حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کے مکان کے بارے میں…

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کے مکان کے بارے میں تحقیق

  ابو شاہین

صفحہ 1 از 4

حضرت حسینؓ کے سر کی جگہ کے بارے میں اختلاف کا سبب وہ متعدد زیارت گاہیں ہیں، جو مسلمانوں کے مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی ہیں اور جو فکری اور اعتقادی انحطاط کے زمانوں میں قائم کی گئیں۔ یہ تمام زیارت گاہیں حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کے سر کے وجود کی مدعی ہیں، پھر چونکہ ان کے سر کی جگہ کے بارے میں ناواقفیت ہے لہٰذا ہر گروہ اپنے ہاں رأس حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے وجود کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کئی باتیں بناتا ہے۔ اگر ہم سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کی جگہ کے بارے میں تحقیق کرنا چاہیں، تو ہمیں اس کے لیے معرکہ کربلا کے اختتام سے ہی اس کی موجودگی کا کھوج لگانا ہو گا۔ (مواقف المعارصۃ: صفحہ 308)

 یہ بات تو ثابت ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک ابن زیاد کے سامنے لایا گیا تو اس نے اسے ایک تھال میں رکھا اور پھر اس چھڑی سے اسے ضربیں لگانے لگا، جو اس کے ہاتھ میں تھی، یہ منظر دیکھ کر حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس کی طرف بڑھے اور فرمایا: حضرت حسین رضی اللہ عنہ سب لوگوں سے بڑھ کر حضرت محمد ﷺ کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے۔ (سنن الترمذی: 6595 حسن صحیح غریب) اس کے بعد رأس سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایات و آراء کا واضح اختلاف سامنے آتا ہے۔ لیکن ان روایات کے بعد جو یہ بتاتی ہیں کہ ابن زیاد نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک یزید بن معاویہ کے پاس بھجوا دیا تھا، مجھے معلوم ہوا کہ ان میں سے بعض روایات بتاتی ہیں کہ جب ان کا سر یزید کے پاس پہنچایا گیا، تو وہ ان کے منہ پر چھڑیاں مارنے لگا، جب اس نے یہ حرکت کی تو ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہا نے اس کے اس فعل پر اعتراض کیا، مگر یہ روایت ضعیف ہے۔ (المجمع: جلد، 9 صفحہ 195 اس میں ضعف ہے) ابن تیمیہ رحمتہ اللہ نے اس روایت کے ضعف پر اس بات سے استدلال کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جو لوگ اس واقعہ کے وقت وہاں موجود بتائے گئے ہیں، وہ شام میں نہیں بلکہ عراق میں موجود تھے۔ (السیر: جلد، 3 صفحہ 316 سمط النجوم العوالی: جلد، 3 صفحہ 86) جو بات اس روایت کے متن کے فساد پر دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ متن ان صحیح روایات کے مخالف ہے، جو آل حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ یزید کے اچھے برتاؤ اور قتل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پر اس کے اظہار افسوس اور رونے کی صراحت کرتی ہیں۔ 

(مواقف المعارضۃ: صفحہ 313)

ابن تیمیہ رحمتہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور جیسا کہ صحیح طور پر ثابت ہے اسی نے اسے چھڑیاں ماری تھیں۔ (ایضاً) جس روایت میں سیدنا حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کے سر مبارک کو یزید کے پاس بھجوانے کا ذکر ہے تو وہ روایت باطل ہے اور اس کی سند منقطع ہے۔ (ایضاً: صفحہ 313 نور الابصار: صفحہ 121) دوسری طرف ابن کثیرؒ کا موقف ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر یزید کے پاس بھجوایا گیا تھا، فرماتے ہیں: علماء کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے سر کے بارے میں اختلاف ہے کہ کیا ابن زیاد نے آپ کے سر مبارک کو یزید کے پاس بھجوایا تھا۔ اس بارے میں بہت سے آثار وارد ہیں۔ (تاریخ بغداد: جلد، 1 صفحہ 143-143 ترجمۃ الحسین: 276) و اللہ اعلم۔

امام ذہبی کی بھی یہی رائے ہے۔ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ 580)

تاریخی کتب میں مذکور ہے کہ حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کا سر مبارک مندرجہ ذیل چھ شہروں میں مدفون ہے:

 (1) دمشق

بیہقی اپنی کتاب ’’المحاسن و المساوی‘‘ میں ذکر کرتے ہیں کہ یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر دھونے کا حکم دیا، اسے ریشم کے کپڑے میں رکھا، اس پر خیمہ نصب کیا اور اس پر پچاس آدمیوں کو مقرر کیا۔ (المحاسن و المساوی: صفحہ 84) ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں یزید بن معاویہ کی دایا رِبّا سے نقل کیا ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک سلیمان بن عبدالملک کے زمانہ تک اسلحہ خانہ میں موجود رہا، پھر اسے سلیمان کے پاس لایا گیا، اس وقت وہ ہڈیوں کی صورت میں ہی باقی رہ گیا تھا۔ اس نے اسے کفن دیا، خوشبو لگائی اس پر نماز جنازہ پڑھی اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ پھر جب بنو عباس آئے، تو انہوں نے اسے قبر سے نکالا، پھر اللہ بہتر جانتا ہے کہ انہوں نے اس کے ساتھ کیا کیا۔ (تاریخ ابن عساکر، نقلا عن مواقف المعارضۃ: صفحہ 311) ربّا خاتون کے اس بیان کو ابن عساکر نے جرح و تعدیل کے بغیر ذکر کیا ہے اور یہ روایت مجہول ہے، (مواقف المعارضۃ: صفحہ 33) ساقط الاعتبار ہے اور اس پر کسی بھی حالت میں اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ (ایضاً: صفحہ 313)

ذہبی نے اپنی سند کے ساتھ کریب سے نقل کیا ہے کہ میں باب توما سے نکلا، جب میں نے ٹوکری کو کھولا تو اس میں سیدنا حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کا سر پڑا تھا اور اس پر لکھا تھا کہ یہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا سر ہے میں نے اس میں اپنی تلوار سے گڑھا کھودا اور اسے اس میں دفن کر دیا۔ (السیر: جلد، 3 صفحہ 316 سمط النجوم العوالی: جلد، 3 صفحہ 84) یہ روایت بہت ضعیف ہے۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 313) پھر یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کے سر مبارک کو اسلحہ خانہ میں محفوظ رکھنے کا یزید کو کیا فائدہ تھا؟ (ایضاً)

 (2) کربلا

 شیعہ امامیہ کے علاوہ کوئی بھی اس کا قائل نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہادت کے چالیس دن بعد آپ کا سر دوبارہ کربلا میں لایا گیا اور اسے ان کے جسد مبارک کے ساتھ دفنا دیا گیا۔ (ایضاً: صفحہ 313 نور الابصار: صفحہ 121) ان کے ہاں یہ دن زیارت اربعین کے نام سے مشہور ہے۔ مگر اس کی تردید کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اس قول کے ساتھ شیعہ امامیہ متفرد ہیں مگر اس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ ابو نعیم فضل بن دکین بعض لوگوں کے اس دعویٰ کی تردید کرتے ہیں کہ وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی قبر کو پہچانتے ہیں۔ (تاریخ بغداد: جلد، 1 صفحہ 143-144 ترجمۃ الحسین: 276) ابن جریر وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی جگہ کا نشان مٹا دیا گیا تھا تاکہ کوئی شخص اس کی تعیین نہ کر سکے۔ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ 570)

(3) رقہ

صفحہ 1 از 4