Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ دوم)

  مامون رشید

9: جب بھی شیعوں کا ذکر آتا ہے، تو بعض لوگ ان کے مذکورہ بالا کفریہ عقائد کو چھوڑ کر صرف یہ کہتے ہیں کہ یہ صحابہؓ پر طعن کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے ہاں ائمہ کو انبیاء سے بالاتر سمجھنے اور کائنات کے ذرات پر ائمہ کی ولایت تکوینیہ کا عقیدہ صحابہؓ کے بارے میں ان کے عقیدے سے بھی زیادہ خطرناک اور شرکِ اکبر ہے۔

بہرحال، صحابہ کرامؓ اس دین کے ستون اور نبی کریمﷺ کے انصار و مددگار ہیں، اس لیے اب ہم صحابہ کرامؓ کے حوالے سے داعی وحدت امت خامنائی کے افکار کا جائزہ لیتے ہیں:

خامنائی اپنی (کتاب الخواص صفحہ : 58) میں صحابہؓ کے بارے میں لکھتا ہے کہ جب خلافت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو ملی، حالانکہ علی اس کے حقدار تھے تو سوائے فاطمہ اور چند صحابہ کے کسی نے علی کی مدد نہیں کی اور سب ان پر کتوں کی طرح ٹوٹ پڑے۔

معاذ اللہ یہ صحابہؓ کی شان میں کتنی بڑی گستاخی ہے کہ انہیں کتے سے تشبیہ دی جائے افسوس کی بات ہے یہ کہ اس کے باوجود سہولت کاران رافضیت کو سمجھ نہیں آئے گا اور اسے قائد معظم باور کرائیں گے۔

وہ مزید لکھتا ہے: پس علی دو گروہوں کے درمیان پھنس گئے۔ پہلا گروہ ان کے حق کو نظر انداز کرنے والا اور دوسرا منافق اور حاسد تھا۔ یہاں خامنائی صحابہؓ کو صریحاً منافق کہہ رہا ہے۔ اب کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ وہ صحابہؓ پر طعن نہیں کرتا؟ کیا خامنائی کے حامیوں سے یہ سب باتیں مخفی ہیں اور وہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ وہ بظاہر صحابہؓ کو گالی دینے سے منع کرتا تھا؟ وہ صحابہؓ کو منافق اور کتوں کی طرح ٹوٹ پڑنے والا کہہ رہا ہے، کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی گالی ہو سکتی ہے؟

پھر وہ حضرت علیؓ کے بارے میں کہتا ہے: ہاں انہوں نے نبیﷺ کی تجہیز و تکفین کے حوالے سے اپنا فرض نبھایا، لیکن افسوس کہ دوسروں نے ان کی اس مصروفیت کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔

گویا صحابہؓ معاذ اللہ اسی تاک میں تھے کہ سیدنا علیؓ مصروف ہوں تو ہم خلافت چرا لیں! حقیقت یہ ہے کہ امت کو اس وقت ایک خلیفہ کی اشد ضرورت تھی جو امت کے معاملات کو سنبھالتا، اس لیے صحابہ کرامؓ نے خلیفہ کے انتخاب میں جلدی کی۔

سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی اور بعد میں حضرت علیؓ نے بھی خوشی سے بیعت کی۔

لیکن خامنائی کہتا ہے: انہوں نے ان کی مصروفیت کا فائدہ اٹھایا اور خلافت پر قبضہ کر کے اسے چرا لیا، اور ان کے حق سے انہیں محروم کر دیا۔ اور اس بزدلانہ حرکت کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ کیا حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو چور بزدل منافق اور حق غصب کرنے والا کہنا گالی نہیں ہے؟ خامنائی کے حامیوں کے نزدیک شاید یہ گالی شمار نہیں ہوتی۔

اے بد نصیب سہولت کاران تم لوگوں سے جھوٹ کیوں بولتے ہو کہ وہ صحابہؓ کو گالی نہیں دیتا؟ اگر کوئی تمہارے باپ کے بارے میں یہ الفاظ کہے تو تم برداشت نہیں کرو گے تو رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے بارے میں یہ سب کیسے برداشت کر لیتے ہو؟

بلکہ اگر وہی باتیں ہم خود اس خامنائی کے بارے میں کہیں، جن کا وہ حقیقتاً حقدار ہے، تو تم ہمیں فوراً منافق قرار دو گے کیونکہ تمہارے ہاں کسی کو کافر قرار دینا سب سے آسان کام ہے۔ تم تحریکی اخوانی اور رافضیت کے سہولت کاران جن کے لیے اپنے مخالف کو صیہونی کافر اور منافق کہنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

خامنائی اپنی کتاب ”الخواص“ کے صفحہ 59 میں حضرت عمر فاروقؓ پر الزام لگاتا ہے کہ انہوں نے لات مار کر حضرت فاطمہؓ کے گھر کا دروازہ توڑ دیا تھا اور ان کی بے حرمتی کرتے ہوئے گھر میں داخل ہو گئے تھے، اسی طرح صفحہ 61 میں لکھا ہے حضرت عمرؓ نے رسول اللہﷺ کو حضرت علیؓ کے نام خلافت کی وصیت لکھنے سے روک دیا تھا۔

خامنائی اپنی کتاب إن النصر مع الصبر میں ان لوگوں کی تعریف کرتا ہے جو صحابہؓ پر لعنت بھیجتے ہیں۔ چنانچہ صفحہ 138 پر لکھتا ہے: 

سید نزاری ایک انتہائی عبادت گزار شخص تھا۔ مجھے یاد ہے وہ روزانہ بلند آواز میں زیارت عاشوراء پڑھا کرتا تھا۔ سب کو معلوم ہے کہ زیارت عاشوراء کے متن میں کیا کچھ ہے۔ وہ اہل بیت پر درود و سلام بھیجتا اور ان کے دشمنوں پر لعنت کرتا تھا، اور پھر وہ راستے میں چلتے ہوئے اپنا یہ وظیفہ جاری رکھتا تھا۔

شیعہ سیاق و سباق میں اہل بیت کے دشمنوں پر لعنت کا سیدھا مطلب حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ پر لعنت کرنا ہے، یہ بات پر وہ شخص جانتا ہے جو شیعہ عقائد سے واقف ہے، اس کے باوجود خامنائی اسے عابد و زاہد قرار دے رہا ہے۔

اپنی کتاب (الخواص: صفحہ 63) میں جلیل القدر صحابی حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ پر طعن کرتے ہوئے لکھتا ہے: عبد الرحمٰن میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ کھلم کھلا مخالفت کرتے، اس لیے انہوں نے مکر و فریب کا سہارا لیا اور اسی دھوکے کے ذریعے عبد الرحمٰن بن عوفؓ اور ان کے گروہ نے لوگوں کو حق اور انصاف کے محور سے ہٹانے میں کامیابی حاصل کر لی اور یوں امام علی علیہ السلام تنہا، بے یار و مددگار رہ گئے اور ان کا حق چھین لیا گیا، ان کی حالت یہ تھی کہ ان کا دل ان تکالیف اور مصائب کی وجہ سے پھٹا جا رہا تھا جو انہوں نے ان لوگوں اور ان جیسے دوسرے افراد کے ہاتھوں جھیلیں۔

مزید لکھتا ہے اور ابوبکر پر تعجب ہے کہ وہ دوسروں پر تفرقہ بازی کا الزام لگاتے ہیں، جبکہ وہ یہ بھول بیٹھے کہ وہی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مسلمانوں کی جمعیت کو منتشر کیا اور رسول اللہﷺ کی تدفین کو چھوڑ کر اپنے گروہ کے ساتھ سقیفہ میں خلافت کے معاملے پر گٹھ جوڑ کرنے چلے گئے، انہوں نے پردے کے پیچھے ایسی سازشوں کے تانے بانے بنے جن کا مقصد خلافت کو اس کے حقیقی حقدار سے چھین کر غصب کرنا تھا (الخواص: صفحہ 57)

کبار صحابہؓ پر دنیا طلبی اور مال و دولت کے حرص و ہوس کا الزام لگاتے ہوئے لکھتا ہے: یہ تمام معاملات رسول اللہﷺ کی وفات کے سات سال بعد پیش آئے اور ان انحرافات) کے پہلے آثار اس وقت نمودار ہوئے جب یہ کہا گیا کہ اسلام میں سبقت رکھنے والے یعنی رسول اللہﷺ کے وہ اصحابؓ جنہوں نے آپﷺ کے ساتھ جنگوں میں شرکت کی عام لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے ان کے لیے خصوصی مراعات بونی چاہئیں۔ چنانچہ انہیں بیت المال سے مالی مراعات دی گئیں۔ یہ امتیازی سلوک کی پہلی اینٹ تھی، اور تمام منحرف تحریکوں کا حال یہی ہوتا ہے کہ وہ ایک چھوٹے سے نقطے سے شروع ہوتی ہیں اور پھر ہر قدم کے ساتھ ان کی شدت بڑھتی چلی جاتی ہے۔

یہ انحرافات یہیں سے شروع ہوئے یہاں تک کہ

سیدنا عثمان بن عفانؓ کا دور آ گیا، جہاں تیسرے خلیفہ کے دور حکومت کے وسط تک حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ رسول اللہﷺ کے بڑے بڑے صحابہؓ اپنے زمانے کے امیر ترین لوگ بن گئے۔ یعنی وہ نامور صحابہؓ جیسے طلحہ زبیر اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم وغیرہ جن کے بڑے کارنامے تھے، وہ پہلی صف کے سرمایہ دار بن گئے یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کا انتقال ہوا اور وارثوں میں اس کا مال تقسیم کرنے لگے تو سونے کو جسے اس نے پگھلا کر اینٹوں (ڈلیوں کی شکل دے رکھی تھی، کلہاڑیوں سے توڑنا پڑا، بالکل ویسے ہی جیسے لکڑی کو کلہاڑی سے توڑا جاتا ہے۔ ذرا سوچیں کہ سونے کی مقدار کتنی زیادہ ہو گی کہ اسے کلہاڑیوں سے توڑنے کی ضرورت پڑی؟ جبکہ حال یہ ہے کہ سونا تو ماشوں اور تولوں (مثقال میں تولا جاتا ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جنہیں تاریخ نے محفوظ کیا ہے! یہ ایسی باتیں نہیں ہیں جن کے بارے میں یہ کہا جائے کہ انہیں صرف شیعوں نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے 

برگز نہیں، بلکہ یہ سب شیعہ مورخین نے لکھا ہے۔ ان لوگوں نے دینار و درہم کی جو رقوم چھوڑی تھیں وه ہوش ربا حد تک زیادہ تھیں اور یہ 

صورتحال تھی جو امیرالمؤمنین (علی ابن ابی طالب علیہ السلام) کے دور میں ان جنگوں اور فتنوں جیسے واقعات کا باعث بنی یعنی چونکہ بعض لوگوں کے نزدیک منصب اور مال کی اہمیت حد سے بڑھ چکی تھی اس لیے انہوں نے آپؓ (علی) کے ساتھ تصادم کا راستہ اختیار کیا۔ اس وقت رسول اللہﷺ کی وفات کو پچیس سال گزر چکے تھے اور بہت سی غلطیاں اور لغزشیں معاشرے میں جڑ پکڑ چکی تھیں

(الخواص: صفحہ 30)

خامنائی نے صحابی رسول عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ کے نسب میں طعن کیا ہے اور ان کی والدہ پر زنا کی تہمت لگائی اور انہیں ولد الزنا قرار دیا ہے. چنانچہ لکھتا ہے عمر بن عاص بن وائل کا تعلق قبیلہ بنی سہیم سے ہے، اور (علامہ زمخشری کی نقل کرده روایت ربیع الأبرار کے مطابق اس کی ماں تابق بنت حرملہ قبیلہ عنزہ کی ایک لونڈی تھی جسے ایک جنگ میں قیدی بنا کر مکہ لایا گیا تھا اور عبداللہ بن جدعان تیمی نے اسے خرید لیا تھا۔ وہ ان عورتوں میں سے تھی جو اپنے گھروں پر جھنڈے لگا کر اعلانیہ زنا کیا کرتی تھیں۔ چنانچہ ایک ہی رات میں ابولہب امیہ بن خلف، بشام بن مغیره ابوسفیان اور عاص بن وائل نے اس کے ساتھ زنا کیا جس سے وہ حاملہ ہوئی اور عمرو بن عاص پیدا بوا.

اس بچے کی پیدائش پر ان پانچوں مردوں میں جھگڑا ہو گیا اور ہر ایک یہ دعویٰ کرنے لگا کہ عمرو اس کا بیٹا ہے کیونکہ وہ ان سب سے مشابہت رکھتا تھا۔ آخر کار فیصلہ اس کی ماں پر چھوڑ دیا گیا تو اس نے کہا: یہ عاص بن وائل کا بیٹا ہے اور میرا یہ حمل اسی سے ٹھہرا تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق اس انتخاب کی وجہ یہ تھی کہ عاص بن وائل نے اس عورت کو اس کے دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں زیادہ اجر (رقم) دیا تھا، اسی لیے اس نے مادی مفاد کی خاطر اسے عاص کی طرف منسوب کر دیا؟

(الخواص: صفحہ 4)

 مزيد لکھتا ہے معاویہ بن ابی سفیان، عمرو بن عاص ابن ابی معیط ولید بن عقبه)، حبيب بن مسلمہ اور ابن ابی سرح عبداللہ بن سعد) یہ لوگ نہ تو دیندار تھے اور نہ ہی قرآن والے یعنی ان کا دین اور قرآن کے احکامات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ بچین میں بھی بدترین بچے تھے اور بڑے ہو کر بھی بدترین مرد ثابت ہوئے۔

(الخواص 82-83)

 کیا آپ کو مزید طعن و تشنیع کے نمونے چاہئیں؟ اس کے خامنائی کی کتاب الخواص کا مطالعہ کریں جو صحابہؓ کی شان میں گستاخیوں اور ان پر طعن و تشنيع اور سب وشتم سے بھری پڑی ہے۔ خامنائی اپنی کتاب (الدروس العظيمة من سيرة أهل البيت: صفحہ 17) میں حضرت معاویہؓ کو ایک گھٹیا شخص قرار دیتا ہے، اور صرف یہی نہیں بلکہ ان پر اور تمام بنو امیہ پر لعنت بھیجتا ہے۔

چنانچہ اپنی کتاب النداء الأخير: صفحہ 19 میں لکھتا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ بنو امیہ پر لعنت کرنا اللہ ان پر لعنت کرے اور ان کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنا باوجود اس کے کہ وہ مٹ چکے ہیں اور جہنم واصل ہو چکے ہیں در حقیقت دنیا بھر کے ظالموں کے خلاف ایک احتجاجی پکار ہے، اور یہ اس لیے ہے تاکہ ظلم کو پاش پاش کر دینے والی اس پکار کو ہمیشہ زندہ رکھا جا سکے۔ اسی طرح اپنی ایک اور کتاب( تاريخ الإمام الخميني: صفحہ 245) میں لکھتا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ بنو امیہ پر لعنت کرنا اللہ ان پر لعنت کرے اور ان کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنا۔ باوجود اس کے کہ وہ مٹ چکے ہیں اور جہنم واصل ہو چکے ہیں اب ذرا سوچیے بنو امیہ کون ہیں؟ بنو امیہ میں سرفہرست حضرت عثمان بن عفان حضرت معاویہ اور حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ اور یہ کہہ رہا ہے کہ وہ سب جہنم واصل ہو چکے ہیں، اور پھر بھی لوگ کہتے ہیں کہ خامنائی صحابہؓ پر طعن نہیں کرتا وہ مزید لکھتا ہے اور یہ لازم ہے کہ ماتمی مجلسوں میں ان کا ذکر کیا جائے اور ان پر لعنت کی جائے۔

یعنی وہ دشمن اہل بیت پر لعن طعن کو لازم قرار دے رہا ہے جو کہ ان روافض کے نزدیک صحابہ کرامؓ کی پاکباز ہستیاں ہیں۔ اب کہاں ہیں وہ لوگ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ صحابہؓ پر طعن نہیں کرتا اور صحابہؓ کو برا بھلا کہنے سے روکتا ہے؟ جبکہ وہ خود کہہ رہا ہے کہ ماتمی جلوسوں اور مجلسوں میں بنو امیہ پر لعنت کرنا اور بھرپور طریقے سے ان کی مذمت کرنا ضروری ہے۔

صحابی رسول ابو سفیانؓ کے بارے میں لکھتا ہے راویوں نے کثرت سے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اس نازک موقع پر ابوسفیان نے بظاہر حضرت علی علیہ السلام کے پرجوش حامی کا روپ دھار لیا تھا چنانچہ وہ ڈرانے دھمکانے اور چیلنج دینے لگا اور کہنے لگا: خدا کی قسم میں ان خلافت پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف مدینہ کی گلیوں کو گھوڑوں اور پیادہ سپاہیوں سے بھر دوں گا لیکن علی علیہ السلام پر یہ حقیقت چھپی ہوئی نہ تھی کہ ابوسفیان کا یہ طرز عمل محض مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے اور فتنے کی آگ بھڑکانے کے لیے تھا، تاکہ اسے اور اس جیسے ان دوسرے لوگوں کو جنہوں نے اپنے دلوں میں شرک اور نفاق چھپا رکھا تھا اسلام دشمن مقاصد حاصل کرنے کا موقع مل سکے (الخواص: صفحہ 55، 56) اپنی کتاب "الخواص" میں وہ جلیل القدر صحابی عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ کو جھوٹا اور جھوٹی گواہی دینے والا قرار دیتا ہے۔ چنانچہ صفحہ 65 پر لکھتا ہے: وہ پچاس آدمیوں کو لے آیا جنہوں نے گواہی دی کہ یہ پانی خواب کا پانی نہیں ہے۔ اور یہ اسلام میں دی جانے والی پہلی جھوٹی گواہی تھی۔ یہ بذات خود ایک من گھڑت کہانی ہے جسے بنیاد بنا کر ایک صحابی کو جھوٹا کہا جا رہا ہے. اور جو لوگ خامنائی کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ سیدہ عائشہؓ پر طعن نہیں کرتا، وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ ہاں شیعوں کا ایک گروہ ایسا ہے جو سیدہ عائشہؓ کی پاکدامنی پر کیچڑ اچھالتا ہے۔ جبکہ خامنائی والا گروه بظاہر ایسا نہیں کرتا، لیکن کیا وہ ان پر دوسرے حوالوں سے طعن نہیں کرتا؟

خامنائی اسی کتاب کے اسی صفحے پر لکھتا ہے اور جابلی افکار ان (صحابہ) کے درمیان دوباره سرایت کرنے لگے، اور دین رفتہ رفتہ دنیاوی مفادات اور مادی فوائد حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا۔ اس نے یہاں سیدہ عائشہؓ کا نام تو نہیں لیا، لیکن اگلے ہی جملے میں دیکھیں کہ وہ یہ طعنہ کس پر فٹ کرتا ہے لکھتا ہے: رسول اللہﷺ نے اپنی وفات سے پہلے ہی ان واقعات کی پیشین گوئی کر دی تھی جب آپﷺ ایک دن اپنے گھر میں عائشہ اور بعض دیگر ازواج کی موجودگی میں بیٹھے تھے۔ آپﷺ نے فرمايا: ”كالي بإحداكن قد لبحثها كلاب الخواب. وإياك أن تكوني أنت يا خميراء“ (مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ تم میں سے ایک پر جواب کے کتے بھونک رہے ہیں، اور اے حميراء (عائشہ بچنا کہ کہیں وہ تم ہی نہ ہو۔)

خامنائی اس کے ذریعے یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ دین کو دنیاوی مفادات کے لیے استعمال کرنے اور جاہلی افکار اپنانے والی ذات نعوذ باللہ سیدہ عائشہؓ کی تھی. امام ذہبیؒ شیعوں کے درجات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اگر کوئی شیعہ ترقی کر کے شیخین ابوبکر و عمر کی برائی کرنے تک پہنچ جائے، تو وہ خبیث رافضی ہے۔ (سیر أعلام النبلاء: جلد 7 صفحہ 370)

 امام سفیان ثوریؒ سے پوچھا گیا کہ کیا اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے جو ابوبکرؓ اور عمرؓ کو گالیاں دیتا ہو؟ فرمایا نہیں (شرح أصول اعتقاد أهل السنۃ والجماعۃ للالكائي: ح، 2813)

امام ابو زرعہ رازیؒ فرماتے ہیں: جب تم کسی شخص کو رسول اللہﷺ کے کسی بھی صحابی کی تنقیص کرتے ہوئے دیکھو تو جان لو کہ وہ زندیق ہے۔ (الكفايۃ للخطيب: صفحہ 49)

10: جو لوگ اتحاد ملت کے نام پر خامنائی کے تعلق خاموش رہنے اور اس کے عقائد پر گفتگو کرنے سے منع کرتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ خامنائی خود کبار علمائے اہل السنہ پر کیچڑ اچھالتا اور ان پر طرح طرح کا طعن و تشنیع کرتا تھا۔ چنانچہ کعب الاخبارؒ ایک جلیل القدر تابعی تھے۔

پہلے یہودی تھے پھر اسلام لائے اور ان کا اسلام بہت شاندار رہا امام ذہبیؒ ان کے بارے میں فرماتے ہیں:

وہ انتہائی پختہ دیندار اور حسن اسلام والے تھے۔

اور صحابہ کرامؓ کی مجلس میں کثرت سے بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن خامنائی اپنی کتاب (الدروس العظيمة: صفحہ 142) میں ان کے بارے میں بکواس کرتے ہوئے لکھتا ہے۔

كعب الاحبار یہ احادیث گھڑا اور بیان کیا کرتا تھا۔یا تو شام کے امراء کی خوشامد کے لیے تاکہ ان کے دلوں میں اس کا مقام بڑھے اور اسے زیادہ حصہ ملے یا پھر اسلام کے خلاف اس کی دلی دشمنی کی وجہ سے تاکہ وہ رسول اللہﷺ کی احادیث کی عظیم بنیاد کو تباہ کر سکے۔

ذرا بتائیے! ایک تابعی کو اسلام کا دشمن اور احادیث کا دشمن کہا جا رہا ہے کیا یہی اتحاد ملت کی دعوت اور اختلاف سے دوری کی مثال ہے ؟

اسی طرح ایک اور جلیل القدر تابعی امام زہریؒ کے بارے میں اس کتاب کے صفحہ 143 پر لکھتا ہے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ محمد بن شهاب الزبرى امراء کی خدمت میں لگا ہوا تھا، اور وہ انہیں ایسی احادیث لکھ کر دیا کرتا تھا جو ان کے مقاصد کے موافق ہوتی تھیں۔

جو لوگ امام زہریؒ کا مقام نہیں جانتے، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ امام زہریؒ پر طعن کرنا دراصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم پر طعن کرنے سے کسی درجہ کم نہیں ہے، کیونکہ ان کتابوں کی بے شمار صحیح احادیث امام زہری ہی کی سند سے مروی ہیں امام زہریؒ پر کتب اور حکمرانوں کے لیے احادیث گھڑنے کا الزام دراصل امت محمدیہ کے ذخیرہ حدیث کو مسمار کرنے کی ایک گھناؤنی سازش ہے۔ 

امام شافعیؒ فرماتے ہیں: اگر زہری نہ ہوئے تو مدینہ منورہ سے سنتیں ناپید ہو جائیں

اپنی کتاب الغرب: الشباب في معركة المصير: (صفحہ 99) میں خاصانی شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کے بارے میں لکھتا ہے۔ نظریاتی میدان میں، حالب صدیوں کی تکفیری فکر دراصل ابن تیمیہؒ کے افکار و آراء کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ موجودہ دور کے تکفیری گروه اپنی تکفیری سوچ کی بنیاد وہیں سے اخذ کرتے ہیں۔ اسی بنا پر اگر ہم تکفیریوں کے افکار و نظریات کو پہچاننا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کی جز تک پہنچنے کے لیے ابن تیمیہؒ ہی سے آغاز کرنا ہو گا۔

کیا ابن تیمیہؒ تکفیری تھا؟

کیا ابن تیمیہ رحمۃاللہ نے اللہ کی عصمت کا انکار کرنے والوں کی تکفیر کی؟

کیا ابن تیمیہؒ علی بن ابی طالب کی امامت کا عقیدہ نے رکھنے والوں کو کافر کہتا ہے؟

کیا ابن تیمیہؒ نے انہیں کافر ٹھہرایا جو یہ مانتا ہے کہ اللہ عرض کے اوپر ہے؟

کیا وہ ابن تیمیہؒ ہے جس نے یہ کہا کہ شام میں ہماری جنگ کفر کے خلاف جنگ ہے؟

نہیں ہرگز نہیں! وہ تو تم ہو جو اہل السنہ کو کافر سمجھتے ہو ان کے خون و مال اور عزتوں کو حلال سمجھتے ہو، ان کو سور اور کتے سے زیادہ نجس قرار دیتے ہو، اور ان کے خلاف جنگ کو کفر کے خلاف جنگ اور جہاد قرار دیتے ہوا اور وہ تو تمہارا استاد تمہارا امام و مرشد اور ولی فقیہ خمینی ہے جو کہتا ہے رہی بات تواصب و خوارج کی اللہ ان پر لعنت برسانے دونوں جماعتیں نجس ہیں (زبدة الأحكام: صفحہ 52)

جو بھی ہو دونوں گروپوں کے کفر اور نجاست میں اشکال وارد کرنا مناسب نہیں ہے، اس لیے کہ نواصب و خوارج دونوں معروف گروہوں کا کفر یقینی طور پر مجمع علیہ ہے۔ (الطهارة للخميني: جلد 3 صفحہ 336)

قوی ترین موقف یہ ہے کہ نواصب کو ان سے حاصل ہونے والے مال غنیمت کے جواز و اباحت اور اس سے خمس نکالنے کے مسئلہ میں حربیوں کے زمرے میں شامل کر دیا جائے بلکہ یہ ظاہر ہے کہ ناصبی کا مال جہاں بھی ملے اور جیسے بھی ملے لے لینا جائز ہے، اور اس کا خمس نکالنا واجب ہے۔( تحريرالوصلية: جلد 1 صفحہ 352)

خامنائی مزید لکھتا ہے: بارہویں صدی ہجری میں محمد بن عبد الوہاب نجد کے علاقے میں نمودار ہوئے، اور ان کے ساتھ ہی تکفیری افکار نظریاتی مرحلے سے نکل کر عملی نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو گئے۔ اس دور میں محمد بن عبدالوہاب نے مسلمانوں کے احوال بیان کرنے کے لیے شرک اور کفر جیسے الفاظ کا استعمال بڑے دھڑلے سے کیا۔یہاں ہمیں شیعوں کے ہاں نواصب کی اصطلاح کو سمجھنے کی ضرورت ہے جن کی وہ تکفیر کرتے نہیں تھکتے۔

شیعہ عالم البحراني المحاسن النفسانيۃ: صفحہ 154 میں لکھتا ہے:

ناصبی وہ ہے جسے ان (مسلمانوں) کے ہاں سنی کہا جاتا ہے۔ یعنی شیعی اصطلاح میں ناصبی کا مطلب سنی ہے۔ وہ مزید لکھتا ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ناصبہ سے مراد اہل سنت ہی ہیں۔محمد تیجانی بھی یہی کہتا ہے کہ یہ بات محتاج تعارف نہیں کہ نواصب کا مذہب دراصل اہل سنت والجماعت کا ہی مذہب ہے ”الشيعة هم أهل السنة“ ان کے ایک بڑے شیخ بہبہائی اپنی کتاب (حاشية الوافي: صفحہ 114) میں لکھتا ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ سید یہ کہتا ہے کہ سنی حقیقتاً کافر ہے۔ لیکن اس پر دنیا میں کفر کے تمام احکام لاگو نہیں ہوتے۔ یعنی ظاہری طور پر وہ دنیا میں مسلمانوں جیسا سلوک کرتے ہیں، لیکن دل میں انہیں کافر سمجھتے ہیں اور ہاں یہ مسلمانوں جیسا سلوک ہمیشہ نہیں ہوتا

نعمتہ اللہ الجزائری اپنی کتاب الأنوار النعمانيہ: جلد 2 صفحہ 20)میں لکھتا ہے: ناصبی (سنی) کے احوال و احکام دوباتوں پر مشتمل ہیں۔ پہلا یہ کہ روایات میں آیا ہےکہ وہ نجس ہے، اور وہ یہودی، عیسائی اور مجوسی سے بھی بدتر ہے۔ اور علمائے امامیہ کے اجماع کے مطابق وہ کافر اور نجس ہے۔ اور صفحہ 211 میں لکھتا ہے کہ ناصبی ہونے کی علامت یہ ہے کہ علی پر کسی اور کو مقدم کیا جائے۔ جبکہ تمام اہل سنت حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو۔ حضرت علیؓ پر مقدم کرتے ہیں۔

اب خامنائی کی اس بات پر غور کیجیے کہ تکفیری سوچ ابن تیمیہؒ اور محمد بن عبدالوہابؒ سے نکلی ہے، اور پھر ان کی کتاب بحار الانوار کھولیے ابن فرقد روایت کرتا ہے کہ میں نے ابو عبداللہ امام جعفر صادقؒ کی طرف جھوٹی منسوب روایت سے پوچھا: ناصبی کو قتل کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے کہا: اس کا خون حلال ہے لیکن تقیہ کرو اگر تم اسے دیوار کے نیچے دبا کر مار سکو یا پانی میں غرق کر سکو تاکہ تم پر کوئی گواہی نہ آئے، تو ایسا کر گزرو۔ میں نے پوچھا: اس کے مال کا کیا کیا جائے؟ جواب ملا جو مل جائے لوٹ لو۔(37/ 231)

معاصر شیعی عالم سید کمال حیدری کہتا ہے: علمائے امامی (شیعہ) میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس نے غیر شیعہ (یعنی اہل السنہ) پر کفر کا حکم نہ لگایا ہو۔ ہاں ان کے درمیان فرق صرف ایک بات میں ہے اور وہ یہ کہ ان میں سے بعض نے مخالفین کے ظاہر اور باطن دنیا اور آخرت دونوں کے کفر کا حکم لگایا ہے، جبکہ بعض دیگر نے انہیں ظاہر میں مسلمان اور باطن میں کافر قرار دیا ہے۔ ورنہ اس بات پر تو اجماع ہے کہ وہ باطن (آخرت) میں کافر ہی اس اجماع کی بنیاد کیا ہے؟ 

اس تکفیر کا نظریاتی اساس کیا ہے؟ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ امامیہ کے نزدیک امامت یا تو اصول دین میں سے ایک اصل ہے یا پھر اصول مذہب میں سے ایک اصل ہے۔ اسی لیے مدرسہ اہل بیت (امامی نقطہ نظر میں موجود اس تکفیری نظریے سے دستبرداری یا اس کا دفاع تب تک ممکن نہیں جب تک کہ اس مبنی بنیادی نظریے کو ہی تبدیل نہ کر دیا جائے، جب تک آپ اس بات پر قائم ہیں کہ امامت اصول دین یا اصول مذہب میں سے ہے یا دین و مذہب کی ناگزیر ضروریات ضروریات دین میں سے ہے، تو اس کا لازمی نتیجہ مخالف کی تکفیر ہی نکلے گا، اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمیں اکابرین امامیہ کی عبارات میں اس کی کھلی صراحت ملتی ہے۔ یہ آپ کے سامنے جوابر شیخ محمد حسن نجفی کی کتاب (جواہر الکلام کی 22 جلد کا صفحہ نمبر 62)

وہ اس میں لکھتے ہیں بلکہ اہل سنت پر لعن طعن سب و شتم اور ان کی تکفیر پر مبنی نصوص تواتر کی حد تک پہنچ چکی ہیں۔ اور یہ کہ وہ اس امت کے مجوسی ہیں۔ نصاریٰ سے بھی بدتر ہیں اور کتوں سے بھی زیادہ نجس (ناپاک ہیں)

كلام صريح بتكفير الشيعة لأهل السنة بدون خلاف بينهم، ويجيك شيعي يقول : السنة أنفسنا، ويجيك سني يقول : الشيعة إخواننا !!

اب بتائیے کہ تکفیری افکار کو نظریہ سے نکال کر عملی جامہ کس نے۔ پہنایا؟ کس نے مسلمانوں کا مال لوٹا، انہیں قتل کیا اور شام میں لوگوں کے سروں پر عمارتیں اور دیواریں گرا دیں؟ انہیں بموں اور بارودی مواد سے اڑایا؟

وه خود خامنائی ہے جو اپنا سارا گند دوسروں پر ڈال رہا ہے اور خود دامن بچا کر بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے اور حیرت تو اس بات پر ہے کہ وہ محمد بن عبدالوہاب کے بارے میں کہتا ہے۔ انہوں نے آغاز ہی سے وہابیت کو اس لیے ایجاد کیا تاکہ اسلام کی وحدت کو پارہ پارہ کر سکیں اور اسلامی معاشرت کے اندر اسرائیل کی طرح ایک مخصوص کیمپ قائم کر سکیں جس طرح اسرائیل کو اس مقصد کے لیے بنایا گیا تاکہ وہ اسلام کے خلاف ایک فوجی چھاؤنی کا کام ہے بالکل اسی طرح انہوں نے وہابی حکومت اور نجد کے علاقے کے ان لیڈروں کو اس لیے پیدا کیا تاکہ اسلامی معاشرے کے اندر ان کا اپنا ایک ایسا سکیورٹی مرکز موجود ہو جو ان سے جڑا ہوا ہو اور یہی وہ صورتحال ہے جو آج آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

(الوحدة الإسلامية في فكر الإمام الخامنئي: صفحہ 173)

آج بہت سے اخوانی جماعتی اور صوفی بھی خامنائی بی کی زبان بولتے ہیں، اور ستم ظریفی دیکھیں سنی کہلانے والے حضرات آج خامنائی کا دفاع کرتے ہیں، خامنائی ان کے بارے میں کہتا ہے ہم پر وہابی فرقے کو تکفیری نہیں کہہ سکتے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ کچھ وہابی اعتدال کی طرف آ رہے ہیں۔ البتہ یہ معتدل دھڑے ابھی وہابیت پر غلبہ حاصل نہیں کر پائے۔ 

(الغرب الشباب في معركة المصير: صفحہ 100)

مبارک ہو اے خود کو سنی کہلانے والے سہولت کار!

خامنائی تجھ سے راضی ہو گیا ہے اور اس نے تجھے معتدل قرار دیا ہے۔

بحار الانوار میں ہے کہ جب قائم (مہدی) آئے گا تو

وہ سب سے پہلے ابوبکر اور عمر کی لاشیں نعود

باللہ) نکالے گا۔ انہیں جلائے گا اور ہوا میں اڑا دے گا۔ اور مسجد توڑ دے گا۔ (بحار الأنوار: 20)

خامنائی اسی مہدی کے بارے میں کہتا ہے کہ امام

مہدی کی حکومت 100 فیصد خالص اسلامی حکومت ہو گی اب آپ خود ان باتوں کو جوڑ کر

دیکھ لیں کہ خامنائی کے نزدیک اسلام کیا ہے۔

ادریس بانی کی کتاب (الاجتهاد الممانع السياسةوالثقافة والمجتمع في فكر الإمام الخامنتي:

صفحہ 84) میں خامنائی کو اعتزالی مکتبِ فکر کی طرف

منسوب کیا گیا ہے۔ نیز لکھتا ہے ولایت فقیہ کو ان اصولوں کی روشنی میں سمجھنا چاہیے جو مدرسہ عدلیہ امامیہ اور معتزل کے علم کلام میں طے پائے ہیں۔

مزید یہ کہ آج کل کے شیعوں کے بارے میں یہ بات ثابت شده حقیقت ہے کہ وہ عقائد کے بیشتر ابواب میں معتزلہ کی روش پر قائم ہیں، اور پھر اس پر اپنی طرف سے مزید گمراہیوں کا اضافہ کرتے ہیں۔

آخر میں خامنائی کے چند فقہی فتاویٰ بھی ملاحظہ فرما لیں 

کہتا ہے کہ جو چیزیں لوگوں کو اللہ کے قریب کرتی ہیں اور دین سے جوڑتی ہیں۔ ان میں روایتی

ماتمی مجالس حسینی مجالس، امام کا سوگ مناناان پر رونا اور ماتمی دستوں میں سینہ کوبی کرنا شامل ہیں۔(وانتصر الدم: صفحہ 34)

وه ان چیزوں پر خوش ہے کیونکہ اس طرح وہ لوگوں کے جذبات سے کھیل کر انہیں اپنے پیچھے لگاتا ہے۔

(الاستفتاءات الجديدة کے صفحہ 409) پر فتویٰ دیتا ہے کہ ایک عورت کسی مرد کو یہ اختیار دے سکتی ہے کہ وہ مرد اس عورت کا اپنے ہی ساتھ متعہ کا عقد کر لے۔ یعنی عورت کا نہ تو باپ ولی ہو گا نہ کوئی اور بلکہ وہ مرد خود ہی وکیل بنے گا اور خود بی دولہا خامنائی اس کا صیغہ بھی بتاتا ہے کہ وہ مرد کہے میں نے اپنی مؤکلہ فلانہ کا اپنے ساتھ اتنے حق مہر پر نکاح (متعہ) کیا اور پھر خود بی کہے میں نے قبول کیا۔

واہ کیا بات ہے یعنی ایک مرد کو اپنی معشوقہ سے زنا کرنا ہو تو خود بی وکیل اور ولی بن کر خود ہی خود سے شادی کرا دے ہوس کی تسکین بھی ہو گئی اور زناکار بھی نہ ٹھہرے! رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی۔

جب ایک شخص خامنائی سے پوچھتا ہے کیا میں ایسی عورت سے متعہ کر سکتا ہوں جس کے بارے میں مجھے شک ہو کہ شاید اس نے مجھ سے عقد کرنے سے پہلے کسی اور مرد سے بھی متعہ کیا ہو اور اس کی عدت پوری نہ ہوئی ہو؟ خامنائی جواب دیتا ہے اگر وہ دعویٰ کرے کہ وہ شادی شده نہیں ہے اور عدت میں نہیں ہے، تو اس کا اعتبار کرتے ہوئے اس سے شادی (متعہ) جائز ہے۔ مطلب تم اندھے بن جاؤ، حقیقت کی تفتیش نہ کرو اور شیطان کا نام لے کر متعہ کر لو۔ (الاستفداءات الجديدة: صفحہ 280)

ایک شخص خامنائی سے پوچھتا ہے: چاقو سے روٹی کاٹنے کا کیا حکم ہے؟ تو کہتا ہے یہ مکروہ

(ناپسندیدہ) ہونے کے ساتھ جائز ہے۔(الاستفاءات الجديدة صفحہ 322)

مجھے سمجھ نہیں آتی اگر کسی کو پیزا کاٹنا ہو تو وہ بندہ کیا کرے گا؟

یہ خامنائی کا سب سے خطرناک اور غلیظ فتویٰ ہے، ایک سائل پوچھتا ہے کسی اجنبی مرد کا نطفہ کسی عورت کے رحم میں رکھوانے (ایجار رحم) کا کیا حکم ہے؟ یعنی کسی غیر مرد کا نطفہ تم اپنی ماں بہن یا بیوی کے رحم میں رکھوا دو۔

خامنائی پوری بے شرمی سے کہتا ہے۔ اس عمل میں بذات خود کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اس کے حرام مقدمات یعنی غیر محرم کو چھونے یا دیکھنے سے بچنا ضروری ہے۔ 

(الاستفاءات الجديدة: صفحہ 252)

کیسی بکواس ہے! تم ایک اجنبی مرد کا نطفہ جو اس عورت کا شوہر نہیں ہے۔ اس عورت کے رحم میں داخل کر رہے ہو، یہ صریح زنا ہے۔ کوئی بھی ہوشمند انسان اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔

اسی سے ملتا جلتا ایک اور فتویٰ ہے کہ چونکہ

جوڑے دوسروں کے بچے گود لے سکتے ہیں، تو کیا

ایسا ممکن ہے کہ میاں بیوی کے نطفے اور بیضے کو

ملا کر (Embryo) بننے کے ایک یا دو دن بعد اسے اس عورت کے رحم سے نکال کر کسی دوسری گود لینے

والی عورت کے رحم میں ڈال دیا جائے تاکہ وہ اسے پیدا کر کے پالے؟ خامنائی کا جواب ہے۔ اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔

(الاستفاءات الجديدة: صفحہ 252)

یہ کیسی فقہ ہے جو ایک اجنبی شخص کا نطفہ دوسری عورتوں کے رحم میں منتقل کرنے کی اجازت دینی ہے؟ کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں پڑها: 

اِنۡ اُمَّهٰتُهُمۡ اِلَّا الّٰٓـىِٔۡ وَلَدۡنَهُمۡ‌ وَاِنَّهُمۡ لَيَقُوۡلُوۡنَ مُنۡكَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَزُوۡرًا‌وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ (سورۃ المجادلہ: آیت 2)

ترجمہ: ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایسی بات کہتے ہیں جو بہت بری ہے، اور جھوٹ ہے۔ 

جب تم ایک مرد کا نطفہ جو ایک عورت کے رحم میں تھا نکال کر دوسری کے رحم میں ڈالو گے۔ تو نسب زچگی اور حقوق کے کتنے سنگین مسائل پیدا ہوں گے؟ یہ نطفے کا زنا ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ نہ اس شخص کے ہاں صحیح عقیدہ ہے نہ تقویٰ ہے، اور نہ ہی دین کی پاسداری ہے بلکہ صریح کفریات صحابہ کرامؓ کی پاکباز ہستیوں پر زبان درازی دہشت گردی اور قتل و خون ریزی اور سنیوں سے دشمنی ہی اس کا کل سرمایہ ہے، لیکن اس کے باوجود بعض لوگ اس کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں، کیونکہ انہوں نے ایک جذباتی مسئلے فلسطین کو اسلام اور عقیم سے بھی زیادہ اہمیت دے رکھی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلنا ہے کہ وہ ایسے شخص کی مدح سرائی کرتے ہیں بلکہ الٹا اہل سنت پر الزام لگاتے ہیں جو اس کی تعریف نہیں کرتے کہ یہ سنی تو منافق ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس فتنے سے محفوظ رکھے اور عافیت عطا فرمائے۔