دین عبادت میں داخل ہے اور دین حقیقت میں اللہ کا بتایا ہوا وہ نظام ہے جو زندگی کے تمام گوشوں کو محیط ہے اور خور و نوش نیز قضائے حاجت کے آداب وغیرہ سے لے کر اسلامی حکومت کے قیام، اس کی تدبیر و سیاست، آمد و خرچ کی تنظیم، معاملات اور جرم و سزا سے متعلق امور نیز صلح و جنگ کی حالت میں بین الاقوامی تعلقات تک کے مسائل کو شامل ہے، اسی لیے آپؓ انہیں منظم کیے رہے اور یہ کہ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ اللہ کی اہم ترین عبادتوں کی نشانیاں ہیں، ان کی اپنی اہمیت اور مقام و مرتبہ ہے لیکن ساری عبادات صرف انہی شعائر میں محدود نہیں ہیں بلکہ عبادات کا ایک حصہ ہیں جو اللہ کو مطلوب ہیں۔ (فقہ التمکین فی القرآن الکریم: الصلابی: صفحہ 181) عبادت کے اسی مفہوم کو انسانوں کی زندگی میں نافذ کرنا ہی زمین کی حکمرانی پانے کے لیے اوّلین شرط ہے۔ 

اسی طرح آپؓ کو معلوم تھا کہ انسانوں کے عقائد میں پختگی لانے، اخلاقیات کی بلندیوں میں استحکام بخشنے اور معاشرہ کی اصلاح میں عبادات کی اہم تاثیر ہے، چنانچہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور ذکر و اذکار جیسے اسلامی شعائر کا حضرت عمرؓ نے کتنا اور کس طرح اہتمام کیا اور اپنی ذات اور اسلامی معاشرہ میں عبادات کی اہمیت و معنویت کو کس طرح نافذ کیا اس کی چند مثالیں دی جا رہی ہیں۔

صلوٰۃ نماز:

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کو نماز پڑھنے کا حکم دیتے تھے، جماعت سے پیچھے رہ جانے والوں کو خوب ڈانٹ پلاتے اور نماز چھوڑنے والوں پر سخت گرفت کرتے تھے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی آپﷺ کے طریقے پر چلتے رہے، اور جب سیدنا عمر فاروقؓ منصبِ خلافت پر فائز ہوئے تو نماز کے معاملے میں سختی کی، لوگوں کو نماز کی تاکید کی، اور اسے چھوڑنے والوں کو سزائیں دیں، اپنے گورنروں کے پاس یہ عمومی فرمان بھیجا کہ ’’میرے نزدیک تمہارا سب سے اہم کام نماز ہے، جس نے خود اس کی پابندی کی اور دوسروں سے کروائی، اس نے اپنا دین محفوظ کر لیا، اور جس نے نماز ضائع کر دی وہ دوسری چیزوں کو بدرجہ اولیٰ ضائع کرنے والا ہو گا۔‘‘ (الفتاوٰی: جلد 10 صفحہ 249، موطأ مالک مع شرحہ أوجز المسالک: جلد 1 صفحہ 154)

آپؓ خشوع وخضوع والی نماز کے بہت حریص تھے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطابؓ کے پیچھے نماز پڑھی، اور تین صفوں کے پیچھے میں نے آپؓ کے رونے کی آواز سنی۔ (حلیۃ الاولیاء: جلد 1 صفحہ 52)

ایک روایت میں آیا ہے کہ آپؓ نے فجر کی نماز میں یہ آیت تلاوت فرمائی: 

اِنَّمَاۤ اَشۡكُوۡا بَثِّـىۡ وَحُزۡنِىۡۤ اِلَى اللّٰهِ ۞(سورۃ يوسف: آیت 86)

’’میں تو اپنی پریشانیوں اور اپنے رنج کی فریاد اللہ ہی سے کر رہا ہوں۔‘‘

اور رونے لگے، یہاں تک کہ آپ کی ہچکیوں کی آواز پچھلی صفوں میں سنی گئی۔ 

(الفتاوٰی: جلد 10 صفحہ 376)

آپ نے ایک آدمی کو نماز میں بلا وجہ حرکتیں کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اگر اس کا دل اللہ سے ڈرتا تو اعضائے بدن بھی اس سے خوف کھاتے۔ 

اگر آپؓ کو اسلامی افواج کی خبر ملنے میں دیر ہوتی تو نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے اور اس میں دعائے قنوت پڑھتے۔ (الفتاوٰی: جلد 23 صفحہ 64 )

آپ اپنی نماز میں مجاہدین کے لیے دعائیں کرتے اور قنوت پڑھتے چنانچہ جب آپ نے اہلِ کتاب سے جنگ لڑی تو فرض نماز میں ان پر دعائے قنوت پڑھی۔ (الفتاوٰی: جلد 21 صفحہ 91)

آپ سب لوگوں کو اور خود کو بھی نماز اور اس کے فرائض و سنن کے اہتمام کا عادی بناتے تھے، لوگوں کو سنت کی طرف رہنمائی کرتے اور بدعتوں سے روکتے۔ ایک مرتبہ بعض کاموں میں مشغول ہونے کی وجہ سے مغرب کی نماز اتنی تاخیر سے ادا کی کہ دو ستارے نکل آئے، تو آپ نے نماز کے بعد دو غلاموں کو آزاد کیا۔ (التاریخ الاسلامی: الحمیدی: جلد 19) بلاعذر شرعی دو نمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھنا آپ گناہِ کبیرہ سمجھتے تھے، عصر کے بعد نماز پڑھنے والوں کو سختی سے منع کرتے تھے۔ جمعہ کی نماز کے لیے تاخیر سے آنے والوں کو خوب ڈانٹتے اور ملامت کرتے تھے۔ سالم بن عبداللہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے، اتنے میں اوائل مہاجرین میں سے ایک جلیل القدر صحابی رسول اللہﷺ کی مسجد میں داخل ہوئے۔حصڑث عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو آواز دی اور پوچھا: یہ کون سا وقت ہے؟ انہوں نے کہا: میں ایک ضروری کام میں مشغول تھا، اذان سننے کے بعد میں نے وضو سے زیادہ کچھ نہیں کیا اور سیدھا مسجد میں آیا ہوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ابھی صرف وضو کیا ہے؟ حالانکہ تم جانتے ہو کہ رسول اللہﷺ جمعہ کے دن غسل کا حکم دیتے تھے(فتح الباری: جلد 2 صفحہ 415، 430، الخلافۃ الراشدۃ، دیکھئے یحیٰی الیحٰیی: صفحہ 294 )

آپ مسجد میں شور و ہنگامہ کرنے سے منع کرتے تھے، سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں مسجد میں کھڑا تھا، پیچھے سے مجھے کسی آدمی نے کنکری ماری میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ حضرت عمر بن خطابؓ تھے۔ آپؓ نے فرمایا: جاؤ اور ان دونوں کو پکڑ لاؤ، میں دونوں کو پکڑ کر آپ کے پاس لایا، آپ نے کہا: تم لوگ کون ہو، یا تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہم طائف کے رہنے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اگر تم اس شہر کے ہوتے تو تم دونوں کو سخت سزا دیتا۔ تم دونوں رسول اللہﷺ کی مسجد میں شور کرتے ہو۔ 

(فتح الباری: جلد 1 صفحہ 668)

حضرت عمر فاروقؓ نبیﷺ کی توجیہات و رہنمائیوں کا بہت احترام کرتے تھے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

اِذَا اسْتَأْذَنَتِ مْرَأَۃُ اَحَدِکُمْ اِلَی الْمَسْجِدِ فَلَا یَمْنَعْہَا۔

ترجمہ: ’’تم میں سے کسی سے اس کی عورت مسجد میں آنے کی اجازت مانگے تو اسے نہ روکو۔‘‘

راوی کا کہنا ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ کی بیوی مسجد میں نماز پڑھنے جاتی تھیں، ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے ان سے کہا: تم تو جانتی ہی ہو کہ مجھے کیا پسند ہے یعنی گھر میں نماز پڑھ لیا کرو۔ بیوی نے جواب دیا: میں اس وقت تک باز نہیں آؤں گی جب تک کہ آپؓ مجھے اس سے روک نہ دیں گے۔ راوی کہتے ہیں یہ سن کر حضرت عمرؓ نے ان کو چونکا لگایا، حالانکہ وہ مسجد ہی میں تھیں۔ 

(صحیح البخاری: حدیث 5238 )

یہ روایت بتاتی ہے کہ امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ شرعی امور کی کس قدر تعظیم کرتے تھے اور کتاب و سنت کے کتنے پابند تھے، آپ دیکھ رہے ہیں کہ اپنی ذاتی پسند پر فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس طرح مقدم رکھا۔ (التاریخ الاسلامی: جلد 40 صفحہ 19، 20)

آپکی شان عبادت دیکھیے کہ آدھی رات کو نماز پڑھنا آپ کا محبوب ترین مشغلہ تھا، اللہ کی مشیت کے مطابق جتنی توفیق ملتی نماز پڑھتے رہتے، اور جب رات کا آخری وقت آتا تو اپنی بیوی کو بیدار کرتے اور کہتے: ’’نماز، نماز‘‘، اور اس آیت کی تلاوت فرماتے:

وَاۡمُرۡ اَهۡلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَا‌ لَا نَسْأَلُكَ رِزۡقًا‌ نَحۡنُ نَرۡزُقُكَ‌ وَالۡعَاقِبَةُ لِلتَّقۡوٰى ۞(سورۃ طه: آیت 132)

(محض الصواب: جلد 2 صفحہ 635۔ اس کی سند ضعیف ہے۔)

ترجمہ: ’’اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور اس پر خوب پابند رہ، ہم تجھ سے کسی رزق کا مطالبہ نہیں کرتے، ہم ہی تجھے رزق دیں گے اور اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔‘‘

ایک رات آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو لوگوں کے معاملات کا خیال آ گیا جس کی وجہ سے آپ کافی رنج وغم میں مبتلا ہو گئے۔ بے چینی اس قدر تھی کہ نہ نماز پڑھ سکے اور نہ سو ہی سکے، اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! نہ میں نماز پڑھ سکتا ہوں اور نہ سو ہی سکتا ہوں، میں سورت پڑھنا شروع کرتا ہوں تو بھول جاتا ہے کہ آیا شروع سورت پڑھ رہا ہوں یا آخر سورت۔ جب آپؓ سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں ہے اے امیر المؤمنین؟ تو آپ نے فرمایا: لوگوں کے بارے میں میری فکر مندی کی وجہ سے ۔ 

(الفاروق عمر: الشرقاوی: صفحہ 214)

تہجد کی نماز کی کچھ رکعتیں اگر کبھی چھوٹ جاتیں تو دن میں انہیں پورا کر لیتے، آپ کا فرمان ہے: اگر رات کی تلاوت میں کسی سے اس کی متعینہ مقدار کی تلاوت یا تلاوت کا متعین حصہ جیسے ربع، نصف، ثلث چھوٹ گیا اور اس نے فجر سے ظہر کے درمیان اسے پڑھ کر پورا کر لیا تو گویا اس نے رات ہی میں اسے پڑھا۔ 

(صحیح مسلم: حدیث 747)

آپ تمنا کرتے تھے کہ کاش میں مؤذن ہوتا، آپؓ کا قول ہے کہ اگر بار خلافت سنبھالنے کے ساتھ ساتھ پنج وقتہ اذان دے سکتا تو مؤذن رہتا۔ 

(الشیخان: بروایت بلاذری: صفحہ 225 )

آپ خوب دعائیں کرنے والے، اور اللہ سے گریہ وزاری کرنے والے تھے، آپ کی کچھ خاص دعائیں یہ تھیں:

اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ عَمَلِیْ کُلَّہٗ صَالِحًا، وَاجْعَلْہُ لِوَجْہِکَ خَالِصًا، وَ لَا تَجْعَلْ لِأَحَدٍ فِیْہِ شَیْئًا۔

(الفتاوٰی: جلد 1 صفحہ 232)

ترجمہ: ’’اے اللہ میرے تمام اعمال کو نیک بنا دے اور اس سے خالص تیری رضا مقصود ہو، اس میں تیری رضا کے علاوہ کسی کے لیے ریا مقصود نہ ہو۔‘‘

 اَللّٰہُمَّ إِنْ کُنْتَ کَتَبْتَنِیْ شَقِیًّا فَامْحِمِیْ وَاکْتُبْنِیْ سَعِیْدًا، فَإِنَّکَ تَمْحُوْ مَا تَشَائُ وَتُثْبِتُ۔

(الفتاوٰی: جلد 14 صفحہ 275)

ترجمہ: ’’اے اللہ! اگر تو نے میری قسمت میں بدبختی لکھ دی ہے تو اسے مجھ سے مٹا دے اور مجھے نیک بخت لکھ دے، اس لیے کہ تو جس کو چاہے مٹا دے اور جس کو چاہے باقی رکھے۔

‘اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ لَا أَحْمِلُ ہَمَّ اْلِإجَابَۃِ، وَإِنَّمَا أَحْمِلُ ہَمَّ الدُّعَائِ، فَإِذَا أَلْہَمْتَ الدُّعَائَ فَإِنَّ الْإِجَابَۃَ مَعَہُ۔ "

(الفتاوٰی: جلد 8 صفحہ 118)

ترجمہ: ’’اے اللہ میں قبولیت کا غم نہیں برداشت کر سکتا، ہاں دعا کا غم برداشت کر سکتا ہوں، لہٰذا جب تو دعا کی توفیق دے تو ساتھ میں قبولیت سے بھی نواز دے۔‘‘

آپ لوگوں کو نیکوں اور شریفوں کی صحبت کی ترغیب دیتے تھے اور فرماتے: نیکوں اور شریفوں کی صحبت اختیار کرو، وہ جو کہتے ہیں اسے سنو، اس لیے کہ وہ صداقت پر مبنی باتیں کیا کرتے ہیں۔ 

(الفتاوٰی: جلد 15 صفحہ 60 )

سیدنا عمرؓ تذکیر الہٰی اور نصیحت کو بہت پسند کرتے تھے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے کہتے تھے: اے ابوموسیٰ! ہمیں ہمارے ربّ کے بارے میں نصیحت کیجیے تو وہ قرآن پڑھتے اور سیدنا عمرؓ اور آپ کے رفقاء اسے سنتے اور قرآن سن کر روتے۔ 

(الفتاوٰی: جلد 10 صفحہ 51)

ذکر و اذکار والوں کے ساتھ بیٹھنا بھی آپ کو بہت محبوب تھا۔ ابوسعید جو ابو اسید کے غلام تھے، کا بیان ہے کہ حضرت عمرؓ عشاء کی نماز کے بعد رات میں ایک مرتبہ مسجد کا جائزہ لیتے، اگر کوئی شخص اس وقت مسجد میں مل جاتا تو اسے باہر جانے کا کہتے ، اِلا یہ کہ کوئی آدمی نماز پڑھ رہا ہو تو اسے کچھ نہ کہتے۔ ایک مرتبہ صحابہ کی مجلس سے گزرے اس میں ابی بن کعبؓ بھی تھے، آپ نے ان کے بارے میں پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ جواب ملا: امیر المؤمنین! آپ کے گھرانے ہی کے لوگ ہیں۔ آپ نے پوچھا: نماز کے بعد آپ لوگ یہاں کیوں رک گئے؟ انہوں نے بتایا کہ ہم بیٹھ کر اللہ کے ذکر میں لگے ہیں۔ آپ بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ پھر آپ نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے آدمی سے کہا: دعا شروع کرو، اس نے دعا شروع کی، پھر آپ نے ایک ایک کر کے سب سے دعا کرائی یہاں تک کہ میرے پاس پہنچے، میں آپ کے پہلو میں تھا، آپ نے کہا: تم بھی دعا کرو، میں مشکل میں پڑ گیا اور میرے بازو کانپنے لگے۔ آپ نے کہا: کچھ کہو، خواہ یہی کہو کہ اے اللہ ہمیں بخش دے، اے اللہ ہم پر رحم فرما، پھر آپ نے خود دعا شروع کی، تو دیکھا گیا کہ پوری مجلس میں آپ سے زیادہ آنسو بہانے والا اور گریہ وزاری کرنے والا کوئی نظر نہ آیا اور آخر میں کہا: اب اٹھو اور جاؤ۔(الشیخان: بروایت بلاذری: صفحہ 23)

تراویح

جس شخص نے سب سے پہلے لوگوں کو نماز تراویح کے لیے اکٹھا کیا وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے آپ نے تمام شہروں میں یہی فرمان جاری کیا، اس کا سبب یہ تھا کہ رمضان کی راتوں میں سے ایک رات آپ مسجد میں گئے تو دیکھا کہ لوگ الگ الگ نماز پڑھ رہے ہیں، کوئی تنہا پڑھ رہا ہے اور کوئی جماعت کے ساتھ۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ اگر ان تمام لوگوں کو ایک امام کے پیچھے اکٹھا کر دوں تو زیادہ بہتر ہو گا، پھر آپؓ نے اس کا پختہ ارادہ کر لیا اور لوگوں کو ابی بن کعبؓ کی امامت میں ان کے پیچھے اکٹھا کر دیا۔ حدیث کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کا بیان ہے کہ پھر میں آپؓ کے ساتھ دوسری رات نکلا، لوگ اپنے امام کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، حضرت عمرؓ نے فرمایا: کیا ہی بہترین بدعت ایجاد ہے اور جس وقت وہ سوتے ہیں وہ اس وقت سے افضل ہے جس میں قیام کرتے ہیں۔ یعنی رات کا آخری حصہ۔ اور لوگ اس وقت شروع رات میں ہی قیام کرتے تھے۔ 

(صحیح البخاری: حدیث 2010 )

کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ تراویح کی ایجاد حضرت عمرؓ نے کی ہے اور آپؓ ہی نے سب سے پہلے اس کی بنیاد ڈالی ہے، بلکہ نبی کریمﷺ کے زمانے سے اس پر عمل ہو رہا تھا البتہ سیدنا عمرؓ نے سب سے پہلے تمام لوگوں کو ایک امام کے پیچھے نماز پڑھنے کی بنا ڈالی، اس سے پہلے سب لوگ الگ الگ اسے پڑھتے تھے تو آپؓ نے ان کو ایک امام کے پیچھے اکٹھا کر دیا۔ 

(محض الصواب: جلد 1 349 )

جہاں تک نماز تراویح کے ثبوت کا تعلق ہے تو وہ نبی کریمﷺ کی سنت ہے، آپ لوگوں کو رمضان کے مہینہ میں قیام اللیل پر ابھارتے تھے، آپ نے فرمایا:

 مَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔

(صحیح البخاری: حدیث 2009)

ترجمہ: ’’جس نے رمضان کے مہینہ میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔‘‘

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بتایا کہ رسول اللہﷺ ایک مرتبہ آدھی رات کے وقت گھر سے باہر نکلے، آپﷺ نے مسجد میں نماز پڑھی اور لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر لوگ صبح کے وقت اس کے متعلق باتیں کرنے لگے تو (دوسری رات) ان سے زیادہ تعداد ہو گئی اور انہوں نے آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر صبح ہوئی اور لوگوں نے اس سلسلہ میں باتیں کیں اور تیسری رات میں نمازی بہت زیادہ ہو گئے اللہ کے رسول نکلے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر چوتھی رات ہوئی تو لوگوں سے مسجد بھر گئی اور اس میں جگہ ہی نہ رہی یہاں تک کہ رسول اللہﷺ فجر کی نماز کے لیے نکلے، جب آپﷺ نے فجر پڑھ لی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوکے خطبہ مسنونہ پڑھا، پھر فرمایا:

 أَمَّا بَعْدُ! فَاِنَّہُ لَمْ یَخْفَ عَلَیَّ مَکَانُکُمْ وَلٰکِنِّیْ خَشِیْتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَیْکُمْ فَتَعْجِزُوْا عَنْہَا

ترجمہ: ’’یعنی حمد و صلاۃ کے بعد! تم لوگوں کی موجودگی مجھ پر پوشیدہ نہ تھی، لیکن میں ڈر گیا کہ کہیں وہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے، اور تم اسے نہ کر سکو۔‘‘

چنانچہ رسول اللہﷺ کی وفات ہو گئی اور معاملہ اسی پر باقی رہا۔ 

(صحیح البخاری: حدیث 2012)

یاد رہے کہ حضرت عمرؓ کا یہ کہنا کہ ’’یہ کتنی بہترین بدعت ہے‘‘ سو آپ نے یہاں بدعت کا لغوی معنی مراد لیا ہے، اس لیے کہ ہر وہ کام جس کی کوئی سابق نظیر نہ ملتی ہو اسے لغت میں بدعت کہا جاتا ہے۔ 

(الفتاوٰی: جلد 31 صفحہ 23)

خلاصہ یہ کہ حضرت عمرؓ کا تراویح کی نماز کے لیے لوگوں کو ایک امام پر جمع کرنا اور تمام ریاستوں میں اس کا عمومی فرمان بھیج دینا اس بات کی دلیل ہے کہ منظم انداز میں کام کرنا آپؓ کو پسند تھا۔

زکوٰۃ حج اور رمضان:

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ پر بھی خصوصی توجہ دی اور اس کے طریقہ کو منظم کیا اور یہ فریضہ ملک کی آمدنی کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ بن گیا۔ اس فریضہ کے متعلق ہم ان شاء اللہ تفصیلی بحث ’’مالیاتی ادارہ‘‘ کے عنوان سے اگلے صفحات میں بیان کریں گے۔

البتہ یہاں حج کے متعلق کچھ باتیں قابل ذکر ہیں۔ آپؓ اپنی پوری مدت خلافت میں لوگوں کو حج کراتے رہے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ آپ نے دس حج کیے، یعنی پوری مدت خلافت میں اور بعض نے کہا کہ نو سال تک حج کیا۔ 

(السلطۃ التنفیذیۃ: جلد 1 صفحہ 382 )

خلیفہ یا ان کے قائم مقام اعمال کی ذمہ داریوں میں یہ چند اُمور شامل ہیں:

 لوگوں کو حج کے اوقات کی اطلاع دینا اور مقاماتِ مقدسہ تک لے جانا۔

شریعت کے مطابق حج کی ادائیگی کرنا۔

 حج کے مقاماتِ مقدسہ میں ٹھہر کر ان کے عزت و احترام کا مظاہرہ کرنا۔

مشروع ارکان حج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کرنا۔

نمازوں میں امامت کرنا اور مشروع خطبے دینا۔ 

(السلطۃ التنفیذیۃ: جلد 1 صفحہ 383 )

آپؓ لوگوں کو حج کی رغبت دلاتے اور انہیں اس کا حکم دیتے، حتیٰ کہ آپ نے کہا: میں نے ارادہ کیا کہ کچھ لوگوں کو شہروں میں اس لیے بھیجوں تاکہ وہ دیکھیں کہ جس کے پاس حج کرنے کی وسعت ہے اور اس نے حج نہ کیا ہو تو وہ اس پر جزیہ لگا دیں۔ 

(فرائد الکلام: صفحہ 173 )

آپ نے کوشش کی کہ حج کے علاوہ دوسرے مہینوں میں بھی خانہ کعبہ عبادت گزاروں سے معمور رہے۔ لوگ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ابتدائی دور خلافت میں عمرہ صرف حج کے مہینوں میں کرتے تھے اور دوسرے مہینوں میں نہیں کرتے تھے، جس کی وجہ سے اشہر حج کے علاوہ سال کے دوسرے مہینوں میں خانہ کعبہ زائرین سے خالی رہتا تھا۔ چنانچہ آپؓ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے لیے کامل طریقہ اپنائیں، یعنی حج کے علاوہ دوسرے مہینوں میں بھی عمرہ کرنے آئیں، اس طرح خانہ کعبہ حج کے مہینوں اور دوسرے ایام میں بھی معمور رہے گا اور بیت اللہ کے مقصد کی تکمیل ہوتی رہے گی حضرت عمرؓ نے جو طریقہ پسند کیا یہی سب لوگوں کے حق میں افضل تھا، حتیٰ کہ ان لوگوں کے لیے بھی جو اس بات کے قائل ہیں کہ حج تمتع، اِفراد اور قران سے افضل ہے، جیسے کہ امام احمدؒ وغیرہ۔

(الفتاوٰی: جلد 26 صفحہ 146، 147)

آپؓ کے بارے میں ثابت ہے کہ ہر سال غلافِ کعبہ کا صدقہ کرتے اور اسے حاجیوں میں تقسیم کر دیتے۔

(الفتاوٰی: جلد 31 صفحہ 14)

اور جہاں تک روزے کی بات ہے تو اس سلسلہ میں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر چلتے رہے سیدنا عمرؓ کے بارے میں ثابت ہے کہ ایک مرتبہ ابر آلود موسم میں آپؓ نے وقت سے پہلے افطار کر لیا، پھر سورج طلوع ہونے کی اطلاع ملی، تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: معاملہ معمولی ہے، ہم نے اپنی بساط کے مطابق اجتہاد کیا۔ 

(الموطأ: جلد 1 صفحہ 303، بحوالہ الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 330)

سیدنا عمرؓ کو خبر ملی کہ ایک آدمی صوم دہر ہمیشہ کا روزہ رکھتا ہے، آپؓ اس کے پاس آئے اور مارنے کے لیے درّہ اٹھایا اور کہنے لگے: کھا، اے دہری! 

(فتح الباری: جلد 4 صفحہ 261 )

آپ کافی عبادت گزار اور اطاعت الہٰی کے شیدائی تھے، نماز سے انتہائی درجہ آپ کو لگاؤ تھا اور روزے کا بھی حق ادا کرتے، خاص طور سے آخری عمر میں اور صدقہ کے باب میں اس سے زیادہ کوشش کرتے اور خلافت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد ہر سال حج کرتے رہے اور جہاد، تو اس سلسلہ میں نبی کریمﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے اور آپؓ کے بعد بھی جنگیں لڑیں۔ آپؓ کی مدت خلافت میں جتنی بھی جنگیں لڑی گئیں اور فتوحات ہوئیں سب کا اجر آپؓ کو ملے گا، کیونکہ آپؓ ہی اس کے حقیقی محرک تھے۔ 

(محض الصواب: جلد 2 صفحہ 637)

آپؓ ذکر الہٰی کے شیدائیوں میں سے تھے، آپ نے ذکر الہٰی کے بارے میں کہا: اپنے لیے ذکر الہٰی لازم کر لو اس لیے کہ یہ شفا ہے اور خود کو لوگوں پر تذکرہ و تبصرہ سے بچاؤ اس لیے کہ یہ بیماری ہے۔ 

(تفسیر قرطبی: جلد 16 صفحہ 336، محض الصواب: جلد 2 صفحہ 677 )

 آپؓ کہا کرتے تھے: تنہائی پسند بنو۔ 

(الزہد، وکیع: جلد 2 صفحہ 517 ۔ یہ روایت سنداً صحیح ہے)