مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع…

مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 12

سوال نمبر 596: آپؓ کے دو دوستوں میں سے متعمد کون ہے؟ ایک غیر جانبدار ہے، والہانہ محبت کرنے والا ہے، مگر دشمنوں کو بھی بہ دل و جان چاہتا ہے۔ اختلافات کے موقع پر خاموش رہتا ہے۔ دوسرا حقیقی محبت کا دعویٰ دار ہے، آپؓ کے دوستوں کو دوست اور دشمنوں کو دشمن سمجھتا ہے اور تمام رشتے منقطع کرتا ہے؟

جواب: بقول آپ کے فرض کریں ایک فرضی غیر واقعی مثال ہے۔ حقیقۃً حضرت علی رضی اللہ عنہ و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے ایسے کوئی دشمن نہ تھے اور نہ ایسے دوستوں کا دعویٰ محبت معتبر ہے جو عین موقع پر تو غداری کریں بد دعائیں لیں۔ بین و ماتم اور فسق و معصیت ان کے مقدر میں آ جائے۔ مگر جب آخری امام ان کے ہی خوف سے 313 مومنوں کے انتظار میں غار سرمن رای کے ویٹنگ روم میں چلا جائے تو یہ فرضی عشق و محبت کے دعویٰ دار بجز اپنے سب اہلِ اسلام کو اہلِ بیتؓ کا دشمن سمجھیں اور اہلِ بیتؓ کو سب مسلمانوں کا دشمن سمجھیں پھر ہر مسلمان سے تبرّا کریں اور رشتے منقطع کر لیں۔ تفصیل کسی موقع پر آ جائے گی۔ ہم تو اسی کو متعمد سمجھتے ہیں۔ جو خود کو ان کا ادنیٰ خادم سمجھتا ہے عملاً اتباع کرتا ہے ان کی شخصیت کے محاسن اور شریفانہ کمالات بیان کرتا ہے اور اس خاندان و گروہ کے ذاتی معاملات میں دخل دے کر ایک کو اچھا اور دوسرے کو برا نہیں بتاتا۔ تو اہلِ سنت کی مثال یوں سمجھیے کہ پانچ بھائیوں کو وہ انتہائی معزز و شریف جانتے ہیں ان کے باہمی اختلافات میں فریق نہیں بنتے جب کہ ایک گروہ کہتا پھرتا ہے پانچ میں سے صرف ایک حلالی شریف اور معزز ہے باقی چار معاذ اللہ حرامی اور برے ہیں۔ ظاہر ہے کہ پانچ بھائیوں کا باپ پہلے ہی گروہ کو اپنا اور بیٹوں کا دوست و خیر خواہ سمجھے گا

دوسرے گروہ کو اپنا اور اپنے خاندان کا بدترین دشمن سمجھے گا کیونکہ صرف ایک کو حلالی اور اچھا ماننا سب خاندان کی عزت پر بدترین حملہ ہے۔

سوال نمبر 597: آپ کا یہ دوست آپ کے محبوب اعزّہ سے دشمنی رکھتا ہے تو ایسے شخص کی محبت کا کیا معیار ہے جو آپ ہی کے خون اور خاندان کا عدو مطلق ہے؟

جواب: بحمداللہ اہلِ سنت یا ان کے اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت رسولﷺ‏ اور خاندانِ رسول اللہﷺ کے تابعدار دوست تھے۔ شیعوں کی طرح فرضی عاشق نہ تھے کہ آپﷺ‏ کی تمام روحانی اولاد کو کافر مرتد بنا کر ان سے دشمنی رکھیں۔ فرضی دشمن بنا کر خاندان کو ان سے جا لڑائیں پھر ان کو بے یار و مددگار چھوڑ دیں۔ خاندان کے ہزاروں لاکھوں افراد سے صرف تیرہ سے محبت کا دعویٰ کریں باقی تمام اقاربِ رسول اللہﷺ سے اور اپنے محبوبوں کے بھائیوں، رشتہ داروں، دوستوں، بزرگوں سبھی سے دشمنی اور تبرے کریں۔ پہلے کا معیارِ محبت درست ہے۔ دوسرے کا خالص معاندانہ اور بظاہر منافقانہ ہے۔

سوال نمبر 598: کیا دشمنِ اہلِ بیتِؓ رسولﷺ‏ پاک باز صحابی ہو سکتا ہے؟

جواب: ہم صحابی اور پاک باز کہتے ہی اسے ہیں جو پورے اسلام کو ماننے کے ساتھ ساتھ خاندانِ رسول اللہﷺ سے بھی عقیدت و محبت رکھے ان کے واقعی مرتبے اور کمالات کا منکر نہ ہو۔

سوال نمبر 599: اگر ہو سکتا ہے تو پھر کیوں کہتے ہو جو اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کا دشمن ہو وہ سنی نہیں؟

جواب: ہم سچ کہتے ہیں جو تمام اہلِ بیتِؓ نبوتﷺ‏ یا خاندانِ رسالتﷺ‏ کا منکر یا مبغض ہے وہ سنی نہیں نہ مسلمان ہے ہم اسی وجہ سے تو نے شیعوں سے دشمنی رکھتے ہیں۔

سوال نمبر 600: اگر نہیں ہو سکتا تو پھر سیدنا امیرِ معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ مخلص صحابی کیسے ہوا؟ کہا اس نے حضرت علیؓ کے خلاف بغاوت نہیں کی؟ حضرت حسنؓ کو قتل نہیں کروایا؟

جواب: اب آپ اصل روپ میں سامنے آئے ہیں، غور سے بسمع آواز سنیے: 

حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور آپؓ کے والد وغیرہ سنہ 7ھ سنہ 8ھ میں حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ اسلام پہلی دشمنی اور گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ‌ (سورۃ الفرقان: آیت 70) تاریخ بتاتی ہے کہ حضورﷺ نے اس خاندان کا نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ اعتماد کر کے کئی عہدے بھی سونپے اسی سنتِ نبویﷺ کے تحت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو عہدوں پر برقرار رکھا اور ان کی سیاسی بصیرت، خدمات و لیاقت سے فائدہ اٹھاتے رہے۔ اگر کبھی بنو ہاشم کو غیروں کے مقابل اپنی تائید و حمایت کی ضرورت پڑی تو حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے، آپؓ کے بیٹوں نے اسی طرح حضرت طلحہؓ و حضرت زبیرؓ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ و بنو ہاشم کی تائید کی۔ ذرا اس ذہن سے تاریخ کو کھنگالیے۔ یہاں میں ایک ایک لاکھ روپیہ محرم کی فیس لے کر مجلسیں پڑھنے والے اور متعہ خانے آباد رکھنے والے فربہ بطن جغادری مجتہد صاحبان سے یہ پوچھتا ہوں کہ وہ سنہ 8 ہجری سے 35 ہجری تک کسی تاریخ سے کوئی حوالہ تو نکال کر دکھائیں کہ حضرت امیرِ معاویہؓ نے اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے یہ دشمنی کی، یہ نقصان پہنچایا۔ یہ ان کی کردار کشی کی وغیرہ۔ 

اگر ایسا کچھ بھی نہیں مل سکتا تو پھر میں باادب ہو کر یہ پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے قلمدانِ خلافت ہاتھ میں لیتے ہی حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور دیگر عمالانِ عثمانی کو، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما، حضرت حسن رضی اللہ عنہ وغیرہ کے مشوروں کے خلاف کیوں معزول کر دیا۔ آخر ان کے جرائم یا عوامی شکایات وغیرہ کیا تھیں؟ تاریخ سے کچھ تو نشاندہی کیجیے، بجز اس کے کہ بنو ہاشم و بنو امیہ کی اسلام سے پہلے جاہلی دشمنی تھی۔ اسلام نے اسے مٹا کر بھائی بھائی بنا دیا۔ حضور اکرمﷺ‏ نے اپنی تین صاحبزادیاں ملویوں کو دیں اور ان کے ہر فرد کا دیگر قبائل کی طرح ایمان و اسلام قبول کیا اب ابنِ سبا یہودی نے اس مندمل زخم کو پھر چیرا رقابت بنا کر ہاشمی و اموی دو دھڑے بنا دیئے۔ انقلاب و شورش کے ذریعے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ اموی کو مظلومانہ شہید کیا حتیٰ کہ ان کے تمام افسران و عمالان بلا جرم بلیک لسٹ میں آ گئے۔

صفحہ 1 از 12