Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مطاعن سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

سوال نمبر 596: آپؓ کے دو دوستوں میں سے متعمد کون ہے؟ ایک غیر جانبدار ہے، والہانہ محبت کرنے والا ہے، مگر دشمنوں کو بھی بہ دل و جان چاہتا ہے۔ اختلافات کے موقع پر خاموش رہتا ہے۔ دوسرا حقیقی محبت کا دعویٰ دار ہے، آپؓ کے دوستوں کو دوست اور دشمنوں کو دشمن سمجھتا ہے اور تمام رشتے منقطع کرتا ہے؟

جواب: بقول آپ کے فرض کریں ایک فرضی غیر واقعی مثال ہے۔ حقیقۃً حضرت علی رضی اللہ عنہ و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے ایسے کوئی دشمن نہ تھے اور نہ ایسے دوستوں کا دعویٰ محبت معتبر ہے جو عین موقع پر تو غداری کریں بد دعائیں لیں۔ بین و ماتم اور فسق و معصیت ان کے مقدر میں آ جائے۔ مگر جب آخری امام ان کے ہی خوف سے 313 مومنوں کے انتظار میں غار سرمن رای کے ویٹنگ روم میں چلا جائے تو یہ فرضی عشق و محبت کے دعویٰ دار بجز اپنے سب اہلِ اسلام کو اہلِ بیتؓ کا دشمن سمجھیں اور اہلِ بیتؓ کو سب مسلمانوں کا دشمن سمجھیں پھر ہر مسلمان سے تبرّا کریں اور رشتے منقطع کر لیں۔ تفصیل کسی موقع پر آ جائے گی۔ ہم تو اسی کو متعمد سمجھتے ہیں۔ جو خود کو ان کا ادنیٰ خادم سمجھتا ہے عملاً اتباع کرتا ہے ان کی شخصیت کے محاسن اور شریفانہ کمالات بیان کرتا ہے اور اس خاندان و گروہ کے ذاتی معاملات میں دخل دے کر ایک کو اچھا اور دوسرے کو برا نہیں بتاتا۔ تو اہلِ سنت کی مثال یوں سمجھیے کہ پانچ بھائیوں کو وہ انتہائی معزز و شریف جانتے ہیں ان کے باہمی اختلافات میں فریق نہیں بنتے جب کہ ایک گروہ کہتا پھرتا ہے پانچ میں سے صرف ایک حلالی شریف اور معزز ہے باقی چار معاذ اللہ حرامی اور برے ہیں۔ ظاہر ہے کہ پانچ بھائیوں کا باپ پہلے ہی گروہ کو اپنا اور بیٹوں کا دوست و خیر خواہ سمجھے گا

دوسرے گروہ کو اپنا اور اپنے خاندان کا بدترین دشمن سمجھے گا کیونکہ صرف ایک کو حلالی اور اچھا ماننا سب خاندان کی عزت پر بدترین حملہ ہے۔

سوال نمبر 597: آپ کا یہ دوست آپ کے محبوب اعزّہ سے دشمنی رکھتا ہے تو ایسے شخص کی محبت کا کیا معیار ہے جو آپ ہی کے خون اور خاندان کا عدو مطلق ہے؟

جواب: بحمداللہ اہلِ سنت یا ان کے اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت رسولﷺ‏ اور خاندانِ رسول اللہﷺ کے تابعدار دوست تھے۔ شیعوں کی طرح فرضی عاشق نہ تھے کہ آپﷺ‏ کی تمام روحانی اولاد کو کافر مرتد بنا کر ان سے دشمنی رکھیں۔ فرضی دشمن بنا کر خاندان کو ان سے جا لڑائیں پھر ان کو بے یار و مددگار چھوڑ دیں۔ خاندان کے ہزاروں لاکھوں افراد سے صرف تیرہ سے محبت کا دعویٰ کریں باقی تمام اقاربِ رسول اللہﷺ سے اور اپنے محبوبوں کے بھائیوں، رشتہ داروں، دوستوں، بزرگوں سبھی سے دشمنی اور تبرے کریں۔ پہلے کا معیارِ محبت درست ہے۔ دوسرے کا خالص معاندانہ اور بظاہر منافقانہ ہے۔

سوال نمبر 598: کیا دشمنِ اہلِ بیتِؓ رسولﷺ‏ پاک باز صحابی ہو سکتا ہے؟

جواب: ہم صحابی اور پاک باز کہتے ہی اسے ہیں جو پورے اسلام کو ماننے کے ساتھ ساتھ خاندانِ رسول اللہﷺ سے بھی عقیدت و محبت رکھے ان کے واقعی مرتبے اور کمالات کا منکر نہ ہو۔

سوال نمبر 599: اگر ہو سکتا ہے تو پھر کیوں کہتے ہو جو اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کا دشمن ہو وہ سنی نہیں؟

جواب: ہم سچ کہتے ہیں جو تمام اہلِ بیتِؓ نبوتﷺ‏ یا خاندانِ رسالتﷺ‏ کا منکر یا مبغض ہے وہ سنی نہیں نہ مسلمان ہے ہم اسی وجہ سے تو نے شیعوں سے دشمنی رکھتے ہیں۔

سوال نمبر 600: اگر نہیں ہو سکتا تو پھر سیدنا امیرِ معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ مخلص صحابی کیسے ہوا؟ کہا اس نے حضرت علیؓ کے خلاف بغاوت نہیں کی؟ حضرت حسنؓ کو قتل نہیں کروایا؟

جواب: اب آپ اصل روپ میں سامنے آئے ہیں، غور سے بسمع آواز سنیے: 

حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور آپؓ کے والد وغیرہ سنہ 7ھ سنہ 8ھ میں حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ اسلام پہلی دشمنی اور گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ يُبَدِّلُ اللّٰهُ سَيِّاٰتِهِمۡ حَسَنٰتٍ‌ (سورۃ الفرقان: آیت 70) تاریخ بتاتی ہے کہ حضورﷺ نے اس خاندان کا نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ اعتماد کر کے کئی عہدے بھی سونپے اسی سنتِ نبویﷺ کے تحت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو عہدوں پر برقرار رکھا اور ان کی سیاسی بصیرت، خدمات و لیاقت سے فائدہ اٹھاتے رہے۔ اگر کبھی بنو ہاشم کو غیروں کے مقابل اپنی تائید و حمایت کی ضرورت پڑی تو حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے، آپؓ کے بیٹوں نے اسی طرح حضرت طلحہؓ و حضرت زبیرؓ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ و بنو ہاشم کی تائید کی۔ ذرا اس ذہن سے تاریخ کو کھنگالیے۔ یہاں میں ایک ایک لاکھ روپیہ محرم کی فیس لے کر مجلسیں پڑھنے والے اور متعہ خانے آباد رکھنے والے فربہ بطن جغادری مجتہد صاحبان سے یہ پوچھتا ہوں کہ وہ سنہ 8 ہجری سے 35 ہجری تک کسی تاریخ سے کوئی حوالہ تو نکال کر دکھائیں کہ حضرت امیرِ معاویہؓ نے اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے یہ دشمنی کی، یہ نقصان پہنچایا۔ یہ ان کی کردار کشی کی وغیرہ۔ 

اگر ایسا کچھ بھی نہیں مل سکتا تو پھر میں باادب ہو کر یہ پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے قلمدانِ خلافت ہاتھ میں لیتے ہی حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور دیگر عمالانِ عثمانی کو، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما، حضرت حسن رضی اللہ عنہ وغیرہ کے مشوروں کے خلاف کیوں معزول کر دیا۔ آخر ان کے جرائم یا عوامی شکایات وغیرہ کیا تھیں؟ تاریخ سے کچھ تو نشاندہی کیجیے، بجز اس کے کہ بنو ہاشم و بنو امیہ کی اسلام سے پہلے جاہلی دشمنی تھی۔ اسلام نے اسے مٹا کر بھائی بھائی بنا دیا۔ حضور اکرمﷺ‏ نے اپنی تین صاحبزادیاں ملویوں کو دیں اور ان کے ہر فرد کا دیگر قبائل کی طرح ایمان و اسلام قبول کیا اب ابنِ سبا یہودی نے اس مندمل زخم کو پھر چیرا رقابت بنا کر ہاشمی و اموی دو دھڑے بنا دیئے۔ انقلاب و شورش کے ذریعے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ اموی کو مظلومانہ شہید کیا حتیٰ کہ ان کے تمام افسران و عمالان بلا جرم بلیک لسٹ میں آ گئے۔

اب ہم کس تاریخ کو کھولتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ قاتلینِ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تو دندناتے پھرتے ہیں وہ اہلِ مدینہ کے بڑے بڑے شرفاء کو تلواروں کے سائے میں گھسیٹ کر لاتے اور جبراً بیعت (یہ چند حضرات کا بیعت سے کترانا بلوائیوں کے عمل و دخل کی وجہ سے تھا ورنہ وہ اگر اپنے شہروں کو واپس ہو جاتے یا غیر جانب دار رہتے یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قابو میں آ جاتے تو کوئی مسلمان سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اختلاف نہ کرتا سب برضا بیعت کر لیتے۔) کرا رہے ہیں۔ حضرت امیرِ معاویہؓ کو معزول نہ کرنے کے ہر مشورہ کو حضرت شیرِ خدا رد کر دیتے ہیں اور فرماتے ہیں اس کے لیے تلوار کے سوا میرے پاس اور کچھ نہیں ہے اور شام پر حملہ کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ خلاصہ ہے تاریخ کے ان حوالہ جات کا جن کا جمع کرنا، ہم بے ادبی اور مواجبِ طوالت سمجھتے ہیں۔ جو چاہے وہ طبری جلد 4، صفحہ 441، 440، 429، 435، 437 اور تاریخِ اسلام ندوی جلد 1 صفحہ 247، 248 اور تاریخِ اسلام نجیب آبادی جلد 1، صفحہ 375، 381 سے 387 کو پڑھ دیکھے۔ 

اب آپ سوچیے! کہ ایک شخص کا چچا زاد بھائی بے دردی سے شہید ہو چکا ہے۔ تمام ورثاء جان بچا کر اس کے پاس آ چھپے ہیں وہ بدستور خلیفہ مرحوم کا مقررہ عامل اور اہلِ شام کا محبوب حاکم ہے، اب اس پر حملہ ہونے والا ہے۔ قاتلوں کی مفسدانہ طاقت اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی بے بسی اس کے سامنے ہے وہ اگر معزولی کا خط قبول نہیں کرتا بلکہ یہ شرط لگا دیتا ہے کہ تب بیعت اور تعمیلِ حکم کروں گا کہ قاتلوں سے بدلہ لو، خود نہیں لے سکتے تو ہمارے حوالے کر دو ہم خود لے لیں گے۔ (طبری و کتبِ تاریخ) کیا یہ شریعت میں ولی الدم کو اس مطالبہ کا حق نہیں؟ خدا کا فرمان ہے:

وَمَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِـوَلِيِّهٖ سُلۡطٰنًا 

ترجمہ: جو مظلوماً مارا جائے اس کے ولی کو غلبہ پانے کا حق حاصل ہے۔ 

اگر حق ہے مگر حق ملنے کے بجائے اس پر چڑھائی ہوتی ہے تو کیا وہ دفاع کا حق نہیں رکھتا پھر اس کو مجبوراً اپنے ہی مفتوحہ صوبہ اور گھر میں دفاعی اقدام کو بغاوتِ شرعی کیسے کہہ دیا جائے۔ حالانکہ وہ بیعت کر چکنے کے بعد باطل مقصد کے لیے خلیفہ وقت پر چڑھائی کا نام ہے۔ جو خارجی سبائیوں نے کی۔ 

بس یہی وہ اشکال ہے جس کی وجہ سے ہم سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی طرح حضرت امیرِ معاویہؓ کو بھی اپنے دفاعی اقدام میں مجبور و معذور اور صاحبِ دلیل مانتے ہیں۔ ہمارے بعض علماء نے اس پر گو بغاوت کا لفظ بولا ہے مگر درحقیقت اس کا ترجمہ طلبِ قصاصِ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہی کرنا ہو گا کیونکہ بغا، یبغی کا معنیٰ طلب و خواہش کرنا ہے اور یہی اجتہاد تھا جسے خطاء تو کہا جا سکتا ہے مگر معصیت اور باطل پرستی نہیں ہے اور اسی بناء پر ہم اہلِ سنت مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بحکمِ نبویﷺ خاموش ہیں۔ اگر سائل اس جواب سے مطمئن نہیں تو ہم مناظرہ رنگ میں کہتے ہیں: کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عمالانِ عثمانی اور سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف یہ تیزی اور چڑھائی کیا امویوں کے خلاف ہاشمی جذبۂ دشمنی سے کی تو یہ بالکل غلط اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تقویٰ و ایمان کے خلاف ہے مگر شیعہ یہی باور کراتے ہیں، یا بلوائیوں کے زور اور خواہش کے دباؤ میں آ کر کی جیسے تاریخ میں صراحت ہے کہ وہ شور مچا کر کہتے ہیں کہ ہم سب قاتلِ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ ہیں، حضرت امیرِ معاویہؓ بدلہ لے لے اور اسی میں ان کا تحفظ تھا تو حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ حکم نہ ماننا اور خود تیاری کرنا مناسب اور عقلی تقاضا تھا۔ حضرت حسنؓ کو قتل کرانے کا الزام بالکل جھوٹ ہے۔ زہر خورانی کا اضافہ سب سے پہلے چوتھی صدی کے شیعہ مؤرخ مسعودی نے گھڑ کر لکھا ہے بعد کے مورخین نے اندھا دھند نقل شروع کر دی۔ ورنہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیدنا حسنؓ نے بیعت کی تھی۔ سالانہ دورے پر دمشق آتے تو لاکھوں دراہم عطایا وصول کر کے لے جاتے۔ (یہ حوالہ جات ہمارے بے نظیر رسالہ شیعہ حضرات سے ایک سو سولات صفحہ 40 پر دیکھیے اور احتجاج طبرسی جلد 2 صفحہ 298) اپنے محسن و دوست کو زہر کون دیتا ہے۔ پھر بیعت شکنی اور مخالفت پر تو پہلے ایک دو سال شیعانِ کوفہ اکساتے تھے تو اس وقت زہر دی جاتی۔ 9 سال (سنہ 49 ھ) تک انتظار کیسی؟

دراصل حضرت حسن رضی اللہ عنہ 40 دن مریض رہ کر طبعی موت سے واصل بحق ہوئے۔ 

بالفرض زہر اگر دی گئی تو وہی دے سکتے ہیں جن کی اس بیعت اور مصالحت با سیدنا امیرِ معاویہؓ سے ناک کٹ گئی۔ حضرت سفیانؓ بن ابی لیلیٰ جیسے مؤمن، السلام علیک یا مذلل المؤمنین، یا عار المؤمنین سے سلام کرتے تھے اور کہتے تھے ہم تو ذلیل ہو گئے۔ ہمارا شک و شبہ اس بیعت کے متعلق دور نہیں ہوتا۔ وہ مسلمانوں میں قتل و غارت چاہتے تھے۔ مگر شہزادہ امن و امان یہ جواب دیتا کہ مسلمانوں کے خون بچانے کے لیے یہ بیعت کی ہے۔

(تفصیلات جلاء العیون، منتہی الامال، حالاتِ حضرت حسنؓ میں دیکھیں۔)

سوال نمبر 601: اگر یہ اجتہادی غلطی تھی تو اس جہاد کی جامع تعریف لکھیے؟؟

جواب: اجتہاد کا لغوی معنیٰ کسی کام میں پوری کوشش صرف کرنا ہے اور اصطلاح میں یہ ہے جامع الشرائط مجتہد غیر منصوص اور نئے مسائل کا حل نصوص سے قواعدِ خاصہ کے تحت نکالے۔ اصول الشاشی کی شرح الفصول صفحہ 311 میں ہے کہ لغت میں اجتہاد، مقصود کے لیے طاقت و وسعت خرچ کر دینے کو کہتے ہیں اور فقہاء کے عرف میں شریعت کا حکم اس کے طریقے کے مطابق تلاش کرنے میں پوری طاقت اور کوشش خرچ کرنے کو کہتے ہیں۔ مجتہد کبھی چوک بھی جاتا ہے اور کبھی مصیب ہوتا ہے۔ حدیثِ نبویﷺ‏ ہے: کہ حاکم اگر اجتہاد کرے اور ٹھیک ہو تو دوہرا اجر و ثواب پائے گیا اگر خطاء کرے تو ایک اجر پائے گا۔ (مشکوٰۃ)

سوال نمبر 602:  مجتہد کے معیاراور شرائط سے مطلع کریں؟

جواب: مجتہد جامع الشرائط میں یہ اوصاف مطلوب ہیں:

1: قرآن و حدیث کا عالم ہو۔ 2: فقہاء کے اختلاف و مذاہب جانتا ہو۔ عربیت اور کلام و محاورات کو جانتا ہو۔ 3: ناسخ و منسوخ کا علم رکھتا ہو۔ 4: مسلمان ہو۔ 5: عاقل و بالغ ہو۔ 6: عادل اور متقی ہو۔ 7: صاحب الرائے والفقہ ہو۔ 8: نئے مسائل کے مضر و مفید پہلوؤں کو جانتا ہو۔ (کتب اصولِ فقہ)

سوال نمبر 603: امام بخاری رحمۃ اللہ نے یہ اقرار کیوں کیا کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے؟

جواب: امام بخاریؒ کا یہ مقولہ و اقرار کہاں ہے؟ بخاری کتاب المناقب ذکرِ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ میں یہ تین حدیثیں لکھی ہیں: سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا امیر المؤمنین حضرت امیرِ معاویہؓ کے متعلق آپؓ کیا کہتے ہیں؟ فرمایا اس نے وتر ٹھیک پڑھی ہے وہ فقیہہ (مجتہد عالم) ہیں۔

دوسری روایت ہے کہ حضرت ابنِ عباسؓ نے کہا سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا گلہ نہ کرو وہ رسول اللہﷺ کے صحابی ہیں۔ تیسری میں ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ نے لوگوں سے کہا تم عصر کے بعد دو رکعتیں ایسی نماز پڑھتے ہو کہ ہم رسول اللہﷺ کی صحبت میں رہے ہم نے آپﷺ‏ کو یہ پڑھتے نہ دیکھا بلکہ منع فرماتے تھے۔ 

امام بخاریؒ کی شرائطِ روایت انتہائی کڑی ہیں۔ شاید اس بناء پر مرفوع حدیث ذکر نہ کی ہو ورنہ مرفوع حدیثیں بھی ہیں۔ ترمذی میں مشہور حدیث ہے کہ حضور اکرمﷺ‏ نے دعا فرمائی: 

اے اللہ حضرت امیرِ معاویہؓ کو ہدایت یافتہ بنا دے اور اس کے ذریعے دوسروں کو ہدایت دے۔ (حدیث حسن ہے) اصولاً یہ حدیث صحیح ہے اس کے تمام راویوں کی توثیق سوال 655 کے جواب میں دیکھیں۔

البدایہ والنہایہ لابنِ کثیر دمشقی جلد 8 میں بارہ مرفوع احادیث مذکور ہیں اور ان پر صحیح حسن، جید ہونے کا حکم لگایا ہے۔ تفصیل ہماری کتاب عدالتِ صحابہؓ صفحہ 296 تا 301 پر دیکھیے۔

سوال نمبر 604: ایسی ہی رائے امام نسائیؒ اور سیدنا اسحاق بن راہویہؒ کی ہے کیوں؟

جواب: وہ رائیں ہم نے نہیں دیکھیں ممکن ہے ان کو خاص معیار کی احادیث نہ ملی ہوں تو یہ کہا ہو مگر کسی عالم کو ایک حدیث کا نہ ملنا بالکل نفی کی دلیل نہیں ہے۔ جبکہ دوسروں کے پاس موجود ہوں۔

سوال نمبر 605: علامہ سیوطیؒ نے تاریخ الخلفاء میں بخاری ذکرِ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے حاشیہ میں یہ کیوں لکھا ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے انتقال پر حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا؟ (سنن ابو داؤد) 

جواب: جھوٹا حوالہ ہے تاریخ الخلفاء حضرت حسنؓ و حضرت امیرِ معاویہؓ کے دونوں باب دیکھے۔ بخاری عربی مقام ہٰذا کا حاشیہ غور سے دیکھا۔ ابو داؤد کتاب السنتہ اور خلفاء کی احادیث کو دیکھا کہیں بھی یہ مقولہ نہیں ملا۔ ہو سکتا ہے کسی رافضی نے بنا کر سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا ہو تو جواب یہ ہے کہ انگارہ روشنی اور حرارت کا منبع ہوتا ہے۔ بطورِ تاسف و تعزیت کہا ہو گا کہ روشنی بجھ گئی ہے۔

سوال نمبر 606: کیا آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ و حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو برحق خلیفے مانتے ہیں؟

جواب: جی ہاں اور انہی کے آخری عمل سے حضرت امیرِ معاویہؓ کو خلیفہ صالح مانتے ہیں۔

سوال نمبر 607: شیعوں کی اصحابِ ثلاثہ پر تنقید اجہتاد کے زمرے میں کیوں نہیں آتی؟

جواب: شیعہ تو ان سے دشمنی اور تبرّا کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ قرآن و حدیث یا اپنی کسی کتاب کی کوئی روایت اور فرمانِ امام ماننے کو تیار نہیں جب کہ مجتہد کسی سے دشمنی نہیں رکھتا وہ دلائل کا تابع ہوتا ہے اگر اپنے خیال یا اجتہاد کے خلاف قوی دلیل مل جائے تو اپنے مؤقف و فتویٰ سے رجوع کر لیتا ہے۔

سوال نمبر 608: حضرت امیرِ معاویہؓ پر شراب نوشی کا الزام؟

جواب: نصرة الحق، نصائح کافیہ رافضی کی کتابیں ہیں۔ ابنِ عساکر اوائل سیوطی اور مسند احمد کے نام بالکل جھوٹ لکھے ہیں۔ ایسی کوئی روایت ان میں نہیں یا ہو سکتا ہے کہ کھجوروں کے شربت نبیذ کو مے نوش ملنگوں نے شراب بنا کر ناپاک طعن کیا ہو۔

سوال نمبر 609: تاریخ الخلفاء میں ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے بدھ کے دن جمعہ کی نماز پڑھائی؟

جواب: جھوٹ ہے، تاریخ الخلفاء سب دیکھی ہے ایسا کچھ نہیں۔ ایسی بے عقل بے ہودہ باتیں لکھتے ہوئے شیعوں کو شرم بھی نہیں آتی کیا دمشق کے سارے مسلمان پاگل ہو گئے تھے۔

سوال نمبر 610: تاریخ الخلفاء، تاریخ ابوالفداء، صواعقِ محرقہ، تطہیر الجنان، تاریخ الخمیس، نصائح کافیہ میں ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ اور اس کے عامل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر سَبّ کیا کرتے تھے۔ 

جواب: آخری دو کتابوں رافضیوں کے جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ جھوٹ موٹ کتابوں کے نام لکھ کر ہمیں پریشان کیا جاتا ہے۔ تاریخ الخلفاء میں ایسی کوئی عبارت نہیں ہے۔ صواعقِ محرقہ اور تطہیر الجنان بھی غور سے دیکھی۔ ایسی بات نہیں ملی۔ یہ کتابیں ان باتوں کی نفی کے لیے لکھی گئی ہیں۔ البتہ شیعوں کا تخلیقی شاہکار یہ طعن اتنا مشہور ہے کہ سنی نما شیعہ نواز سکالر مولوی مودودی مرحوم نے بھی اچھالا ہے اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ یہ بالکل غلط اور جھوٹ ہے کہ خود حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ یا آپؓ کے سب عمال سَبّ کیا کرتے تھے کسی بھی تاریخی روایت میں اس کا ثبوت نہیں ہے صرف طبری کی ایک روایت سے حضرت مغیرہ بن شعبہؓ اور مروان پر یہ الزام لگایا گیا ہے مگر طبری کی یہ روایت جو کامل ابنِ اثیر میں بھی بعینہٖ نقل ہے کہ الفاظ یہ ہیں: کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ حضرت امیرِ معاویہؓ کی طرف سے سات سال چند ماہ گورنر کوفہ رہے وہ بہت اچھے سیرت کے مالک اور انتہائی امن پسند تھے مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مذمت اور تنقید کو نہ چھوڑتے تھے۔ (طبری: جلد، 4 صفحہ، 187) 

مگر اسی روایت کے آخر میں مذمت کی تشریح یہ آ جاتی ہے کہ سیدنا مغیرہؓ حضرت عثمانِ غنیؓ و حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے تذکرہ میں فرماتے تھے اے اللہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مظلوم شہید ہوئے تو اس کے مددگاروں اور دوستوں اور حب داروں اور قصاص کا مطالبہ کرنے والوں پر رحم فرما اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں پر بددعا کیا کرتے تھے۔ 

یہاں سے پتہ چلا کہ حضرت علی المرتضیٰؓ کی ذات پر کوئی سبِّ وشتم نہ تھی صرف قاتلینِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر بددعا تھی جیسے شیعہ راویوں نے بالمعنی حضرت علی المرتضیٰؓ کی مذمت اور سبِّ وشتم سے تعبیر کر دیا نیز اس کہ سب راوی شیعہ کذاب اور وضاع ہیں۔ پہلا ہشام بن محمد بن سائب کلبی ہے۔ جو رافضی بن رافضی ہے ثقہ نہیں۔ (لسان المیزان: جلد، 6 صفحہ، 169) دوسرا لوط بن یحییٰ جَلا بُھنا شیعوں کا محدث ہے۔ (ایضاً: صفحہ، 167) تیسرا مجالد بن سعید ہے جو بالاتفاق جھوٹا اور کمزور ہے بقول اشج شیعہ ہے۔ (کتاب الجرح لابی حاتم: جلد، 4 صفحہ، 361 بحوالہ حضرت معاویہؓ و تحقیقی حقائق: صفحہ، 30) اسی طرح فضیل بن خدیج، صقعب بن زہیر مجہول ہیں۔ البدایہ میں مذکور مروان کے سبِّ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بوضاحتِ بخاری یہ حقیقت ہے کہ وہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو ابو تراب کہتے تھے۔ حالانکہ یہ آپؓ کا محبوب لقب عطیہ نبوی تھا۔ اگر مروان لغوی معنوں میں بطور طنز وحقارت کہتا تھا تو اس کی نیت مالکِ یومِ الدّین کے سپرد قانوناً تو اس پر گرفت و طعن نہیں ہے۔ الغرض یہ دو روایتیں بھی صحت و درایت کے معیار پر ہرگز نہیں اترتیں تو حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی پر جذبہ بعض سے طعن تراشنا روا نہیں ہے۔

سوال نمبر 611: اسلام میں سب سے پہلے خواجہ سرا کس نے رکھے؟

جواب: روایت بے سند ہے۔ اگر مانی بھی جائے تو لوگوں کو خصّی کرنے کا الزام جھوٹا ہے البتہ خنثیٰ یا ناکارہ لوگوں کو نوکر رکھنا اور غلاموں جیسی خدمت لینا معیوب بات نہیں۔

سوال نمبر 612: سیدنا امیرِ معاویہؓ نے اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو زندہ درگور کر کے قتل کیا (ابنِ خلدون: جلد، 5)؟

جواب: بالکل جھوٹ ہے۔ مفصل تروید تحفہ امامیہ میں ہم کر چکے ہیں۔ جیسے زوجہ رسولﷺ‏ کا قاتل پاک باز نہیں۔ اسی طرح لاعن اور مبغض بھی پاک باز مسلمان نہیں۔

سوال نمبر 613: کامل ابنِ اثیر جلد 3 صفحہ 123 اور تاریخِ طبری میں ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور آپؓ کے ساتھیوں پر دعائے قنوت پڑھتا تھا کیا اہلِ سنت اسے مسلمان سمجھیں گے؟

جواب: آپ نے خیانت سے کام لیا۔ تحکیم کے بعد اس قنوت کا آغاز حضرت علی المرتضیٰؓ نے کیا اور حضرت امیرِ معاویہ، حضرت عمرو، سیدنا ابوالاعور سلمی، سیدنا حبیب، سیدنا عبدالرحمٰن بن خالد اور سیدنا ضحاک بن قیس اور سیدنا ولید رضی اللہ عنہم پر کرنے لگے۔ جب سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی تو وہ بھی قنوت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما، اشتر اور سیدنا حسنین رضی اللہ عنہ کا نام لینے لگے۔ (طبری: جلد، 5 صفحہ، 71 وقائع سن 37 ھ) تو جَزَآءُ سَيِّئَةٍ بِمِثۡلِهَا والا معاملہ ہے جب کہ سند کے لحاظ سے روایت لچّر ہے۔ اب تک اہلِ سنت مسلمان ایسی کوئی حرکت نہیں کرتے۔ شیعہ بھی تبروں کے وِرد چھوڑ کر مسلمان بن جائیں۔ سوال 667 دیکھیں

سوال نمبر 614: علامہ شبلی نعمانیؒ نے سیرت النبی جلد 1 صفحہ 49 پر لکھا ہے کہ حدیثوں کی تدوین دور بنی امیہ میں ہوئی اور ہزاروں حدیثیں سیدنا امیرِ معاویہؓ وغیرہ کے فضائل میں بنوائی گئیں کیا وہ معتبر ہیں؟

جواب: بالکل جھوٹا بہتان ہے۔ سیرت النبی کی یہ ساری بحث غور سے دیکھیں یہ مضمون نہیں ہے بلکہ جلد 1 صفحہ 49 پر یہ ہے: تصنیف و تالیف کی ابتداء سلطنت کی وجہ سے ہوئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے زمانے میں اگرچہ فقہ و حدیث کی نہایت کثرت سے اشاعت ہوئی بہت سے درس کے حلقے قائم ہوئے لیکن جو کچھ تھا زیادہ تر زبانی تھا لیکن بنو امیہ نے حکماً علماء سے تصنیفیں لکھوائیں۔ سب سے پہلے حضرت امیرِ معاویہؓ نے سیدنا عبید بن شریہ کو یمن سے بلا کر قدماء کی تاریخ مرتب کرائی جس کا نام اخبار الماضیین ہے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا عبدالملک رحمۃ اللہ نے ہر فن میں علماء سے تصنیفیں لکھوائیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ نے تصنیف و تالیف کو زیادہ ترقی دی۔ تدوینِ حدیث کا سہرا آپؓ کے سر ہے۔

سوال نمبر 615:دراسات اللبیت جلد 2 صفحہ 402 میں ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے طریقے پر چلنے سے لوگوں کو جبراً منع کیا؟

جواب: یہ سیاست میں تابعداری پر پابندی تھی کیونکہ قاتلینِ سیدنا عثمانِ غنیؓ کو تحفظ ملتا تھا سیاسی پالیسی میں مخالفت بری بات نہیں۔ باقی شرعی امور اور مسائل میں نہ تھی۔ اس میں تو حضرات امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مسائل پوچھ لیتے مثلاً ایک مرتبہ خنثیٰ مشکل کا مسئلہ پوچھوا بھیجا تو آپؓ نے فرمایا پیشاب جس راہ سے آئے وہی حکم لگایا جائے۔ (تاریخ الخلفاء)

اہلِ سنت کا مذہب کسی خاص صحابی کی تقلید نہیں۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فتاویٰ پر مجموعی عمل ہےـ

سوال نمبر 616: بخاری میں ہے حضور اکرمﷺ‏ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا تجھے باغی گروہ قتل کرے گا کیا سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو گروہِ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے شہید نہیں کیا؟

جواب: مکمل حدیث ابنِ ہشام میں یوں ہے کہ حضرت عمارؓ کو تعمیرِ مسجد کے وقت دو دو اینٹیں لوگ اٹھوا دیتے تھے سیدنا عمارؓ نے بطور شکایت کہا۔ حضرت آپ کے ساتھیوں نے مجھے قتل کر دیا آپﷺ‏ نے فرمایا: 

يا عمار لا یقتلك اصحابی ؤانما تقتلك الفئة الباغية 

ترجمہ: میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تجھے قتل نہ کریں گے باغی گروہ تجھے قتل کرے گا۔ 

حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے خاص ساتھیوں کو شیعہ بھی اصحابِ رسولﷺ‏ مانتے ہیں۔ حضور اکرمﷺ‏ نے تو نفی فرما دی کہ میرے صحابیؓ تجھے شہید نہیں کریں گے تو اب حدیث قابلِ تاویل ہے کہ یا تو قاتلینِ سیدنا عثمانؓ نے خود آپؓ کو شہید کیا اور لاش کو لشکرِ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے نیزوں سے قتل شدہ افراد میں پھینک دیا۔ یہی تاویل حضرت امیرِ معاویہؓ نے بھی فرمائی ہے۔ 

یا پھر ایسے لوگوں نے قتل کیا جو نرے باغی اور مفسد تھے صحابی نہ تھے اور اس وقت لشکرِ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ میں شامل ہو کر قتال کر رہے تھے۔ (جیسے یہ سبائی جنگِ جمل میں حضرت علی المرتضیٰؓ کے لشکر سے اٹھ کر سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے لشکر میں آ گھسے اور فساد کے لیے لشکرِ علوی پر حملہ کر دیا۔) اگر یہ توجیہ نہ بھی کی جائے تو زیادہ سے زیادہ باغی ہونا متصور ہو گا اور بظاہر گو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نظر میں باغی تھے دراصل وہ باغی یعنی طالبِ دمِ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔

سوال نمبر 617: اہلِ حدیث علامہ وحید الزمان لکھتے ہیں کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سننِ مشہورہ کی مخالفت کرتے تھے بس جو مذہبِ حضرت امیرِ معاویہؓ پر ہو اس کو ثقہ نہیں کہا جا سکتا۔ (ہدیۃ المہدی)

جواب: آخری عمر میں علامہ وحید الزمان تفضیلی شیعہ ہو گئے تھے ان کا قول حجت نہیں ہے۔ مولانا محمد نافع مدظلہ ان کے تذکرہ نویسوں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ان کی طبع میں ایک قسم کی تلون مزاجی اور انتہا پسندی تھی کچھ عرصہ مقلد رہنے کے بعد غیر مقلد بن گئے اور آزادانہ تحقیق کے کاربند ہو گئے اسی دور میں انہوں نے صحاحِ ستہ کے تراجم کیے اور شیعی نظریات کے حامل ہو گئے۔ اسی دور میں انہوں نے انوار اللغتہ ملقب بہ وحید اللغات مرتب کی متعدد مقامات پر انہوں نے اپنے ان شیعی خیالات کا اظہار کیا۔ دیکھیے مادہ عج،ز مادہ عثم، مادہ غرب 18، مادہ صبر، مادہ عود (تفصیلی عبارات بناتِ اربعہ صفحہ، 438 تا 442 ملاحظہ فرمائیں جو اس کی شیعیت کا بر ملا اقرار ہیں۔)

سوال نمبر 618: مشہور محدث امام نسائیؒ کی موت کیسے واقع ہوئی؟

جواب: ناصبیوں نے فضائلِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرنے کے جرم میں شہید کر دیا۔ الحمدللہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی محبت میں شہادت اہلِ سنت کو نصیب ہوئی شیعہ تقیہ بازوں کو تو متعہ اور تبرّا سے فرصت نہیں ہے۔

سوال نمبر 619: عیسائیوں کی صلیب گلے میں لٹکانا۔ (محاضرات راغب اصفہانی)

جواب: بکواس محض ہے۔ ادبی کتابوں کے یہ چٹکلے شرعی سند نہیں رکھتے۔

سوال نمبر 620: فتاویٰ عزیزی صفحہ 130 میں ہے صحیح ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو مرتکب کبائر جاننا چاہیے۔ تو پھر فضیلت کیسی؟

جواب: شاہ صاحب لعن طعن کی آپ سے نفی کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ اس کام کی انتہا یہ ہے کہ مرتکب کبیرہ اور باغی ہو اور فاسق لعن کا اہل نہیں ہوتا۔ اپنا عقیدہ نہیں بتلایا بلکہ بطور تنزل فرمایا کہ جو لوگ بعض اعمال کی صحیح توجیہ نہ کر سکیں تو یہی سمجھیں اور خصم کی حجت قطع کرنے کے لیے یہ آخری وار ہے مگر فضیلت صحابیت اور دیگر کمالات کی وجہ سے ثابت ہے اور گناہوں کی مغفرت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے سب سے زیادہ ہے۔ لَاُكَفِّرَنَّ عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ (الخ)

ایک عالم کی نظر میں ایک فعل غلط یا گناہ ہو مگر جو اہلِ اجہتاد اپنی دیانت دارانہ رائے سے وہ کام کر رہا ہو اسے فاسق نہ کہا جائے گا۔ علامہ ابنِ قدامہؒ فرماتے ہیں۔ اگر کوئی شخص جو اجہتاد کی اہلیت رکھتا ہے اپنے دیانت دارانہ اجہتاد کی رو سے اسے جائز سمجھتا ہو تو اس کی بناء پر وہ فاسق نہیں ہوتا بلکہ اس کی غلطی کو خطائے اجہتادی کہا جاتا ہے۔ (بحوالہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور تاریخی حقائق: صفحہ، 212)

سوال نمبر 621: الامامۃ والسیاستہ صفحہ 145 پر ہے جب حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ملی تو اس نے بڑی خوشی منائی اور سجدہ شکر ادا کیا۔ 

جواب نمبر 1: غلط ہے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت امیرِ معاویہؓ کو حضرت علی المرتضیٰؓ کی شہادت پہنچی تو رونے لگے۔ بیوی نے کہا اب روتے ہو حالانکہ ان سے جنگ کی ہے۔ فرمایا تجھے پتہ نہیں کہ آج لوگ کتنے علم و فضل اور فقہ سے محروم ہو گئے۔ (البدایہ: جلد، 8 صفحہ، 130)

جواب نمبر 2: الامامۃ والسیاستہ معتبر کتاب نہیں ہے کسی رافضی کی ہے جس نے ابنِ قتیبہ رحمۃ اللہ کی طرف منسوب کر دیا علامہ ابن العربی العواصم من القواصم میں فرماتے ہیں: 

لوگوں پر سب سے زیادہ سخت جاہل عقل والا ہے یا چالاک بدعتی ہے۔ 

جاہل ابنِ قتیبہؒ ہے جس نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے اچھی باتیں تحریر نہیں کیں۔ امامت و سیاست میں اگر سب کچھ اس کا صحیح سمجھا جائے یا مبرد اپنی ادبی کتاب میں جہالت کا ثبوت دیتا ہے اور بدعتی مسعودی ہے کیونکہ وہ متعفن الحاد کی باتیں روایت کرتا ہے اور بدعت ہونے میں تو کوئی شک نہیں۔ علماء محققین نے ذکر کیا ہے کہ امامت و سیاست ابنِ قتیبہؒ کی نہیں ہے کیونکہ وہ مصر کے دو بڑے عالموں سے روایت کی جاتی ہے۔ علامہ ابنِ قتیبہؒ نہ مصر گئے نہ ان سے کچھ روایت کی۔ مبرد کے متعلق مشہور یہ ہے کہ وہ خارجیوں کی طرف مائل ہے۔ رہا مسعودی تو وہ چوٹی کا شیعہ ہے اور شیعہ مذہب پر اس کی کئی کتابیں ہیں۔ (بحوالہ حاشیہ تطہیر الجنان: صفحہ، 44 عربی طبع ملتان)

سوال نمبر 622: لا یشبع اللہ بطنہ حضور اکرمﷺ‏ نے یہ دعا کس بزرگ کے حق میں کہی؟

جواب: حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ روٹی کھا رہے تھے۔ طلبی ہوئی تو جلدی نہ جا سکے۔ تب آپﷺ‏ نے ایسا فرمایا۔ استاد اپنے شاگرد کو ایسے الفاظ سے جھڑک دے تو کوئی مذمت و عیب نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ابو تراب فرمانا بھی اسی قسم کا ہے ہم تو اسے مقامِ مدح میں شمار کرتے ہیں مگر شیعہ ہر بات کو عیب بنا دیتے ہیں۔ نیز ایک مرتبہ نبی کریمﷺ‏ نے دعا میں فرمایا جس مسلمان کو میں نے برا بھلا کہا ہو یا پھٹکار کی ہو تو میں بھی آدم کا بیٹا ہوں ان کی طرح غصہ آتا ہے اے اللہ تو نے مجھے رحمۃ اللعالمین بنایا قیامت کے دن میری اس بددعا کو اس کے حق میں رحمت بنا دے۔ (ابو داؤد: جلد، 2 صفحہ، 284 باب النہی عن سبِّ أصحابِؓ رسول اللہﷺ) تو مذمت کا اعتراض جاتا رہا۔

سوال نمبر 623: اگر حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کاتبِ وحی تھے تو صحاح ستہ سے ایک حدیث صحیح مرفوع نقل کریں؟

جواب: بروایت سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما مسلم شریف جلد 2 صفحہ 304 پر ہے کہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ والد سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضورﷺ‏ سے یہ درخواست کی:

ومعاویۃ تجعله کاتبا بین یدیک قال نعم تؤمر لی حتی اقاتل الکفار کما کنت اقاتل المسلمین قال نعم۔ 

ترجمہ: سیدنا امیرِ معاویہؓ کو اپنا کاتب (وحی و خطوط) بنا دیں۔ حضور اکرمﷺ‏ نے فرمایا ہاں بنا دیا۔ مجھے امیرِ لشکر بنائیں کہ کفار سے جنگ کروں جیسے مسلمانوں سے کرتا تھا آپﷺ‏ نے فرمایا۔ ہاں بنا دیا۔

سوال نمبر 624: مدارج النبوۃ میں ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا کاتبِ وحی ہونا ثابت نہیں؟

جواب: غلط الزام ہے۔ آپؓ کاتبِ وحی تھے۔ حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں:

1: ایک خصوصیت آپؓ کی یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کے کاتبوں میں سے تھے جیسے مسلم وغیرہ میں صحیح روایت ہے۔ 

2: ایک حدیث میں ہے جس کی سند حسن ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ نبی کریمﷺ‏ کے سامنے لکھا کرتے تھے۔

3: ابو نعیم کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے کاتبوں سے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اچھی عمدہ کتابت والے فصیح زبان اور بردبار و معزز تھے۔

4: مدائنی کہتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ صرف وحی لکھتے تھے اور حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ آپﷺ‏ اور دیگر عربوں کے درمیان وحی وغیرہ کی کتابت کرتے تھے۔ وہ خدا کی وحی پر رسول اللہﷺ کے آمین تھے یہ بلند مرتبہ کوئی معمولی نہیں ہے۔ (تطہیر الجنان: صفحہ، 10) ممکن ہے صاحبِ مدارج النبوۃ کا یہی مطلب ہو کہ وہ صرف کاتبِ وحی نہ تھے پرائیویٹ سیکرٹری بھی تھے۔

5: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے سامنے لکھا کرتے تھے۔ (رواہ الطبرانی و اسنادہ حسن مجمع الزوائد: جلد، 9 صفحہ، 357)

6: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آپﷺ‏ کے پاس یہ وحی لے کر آئے تو فرمایا اے محمدﷺ‏ سیدنا امیرِ معاویہؓ سے لکھوایا کرو کیونکہ وہ اللہ کی کتاب کے امین ہیں اور بہترین امین ہیں۔ (رواہ الطبرانی فی الأوسط مجمع الزوائد)

7: قاضی عیاض نے سیدنا معافی بن عمرانؓ مشہور محدث سے نقل کیا ہے ان سے پوچھا گیا کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں؟ تو سیدنا معافی بہت غصے میں آ گئے اور فرمایا رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ کسی کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ آپﷺ‏ کے صحابی برادرِ نسبتی کاتبِ رسول اور اللہ کی وحی پر امین تھے جو آپؓ کو برا بھلا کہے اللہ کی فرشتوں کی اور سب لوگوں کی اس پر لعنت ہو۔ (تطہیر الجنان: صفحہ، 10 البدایہ والنہایہ: جلد، 8 صفحہ، 139)

سوال نمبر 625، 626: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو کسریٰ و قیصر سے کیوں تشبیہ دی پھر کیوں نہ یہ مماثلت حضرت ابوبکر صدیقؓ و حضرت عمر فاروقؓ کو بخشی جائے؟

جواب: سرداری اور لباس کی وضع قطع اور انتظامی اہلیت کے لحاظ سے دی۔ کسی اچھی بات میں کافر سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جیسے آپﷺ‏ نے نوشیرواں کسریٰ کے عدل پر فخر کیا چنانچہ حضرت عمرؓ اس انداز میں فرماتے تھے تم قیصر و کسریٰ اور ان کے علم و دانش کی تعریف کرتے ہو حالانکہ تم میں حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ موجود ہیں۔ ورنہ مسلمانوں کے نزدیک نوشیرواں اور قیصر و کسریٰ مذہب یا دیگر امور کے لحاظ سے محترم و معظم نہ تھے اور شیخین رضی اللہ عنہما تو سادہ پیوند لگا لباس پہنتے تھے۔

سوال نمبر 627: اصحابِ عشرہ مبشرہ میں سے کسی صحابیؓ سے کوئی سی تین احادیث رواة کی توثیق کے ساتھ نقل کریں؟

جواب: صحیح فضائل کی احادیث کا مطلقاً ثبوت کافی ہوتا ہے۔ شخصیات کی پابندیاں لگانا ضد بازی ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کثیر الفضائل ہیں۔ اس پابندی سے شاید ان کے فضائل بھی ثابت نہ ہو سکیں۔

سوال نمبر 628: اگر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ بھائیوں کے تنازعات میں اہلِ سنت دخل نہیں دیتے تو پھر ابولہب و ابوجہل کو کیوں برا کہتے ہیں؟

جواب: شیعہ میں یہی سمجھ کا قصور ہے کہ ذاتی معاملات کو مخالفتِ دین سے گڈ مڈ کر دیا۔ ابوجہل و ابولہب کو حضور اکرمﷺ‏ سے یا آپﷺ‏ کو ان سے ذاتی دشمنی نہ تھی۔ دین کی مخالفت پر دشمنی تھی اگر وہ مسلمان ہو جاتے تو حضورﷺ‏ کے اسی طرح دوست ہوتے جیسے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔ مگر حضرت امیرِ معاویہؓ اور حضرت علی المرتضیٰؓ میں کوئی دینی اعتقادی مذہب کا اختلاف نہ تھا ایک ہی دین کے پیروکار مؤمن بھائی تھے۔ (دیکھیے خطبہ نہج البلاغہ، ان ربنا واحد و دیننا واحد الخ)

یہ مخالفت یا شکر رنجی و کدورت سیاسی اور انتظامی معاملات میں تھی لہٰذا یہاں بھائیوں کے معاملات میں دخل نہ دیا جائے گا۔ کیونکہ خدا فرما چکا ہے: ہم جو کچھ ان کے دلوں میں کھوٹ کدورت ہو گی نکال دیں گے اور وہ بھائی بھائی آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ (سورۃ الحجر: پارہ 14 رکوع 4)

سوال نمبر 629: اگر یہ جواب ہے کہ وہ دشمنِ اسلام دشمنِ رسولﷺ‏ تھے تو پھر ہم کہیں گے بھائیوں اور چچوں کا معاملہ ہے آپ اجنبی ہو کر کیوں برا کہتے ہیں۔ ہابیل قابیل کے معاملہ میں کیوں خاموش نہیں ہوتے؟

جواب: جب اختلافِ دین کا تھا وہ دشمنِ دینِ رسول تھے تو ہم حضور اکرمﷺ‏ کے دینی بھائی ہو کر ابوجہل و ابولہب سے دشمنی رکھیں گے گو شیعہ ان کی نہ دشمنی رسول اچھالیں نہ تبرّے کریں شاید ان کے مذہبی پیشوا صحابہ دشمنی میں یہی ابوجہل و ابولہب ہیں۔ اسی طرح قابیل ہابیل کی زبان سے قرآنی الفاظ فَتَكُوۡنَ مِنۡ اَصۡحٰبِ النَّارِ‌ الخ کے مطابق قطعی و دوزخی ہو چکا تھا تو اختلافِ دین ثابت ہوا۔ حضرت علی المرتضیٰؓ و حضرت امیرِ معاویہؓ میں یہ مثال بھی برمحل نہیں ہے۔

سوال نمبر 630: کیا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کی۔ ثبوت درکار ہے؟

جواب: یقیناً بیعت کی تبھی تو شیعہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے ابھی تک ناراض ہیں اور ان کے کسی بھی کمال و کردار پر کوئی خصوصی تقریب یا مجلس منعقد نہیں کرتے۔ ثبوت ملاحظہ ہوں:

1: کتاب احتجاج جلد 2 صفحہ 471 میں روایت ہے کہ جب سیدنا حسنؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ہاتھ پر صلح کر لی۔ لوگ حاضر ہوئے اور بعضوں نے حضرت امیرِ معاویہؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے پر آپؓ کو ملامت کی۔ حضرت نے فرمایا تم پر افسوس ہے تم نہیں جانتے کہ میں نے تمہارے لیے کیا اچھا کام کیا۔ خدا کی قسم جو میں نے کیا وہ میرے شیعوں کے لیے بہتر ہے:

آیا نمی دانید کہ ہیچک ازمانیست مگر آنکہ درگردن او بیعتے از خلیفہ جورے کہ در زمان اوست واقع میشود مگر قائم ما۔ (جلاء العیون: صفحہ، 261 از ملا باقر علی محلبسی و منتہی الامال قمی: جلد، 1 صفحہ، 331)

ترجمہ: کیا تم نہیں جانتے کہ قائم مہدی کے سوا ہم سب شیعہ امام اپنے اپنے زمانے کے خلیفہ جور کی بیعت اپنی گردن میں ڈالتے ہیں۔ 

2: حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فوراً ان کی شرائط کو منظور کر لیا اس کے بعد انہوں (حضرت حسن رضی اللہ عنہ) اور ان کے ہمراہیوں نے بھی آ کر بیعت کر لی۔ حضرت حسنؓ نے حضرت امیرِ معاویہؓ سے کہا آپ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے اصرار نہ کریں۔ آپ کی بیعت کرنے کے مقابلے میں ان کا اپنا فخر عزیز تر ہے یہ سن کر سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے لیکن بعد میں پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے بھی حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کر لی۔ (تاریخِ الاسلام: جلد، 1 صفحہ، 458 از اکبر شاہ نجیب آبادی)

سوال نمبر 631، 632: جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے حکومت سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو سونپ دی تو حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کن شرائط پر کاربند رہنے کا تحریری عہد کیا۔ شرائطِ صلح کی نقل مؤثقہ شائع کی جائے؟

جواب: شرائطِ صلح: مختلف تاریخوں میں شرائط کی دفعات و تفصیلات میں اختلاف ہے دنیوری کا بیان اس باب میں زیادہ مستند ہے اور قرین قیاس بھی معلوم ہوتا ہے. اس کے بیان کے مطابق مصالہت کی دفعات یہ تھی: 

1: کسی عراقی کو محض پرانی عداوت کی بناء پر نہ پکڑا جائے۔ 2: بلا استثناء سب کو امان دی جائے۔ 3: اہلِ عراق کی بد زبانیوں کو انگیز کیا جائے۔ 4: دارالجرد کا پورا خراج حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے لیے مخصوص کیا جائے۔ 5: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو دو لاکھ سالانہ دیئے جائیں۔ وظائف میں بنی ہاشم کو بنو امیہ پر ترجیح دی جائے گی۔ 

سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے بلا کسی ترمیم کے یہ تمام شرطیں منظور کر لیں اور اپنے قلم سے اقرار نامہ لکھ کر اس پر مہر کر کے اکابرِ شام کی شہادتیں لکھوا کر سیدنا عبید اللہ بن عامر کے ذریعہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجوا دیا۔

(اخبار الطوال: صفحہ، 231 و طبری بحوالہ تاریخ الاسلام ندوی: جلد، 1 صفحہ، 308)  

شیعہ کی جلاء العیون صفحہ 254 اور منتہی الآمال صفحہ 230 پر ہے: 

سیدنا حسنؓ بن سیدنا علیؓ نے حضرت امیرِ معاویہؓ بن سیدنا ابو سفیانؓ کے ساتھ صلح کی ہے کہ حضرت حسنؓ اس کا مقابلہ نہ کریں گے بشرطیکہ:

1: وہ لوگوں کے درمیان کتابِ خدا، سنتِ رسولﷺ‏ و سیرتِ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے مطابق حکومت کریں۔ 

2: اپنے بعد کسی شخص کو امرِ خلافت کے مقرر نہ کریں۔ 

3: شام، عراق، حجاز، یمن کے لوگ جہاں بھی رہیں اس کی گرفت سے بے فکر رہیں۔ 

4: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اصحاب اور شیعہ اپنی جان و مال اور زن و اولاد سمیت محفوظ رہیں گے۔

ان شرطوں پر سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے عہد و پیمان لیا گیا۔ (حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ ان شرائط پر کاربند رہے تبھی تو حضرت حسنؓ نے مقابلہ نہ کیا۔) ولی عہدی خود نہ کی تھی بعض عمال کے مشورے اور پھر سب کی تائید سے کی تاکہ جھگڑا نہ پیدا ہو۔

سوال نمبر 633: کافر و مسلم کے مابین وراثت کا مسئلہ، سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے سنت کو بدلا، وہ کیوں محترم ہے؟

جواب: مولانا تقی عثمانی قاضی وفاقی شرعی کورٹ کی کتاب حضرت امیرِ معاویہؓ اور تاریخی حقائق بازار سے منگوائی۔ بلفظہٖ حوالہ غلط ہے۔ انہوں نے اس مفہوم کی عبارت البدایہ سے نقل کر کے مولانا مودودی کے استدلال کی تغلیط کی ہے۔ پھر جواب یہ فرماتے ہیں: واقعہ اصل میں یہ ہے کہ یہ مسئلہ عہدِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مختلف فیہ رہا ہے۔ اس بات پر تو اتفاق ہے کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا لیکن اس میں اختلاف ہے کہ مسلمان کافر کا وارث ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اس اختلاف کی تشریح علامہ بدرالدین عینی کی زبانی سنیے: 

رہی یہ بات کہ مسلمان کافر کا وارث ہو سکتا ہے یا نہیں۔ سو عام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا قول تو یہی ہے کہ وہ وارث نہ ہو گا اور اس کو ہمارے علماء (حنفیہ) اور امام شافعی رحمۃ اللہ نے اختیار کیا ہے لیکن یہ استحسان ہے۔ قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ وارث ہو اور یہی حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا مذہب ہے اور اسی کو مسروق، حسن، محمد بن الحنفیہؒ اور محمد بن علی بن حسینؓ (شیعہ کے سیدنا باقر رحمۃ اللہ) نے اختیار کیا ہے۔ (سیدنا امیرِ معاویہؓ: صفحہ، 15 16) 

مسئلہ خالص فقہی اور قانونی ہے اور سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اختلاف میں تنہا نہیں بلکہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جیسے اعلم الحلال والحرام صحابی اور سیدنا باقرؒ جیسے فقیہ تابعی بھی آپ کے ہم نوا ہیں لہٰذا حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو سنت کا مخالف یا بدعت کا مرتکب نہ کہا جائے۔

سوال نمبر 634: معاہد کی دیت حضرت امیرِ معاویہؓ نے کامل بنا کر آدھی خود لے لی فیصلہ خلافِ سنت ہوا۔

جواب: زہری کے قول میں یہ صراحت ہے والقی النصف فی بیت المال کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے آدھی مقتول کے وارثوں کو دی اور آدھی بیت المال میں داخل کی۔ (سنن بہیقی: جلد، 8 صفحہ، 108)

تو خود لینے والی بات غلط ثابت ہوئی پھر امام زہریؒ اس کی نسبت صرف سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف کرتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ معاہد کی دیت کے بارے میں آنحضورﷺ‏ سے مختلف روایتیں مروی ہیں اس لیے یہ مسئلہ عہدِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مختلف فیہ چلا آ رہا ہے۔ 

ایک حدیث یہ ہے: عقل الکافر نصف دیة المسلم (احمد، نسائی، ترمذی) 

دوسری یہ ہے: دیة ذمی دیة مسلم کہ ذمی کی دیت مسلمان کی دیت کے برابر ہے۔ (سنن الکبریٰ: جلد، 8 صفحہ، 102)

امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ اور ابوسفیان ثوریؒ کا مسلک اسی حدیث پر مبنی ہے حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا پہلی حدیث پر ہے۔ دراصل حضرت امیرِ معاویہؓ نے دو مختلف حدیثوں میں بہترین تطبیق دی کہ قاتل سے تو دیت پوری مسلمان والی لی۔ مگر مقتول کے ورثاء کو حدیثِ اول کے مطابق آدھی دی اور آدھی بیت المال میں جمع کر دی کہ قتل سے بیت المال کا بھی نقصان ہوا اور خراج کی آمدنی وغیرہ گھٹ گئی۔ 

ایک مجتہد کو علمی انداز سے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے اختلاف کا حق ہے مگر اسے قانون کی بالاتری کا خاتمہ کہنا یا خلافِ سنت قانون بنانے کا الزام لگانا غلط ہے۔ (کذا فی معاویہؓ و تاریخی حقائق: صفحہ، 20)

سوال نمبر 635: قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کی بدعت سب سے پہلے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کی؟ 

جواب: حضرت امیرِ معاویہؓ دشمنی میں بات کا پتنگڑ بنایا گیا ہے ورنہ ضرورت کے موقع پر خود رسول اللہﷺ نے یہ فیصلہ کیا۔ سنن ابی داؤد: جلد، 2 صفحہ، 152 پر باب ہے باب الیمین والشاہد اور اس میں سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہﷺ نے قسم اور ایک گواہ پر (ایک دفعہ) فیصلہ کیا تھا۔

ائمہ ثلاثہؒ اس پر فیصلہ کے قائل ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ نہیں کیونکہ کتاب اللہ میں دو گواہ ضروری ہیں۔ 

حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف راوی نے پہل کی یا لغوی بدعت کی نسبت اس لیے کی ہے کہ خلفاء راشدینؓ کو ایسے فیصلے کی ضرورت نہ پڑی تھی۔

سوال نمبر 636: حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت لینے کے لیے سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ کو ایک لاکھ درہم بھیجے اس نے انکار کیا۔ رشوت لینا دینا کیسا ہے؟

جواب: رشوت لینا دینا حرام ہے مگر رشوت کی تعریف یہ ہے کہ سرکاری افسر کے ذمے بحیثیتِ عہدہ ایک کام کرنا ضروری ہو اور وہ لیے بغیر نہ کرے۔ یا کوئی شخص اس سے ناجائز کام نکالنے کے لیے رقم دے۔ حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نہ حاکم تھے نہ ان کے ذمے بیعت کرنا ضروری تھا کیونکہ انہوں بیعت نہیں کی تب بھی یزید کو خلیفہ مان لیا گیا تو یہ پیشکش رشوت کی مد میں نہ آئے گی۔ ہاں تالیفِ قلب اور حسنِ تعلقات بنانا کہہ سکتے ہیں جیسے کسی شخص کو مسلمان کرنے کے لیے یا اسلام پر برقرار رکھنے کے لیے زکوٰۃ خرچ کرنے کی مد قرآن میں مذکور ہے اور اسے قبولِ اسلام پر رشوت دہی نہ کہا جائے گا۔ حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کمالِ تقویٰ سے اس میں حصہ لینا اور زیر بار احسان ہونا گوارہ نہ کیا۔ رضی اللہ عنہ

سوال نمبر 637: مسوّٰی شرح مؤطا میں ہے کہ سرکاری عطیات میں سب سے پہلے زکوٰۃ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے وصول کی۔ کیا یہ بدعت ہے کہ نہیں؟

جواب: سرکاری عطیات بھی لینے والے کا مال مملوک بن جاتا ہے۔ سال گزرنے پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے۔ مسوّٰی میں اسی جگہ ہے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں: عطیہ مفید مال ہے۔ زکوٰۃ اس میں تب ہو گی کہ سال گزر جائے اسے بہیقی نے سنن میں ذکر کیا ہے۔ پھر شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

انما اخذ ابوبکر و عثمان من العطایا لما عندھم من النقود ما حال علیه الحول (مسوّٰی: جلد، 1 صفحہ، 224)

ترجمہ: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی سرکاری عطایا میں لوگوں سے زکوٰۃ لی تھی کیونکہ وہ اس نقدی سے مل گئے جن پر سال گزر چکا تھا۔

معلوم ہوا کہ حضرت امیرِ معاویہؓ کا فعل اتباعِ اسلام اور اتباعِ خلفاء ہے بدعت نہیں امام زہری رحمۃ اللہ کا اسے اوّل کہنا ناواقفیت ہے۔

سوال نمبر 638: مولوی مودودی خلافت و ملوکیت میں لکھتے ہیں کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مالِ غنیمت میں سے سونا چاندی اپنے لیے نکالنے کا باقی شرع پر تقسیم کرنے کا حکم دیا؟

جواب: پانچوں حوالوں میں کتربیونت کی گئی ہے ورنہ البدایہ والنہایہ میں صراحت ہے:  

یعنی الذہب والفضة یجمع کلہ من ھذہ الغنیمة لبیت المال، یعنی مالِ غنیمت کا یہ سونا چاندی بیت المال کے لیے اکٹھا کیا جائے۔ اور پھر یہ حکم صراحۃً نہیں ہے بلکہ زیاد نے لکھا کہ امیر المؤمنین کا خط آیا ہے۔ یہ تحقیق اپنی جگہ باقی ہے کہ واقعی خط بھی آیا تھا یا زیاد نے از خود منسوب کر کے حکم دیا۔

سوال نمبر 639: اگر بیت المال کے لیے نکالنا تھا تو بھی قرآن و سنت کے خلاف ہے کہ زمانہ رسولﷺ‏ سے زمانہ سیدنا علیؓ تک سونا چاندی مال سے علیحدہ نہ کیا گیا؟

جواب: ہو سکتا ہے کہ اس وقت بیت المال میں ان دو چیزوں کی کمی ہو اور بطورِ زر ان کا سٹیٹ بنک میں رہنا ضروری ہے۔ اور حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو علم ہو کہ وہ سب مال کا خمس بنتا ہے۔ زیادہ نہیں تو ایسا انتظامی حکم دیا۔ مگر فی نفسہٖ وہ سونا چاندی خمس سے زائد تھا۔ اسی لیے حضرت حکم و عمرو رضی اللہ عنہما نے اس حکم پر عمل نہ کیا۔

اسے کتاب و سنت کے خلاف کہنا جرأتِ دشمنانہ ہے گو سابق کسی خلیفہ کو اس کی ضرورت پیش نہ آئی تھی تاہم عقلی اور فقہی اعتبار سے یہ ناجائز نہیں ہے اس کی مثال بالکل اسی طرح ہے کہ زکوٰۃ کے مصارف ثمانیہ میں سے صرف ایک مد میں زکوٰۃ خرچ کی جائے یا جب مختلف نصابوں کی نکال لی جائے تو کسی خاص نصاب میں سے (سونا چاندی یا غلہ کپڑا یا تجارتی سامان) تمام نصابوں کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے تو سب کے ہاں درست ہے۔ اسی طرح مختلف مدات کے مال سے سب کا خمس کسی خاص مد سے کمانڈر انچیف یا خلیفہ نکال کر بیت المال میں دے دے اور بقیہ تقسیم کر دے تو درست ہے۔

سوال نمبر 640: کتاب الاموال میں ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے یمن کی زکوٰۃ سے لوگوں کو عطیات دینے کا حکم دیا لوگوں نے احتجاج کیا کہ ہم یتیموں کا مال نہیں لیتے تب عطایا بھیجے گئے؟

جواب: یہ بھی بلاوجہ اعتراض ہے کیونکہ عطایا لینے والوں میں امیر و غریب سبھی تھے۔ تاریخ زائد ہو رہی تھی مرکز سے جزیہ کا مال آتے آتے دیر لگ جاتی اس لیے صدقات یمن سے ادائیگی کی اجازت دی اور یہ ایک مد کا دوسری سے قرض لینا تھا کہ عطیات فنڈز سے یتامیٰ و مساکین کو اتنے مال کی ادائیگی کی جاتی۔ چونکہ ناسمجھی سے لوگوں نے احتجاج کیا تو اس کا بھی احترام کیا گیا۔ آج بھی حکومت کے مختلف ادارے اور شعبے افسرانِ بالا کی اجازت سے دوسری مدوں سے قرض لے کر اپنا حساب کتاب کر لیتے ہیں پھر اپنے فنڈ سے متعلقہ محکمہ کو ادائیگی کر دیتے ہیں اس میں کسی کی حق تلفی نہیں ہوتی۔