شیعہ کے ان خفیہ خاکوں پر تبصرہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کے ان خفیہ خاکوں پر تبصرہ

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 1 از 4

شیعہ کے ان خفیہ خاکوں پر تبصرہ

ہم اس خاکہ کے بعد شقوں پہ تبصرہ کرتے ہیں:

یہ خاکہ ایسا ہے جس میں جدید مفہوم کے موافق تحریک برپا کرنے کا اظہار کیا گیا ہے اور اس کے دو ہدف بیان کیے گئے ہیں:

  1.  ایک ہدف تبشیری ہے۔
  2. دوسرا ہدف اس میں بیان ہوا ہے کہ اہلِ سنت کی دعوت کو پھیلنے سے روکنا ہے یہ خاکہ یہ بھی بتا رہا ہے یہ اثناء عشری شیعہ کے لیڈر مذہبی حکومت کی تحریک برپا کرنے کو اپنا اولین فریضہ تصور کرتے ہیں تاہم موجودہ اور عالمی قوانین پر نظر رکھنا ہوگی کیونکہ اس تحریک میں تباہ کن خطرات در پیش آ سکتے ہیں اصل میں یہ اس خاکہ کا خلاصہ اور نچوڑ ہے کہ وہ ایسی منظم حکومت کا قیام چاہتے ہیں جو اس مذہبی خاکہ کی حفاظت کرے اور مال سے نوازے مگر اس سے پہلے بقول ان کے دعوتِ اسلام کو عام کیا جائےاس سے ان کی مراد یہ ہے کہ عقیدہ امامت پھیلایا جائے جو اس کا قائل نہ ہو اسے کافر قرار دیا جائے اس خطہ اور خاکہ کے مطابق ان کی حکومت مذہبی ہے اور پڑوسیوں کے ساتھ اس تحریک کو برپا کرنے کا طریقہ مذہب اور عقیدہ کے اختلاف کے مطابق اپنایا جائے گا یہ شیعہ کی عدمِ تمیز ہے وگرنہ عرب لوگوں نے عراق اور فارس کے علاقوں کو جب فتح کیا ہے تو ایران میں دینِ اسلام ان فاتح عربوں کے ذریعے ہی پہنچا تھا اور اس خطہ و خاکہ میں جو 50 برسوں میں مرحلہ وار منصوبہ بتایا گیا ہے وہ یہ بھی ہے کہ اس میں اہلِ سنت اور وہابیوں کو شرق و غرب جو کے یورپین وغیرہ ہیں سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا گیا ہے کہ یہ لوگ شیعہ کی اس تحریک کے خلاف اٹھیں گے اور انہیں ولایت فقیہ اور ائمہ معصومین کا اصلی دشمن قرار دیا گیا ہے۔

ولایتِ فقیہ کا مطلب:

خمینی اور اس کے پیروکاروں کے مطابق ولایتِ فقیہ سے مراد یہ ہے کہ "امام مہدی" کا نیابت کرنا ہے یہ فقیہ محمد بن حسن عسکری جو کہ شیعوں کےبارہویں غائب امام ہیں کا نائب ہوتا ہے اسے اتنی طاقت حاصل ہے کہ ان کے آنے تک یہ جس حکم کو چاہے معطل کر سکتا ہے اس خاکہ میں بیان کردہ ان کا اسلوب و بیان جو خطرناک ترین ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے اہلِ سنت سے عداوت اور مشرق و مغرب کے غیر مسلموں سے دوستی کا ہاتھ بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے اور آج یہ عملاً ظاہر ہو رہا ہے موجودہ ایرانی سیاست والے دوسرے شہریوں اور قوموں کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتے ہیں حکومتِ ایران کا صدر کاتمی پوپ یوحنا پولس کی ملاقات کے لیے گیا تھا اور اس نے جو بیانات جاری کیے وہ ان کی اس اندرونی سیاست کی تمہید ہے یورپ کے ساتھ ان کا یہ طرزِ عمل ہے مگر اسلامی ملکوں کے ساتھ ان کا رویہ اس سے مختلف ہے یہ اسلامی سنی ملکوں میں ہمیشہ اپنے شرک کے کاموں اور بدعت پر بضد ہوتے ہیں اور اپنی پرانی تاریخ پر اصرار کرتے ہیں اور پوپ سے مل کر کہتے ہیں ہمیں رواداری سے کام لینا چاہیے کہ یہ حرکت ان کے خاکہ میں بیان کردہ عبارت پر واضح دلیل ہے تاکہ وہ کفار سے دوستی اور مسلمانوں سے عداوت رکھتے ہیں جن کا نام انہوں نے وہابی اور سنی رکھا ہوا ہے اور وجہ اس عداوت کی یہ بتاتے ہیں کہ یہ سنی ولایت فقیہ کے نظریے کے مخالف ہیں حالانکہ نجف شہر میں خمینی نے اس بدعت کو ایجاد کیا ہے وہابیوں اور سنیوں کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں اس کی تائید ان مذاکرات سے بھی ہوتی ہے جو ایرانی نمائندوں اور علامہ شیخ محمد بن صالح ضیائیؒ کے درمیان ہوئے تھے یہ ان کی زندگی کی بات ہے اور بعد میں انہیں ظالموں نے ٹکڑے ٹکڑے بنا کر شہید کر دیا۔

ایرانیوں نے ان سے کہا تھا:

تم جو جامعہ اسلامیہ مدینہ یونیورسٹی میں پڑھائی کے لیے طلبہ بھیج رہے ہو وہ صدام کی توپوں سے بھی زیادہ ہمارے لیے خطرناک ہیں۔

اس بناء پر شیعہ ایران کے سرحدی علاقوں اور خصوصاً جہاں سنیوں کی اکثریت ہے اس خاکہ کو پیشِ نظر رکھ کر اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے ہیں اور حسینی ماتم امام بارگاہیں اور اپنی مذہبی مجلسیں زیادہ قائم کرتے ہیں یہ ان کے خاکہ میں بیان کردہ بات کے مطابق سنیوں کے علاقوں میں فضا تیار کرنے والی تجویز پر عمل کر رہے ہیں اور جو انہوں نے کہا ہے تحریکِ شیعہ برپا کرنے میں جو ہم روپیہ لگا رہے ہیں وہ ضائع نہ جائے گا یہ بات بھی روبعمل لائی جا رہی ہے یہ کروڑوں ڈالر جو لگا رہے ہیں عنقریب واضح اور جلدی فوائد حاصل کر سکتے ہیں کہ ہر شہر میں شیعیت پھیل جائے گی یہ آج ہم دیکھ رہے ہیں سعودی حکومت کے مشرق میں کویت اور بحرین میں، امارت میں، اور یمن میں یہ کام ہو رہا ہے، علاوہ ازیں سوریا عراق، افغانستان اور پاکستان میں بھی یہ کام ہو رہا ہے۔

اگر سابقہ کتاریح دیکھیں تو خود ایران میں سنیوں کی بھاری اکثریت موجود رہی ہے جب شاہ اسماعیل صفوی آیا تو اس سے پہلے یہاں سنی بہت زیادہ تعداد میں تھے لیکن تھوڑی ہی مدت بعد قتل و غارت کی گئی انہیں منتشر کر دیا گیا اور ان کا جسمانی خاتمہ کر دیا گیا تا آخر اب ایران کی جو حالت ہے یہاں تک نوبت پہنچی کہ اب ایران شیعت کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلانے کی پناہ گاہ بن گیا ہے وہ اس خطہ کے ماحول کو تقسیم کرتے ہیں جہاں شیعہ آبادی زیادہ ہے وہاں ان کا سیاسی طریقہ اور ہے جہاں کم ہے سنی زیادہ ہیں وہاں طریقہ اور ہے اب ایران میں سنی تقریباً تیسرا حصہ ہیں دو حصے شیعہ ہیں وجہ یہ ہے کہ ان کا حسینی ماتم قائم کرنا اس علاقہ پر ان شیعوں کا مذہبی رنگ اثر ڈال رہا ہے۔

حسینیات کی تعریف:

صفحہ 1 از 4