ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی…

ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 26

مسئلہ باغ فدک:

 جواب: اولاد کے مالی وارث ہونے کے شیعہ مدعی ہیں اہلِ سنت منکر ہیں مدعی کے ذمے ثبوت ہوتا ہے شیعہ ایک مثال پیش کریں کہ کسی نبی کا اپنا کمایا ہوا ذاتی مال یا ترکہ ان کی سب اولاد میں بطورِ وراثت شرعی پورا پورا تقسیم ہوا ہو جب ایسی کوئی مثال نہیں ملتی تو منکر کا دعویٰ از خود بلا دلیل و مثال ثابت ہوجاتا ہے۔

مسںٔلہ فدک:

یہ سوال قصہ فدک کی طرف اشارہ ہے جو یہ شیعہ کا پیدا کردہ معرکۃ الآرا مسںٔلہ ہے بلکہ اہلِ تشیع کا بزعمِ خودسنگِ بنیاد ہے انقلاباتِ زمانہ سے جب دسویں صدی ہجری میں صفوی خاندانِ ایران میں برسرِ اقتدار آیا اور شیعہ کا اصول تقیہ باطل ہوگیا۔ اور شیعہ ائمہ کے ارشادات کے شیعو! تم اس دین پر ہو جو اسے چھپائے گا عزت پائے گا اور جو ظاہر کرے گا خدا اسے ذلیل کرے گا نیز جوں جوں امام مہدی کے ظاہر ہونے کا زمانہ قریب آئے گا تقیہ اور کتمان دین کی ضرورت اور سخت ہوتی چلی جائے گی اصول کافی باب التقية خود شیعہ کے قول و فعل سے جھوٹے ثابت ہوئے تو شیعہ مبلغ سب سے پہلے مسئلہ فدک سے بحث شروع کرتے تھے کشف الغمہ کے مقدمہ میں مؤلف کے حالات میں ہے۔

یہاں یہ بات معلوم کر لینی چاہیئے کہ شیعہ مذہب صفوی زمانہ سے ایران میں شائع ہوا علامہ زواری شیخ بہاء الدین اور ملا فتح اللہ کاشانی جیسے لوگ دولتِ آصفیہ کے آغاز میں اہلِ بیتؓ کا طریقہ پھیلانے میں مصروف ہوئے۔

پھر اس اعتراض کے شیعہ مذہب فاتحِ ایران حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بغض کی وجہ سے ایران میں پیدا ہوا کے جواب میں کہتے ہیں:

و ما گوںٔییم ایں سخن غلط است و ایشاں نمی دانند کہ تشیع از زمان صفویہ با ہزاراں رنج و دشواری رواج گرفت و بیش از آں تا ہزار سال کشور عجم مانند ساںٔر ممالک اسلامیہ سنی بودند۔ 

(مقدمہ کشف الغمہ: صفحہ، 13 از مرزا ابوالحسن شعرانی)

ترجمہ: ہم کہتے ہیں یہ الزام غلط ہے یہ سنی نہیں جانتے کہ شیعہ مذہب تو صفویہ خاندان کے زمانہ سے ہزار رنج اور مشکلات کے ساتھ شائع ہوا اور اس سے پہلے ہزار سال تک عجمی ممالک تمام دیگر اسلامی ممالک کی طرح سنی المذہب تھے۔

اب ایسے مذہب کی حقیقت و صداقت کا کیا کہنا جو ہزار برس بعد ہی پردہ عدم سے ظہور میں آتا ہے اور بنیاد عہدِ نبوی کے بعد فدک جیسے چند اختلافات پر استوار کر کے اتفاقِ ملی کو پارہ پارہ کرتا اور اپنے فرقہ کے سوا سب مسلمانوں کو دائرہ ایمان سے خارج جانتا ہے حالانکہ بالکل کھلی بات ہے جن اختلافی مسائل پر آج ملتِ اسلامیہ کو کفر و اسلام میں منقسم کیا جاتا ہے عہدِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم و اہلِ بیتؓ میں ان کا وجود ایسے تھا ہی نہیں جیسے باور کرایا جاتا ہے ہر بات کا بتنگڑ بنا کر تصویر ہی غلط پیش کی جاتی ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ جس وقت یہ مسائل اٹھے یا اٹھائے گئے حضرات اھلِ بیتؓ سے عقیدت رکھنے والے بھی کروڑوں مسلمان تھے ہزار برس تک ان میں سے کوئی فرقہ شیعہ اہلبیتؓ نہ بنا اور نہ کسی نے ان اختلافات کو ہواد سے کرنیا مذہب تیار کیا مگر ہزار برس بعد یہود و مجوس کے ملغوبہ خاندان صفوی نے ان اختلافات کو مذہب کی شکل میں پھیلا دیا تبلیع کے اس اجمالی تعارف کے بعد اور مسئلہ فدک کی تفصیلات میں جانے سے پہلے چند باتوں پر غور کرنا ضروری ہے۔

1: مسئلہ کی حقیقت:

اس مسںٔلہ کی حقیقت صرف اتنی ہی ہے کہ یہود بنی نظیر قریظہ اور خیبر کے بعض قباںٔل نے اہلِ اسلام سے مرعوب ہوکر بلا جنگ جو جائیدادیں اہلِ اسلام کے سپرد کیں قرآنی اصطلاح میں وہ مالِ فے کہلاتا ہے اور اس کے آٹھ مصارف صورتِ حشر میں مذکور ہیں ان ہی میں فدک تھا یہ جائیدادیں صرف حضورﷺ کی تحویل میں تھیں کیونکہ کسی مسلمان مجاہد کا ان میں معین حصہ نہ تھا حضورﷺ صرف اپنی صوابدید سے مذکورہ بالا مصارف پر کلّا یا جزأ کمی بیشی کے ساتھ خریج کرتے تھے اپنا ذاتی خرچ رشتہ داروں کا خرچ بھی اسی سے نکالتے تھے اصولِ کافی میں تصریح ہے کہ یہ جائیداد پیغمبر کے بعد امام جانشین کی تحویل میں چلی جاتی ہے اور وہ اپنی کے مطابق ان میں عمل و تصرف کرتا ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب اسی حیثیت سے جانشین پیغمبرﷺ ہوئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے خلیفہ کی یہ حیثیت تسلیم کرتے ہوئے بذریعہ قاصد یہ مطالبہ کیا کہ فدک نامی شہر کی جائیداد جس کی آمدنی ہم استعمال کرتے ہیں براہِ راست میری تحویل میں دے دیں سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے فرمایا یہ وراثت کی سی شکل ہے رسول اللہﷺ کا فرمان میں نے سنا ہے کہ پیغمبروں کا ترکہ عام صدقہ ہوتا ہے اس میں کوئی وارث نہیں بنتا آپ کو خرچ کے لیے وہ سب آمدنی ملتی رہے گی جو حضورﷺ کے عہد میں ملا کرتی تھی حضورﷺ کی رشتہ داری مجھے سب دنیا سے بڑھ کر عزیز ہے لیکن میں بطورِ وراثت و تملیک وہ جائیداد آپ کے حوالے نہیں کر سکتا کیونکہ حضورﷺ کی روش کے خلاف کروں تو گمراہ ہوں گا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا یہ معقول جواب سن کر خاموش ہوگئیں پھر اس مسئلہ پہ آپ سے بات نہیں کی حتیٰ کہ 6 ماہ بعد رحلت فرما گئیں۔

جناب رشید اختر ندوی مسلمان حکمران 32، 33 پر لکھتے ہیں:

سیدہ فاطمہؓ کا مطالبہ تھا انہیں باغِ فدک اور خیبر کی زمینیں دی جائیں جو رسول اللہﷺ کے براہِ راست تابع تھیں جن سے رسول اللہﷺ اپنی بولیوں اہلِ و عیال عام مسلمانوں مسافروں اور عمال کی تنخواہیں اور دوسرے اخراجات پورے کرتے تھے حضرت فاطمہؓ کی نظر منصبِ امامت اور اس کے فرائض پر نہ تھی وہ اپنے باپ کو نبی مانتی تھیں مگر وہ انہیں عرب کا امیر بھی سمجھتی تھیں۔

صفحہ 1 از 26