مولیٰ کے معنیٰ اور حدیث ولایت کی بحث
محقق کبیر مولانا نافع رحمہ اللہ1: اہلِ سنت میں سے بہت سے اکابر علماء جیسے امام بخاری، ابن ابی حاتم رازی، ابراہیم الحربی، ابن ابی داؤد، ابن حزم رحمہم اللہ وغیرہم کو غدیر خم کے واقعہ کی تفصیلات ( مثلاً علی المرتضیٰ کا ہاتھ پکڑنا اور فرمانا کہ جس کا میں مولا ہوں، علی رضی اللہ عنہ بھی اس کے مولا ہیں وغیرہم) کی صحت میں کلام ہے۔ اس بناء پر کہ جن صحیح اسانید کے ساتھ یہ واقعہ منقول ہے مثلاً (صحیح مسلم وغیرہ میں) وہاں یہ تفاصیل مذکور نہیں ہیں، مفقود ہیں، اور جہاں اس نوعیت کی تفصیلات دستیاب ہوتی ہیں وہاں کے بیشتر طرق متکلم فیہ اور قابل نقد ہیں صحت روایت کے معیار پر نہیں اتر سکتے۔ فلہذا یہ روایت ولایت عند العلماء قابل بحث بن گئی ہے۔ بہت سے علماء اس کی عدم صحت کی طرف ہیں۔ جس طرح اوپر ان میں سے بعض کا ذکر ہے اور بعض حضرات اس کے صحیح ہونے کے قائل ہیں۔ اور جو اکابر روایت ہذا کو درست تسلیم کرتے ہیں ان کے نزدیک بھی روایت کا معنیٰ اور مفہوم وہی معتبر ہے جو عنقریب ہم پیش کر رہے ہیں یعنی اس موقع پر دوستی و محبت بیان کرنا مقصود تھا، خلافت بلافصل ہرگز مراد نہیں تھی، اور خلافت کے متعلق کوئی تذکرہ وہاں جاری نہیں تھا۔
2: دوسری عرض یہ ہے کہ اگر نسائی کی روایات بالا کے متن پر غور کیا جائے تو یہ معلوم کرنا مقصد ہے کہ یہاں لفظ مولی اور ولی کا کون سا معنیٰ درست ہے؟
اہل علم جانتے ہیں کہ مولی کے متعدد معانی لغت عربی میں پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ ابن اثیر جزری نے اپنی کتاب "النھایۃ" جو لغت حدیث میں مشہور ہے میں لفظ مولی کے 16 عدد معانی درج کیے ہیں اور المنجد میں 20، 21 معانی لکھے ہیں مگر ان تمام معانی میں لفظ مولی کا معنیٰ خلیفہ بلا فصل کہیں بھی دستیاب نہیں۔
اب رہا یہ سوال کہ مولی کے اتنے کثیر معانی میں جب بلا فصل خلیفہ کا مفہوم نہیں پایا گیا تو ان معانی میں سے کون سا معنیٰ یہاں روایت ہذا میں درست ہو گا؟ تو اس اشکال کا حل خود اس روایت نے کر دیا ہے اس طرح کہ من کنت مولاہ فعلی مولاہ کے متصلاً بعد اس روایت میں یہ الفاظ موجود ہیں: اللھم وال من والاہ وعاد من عاداہ۔ یعنی اے اللہ! جو علی کے ساتھ دوستی رکھے تو اس کے ساتھ دوستی رکھ اور جو علی کے ساتھ دشمنی رکھے تو بھی اس کے ساتھ عداوت رکھ! ان کلمات میں موالاۃ ایک دوسرے سے دوستی رکھنا اور معاداۃ ایک دوسرے سے دشمنی رکھنا ہر دو کو ایک دوسرے کے مقابلہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ ان کا یہ تقابل ذکر کیا جانا یہ خود اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ اس مقام میں مولی اور ولی دوست و محبت کے معنیٰ میں ہی مستعمل ہے، کوئی دوسرا معنیٰ خلیفہ بلا فصل یہاں مراد نہیں ہے ورنہ یہ جملہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ، ماقبل کے ساتھ بےجوڑ ہو کر رہ جائے گا۔ ایک مادہ ولی کے ایک ہی روایت میں دو معنی متغائر قائم ہونے کی وجہ سے معنوی تشتت رونما ہو گا جو بلاغت کلام کے منافی ہے۔
3: جب روایت ہذا کے الفاظ کے اعتبار سے مولی کا معنیٰ دوست و محب متعین ہو گیا تو اب غور فرمائیے کہ یہ دلیل اثبات خلافت بلافصل کے لیے کہاں تک مثبت ہو سکتی ہے، اور جو دلیل اپنے دعویٰ کو ثابت نہ کر سکے وہ تقریب تام نہیں ہے، دعویٰ تو یہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ نبوت کے بلا فصل خلیفہ ہیں اور اس دعویٰ کے اثبات کے لیے جو حجت اور دلیل پیش کی گئی ہے اس میں وارد ہے کہ جس شخص کا نبیﷺ دوستدار ہے علی بھی اسی کا دوستدار ہے۔ اے اللہ! جو شخص علیؓ کے ساتھ محبت رکھے تو اس کے ساتھ محبت رکھ، جو حضرت علیؓ کے ساتھ دشمنی رکھے تو اس کے ساتھ دشمنی رکھ!
آپ ہی انصاف فرمائیں کیا ایسی دلیل سے دعویٰ مذکور ثابت ہو سکتا ہے جس میں خلافت بلا فصل کے لیے ایک کلمہ بھی وارد نہیں ہے! نسائی کی روایات کا خلاصہ یہ ہوا کہ
روایات ہذا اگر صحیح ہیں تو مدعیان حب اہل بیت کے لیے مفید نہیں اور مسلک اہل سنت کے لیے مضر نہیں کیونکہ روایت ہذا کو صحیح تسلیم کرنے کی صورت میں یہاں صرف فضیلت مرتضوی ثابت ہوتی ہے، اس کے ہم قائل و معترف ہیں، خلافت بلافصل نہیں ثابت ہوتی جس سے ان کا مدعا پورا ہو سکتا!
محقق اہل سنت حضرت مولانا محمد نافع صاحب رحمۃ اللہ علیہ
حدیث ثقلین: صفحہ: 91 ،89
