Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعہ  مناظرکے پاس  جب مزید کچھ نہ رہا تو بریک کے دوران بھیجے گئے چارٹ پرہی  گفتگو شروع کردی!!

  جعفر صادق

     شیعہ  مناظرکے پاس  جب مزید کچھ نہ رہا تو بریک کے دوران بھیجے گئے چارٹ پرہی  گفتگو شروع کردی!!

 

رانا محمد سعید شیعہ: آپکے پیش کردہ چارٹ میں لکھا ہے کہ سبائیہ نے خلافت بلافصل، وصی رسول، امامت اور تبرہ کا آغاز کیا ۔ جبکہ یہ آپ کی صریح خیانت اور خباثت ہے ۔

 

آپ نے صفحہ 20 کا حوالہ دیا جبکہ اس سے بہت پہلے شیعہ کی ابتدا بیان کرتے ہوئے صفحہ 15 پر شیخ اشعری لکھتے ہیں ۔ پہلا شیعہ فرقہ زمانہ رسول میں ہوا ، جنہوں نے *علی ع کیلئے امامت کا قول اختیار کیا* اور اس گروہ میں صحابہ شامل تھے جن کے نام مقداد ، سلمان ، ابوذر اور عمار تھے۔

 جعفر صادق: آپ پہلے طئے کریں کہ گفتگو کا نکتہ کیا ہے۔۔ اور آپ کو ثابت کیا کرنا ہے۔ جو بھی حوالہ بھیجیں تو   مکمل پیج اور کتاب ٹائیٹل بھیج کر دلیل دیں۔استدلال بھی لکھیں۔

 رانا محمد سعید شیعہ: کیا دعویٰ اور جواب دعوی ٰطے شدہ نہیں ہے ؟؟؟؟

 جعفر صادق: اس پر گفتگو مکمل ہوچکی ہے۔

 رانا محمد سعید شیعہ : محترم اس میں کوئی نقص ہے تو پیش کریں۔

   جعفر صادق: مکمل پیج اور کتاب کا ٹئیٹل بھیجیں۔استدلال لکھیں۔

  رانا محمد سعید شیعہ : یکطرفہ گفتگو  مکمل ہو گئی ؟؟؟؟


 جعفر صادق: یہ نقص ہے کہ پیج مکمل نہیں بھیجا۔

  رانا محمد سعید شیعہ : یہ کیا ہے ؟؟؟؟

    اوکے مکمل لے لیں،   صبر کریں۔

 جعفر صادق: آپ نے خود ہاتھ کھڑے کر لئے ہیں۔اگر واقعی گفتگو جاری رکھنی ہے  تو وہیں سے شروع کریں جہاں پر میرا آخری ٹرن مکمل ہوا ہے۔   یہ پورا پیج ہے؟ مجھے کیا پتہ کس بات کا پیج ہے؟

  کتاب کونسی ہے؟ آگے پیچھے کیا لکھا ہے۔ 

  رانا محمد سعید شیعہ : کیا میں موضوع سے ہٹ کر گفتگو کر رہا ہوں ؟؟؟؟ میں نے ہاتھ کھڑے کر دیئے ؟؟؟ جھوٹ نا بولیں ۔ میں نے پوائنٹ ٹو پوائنٹ بات کرنے کیلئے بولا اور آپ نے اتفاق کیا اور میں وہی کر رہا ہوں۔

 جعفر صادق: میں اتنی رعایت دے سکتا ہوں۔۔ جو اہل سنت دلائل دیکر جگ ہنسائی کی ہے اسے معاف کردیتا ہوں

میرے دلائل اور اشکالات کا رد کردیں۔ یہ بھی بہت ہے۔      ٹھیک ہوگیا۔میرے آخری ٹرن کا جواب دیں۔

  رانا محمد سعید شیعہ : پوائنٹ ٹو پوائنٹ کریں ۔ ٹرنوں کو چھوڑ دیں ۔ ایک ٹرن میں نے لمبی کی،  ایک آپ نے لمبی کردی۔  بات برابر۔  اب نقطہ بہ نقطہ چلیں۔

  جعفر صادق: پوائنٹ ٹو پوائنٹ گفتگو بھی میرے آخری ٹرن کے مطابق کریں۔   میرے ایک ایک جواب پر ون ٹو ون گفتگو کر لیتے ہیں۔کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ 

رانا سعید شیعہ  کی چالاکی! پورا مناظرہ ایک سائیڈ پر۔۔۔

دوران وقفہ بھیجے گئے چند چارٹ پر گفتگو کرنے کا حق جتلانا !

  رانا محمد سعید شیعہ : محترم دیکھیں آپ نے گفتگو کا اعادہ کیا ہے ۔ ایک چارٹ کی صورت میں تو اب اس چارٹ پر گفتگو کرنا میرا حق ہے۔  آپ نے خود مناظرہ کو شروع سے شروع کر دیا ہے اور اب اس پر آپ کو بات کرنا ہوگی۔

 جعفر صادق: مطلب آپ نے تین دن مسلسل جو دلائل دئے وہ تو اہم ہوگئے اور میں نے ڈیڑھ گھنٹے میں ان کا رد کیا تو وہ غیر اہم ہوگئے! اب ان کا جواب دینا ضروری نہیں ہے۔کمال ہے۔جواب در جواب مناظروں میں ہوتا ہے سرکار۔

    میں نے چارٹ پر گفتگو کا اعادہ کب کیا۔۔۔ اسکرین شاٹ دکھائیں۔

  رانا محمد سعید شیعہ : چارٹ کس لئے پیش کیا گیا ؟؟؟؟ ساری گفتگو شروع سے لے کر آئے ہیں ۔ اب شروع سے میں نے رد کرنا شروع کیا تو آپ فرار پکڑ رہے ہیں ۔ کیوں ؟؟؟؟

 جعفر صادق:  یہ پڑھیں۔ چارٹ پیش کرتے ہوئے کیا لکھا ہے۔اور آپ   کس چارٹ کی بات کر رہے ہیں۔؟

رانا سعید شیعہ نے  بھیجے گئے چارٹ پر گفتگو کی دعوت دے دی!!  یعنی دعویٰ کے حق میں بھیجے گئے اہل سنت دلائل پر گفتگو کرنے میں تو  ناکام   ہوگئے ، اب اپنے ہی دلائل کا دفاع کرنے میں بھی  ناکام ہوگئے!

 رانا محمد سعید شیعہ  : آپ ہر چیز یکطرفہ کرتے جائیں تو ٹھیک ہے، ہم ان پر گفتگو کیلئے آپ کو بلائیں تو نہیں آئیں گے ۔ آخر کس بات کی گھبراہٹ ہے ۔ ویسے گھبراہٹ آپ کی اسی بات کی ہے کہ پوائنٹ ٹو پوائنٹ میں تو آپ کی خیانتوں کے پول  یونہی کھُلتے جائیں گے ۔

    اوپر جو بھی آپ نے چارٹ کی صورت کچھ گفتگو دہرائی ہے ۔

 جعفر صادق:  آپ جس   چارٹ پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں،  کیا  وہ چارٹ دوران گفتگو رکھا تھا؟

   چارٹ رکھتے ہوئے آپ نے یہ جواب دیا تھا۔  

اور  میرا واضح جواب کہ میں گفتگو نہیں کر رہا۔(اسکرین شاٹ)

  رانا محمد سعید شیعہ : گفتگو تو اب تک جاری ہے،    مطلب آپ سب کچھ کر بھی رہے ہیں، پھر  بھی کہہ رہے گفتگو نہیں کر رہا تھا۔

 جعفر صادق: میں نے چارٹ پر گفتگو کا اعادہ کب کیا؟ لفاظی کیوں کرتے ہیں۔

  رانا محمد سعید شیعہ : آپ نے دلائل کا خلاصہ کر کے پیش کیا جس میں سر فہرست جو بات تھی وہ ہی غلط ہے ۔ اب اس پر گفتگو سے بھی بھاگ رہے ہیں۔

 آپ کی طرف سے چارٹ پیش کیا گیا ؟؟؟؟؟

 جعفر صادق: گفتگو جاری رکھنی ہے تو  واپس میرے آخری ٹرن سے شروع کریں۔۔ اہم ترین مرحلے پر آکر آپ نے پتلی گلی تلاش کر لی!

    کیا چارٹ آپ کے لئے پیش کیا؟ جھوٹ کیوں بولا کہ اس پر گفتگو کا اعادہ کیا؟

رانا سعید شیعہ گفتگو سے فرار ہوکر بھی فریق مخالف کو کہہ رہا ہے کہ گفتگو سے بھاگ رہے ہو!  

واقعی رانا  کی اپنی ایک لیول ہے!

  رانا محمد سعید شیعہ  : میں نے گفتگو کو اہم مرحلے میں ہی شامل کیا ہے محترم ، کیوں بھاگ رہے ہیں ۔ پسینے کیوں چھوٹ رہے ہیں  آپ کے!

    گفتگو مجھ سے تو چارٹ کیا اپنے والد کو پیش کیا آپ نے ؟؟؟ کیا وہ بھی ہیں اس گروہ میں ؟؟؟؟

 جعفر صادق: اپنے عقائد ثابت کریں گے تو خوش آمدید،گفتگو جاری رکھنی ہے تو  میرا آخری ٹرن موجود ہے۔مزید وقت درکار ہے تو بتائیں میں آپ کی طرح کم ظرف نہیں ہوں۔ دو دن تو کیا دو ہفتے بھی دے سکتا ہوں۔ 

  آخری ٹرن میں میرے رد کا جوابی رد کریں۔

  رانا محمد سعید شیعہ : جو آپ نے خیانتیں کی ہیں ان کے جوابات آپ کے والد صاحب دیں گے ؟؟؟؟؟

 جعفر صادق: آگئے نہ اپنی اوقات پر،اب کوئی رعایت نہیں دوں گا۔آپ اس قابل ہی نہیں ہو!

رانا سعید شیعہ کی من مانیاں اور بدمعاشیاں!!

رانا محمد سعید شیعہ : ٹرن کو بھول جائیں اب ، گفتگو پوائنٹ ٹو پوائنٹ ہوگی ۔    اوپر میرے لئے خباثت کا لفظ لکھتے ہوئے اوقات کہاں تھی آپ کی ؟؟؟؟؟

  جعفر صادق: کیوں اپنا ٹرن  بھول جاؤں؟  یا تسلیم کریں کہ اس گفتگو کا اختتام ہوا،ہر بات آپ کی نہیں مانی جائے گی

اور اب ایسی بداخلاقی پر تو ہرگز نہیں!

  رانا محمد سعید شیعہ  : دلائل دینے میں جو خیانتیں کی ہیں انکا جواب  کون دے گا ؟؟؟؟

  جعفر صادق: اپنی خباثت کے مجھ سے اسکرین شاٹ مانگیں،ابھی ثابت کرسکتا ہوں آپ کی خباثت۔  میری  خیانتیں لکھیں۔  نمبر ڈال کر لکھیں۔

  رانا محمد سعید شیعہ : جی محترم آپ تو چاہتے ہیں کہ ادھر ادھر کا میلہ لگا رہے لیکن   اصل پوائنٹ پر آئیے ۔

  جعفر صادق:  تین دن مسلسل بے حساب جواب دینے کے بعد آپ کا  یہ جواب خباثت نہیں تو کیا ہے۔ وضاحت کردیں۔   میں ہرگز نہیں چاہتا ۔۔۔۔۔ لیکن ماحول آپ خراب کرتے ہیں۔

  رانا محمد سعید شیعہ : دو دن کی رخصت آپ نے اپنی مرضی سے دی تھی یا میں نے مانگی تھی ؟؟؟؟

  جعفر صادق: آپ کو آفر دی گئی۔۔کیونکہ آٹھ گھنٹے جواب دینے کے بعد بھی آپ کو مزید وقت درکار تھا۔

کیا یہ درست نہیں ہے؟

 رانا محمد سعید شیعہ : دو دن کی رخصت آپ نے مرضی سے دی تھی یا میں نے مانگی تھی ؟؟؟؟

  جعفر صادق: نیکی کر،دریا میں ڈال۔ آپ جیسوں سے نیکی کر کے بھی بندہ پشیمان ہوتا ہے کہ نیکی کیوں کی۔۔

قارئین! دو دن مزید رخصت دی گئی تو  رانا سعید شیعہ نے شکریہ بھی ادا کیا تھا! اب موصوف کو وہ رخصت مہربانی نہیں لگ رہی !! یہ ہے شیعوں کی اصل خباثت!!

  رانا محمد سعید شیعہ : کیسی نیکی ؟؟؟ جبکہ اب بدلے میں مجھے خباثت کا طعنہ دے رہے ہو۔  یہ تو عین لعنتیوں والا کام ہے۔

 جعفر صادق: مطلب آپ کو وقت درکار نہیں تھا۔میرا دماغ خراب تھا ،زبردستی دو دن دئے کہ جتنے چاہیں میسیج کرتے رہیں؟حالانکہ شرائط کے مطابق  مہلت تیاری کے لئے تھی،آپ دو دن مزید  لگاتار  میسیجز کرتے رہے، پھر بھی  میں نے ڈسٹرب نہیں کیا،حد تو یہ ہے کہ ایک بھی دلیل کام کی نہ تھی۔   مدعے پر آئیں۔    شیعیت کے عقائد ثابت کریں۔    میرے دلائل کا رد آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔

  رانا محمد سعید شیعہ : حمید سے پوچھیئے میں نے اعلان نہیں کیا تھا کہ میں نے ٹرن روک دی ہے ۔ ممتاز سے کہیں اپنی ٹرن شروع کرے۔    آپ دلائل میں موجود خیانتوں پر بات کرنے سے کیوں بھاگ رہے ہیں؟

  جعفر صادق: کن الفاظ میں ٹرن ختم کرنے کا اعلان کیا تھا؟ اوپر نیچے کیا لکھا تھا؟

 یہ پڑھیں۔۔۔ آپ کا آٹھ گھنٹے میسیجز کرنے کے بعد بھی رونا دھونا کہ جوابات ابھی دینے ہیں پھر اجازت دینے کا انداز! 



رانا سعید شیعہ کا شکوہ کہ دلائل میں خیانتیں کی گئی ہیں! استفسار پر چارٹ کے حوالے سےاعتراض پیش کردیا یعنی  اہل سنت دلائل میں خیانتیں  نہیں کی گئی تھیں!

  جعفر صادق: بس اب میری  ان خیانتوں  کی نشاندھی کرتے جائیں۔   اور کوئی بات نہیں سنوں گا۔

 رانا محمد سعید شیعہ :  یہ مبنی بر خیانت ہے۔ جن دلائل پر آپکی ساری ٹرنین کھڑی ہیں وہی خیانت کاری پر منحصر ہیں تو آگے کیسے چلیں۔  اسکا جواب دیں۔

  جعفر صادق:اسے خیانت  ثابت کریں۔

    اوپر دلیل بمعہ استدلال موجود ہیں۔

  رانا محمد سعید شیعہ : تو میں نے روک دی تھی نا ٹرن ۔ خیر چھوڑیئے اور مدعے پر آئیے

  جعفر صادق: منتظر ہوں،خیانت ثابت کریں۔  ثابت کریں گے، یا بس آپ کا کہہ دینا کافی ہے۔اب مجھ سے نرمی کی امید نہ رکھئے گا ، آپ لوگوں کو بچپن سے اعتراضات ہی سکھائے جاتے ہیں۔ہم بچپن سے اعتراضات کا رد سیکھتے ہیں۔

یہ ہے اصل فرق۔۔ 

 رانا محمد سعید شیعہ بداخلاق:  شیخ اشعری قمی لکھتے ہیں اول فرقہ شیعہ جو علی ع کے شیعہ تھے وہ رسول ﷺ کے زمانے میں ہوئے جنہوں نے *علی ع کیلئے امامت* کا قول اختیار کیا ۔ پھر لکھا ان میں سے ہی عمار ، سلمان ، مقدار اور ابوذر تھے۔ ابن سباء کیا زمانہ رسالت میں تھا ؟؟؟؟

   جعفر صادق: اسے فی الحال  سائیڈ پر رکھیں۔میری خیانت ثابت کریں۔
 رانا محمد سعید شیعہ : جو بھی فضول بولنا بولیں لیکن بات مدعے پر کریں ۔  سبحان اللہ ۔ محترم یہ آپ کی خیانت ہی پیش کی ہے جس پر آپ اب گفتگو کرنے سے بھاگ رہے

ہیں اور مسلسل بھاگیں گے۔

  جعفر صادق: چارٹ میں کیا لکھا ہے؟  وہ جملے  اردو میں ہے۔ لکھیں یہاں پر

  رانا محمد سعید شیعہ : آپکو نظر نہیں آ رہا ؟؟؟

  جعفر صادق: اس کے بعد آپ کی دلیل پر اشکال پیش کرتا ہوں۔

  آپ کو جو خیانت لگ رہی ہے۔۔اسے لکھیں۔    *کیا آپ انکار کرتے ہیں کہ اس کتاب میں یہ سب نہیں لکھا ہوا؟*

  رانا محمد سعید شیعہ : اعتراف کا لفظ ہی خیانت ہے ، پھر آگے یہ خیانت ہے کہ ابن سباء نے آغاز کیا۔

 جعفر صادق: مطلب اعتراف نہیں لکھا؟

  رانا محمد سعید شیعہ : جی کتاب میں یہ لفظ نہیں لکھے ہوئے ۔ نا ہی یہ اعترافی ہے۔

 جعفر صادق: اچھا مطلب آپ نے ابھی جو اشعری کا اسکین پیش کیا ہے ، اس  میں اعتراف  کا لفظ ہے؟

رانا سعید شیعہ نے  جو اشکال  پیش کیا وہی اشکال خود پر لاگو کرنے سے  فرار!

  رانا محمد سعید شیعہ : آپ کے ساتھ شاید دماغی مسئلہ کے ساتھ ساتھ آنکھوں کا بھی مسئلہ ہے ۔ نہیں بلکہ آپ کا اصل مسئلہ ہے دجل و فریب ۔کتاب کا منہج ہے کہ اسلامی فرقوں کا بیان ۔ اس میں سے آپ من مانی چیزوں کو اعترافی بیان کی حیثیت دیکر جو خیانت اور دجل کے مرتکب ہیں وہ اہل علم شیعہ سنی حضرات پر عیاں ہے۔

  جعفر صادق: اب آجائیں آپ کی دلیل کی طرف۔


   رانا محمد سعید شیعہ : رکو نا،  یہی تو خیانت ہے۔

  جعفر صادق: کونسی خیانت،لکھتے بھی نہیں ہو۔

  رانا محمد سعید شیعہ:   جب مصنف تصریح کے ساتھ لکھ رہا ہے کہ بعض اہل علم نے حکایت کی کہ ابن سباء ۔ ۔ ۔ اسے اعترافی بیان کہہ کر واضح خیانت ہے ۔   ایسے ہی کشی کے نقل کرنے کو آپ نے تائید ، عقیدہ ، اعتراف اور اس جیسے دیگر الفاظ عطا کر دیئے۔  واضح خیانت۔

 جعفر صادق: بعض اہل علم پر گفتگو ہوچکی ہے۔ وہ بعض کذاب لاعلم نہیں تھے۔    میں نے کونسی خیانت کی ہے؟

 رانا محمد سعید شیعہ : یہ آپ نے کیسے طے کر لیا جبکہ ان کا کوئی اتا پتا کوئی نام مذکور نہیں،    نقل کو اعتراف قرار دیا یہ بدترین خیانت ہے۔

 جعفر صادق: مطلب آپ اپنے علماء کے جو بھی   اقوال دکھائیں ،  وہ اعترافات  ہوں گے، میں اگر اقوالات  دکھاؤں گا  تو وہ تردید ہوں گے ۔؟

    چلیں قارئین فیصلہ کر لیں گے۔اب اپنے اسکین پر آئیں۔

 رانا محمد سعید شیعہ : نہیں بالکل نہیں ۔ اعتراف وہی ہوگا جو حقیقتا اعتراف ہوا ۔ جو خبر یا قول نقل ہوگا اسے بغیر تصریح کے اعتراف یا تائید کہنا خیانت اور مکاری کے سوا کچھ نہیں۔





 

(شیعہ کا سوال:یہ آپ نے کیسے طے کر لیا ؟  جبکہ ان بعض  کا کوئی اتا پتا کوئی نام مذکور نہیں؟ )

 جعفر صادق: یہ سوال  اپنے  ان  متقدمین شیعہ علماء سے پوچھیں  کہ جن لوگوں کا  کوئی  اتہ پتہ نہیں ، نام بھی معلوم نہیں ہیں!! وہ اہل علم کیسے ہوگئے۔ہوسکتا ہے کذاب ہوں۔

 رانا محمد سعید شیعہ بداخلاق:  دفاع نہیں کر پائے تو  فیصلہ قارئین پر!

 جعفر صادق: حقیقتآ اعتراف کیسے ہوتا ہے۔سمجھادیں ،  دفاع اوپر کئی بار کر چکا ہوں۔ ٹیگ کردوں کیا۔جو نکتہ زیر بحث آچکا، اسے کیوں دوبارہ لے آتے ہیں سرکار۔

  رانا محمد سعید شیعہ : بالکل اہل علم سے کذب ممکن ہے ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ۔ کہیں تو کتب رجال کے حوالے لگائے دیتا ہوں ۔ محدثین نے کئی ایک کے بارے  میں کہا کہ اسکے پاس روایات کا ذخیرہ تھا لیکن وہ کذاب ہے ۔ اور یہ آپ بھی جانتے ہیں مگر شیعت کے خلاف تو مکاری کیئے بغیر کام نہیں چلتا نا۔ حقیقتآ اعتراف بھی    سمجھاتا ہوں۔

 جعفر صادق: اب اہل علم کذاب تھے تو جو ان جھوٹوں کو اہل علم کہیں وہ کیا ہوں گے؟

  رانا محمد سعید شیعہ: وہی جو آپ کے محدثین ہو ں گے۔

  جعفر صادق: تو تینوں علماء کی تردید کسی شیعہ عالم نے کیوں نہیں بیان  کی؟   پہلے اپنے تینوں علماء کی ثقاہت ثابت کریں۔۔ اس کے بعد باقی آنے والے بھی زد میں آتے ہیں حضور۔

تینوں متقدمین شیعہ علماء کے اس قول کی تردید سید خوئی نے معجم الرجال  میں بیان کی ہے! (رانا سعید شیعہ)

 رانا محمد سعید شیعہ : یہ بھی آپکا دجل ہے ۔ محترم تردید شیعہ علماء کی نہیں بلکہ اس بلاسند قول کی ہوگی اور کی گئی ہے ۔ سید خوئی نے معجم الرجال میں اس پر بحث کی ہے۔  علماء کی ثقاہت پر کیسے حرف آ گیا ؟؟؟؟ دوبارہ دجل ۔ میں تو ہر لمحہ کہتا ہوں کہ تمہارے اندر سے دجل نکال دیں تو تمہاری موت واقع ہو جائے گی۔

 جعفر صادق: آپ کی مرضی ہے جس قول کو چاہیں اعتراف سمجھ لیں چاہے صحیح روایت ایک بھی نہ ہو،اور جس قول کو چاہیں تردید سمجھ لیں چاہے اوپر تین صحیح روایات کیوں نہ ہوں۔

واہ رے شیعہ،تیری مت ہی نرالی

    دکھائیں ۔۔سید خوئی کی  وہ عبارت۔۔    اہل علم اصحاب سیدنا علی کا  متقدمین شیعہ علماء کو  پتہ ہی نہ تھا کہ وہ بے خبر لاعلم جاہل جھوٹے بندے تھے۔۔۔خوامخواہ انہیں اہل علم کہہ کر ابن سبا کی تفصیل ہی بیان کردی۔سبحان اللہ