سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ

  مولانامعین الدین ندوی رحمۃاللہ

صفحہ 1 از 8

حضرت ابو ذر غفاری رضی الله عنہ

مولانامعین الدین ندویؒ

نام و نسب

جندب نام، ابو ذر کنیت، ”مسیح الاسلام“ لقب، سلسلہ نسب یہ ہے، جندب بن جنادہ بن قیس بن عمرو بن ملیل بن صعیر بن حزام بن غفار بن ملیل بن حمزہ بن بکر بن عبد مناة بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرک غفاری، ماں کا نام رملہ تھا اور قبیلہ بنی غفار سے تعلق رکھتی تھیں۔

قبل از اسلام: حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا قبیلہ بنو غفار رہزنی کیا کرتا تھا، جاہلیت میں حضرت ابو ذرؓ کا بھی یہی پیشہ تھا اور وہ نہایت مشہور رہزن تھے، تن تنہا نہایت جرأت اور دلیری سے قبائل کو لوٹتے تھے، لیکن کچھ دنوں کے بعد ان کی زندگی میں دفعةً انقلاب ہوا اور ایسا سخت ہوا کہ رہزنی یکلخت ترک کر کے ہمہ تن خدا پرستی کی طرف مائل ہوگئے، چناں چہ ظہور اسلام سے پہلے جب سارا عرب ضلالت میں مبتلا تھا وہ خدا کی پرستش کرتے تھے۔ ابومعشر راوی ہیں کہ ابو ذر رضی اللہ عنہ جاہلیت ہی سے موحد تھے، خدا کے سوا کسی کو معبود نہیں سمجھتے تھے اور بتوں کی پوجا نہیں کرتے تھے، ان کی خدا پرستی عام طور پر لوگوں میں مشہور تھی، چناں چہ جس شخص نے ان کو سب سے پہلے آنحضرتﷺ کے ظہور کی اطلاع دی، اس کے الفاظ یہ تھے کہ ”ابو ذر! مکہ میں تمہاری طرح ایک شخص لا الہ الا الله کہتا ہے“۔ ( ابن سعد: جز 4 ق 1 صفحہ 163 و مسلم، اسلام ابی ذرؓ) ﴿اینما تولوا فثم وجہ الله﴾               

               ہر جا کنیم سجدہ بآں آستان رسید

                 اسلام کی تلاش میں پہلی آزمائش

چوں کہ حضرت ابو ذرؓ جاہلیت ہی سے راہ حق کے متلاشی تھے، اس لیے حق کی پکار سنتے ہی لبیک کہا اور اس وقت دعوتِ حق کا جواب دیا جب چار آدمیوں کے سوا ساری دنیا کی زبانیں اس اعلانِ حق سے خاموش تھیں، اس اعتبار سے اسلام لانے والوں میں ان کا پانچواں نمبر ہے، ان کے اسلام کا واقعہ خاص اہمیت رکھتا ہے، یہ دلچسپ داستان خود ان کی زبان سے مروی ہے، ان کا بیان ہے کہ جب میں قبیلہ غفار میں تھا تو مجھ کو معلوم ہوا کہ مکہ میں کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، میں نے اپنے بھائی کو واقعہ کی تحقیق کے لیے بھیجا، وہ واپس آئے تو میں نے پوچھا، کہو کیا خبر لائے؟ انہوں نے کہا” خدا کی قسم! یہ شخص نیکیوں کی تعلیم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے، اس قدر مجمل بیان سے میری تشفی نہیں ہوئی، اس لیے میں خود سفر کا مختصر سامان لے کر مکہ چل کھڑا ہوا، وہاں پہنچا تو یہ دقت پیش آئی کہ میں رسول اکرمﷺ کو پہچانتا نہ تھا اور کسی سے پوچھنا بھی مصلحت نہ تھی، اس لیے خانہ کعبہ میں جا کر ٹھہر گیا اور زمزم کے پانی پر بسر کرنے لگا، اتفاق سے ایک دن حضرت علیؓ گزرے، انہوں نے پوچھا تم مسافر معلوم ہوتے ہو؟ میں نے کہا ہاں! وہ مجھ کو اپنے گھر لے گئے، لیکن مجھ سے ان کی کوئی گفتگو نہیں ہوئی، صبح اٹھ کر میں پھر کعبہ گیا کہ لوگوں سے اپنے مقصود کا پتہ دریافت کروں، کیوں کہ ابھی تک آنحضرتﷺ کے حالات سے بے خبر تھا، اتفاق سے پھر حضرت علیؓ گزرے اور پوچھا کہ ”اب تک تم کو اپنا ٹھکانہ نہیں معلوم ہوا؟“ میں نے کہا نہیں، وہ پھر دوبارہ مجھ کو اپنے ساتھ لے چلے اور اس مرتبہ انہوں نے پوچھا، کیسے آنا ہوا؟ میں نے کہا اگر آپ اس کو راز میں رکھیں تو عرض کروں؟ فرمایا مطمئن رہو، میں نے کہا: میں نے سنا تھا کہ یہاں کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، پہلے اس خبر کی تصدیق اور اس شخص کے حالات دریافت کرنے کے لیے میں نے اپنے بھائی کو بھیجا، مگر وہ کوئی تشفی بخش خبر نہ لایا، اس لیے اب میں خود اس سے ملنے آیا ہوں، حضرت علیؓ نے فرمایا تم نے نیکی کا راستہ پا لیا، سیدھے میرے ساتھ چلے آؤ ،جس مکان میں میں جاؤں تم بھی میرے ساتھ چلے آنا، راستہ میں اگر کوئی خطرہ پیش آئے گا تو میں جوتا درست کرنے کے بہانے سے دیوار کی طرف ہٹ جاؤں گا اور تم بڑھے چلے جانا، چنانچہ میں میں حسب ہدایت ان کے ساتھ ہو لیا اور آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا، یا رسول اللہﷺ! میرے سامنے اسلام پیش کیجیے، آپﷺ نے اسلام پیش کیا اور میں اسلام کے عقیدت مندوں میں شامل ہو گیا، قبول اسلام کے بعد آپﷺ نے فرمایا، ابو ذر! ا بھی تم اس کو پوشیدہ رکھو اور اپنے گھر لوٹ جاؤ، میرے ظہور کے بعد واپس آنا، میں نے قسم کھا کر کہا میں اسلام کو چھپا نہیں سکتا، ابھی لوگوں کے سامنے پکار کر اعلان کروں گا، یہ کہہ کر مسجد میں آیا، یہاں قریش کا مجمع تھا، میں نے سب کو مخاطب کر کے کہا کہ قریشیو! میں شہادت دیتا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اس کے بندہ اور رسول ہیں۔ یہ سن کر ان لوگوں نے للکارا کہ اس بےدین کو لینا، اس آواز کے ساتھ ہی چاروں طرف سے لوگ مجھ پر ٹوٹ پڑے اور مارتے مارتے بے دم کر دیا، یہ دردناک منظر دیکھ کر حضرت عباسؓ سے ضبط نہ ہو سکا، وہ مجھ کو بچانے کے لیے میرے اوپر گر پڑے اور ان لوگوں سے کہا کہ تم لوگ ایک غفاری کی جان لینا چاہتے ہو، حالاں کہ یہ قبیلہ تمہاری تجارت کی گزر گاہ ہے؟ یہ سن کر سب ہٹ گئے، لیکن اسلام کا وہ نشہ نہ تھا جس کا خمار قریش کے غیظ و غضب کی ترشی سے اتر جاتا، دوسرے دن پھر اس حق گو کی زبان پر نعرہ مستانہ تھا 

       در عجائبہائے طور عشق حکمتہا کم است

       عشق را با مصلحت اندیشی مجنون چہ کار 

اور پھر وہی مسجد تھی، وہی صنا دید قریش کا مجمع تھا اور وہی ان کی ستم آرائی تھی۔

(مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 338، 339، و بخاری: باب بنیان الکعبہ: ومسلم: جلد: 2 فضائل ابی ذرؓ)

مسلم، فضائل ابی ذرؓ میں ان کے اسلام کے بارے میں دو روایتیں ہیں، ایک یہی مذکورہ بالا روایت، اس روایت کے راوی حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما ہیں، دوسری روایت خود ان سے مروی ہے، لیکن دونوں روایتوں کے واقعات باہم مختلف ہیں، ان کی زبانی جو روایت منقول ہے:

صفحہ 1 از 8