بصرہ
علی محمد الصلابیسیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت بصرہ کے گورنر حضرت ابوموسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ تھے۔ اس وقت بصری معاشرہ کی آباد کاری اور وہاں کی اجماعی ساخت میں اساسی تغیرات رونما ہو چکے تھے۔ چنانچہ بصرہ اسلامی فوجی کیمپوں میں شمار ہونے لگا تھا، بہت سے قبائل نقل مکانی کر کے وہاں آباد ہو چکے تھے۔ یہاں کے اسلامی لشکر نے بہت سے علاقے کو فتح کر لیا تھا، جس کے نتیجہ میں عہدِ عثمانی کے آغاز میں اس کو خصوصی اہمیت حاصل ہو چکی تھی۔
(التنظیمات الاجتماعیۃ والاقتصادیۃ فی البصرۃ: صالح العلی: صفحہ 141)
لوگ امور عامہ اور جہاد وغیرہ کے ساتھ ساتھ اپنے خاص امور میں مشغول ہو چکے تھے اور اس صورت حال میں اس علاقے اور اس کے تابع علاقوں پر ولایت و گورنری انتہائی اہمیت کی حامل تھی اور وہ آسان نہ تھی، اس صوبہ کے انتظام و انصرام کے لیے خصوصی فہم و فراست کی ضرورت تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ اس صوبہ کے انتظام و انصرام سے متعلق حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی قدرت خاصہ کو محسوس کر رہے تھے جس کی وجہ سے آپ نے اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو یہ وصیت کی تھی کہ آپ کی وفات کے بعد حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کو چار سال تک ان کے عہدہ پر باقی رکھا جائے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 391، الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 186)
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا بصرہ پر دورِ ولایت، جہاد اور مسلح جدوجہد کا دور رہا، اس میں اہلِ بصرہ کا کردار نمایاں ہوا، اور اسی طرح فارس کے بہت سے علاقے کو فتح کر کے اور مفتوحہ علاقوں میں مسلمانوں کے قدم مضبوط کر کے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے نمایاں مقام حاصل کیا۔ اسی طرح جن علاقوں میں لوگوں نے حضرت عمر بن خطابؓ کی وفات کے بعد روگردانی شروع کر دی تھی ان علاقوں پر چڑھائی کر کے حضرت ابو موسیٰؓ نے اسلام کو مستحکم کیا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 187)
فتوحات کے ساتھ ساتھ عہد عثمانی میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے اپنی گورنری کے دور میں بصرہ کے اندر آب پاشی کی تنظیم اور نہروں وغیرہ کی کھدائی کا اہتمام کیا، اور پینے کا پانی نہر کے ذریعہ سے بصرہ پہنچایا، بعد میں جس سے لوگوں نے استفادہ کیا اور اسی طرح آپ دوسری نہروں کی کھدائی شروع کر چکے تھے لیکن معزولی کی وجہ سے اس کو پایۂ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔
(ایضاً)
آپ کے بعد آنے والے بصرہ کے گورنر عبداللہ بن عامرؓ نے اس کی تکمیل فرمائی۔
(ایضاً: جلد 1 صفحہ 177)
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ طویل عرصہ تک بصرہ کے گورنر نہ رہ سکے، حضرت عثمانؓ نے اکثر روایات کے مطابق آپ کو 29ھ میں معزول کر دیا اور آپ کی جگہ حضرت عبداللہ بن عامر بن کریز رضی اللہ عنہ
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 264)
کو وہاں کا گورنر مقرر فرمایا، مؤرخین نے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کی معزولی سے متعلق متعدد روایات بیان کی ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ لشکر بصرہ اور حضرت ابوموسیٰ اشعریؓل کے مابین اختلافات رونما ہوئے، اور اہل بصرہ کی ایک جماعت حضرت عثمانؓ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی معزولی کا مطالبہ کیا، اور عرض کیا کہ جو کچھ ہم جانتے ہیں، ہم یہ نہیں پسند کرتے کہ آپ اس سے متعلق ہم سے سوال کریں، آپ ان کے بدلے کسی اور کو مقرر کر دیں۔ حضرت عثمانؓ نے ان سے دریافت کیا: ان کی جگہ کس کو پسند کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: کوئی بھی ان کا بدل ہو سکتا ہے، اور کچھ لوگوں نے حضرت عثمانؓ سے مطالبہ کیا کہ کسی قریشی کو گورنر مقرر فرما دیں۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 264)
اس صورت حال میں حضرت عثمانؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو معزول کر کے ان کی جگہ بصرہ کا گورنر حضرت عبداللہ بن عامرؓ کو مقرر فرما دیا۔ یہاں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی حکمت، وسعت ظرف اور خلیفہ وقت کی اطاعت عیاں ہوتی ہے، آپ کو گورنری کا بالکل لالچ نہ تھا جیسا کہ بعض لوگوں کا ناقص گمان ہے، چنانچہ جب آپ کو اپنی معزولی اور حضرت عبداللہ بن عامرؓ کی تقرری کی اطلاع ملی آپ منبر پر تشریف لائے، اور عبداللہ بن عامرؓ کی تعریف کی جو اس وقت پچیس سال کے نوجوان تھے۔ جو تعریفی کلمات ان کی شان میں حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ رضی اللہ عنہ نے کہے ان میں سے آپؓ کا یہ قول بھی تھا:
’’تمہارے اوپر ایسا نوجوان گورنر مقرر کیا گیا ہے جس کی پھوپھیاں، خالائیں اور دادیاں قریش کی شریف زادیاں ہیں وہ تم پر خوب مال لٹائے گا۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 266، سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 19)
ان سخت ترین حالات میں جس سے بصرہ کا صوبہ دوچار تھا حضرت عثمانؓ ایسا نیا قائد مقرر کرنے میں کامیاب ہوئے جس کی اطاعت کو لشکر قبول کر لے اور اعداء کے سامنے ان کی صفیں متحد ہوں، اور ساتھ ہی ساتھ یہ معزولی حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کی تکریم بھی تھی کیوں کہ اس طرح بعض لوگوں کی توہین سے آپ کو محفوظ کر لیا گیا جو باغیوں کے منحرف افکار سے متاثر تھے، جنھوں نے اپنے دلوں میں آپ کی کراہیت بٹھا رکھی تھی اور اس کی تشہیر کرنا چاہتے تھے اور اس کے لیے دھڑ بندی کر لی تھی۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 189)
جس وقت حضرت عبداللہ بن عامرؓ نے عہدہ سنبھالا اس وقت بصرہ کا صوبہ سخت ترین حالات سے دوچار تھا، جس کی وجہ سے حضرت عثمانؓ نے صوبہ کے انتظام و انصرام کے سلسلہ میں بنیادی تبدیلیاں پیدا کیں، چنانچہ بحرین اور عمان کے لشکر کو بصرہ میں حضرت ابنِ عامرؓ کے تابع کر دیا تاکہ ان چیلنجوں کے مقابلہ میں ان کو وافر مقدار میں قوت بہم پہنچے جن سے ان کا مقابلہ تھا۔ لشکر کے اس انضمام کا ابنِ عامرؓ کی قوت و اقتدار پر کافی اثر ہوا، اور اس طرح خود بصرہ کی صورت حال پر اس کا گہرا اثر یہ ہوا کہ وہ امن و استقرار سے پر اسلامی مرکزی شہروں میں سے قرار پایا، اور پہلے سے زیادہ قبائل نے اس کی طرف نقل مکانی کی،
(التنظیمات الاجتماعیۃ والاقتصادیۃ فی البصرۃ فی القرن الاول الہجری: صالح العلی: صفحہ 141)
جس کے نتیجہ میں دیوان اور اداری و مالی امور وغیرہ کے نظم و نسق سے متعلق صوبہ کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا۔ بصرہ اور اس کے لشکر اور خود عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی عظیم فتوحات رہیں جن کا آغاز آپ کی تقرری کے فوراً بعد ہوا، اور امیر المؤمنین عثمانؓ کی شہادت سے کچھ دنوں قبل تک جاری رہا
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 189)
جس کا ذکر حضرت عثمانؓ کی فتوحات کے ضمن میں آچکا ہے۔
حضرت ابنِ عامرؓ کے دور میں اسلامی صوبوں میں بصرہ نے خاص مقام حاصل کیا اور فتوحات اور مختلف میدانوں میں وسعت کے نتیجہ میں حضرت عثمانؓ نے اس کی طرف خصوصی توجہ فرمائی جس کی وجہ سے بصرہ عظیم انتظامی و اداری مرکز قرار پایا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 193)
وہاں سے بہت سے اسلامی علاقوں کا انتظام و انصرام چلایا جاتا تھا، اور صوبہ کے تابع مختلف علاقوں کے امراء کی تقسیم و تعیین کے ذمہ دار حضرت عثمانؓ کے سابقہ موافقت سے حضرت ابنِ عامرؓ تھے جس کی وجہ سے آپؓ کی ذمہ داریاں بڑی تھیں۔ منصب امارت (گورنری) پر فائز ہوتے ہی آپؓ نے بصرہ کے تابع علاقوں میں امراء کی تقسیم و تعیین شروع کر دی، چنانچہ آپؓ نے بہت سے سپہ سالاروں اور امراء کو منتخب فرمایا اور انہیں ان علاقوں میں متعین فرمایا۔ ان میں اہم ترین علاقے یہ تھے: عمان، بحرین، سجستان، خراسان، فارس، اہواز۔ یہ علاقے مختلف شہروں اور وسیع علاقوں پر مشتمل تھے۔
(نہایۃ الارب: جلد 19 صفحہ 433)
ان امراء اور عمال کی تبدیلی وقتاً فوقتاً مصالح کے پیشِ نظر ہوتی رہتی تھی۔ اسی طرح بصرہ آپؓ کے دور میں اپنے بیت المال کی وجہ سے معروف و مشہور ہوا، اور اس کی آمدنی و اخراجات میں اضافہ ہوا۔ حضرت عمر فاروقؓ کے زمانہ میں بیت المال کے ذمہ دار زیاد بن ابی سفیان تھے، اور حضرت ابن عامرؓ رضی اللہ عنہ کی نیابت میں نہروں وغیرہ کی کھدائی کی ذمہ داری سنبھالتے تھے۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 194)
30ھ اور 35ھ کے مابین حضرت ابنِ عامرؓ کی امارت میں فارس کے مختلف علاقوں میں جو بصرہ کے تابع تھے درہم جاری کیے گئے جن پر عربی الفاظ تحریر تھے۔
(الدارہم الاسلامیۃ: وداد علی القزاز: صفحہ 14)
بصرہ پہنچنے کے وقت ہی سے حضرت ابنِ عامرؓ اہلِ بصرہ کے نزدیک انتہائی محبوب تھے، باوجودیکہ یہ ہوا دی گئی کہ حضرت عثمانؓ نے انہیں محض اس لیے منتخب فرمایا تھا کہ وہ آپ کے قریبی رشتہ دار تھے، لیکن بصرہ والوں نے آپ کو خوب مانا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 194)
اس تفصیل سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ حضرت عثمانؓ کے دور میں بصرہ کی امارت صرف دو افراد میں منحصر رہی، ایک حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ اور دوسرے حضرت عبداللہ بن عامرؓ۔ اور بصرہ اور اس کے تابع علاقوں کے انتظام و انصرام میں ان دونوں کا اہم کردار رہا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 195)
-
بصرہ
-
بصرہ کے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے خلاف شکایات
-
یہ نہ کہہ کہ میرا گھر بصرہ میں ہے بلکہ یہ کہہ کہ بصرہ میرے گھر میں ہے
-
بصرہ میں خوارج کی تحاریک
-
بصرہ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اس کے مشہور ترین گورنر
-
بصرہ میں زیاد کا مشہور خطبہ بتراء
-
بصرہ میں حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی اقتصادی اصلاحات
-
بصرہ میں فسادی لوگ أشج عبدالقیس رضی اللہ عنہ پر افتراء باندھتے ہیں
-
امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت پر اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم نے تبصرہ کیا
-
مسلک اہل بیت
-
سیرت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ
-
امام ترمذی رحمہ اللہ کا تساہل علماءاحناف کی نظر میں
-
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ رضامندی کا اظہار کرنا اور اُن کے لیے دعا اور استغفار کرنا
-
جمہور علماء کے اصول اجتہاد اور ماخذ دوم سنت
-
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمع قرآن کا تیسرا مرحلہ
-
تدوین قرآن مجید ایک تحقیقی جائزہ
-
فضیلت و عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم کا عقیدہ
-
شیعہ اور سنی میں فرق
-
امام بخاری رحمۃ اللہ کا مقام و مرتبہ
-
شہادت خلیفہ سوم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (قسط اول)
-
شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط دوم)
-
شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط سوم)
-
شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط چہارم)
-
شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (قسط ششم)
-
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ
-
مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک
-
عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم کیا صحابہ رضی اللہ عنہم صرف روایت حدیث میں عادل ہیں؟
-
مقام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
-
مقام صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن کریم کی روشنی میں
-
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نقوش کو مشعل راہ بنانے کی ضرورت
-
سوانح سیده زینب رضی اللہ عنہا بنت رسولﷺ
-
امام اہلسنت عبد الشکور لکھنوی صاحب رحمۃ اللہ کی مختصر سوانح حیات
-
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان سیدنا على رضی اللہ عنہ کی زبان سے
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم کی تعلیمات
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور خاندان نبوتﷺ
-
شیعہ کے بارے میں رسولﷺ اور آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات
-
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی محبت میں وضع کردہ روایات
-
سیرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ
-
سیرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ
-
مقدمہ
-
کوفہ کے واقعات کے بارے میں یزید کا موقف
-
ابن زیاد اور تدابیر امن
-
شورائیت
-
بردباری
-
قرابت داری نفع خوری کا سبب نہیں بن سکتی
-
سن لو ہم اقتداء اور اتباع کرتے ہیں بدعت نہیں ایجاد کرتے
-
عبادات کا اہتمام
-
مجاہدین کی عزتوں کی حفاظت
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی علم علماء اور مبلغین اسلام پر خصوصی توجہ
-
عہد عثمانی میں مالِ غنیمت سے بچوں کا حصہ نہیں مقرر کیا گیا
-
زمینوں کی جاگیر سے متعلق سیاست عثمانی
-
مال کی ریل پیل کا اجتماعی اور اقتصادی زندگی پر اثر
-
دارالقضاء اور بعض فقہی اجتہادات
-
خلافت عثمانی میں مشہور ترین قاضی
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فقہ و فتاویٰ کا مرکز بنانا
-
اہل کوفہ اور آل بیت
-
مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجنا اور ان کا قتل
-
مصری درس گاہ
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حطیئہ و زبرقان بن بدر
-
کلام کی بہترین ترتیب و تقسیم
-
سڑکوں اور خشکی و سمندری وسائل نقل و حمل کا اہتمام
-
سرحدوں پر شہروں کی تعمیر فوجی اور تمدنی مراکز کے طور پر
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ اندیشہ کہ کہیں مسلمان عیش و عشرت کے دلدادہ نہ ہو جائیں
-
ملک شام کی فوجی چھاؤنیاں
-
محکمۂ عدل
-
قاضیوں کی تقرری ان کی تنخواہیں اور عدالتی دائرہ کار
-
قاضی کے اوصاف
-
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا میدان کربلا میں کوفیوں کے سامنے تین باتیں پیش کرنا
-
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا نزول سرزمین کربلا میں شیعی روایات کی روشنی میں
-
یمن
-
بحرین
-
عراق اور فارس کی ریاستیں
-
بصرہ
-
آذربائیجان
-
قرار داد خلافت
-
ورع
-
اسلامی شہروں میں فوجی گھوڑوں کی مدد بھیجنا
-
عوام کو معاشی خوشحالی فراہم کرنے کی جدوجہد
-
ریاست کے تعمیراتی منصوبوں پر توجہ
-
والیان ریاست سے وفود بھیجنے کا مطالبہ
-
اسلامی ر یاستوں کا تحقیقاتی دورہ
-
کسکر میں معرکہ سقاطیہ
-
حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ کے نام فاروقی مشورے اور ہدایات
-
قتل حسین رضی اللہ عنہ کی بابت یزید کا موقف
-
بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء
-
آمدم برسر مطلب
-
خاتمہ
-
تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ
-
تعارف امام مسلم رحمۃاللہ
-
تعارف امام ابو داؤد رحمۃاللہ علیہ
-
تعارف امام ترمذی رحمۃاللہ علیہ
-
تعارف امام ابن ماجہ رحمۃاللہ علیہ
-
تعارف امام محمد رحمۃاللہ علیہ
-
امام طحاوی رحمۃاللہ
-
مسلمانوں کی امانت و دیانت کے چند بے نظیر نمونے
-
فتح رامہرمز
-
فتح تستر
-
معرکہ نہاوند فتح الفتوح
-
پہلا دستہ
-
معرکۂ خراسان 22ھ
-
کردوں سے جنگ
-
احنف بن قیس تاریخ کا دھارا موڑتے ہیں
-
تمام تر معاملات کو امیر کے فیصلہ پر چھوڑ دینا
-
امیر کے حکم کی فرمانبرداری کرنے میں جلدی کرنا
-
فوج کے لیے سامان رسد اور گھوڑوں کے لیے چارہ کا انتظام
-
ملکی سرحدوں کی حفاظت کا اہتمام
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مدح سرائی دور حاضر کے علماء وادباء کی زبانی
-
یمن کی وحدت ان کے سامنے اسلام کا واضح ہونا اور خلیفہ کی اطاعت
-
ام زمل کا واقعہ
-
فتح عراق کے لیے صدیقی منصوبہ
-
دروس و عبر
-
عراق میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے معرکے
-
سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شفقت پدری
-
چوتھا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عہد علی رضی اللہ عنہ میں
-
لوگوں کے درمیان صلح کروانے کی حرص
-
چوتھا باب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علمی مقام و مرتبہ
-
مقامِ صحابہؓ
-
احسن طریقے سے وعظ کا اسلوب
-
تیسرا مبحث صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور دیگر علمائے امت رحمہم اللہ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے مدح و ثنا
-
سیدہ عائشہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہا کے درمیان باہمی تکریم و تعظیم کا رشتہ
-
جنگ جمل کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق نظریہ اور موقف
-
وہ الزامات جن کا تعلق اہل بیت رضی اللہ عنہم سے ہے
-
پانچواں بہتان
-
ساتواں شبہ
-
پہلا نکتہ واقعہ جمل پر سیر حاصل بحث
-
جنگ جمل کی آڑ پیدا کردہ شبہات اور ان کی تردید
-
چوتھا شبہ
-
پانچواں شبہ
-
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اہل روافض کے گھناؤنے الزامات کا جائزہ
-
عہد عثمان رضی اللہ عنہ میں اجتماعی تبدیلی کا مزاج
-
جاہلی عصبیت
-
کینہ پرور گروہ کا وجود
-
لوگوں کو اشتعال دلانے والے اسالیب و وسائل کا استعمال
-
فتنہ کی آگ بھڑکانے میں ابن سبا کا کردار
-
کوفہ کے فتنہ بازوں کے بارے میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خط
-
سیدنا علی رضی اللہ عنہ شام سے جنگ کرنے کی تیاری کرتے ہیں
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی صفین کی طرف روانگی
-
فریقین میں صلح کی کوششیں
-
تحکیم کی تجویز
-
امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک
-
تحکیم کا مشہور واقعہ اور اس کا بطلان
-
ان جنگوں کے بارے میں اہل سنت کا موقف
-
عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں آزادی رائے
-
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو زہر دیا جانا
-
فعلی معارضہ
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنی خلافت کے ایام میں امن و امان کے استحکام پر حریص ہونا
-
یہ نہ کہہ کہ میرا گھر بصرہ میں ہے بلکہ یہ کہہ کہ بصرہ میرے گھر میں ہے
-
مساجد اور چشموں کا اہتمام کرنا
-
شعر و لغت
-
تجرباتی علوم
-
قریب ازدی اور زحاف طائی کی تحریک
-
ثالثاً: اہم دروس و عبر اور فوائد
-
نفقات عامہ
-
دیہات سے شہروں کو ہجرت کرنے والے مزارعین اور دولت امویہ کے درمیان فوجی ٹکراؤ
-
اندرونی اور بیرونی تجارت
-
صنعت و حرفت
-
بعض علاقوں کے خراج میں کمی و زیادتی اور شاہ خرچیاں
-
عہد معاویہ رضی اللہ عنہ کے قاضیوں کے نام
-
پولیس عراق میں
-
پولیس دوسرے صوبوں میں
-
پولیس کی ذمہ داریاں
-
کچھ دیگر قوتیں اور ادارے اور ان کا پولیس کے ساتھ تعلق
-
گورنرز اور انتظامیہ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں
-
بصرہ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اس کے مشہور ترین گورنر
-
بصرہ میں زیاد کا مشہور خطبہ بتراء
-
کوفہ 41 ھ
-
قسطنطنیہ کے محاصرہ کے دوران حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی وفات
-
دونوں حکومتوں میں پرامن باہمی تعلقات
-
موضع قیروان کی خصوصیات
-
خراسان، سجستان اور ماوراء النہر کی فتوحات
-
عبیداللہ بن زیاد کے بھائی مسلم بن زیاد کی فتوحات 57ھ
-
عہد معاویہ میں فتوحات سندھ
-
قیادت کی مرکزیت اور امداد
-
بَری حدود کی حفاظت کا اہتمام
-
دیوان جند اور دیوان عطاء کا اہتمام و انصرام
-
بیعت وفود
-
مؤمنوں کے مابین اختلاف رونما ہونا اور کتاب و سنت سے اس کو حل کرنا
-
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے تفقہ کا سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پر اثر
-
فتح افریقہ کے لیے جیشِ عبادلہ میں حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی شرکت
-
قتل عثمان رضی اللہ عنہ کے فتنہ سے متعلق سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مؤقف
-
فتنے کی ابتداء میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مؤقف
-
امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا کوفہ چلے جانا
-
اہل کوفہ کو لشکر کشی پر آمادہ کرنے میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا مؤثر ہونا
-
جنگ جمل میں لڑائی بھڑکانے میں سبائیوں کا کردار
-
جنگ جمل میں مقتولین کی تعداد
-
جنگ کے بعد امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے اعلان
-
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو عزت و احترام کے ساتھ رخصت کرنا
-
جو کچھ ہوا اس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ندامت
-
اللہ، کائنات، زندگی، جنت اور جہنم سے متعلق امیر المؤمنین حسن رضی اللہ عنہ کے خیالات
-
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عبادت
-
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کو نہیں دیکھتے تھے
-
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے دور خلافت کی بعض اہم شخصیات
-
ابن کثیر کا قول ہے
-
ایک مصیبت زدہ عورت
-
ان کے جود و سخا کا تذکرہ
-
مدینہ کی بازار میں آئے ہوئے سامان کا نہ بکنا
-
یزید بن معاویہ کی جانب سے آئے ہوئے مال کو خرچ کر دینا
-
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے قاضی ابن العربی رحمۃاللہ کی تعریف
-
سابعا عراقی فوج اور اہل کوفہ کا اضطراب
-
صلح کی شرائط
-
ثانیا اموال
-
سیدنا معاویہ و حسن رضی اللہ عنہما کے مابین امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے کا معاملہ
-
ثالثا خوارج کے مقابلے کے لیے حکومت کا فارغ ہو جانا
-
کیا سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما قوت رکھتے ہوئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبردار ہوئے تھے یا کمزوری کی حالت میں؟
-
سیدنا عمرو بن عاص اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی جانب سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی فوجوں کا جائزہ
-
کیا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دینے کی تہمت لگانا صحیح ہے؟
-
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عمر اور سن وفات کی تحقیق
-
عہد عثمانی کی فتوحات
-
طبرستان پر 30 ہجری میں سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کی چڑھائی
-
شاہ ایران یزدگرد کا خراسان کی طرف فرار 30 ہجری
-
31 ہجری میں سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی فتوحات
-
حیات
-
حکمت
-
ورع و پرہیز گاری
-
مقدمہ
-
ان مصاحف کی تعداد جنھیں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مختلف شہروں کو روانہ کیا
-
بحرین اور یمامہ
-
کوفہ
-
گورنروں کے ساتھ عثمانی سیاست اور ان کے حقوق و فرائض
-
ہر مقام پر ایسے افراد کا موجود ہونا جو تحریری شکل میں خلیفہ کو حالات سے مطلع کرتے تھے
-
صوبوں میں معائنہ کرنے والوں کو بھیجنا
-
گورنروں کو دارالخلافہ طلب کرنا اور ان سے وہاں کے حالات دریافت کرنا
-
امور حج کا اہتمام اور حجاج کے لیے سہولیات فراہم کرنا
-
عمال اور ملازمین کی تقرری
-
صوبہ کی عمرانی ضروریات میں غور و فکر
-
حضرت عبداللہ بن عامر بن کریز اموی رضی اللہ عنہ
-
بصرہ میں حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی اقتصادی اصلاحات
-
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی ابن سبا سے متاثر ہونے کی تردید
-
وقوع فتنہ سے متعلق نبی کریمﷺ کے خبر دینے کی حکمتیں
-
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں اجتماعی تبدیلی کا طرز
-
انسانی معاشرہ کی تشکیل میں تغیرات
-
یہود و نصاریٰ
-
جاہلی عصبیت
-
اسلامی فتوحات کا رک جانا
-
کینہ وروں کی سازش
-
لوگوں کو برانگیختہ کرنے والے وسائل و اسلوب اختیار کرنا
-
فتنہ برپا کرنے میں سبائیوں کا اثر
-
فتنہ کی تحریک میں عبداللہ بن سبا کا کردار
-
اصلاحی کارروائیوں سے باطل پرستوں کا اذیت محسوس کرنا
-
عبداللہ بن سبا یہودی پارٹی کا سرغنہ
-
بصرہ میں فسادی لوگ أشج عبدالقیس رضی اللہ عنہ پر افتراء باندھتے ہیں
-
ابن سبا تحریک کے لیے 34ھ کو مقرر کرتا ہے
-
فتنہ کے ساتھ تعامل میں عثمانی سیاست
-
باغیوں پر حجت قائم کرنا
-
مدینہ پر فسادیوں کا قبضہ
-
مصر کے باغیوں سے مذاکرات کے لیے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو روانہ کرتے ہیں
-
مصری وفد کے قتل سے متعلق جعلی خط
-
امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت پر اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم نے تبصرہ کیا
-
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے خون سے محمد بن ابی بکر کی برأت
-
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
-
خلاصہ
-
مسئلہ خلافت سُنی و شیعہ مکالمہ
-
بصرہ جانے والے کون تھے
-
حضرت زبیررضی اللہ عنہ کے سر لانے کا انکار اور اقرار! انجنیئر محمد علی مرزا کی علمی حیثیت
-
انکارِ حدیث کا مطلب اور منکر حدیث کا مصداق کون؟
-
منکرین حدیث کی تعریف و شناخت
-
انجینیئر محمد علی مرزا امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اگر ہم حضرت علی رضي الله عنه کے زمانے میں ہوتے تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضي الله عنه کے خلاف حضرت علی کی حمایت میں قتال کرتے، جنگ لڑتے!
-
انجنیئر محمد علی مرزا امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ’’ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اگر ہم حضرت علی رضي الله عنہ کے زمانے میں ہوتے تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضي الله عنہ کے خلاف حضرت علی کی حمایت میں قتال کرتے، جنگ لڑتے۔۔۔۔۔ ‘
-
عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم
-
حضرت عائشہ (رضی اللہ تعالی عنہا) نے بصرہ کا سفر کیا حجاب کے حکم کی خلاف ورزی کر کے خدا و رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی، سولہ ہزار افراد کی جماعت کی معیت میں سفر کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
-
جب حضرت عائشہ (رضی اللہ تعالی عنہا) کا لشکر مکہ سے نکلا تو مسلمانوں کے بیت المال کو تباہ کر دیا، علی رضی اللہ تعالی عنہ کے عاملوں کو قتل کیا، عثمان بن حنیف انصاری کو جو کہ حضرت علیؓ کی طرف سے بصرہ کے عامل تھے، نکال دیا.
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ إرشاد فرمایا، اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا حجرہ جو کہ منبر سے مشرق کی جانب تھا اشارہ کر کے کہا، اس جگہ فتنہ ہے جہاں سورج طلوع ہوتا ہے، شیعہ کہتے ہیں کہ فتنہ سے مراد عائشہ ہے، جو کہ امیر المومنین کے ساتھ لڑنے کے لئے بصرہ گئیں، اور ہزاروں مسلمانوں کے قتل کا باعث ہوئیں
-
شیعہ کے ان خفیہ خاکوں پر تبصرہ
-
اللہ تعالی کے مخصوص بالقدم اوربالازل ہونے کے عقیدہ پرتبصرہ:
-
رافضی کے اس قول پرتبصرہ کہ اللہ کے ماسوا سب حادث ہیں :
-
رافضی کے اس قول پرتبصرہ کہ وہ واحد ہے نہ وہ جسم ہے نہ جوہر:
-
[اللہ تعالی عادل اورحکیم ہیں] پر تبصرہ:
-
گناہ کی سزابغیر ظلم کے؛پر تبصرہ
-
ہدایت عالم کے لیے مرسلین علیہم السلام کی بعثت پر تبصرہ
-
حواس سے اللہ تعالی کے ادراک کا عقیدہ؛ اور اس پر تبصرہ
-
نفرت کے وجوب اور اعتماد کے خاتمہ کے قول پر تبصرہ :
-
انبیاء اور ائمہ کی عصمت پر تبصرہ:
-
شیعان علی ہی قاتلین حسین (شیعہ کتب)
-
جنگ صفین اور واقعہ تحکیم کے متعلق تاریخی روایات کا حقیقت پسندانہ تجزیہ
-
مختلف اسلامی فرقوں اور متعدد اھل فقہ کے درمیان قرب و اتحاد (محب الدین اخطیب)
-
مغیرہ پر حد زنا قائم نہ کی اور گواہ کو خود تلقین کی.
-
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت صحابہ کرام کو ناگوار تھی کہ وہ کنبہ پرور تھے۔ (ریاض النصرہ، عادلانہ دفاع)
-
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا لوگوں کو قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ پرآمادہ کرتی تھیں۔ (العقد الفرید، انسان العيون، اسد الغابہ، لسان العرب، الامامہ والسیاسہ، اعلام النبلاء، الکامل فی التاريخ، ابوہریرہ)
-
شہادت حسین رضی اللہ عنہ- اسباب ونتائج
-
اللہ عزوجل کے بارے میں رافضی شیعہ اثنا عشریہ کے اعتقاد
-
شیعہ کہتے ہیں کہ امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ و جدل کیا ہے ملک میں فتنہ فساد برپا کیا خونریزی کو حلال جاننا اس طرح آپ سے قتال کرنے والوں نے اسلام کی رسی کو اپنی گردن سے نکال دیا۔
-
جنازہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، الصلوات خیر من النوم، تراویح ، ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گھروں میں رہنے کا حکم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھاپر جھوٹ(مغافیر بولنے کا الزام)
-
کامل الزیارات نامی شیعہ کتاب میں خانہ کعبہ کی بدترین توہین اور کرب و بلا (کربلا) کا بلند مقام (نعوذبااللہ)
-
جنگ جمل: تاریخ اسلام
-
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف کی حقیقت جنگ جمل
-
امی سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگِ جمل کیوں کی؟ اور کس کی اجازت سے کی؟
-
محمدبن ابی بکرکو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کی بددعا
-
گالم گلوچ ایمان کا حِصّہ ہے(معاذاللہ)
-
اہل تشیع کا پہلا اصول دین توحید
-
لفظ شیعہ کےاصطلاحی معنی
-
ابتداء شیعت
-
اہل تشیع کا دوسرا اصول دین نبوت
-
لفظ مباشرت ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور رافضیوں کا دجل
-
اہل تشیع اور تحریف القران
-
اہل تشیع کا تیسرا اصول دین: قیامت پر ایمان
-
اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت
-
اہل تشیع کا پانچواں اصول دین عدل
-
کیا کسی آدی کو دینِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں کمی بیشی کرنے کا اختیار ہے ؟ اگر نہیں تو حضرت عمررضی اللہ عنہ کا اذان میں
-
ارشاد فرمائیں کہ مومن کو عمدا قتل کرنے والا لعنتی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا تو جمل، صفین اور نہروان کے کل مقتول ٥٧٨٠٧ کے قاتل کہاں جائیں گے؟ کیا کلام مجید کے قوانین سے صحابہ کرام (رضوان اللہ علیھم اجمعین) مستثنی ہیں؟
-
حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے داماد تھے۔
-
فتنوں کا زمانہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
-
مذہب شیعہ کا آغاز و تعارف
-
کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ معاہدے کی شرائط پوری نہ کیں؟
-
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی بیعت یزید کے حوالے سے پیش کی جانے والی روایت
-
تفسیر اتقان جلد اول ص 60 پر علامہ سیوطی نے لکھا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اقرار کیا کہ ان کے جمع کردہ قرآن میں غلطیاں ہیں۔ مگر ان کی تصحیح عرب خود ہی کر لیں گے۔ جواب دیجیے۔ اس قول کی موجودگی میں قرآن کو غلطیوں سے پاک ماننے کا عقیدہ آپ کے مذہب کے مطابق کِس طرح درست ہوا؟
-
اہل سنت صدور برائیوں کا باری تعالی سے تجویز کرتے ہیں۔ اس تجویز سے ذات خداوندی کی بے ادبی ظاہر ہوتی ہے۔ عقلا جواب دیں کہ یہ عقیدہ کیوں کر معقول ہے؟
-
آپ حضرات خود کو سنی یا اہلِ سنت والجماعت کہلواتے ہیں۔ برائے مہربانی کتب صحاح ستہ میں کوئی ایسی روایت دکھائیے جِس میں ابوبکر، عمر، عثمان (رضی اللہ عنھم) میں سے کِسی ایک نے بھی یہ کہا ہو کہ میں سنی ہوں ہو یا میرا مذہب اہلِ سنت والجماعت ہے۔ حوالہ مکمل دیجیے۔۔۔ اور پیش کردہ روایت کی توثیق بھی تحریر فرمائیے۔
-
کیا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ناحق قتل کرواتے تھے اور ناجائز مال کھانے کا حکم دیا کرتے تھے؟ (صحیح مسلم، مسند احمد)
-
امام مہدی علیہ السلام کے متعلق صحیح عقیدہ
-
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حجر بن عدی کا معاملہ مکمل اور مستند تحقیق
-
سنی و شیعہ کے مجموعات حدیث میں تعداد روایات (قسط 6)
-
اہل تشیع کا علم الدرایہ اور اہلسنت کا فن مصطلح الحدیث (قسط 11)
-
مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا پہلا مؤقف (دعوت ذوالعشیرہ) نبوت کے تیسرے سال حضرت علی کی خلافت کا اعلان ہوگیا تھا اور وہ مشہور بھی ہو گیا۔(قسط 2)
-
کیا مروان کی طرف سے اہل بیت اور امام حسن رضی اللہ عنہ کو معلون قرار دیا گیا ؟ (معاذاللہ )
-
فرضی امام مہدی کا خوف قتل، جان بچا کر غائب ہونا اور خیر طلب کے دلائل کا رد
-
مسئلہ خلافت میں اہل تشیع کا دوسرا مؤقف نبوت کے آخری سال آخری حکم حضرت علی کی خلافت کا اعلان کرنا تھا یہ حکم پہلے نہیں دیا گیا تھا!(قسط 3)
-
شیعہ کی سیاسی تاریخ
-
کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کا لشکر باغی ہے ؟ بخاری حدیث نمبر 2812 کی وضاحت
-
مسلم و شیعہ دین تاریخ کی نظر میں قسط 1
-
رافضیوں کے مشہور فرقے
-
کیا ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے غزوہ احد میں حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبایا تھا؟
-
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور بت فروشی (شیعہ اعتراض کا تحقیقی رد)۔
-
قتل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اجماع کا رافضی دعوی اور اس پر رد
-
قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے سب سے پہلے ذات باری تعالیٰ نے انتقام لیا۔
-
سمرہ بن جندب ، صحابی تاجر شراب !+سند
-
مالک بن حارث الاشتر النخعی (منافقین کا سردار)
-
کیا مالک اشتر قتل عثمان رض کو ناپسند کرتا تھا؟
-
تحکیم کا مشہور واقعہ اور اس کا بطلان
-
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان ہونے والی جنگوں کے بارے میں اہل سنت کا موقف
-
یہودیوں کا مختصر تعارف
-
تعارف باغ فدک
-
فدک کے بارے میں شیعہ علماء کا تیسرا مؤقف
-
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت میں وضع کردہ روایات
-
حضرت عائشہ (رضی اللہ تعالی عنہا) نے بصرہ کا سفر کیا حجاب کے حکم کی خلاف ورزی کر کے خدا و رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی، سولہ ہزار افراد کی جماعت کی معیت میں سفر کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
-
جب حضرت عائشہ (رضی اللہ تعالی عنہا) کا لشکر مکہ سے نکلا تو مسلمانوں کے بیت المال کو تباہ کر دیا، علی رضی اللہ تعالی عنہ کے عاملوں کو قتل کیا، عثمان بن حنیف انصاری کو جو کہ حضرت علیؓ کی طرف سے بصرہ کے عامل تھے، نکال دیا.
-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ إرشاد فرمایا، اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا حجرہ جو کہ منبر سے مشرق کی جانب تھا اشارہ کر کے کہا، اس جگہ فتنہ ہے جہاں سورج طلوع ہوتا ہے، شیعہ کہتے ہیں کہ فتنہ سے مراد عائشہ ہے، جو کہ امیر المومنین کے ساتھ لڑنے کے لئے بصرہ گئیں، اور ہزاروں مسلمانوں کے قتل کا باعث ہوئیں
-
شہادتِ خلیفہ سوم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ قسط اول
-
شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ قسط دوم
-
شہادتِ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ قسط سوم
-
شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ قسط چہارم
-
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بغض رکھنے کی سزا قسط ششم
-
تحریف قرآن کے موضوع پر شیعہ کتب
-
افہام و تفہیم
-
حدیث مدینہ العلم
-
شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ
-
ہدایت کی کہانی اپنی زبانی داستان هدایت (سابق شیعہ مجتہد آیت الله علامہ ابو الفضل برقعی)
-
شیعوں کی شروع سے قرآن و سنت پر مبنی اسلام اور اسکے پیروکار مسلمانوں سے عداوت اور اسکے اصلی اسباب
-
صدیق رضی اللہ عنہ کا دروازہ
-
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ام جمیل نامی عورت سے زنا کیا۔ (کتاب المختصر، المستدرک، البدایہ والنہایہ تاریخ الامم والملوک)
-
حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما نے مقام حواب پر جھوٹی گواہی دلائی۔
-
معارج النبوۃ مصنفہ ملا معین کاشفی
-
کتاب الفتوح: اعثم کوفی مصنفہ احمد ابن اعثم کوفی
-
روضته الصفاء مصنفہ محمد میر خواند
-
المحاضرات مصنفہ حسین ابن محمد الراغب اصفہانی
-
خطباتِ محرم مصنفہ فقیه ملت مفتی جلال الدین امجدی
-
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے فحش الفاظ استعمال کرنا
-
صلح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شرائط کا افسانہ
-
پاکستان کے لیے نئے اسرائیل کے قیام کی سازش
-
فصل: رافضیوں کا جھوٹ اور علم سے تہی دامنی
-
فصل:....قضاء و قدر پر رافضی کا کلام
-
سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے تخت خلافت سنبھالتے ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معزول کردیا کا الزام:
-
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے اقارب کو نوازا تھا
-
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا حکم رضی اللہ عنہ کو واپس بلا کر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی حکم عدولی کی تھی؟
-
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مسلسل بارہ سال سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر محض رشتہ داری کی بناء پر بنایا تھا
-
اللہ تعالیٰ کے عدل اور حکمت کے بارے میں اہل سنت کا عقیدہ:
-
کیا اللہ تعالی کے افعال معلل بالحکم ہیں ؟
-
فصل دوم : امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت:
-
فصل ....رافضی کا قول کہ ’’بھلا یہاں کون سی شرکت ہے؟‘‘ اور اس کا رد
-
خلافت صدیقی سے متعلق ابن حزم رحمہ اللہ کا زاویہ نگاہ
-
خارجی فرقے اور ان کے متعلق فتوی
-
فصل:....رافضی مذہب کے راجح ہونے کا دعوی اور اس پر رد ّ
-
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے متعلق علماء کے مختلف افکار و آراء
-
فصل: ....خطبہ جمعہ اور خلفائے راشدین کا ذکر
-
فصل: ....میراث حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مسئلہ
-
فصل : ....ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رافضی اعتراضات
-
فصل:....حضرت عائشہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے متعلق رافضی پر رد
-
فصل:....کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات اوران کے جوابات
-
فصل:....حضرت امیر معاویہ کے کاتب وحی ہونے پر اعتراض
-
فصل:....رافضی دعوی کا فساد
-
فصل:....بقول روافض اہل یمامہ مرتد نہ تھے
-
فصل:....اہل سنت پر تعصب کا الزام
-
ماہ رجب اور رسم کونڈا از: مولوی رئیس احمد عرشی کلیری
-
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جاہل اور ظالم کی رافضی تقس
-
امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل
-
گیارھویں فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خصوصی اوصاف
-
امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین امنوا﴾ اور اس پر رد
-
امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اٹھائیسویں دلیل:
-
امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسویں دلیل:
-
امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اڑتیسویں دلیل:
-
باب سوم :....تیسرا منہج : امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر احادیث نبویہ سے استدلال
-
امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چھٹی حدیث:’’حدیث مؤاخاۃ ‘‘:
-
چوتھا منہج : احوال حضرت علی رضی اللہ عنہ سے امامت پر استدلال فصل :....آپ بہت بڑے عابد و زاہد اور حد درجہ عالم و شجاع تھے
-
فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اعلم الناس تھے
-
[حضرت علی رضی اللہ عنہ سب سے بڑے قاضی؟]:
-
فصل:....[علوم علی رضی اللہ عنہ سے استفادہ]
-
فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ اورعلم نحو]
-
فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم کلام
-
فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم تصوف
-
فصل:....[غیبی امور کی خبریں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ]
-
فصل:....[خلاف علی رضی اللہ عنہ اجماع]
-
فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سلسلہ اعتراضات ]
-
فصل:....[حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یقین و ثبات]
-
فصل:....آیت ﴿قل للمخلفین﴾سے شیعہ کا استدلال
-
آیت تطہیر
-
شیعہ اور قرآن کریم
-
شیعہ کے ان خفیہ خاکوں پر تبصرہ
-
اسماعیلیوں کے عقائد اور اسماعیلیوں کی عبادات
-
تنظیم حزب اللہ کی حقیقت اور حزب اللہ کی حقیقت
-
بہائیوں کے فقہی احکام اور بہائیوں کی مقدس کتابیں
-
تعدادبنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم
-
آیت استخلاف فی الارض
-
عراقی شیعہ
-
افغانی شیعہ
-
عراق کے متعلقہ ایرانی عزائم کا تذکرہ
-
جنوب عراق پر شیعہ کی خرمستیاں
-
عراقی انتخابات میں ایرانی دخل اندازی
-
عراق کے اندر قاتلانہ حملوں کے نمائندے
-
اللہ تعالی کے مخصوص بالقدم اوربالازل ہونے کے عقیدہ پرتبصرہ:
-
رافضی کے اس قول پرتبصرہ کہ اللہ کے ماسوا سب حادث ہیں :
-
رافضی کے اس قول پرتبصرہ کہ وہ واحد ہے نہ وہ جسم ہے نہ جوہر:
-
عمل بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و متعہ
-
[اللہ تعالی عادل اورحکیم ہیں] پر تبصرہ:
-
[پہلا قول:قائلین تقدیرکے ہاں ظلم کا مفہوم:]
-
گناہ کی سزابغیر ظلم کے؛پر تبصرہ
-
ہدایت عالم کے لیے مرسلین علیہم السلام کی بعثت پر تبصرہ
-
حواس سے اللہ تعالی کے ادراک کا عقیدہ؛ اور اس پر تبصرہ
-
نفرت کے وجوب اور اعتماد کے خاتمہ کے قول پر تبصرہ :
-
انبیاء اور ائمہ کی عصمت پر تبصرہ:
-
ائمہ شیعہ معصومین اور حصول علم دین:
-
الطوسی کی کتاب تہذيب الأحكام كا سبب تالیف کیا ہے اور اس میں کتنی احادیث ہیں؟
-
فتنہ خلق قرآن اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا دور ابتلاء:
-
شیعہ مذہب جھوٹ کا پلندہ:
-
شیعہ علماء کا صفات الہی کی تعطیل میں کیا عقیدہ ہے؟
-
شیعہ علماء کے عقیدے کی رو سے قیامت کے دن مومنوں کو اللہ تعالی کا دیدار ہونے کا حکم کیا ہے؟ اور جو شخص دیدار الہی کا قائل ہو اس کا حکم کیا ہے؟
-
ایک مفسد تاریخی شخصیت عبداللہ بن سبا
-
یہود کی تاریخ
-
کیا شیعہ علماء کے نزدیک کربلا اور کوفہ کی کوئی فضیلت ہے؟
-
شیعہ کا اسماعیلی فرقہ آغا خانی شیعوں کا مختصر تعارف
-
خاتمہ
-
دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وعدہ نصرت کیوں نہ فرمایا کیا یہ دونوں بزرگ دعوت ذوالعشیرہ میں شامل تھے اگر شامل نہ تھے تو یہ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی کیونکر ہو سکتے ہیں؟
-
ملاں لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شیعوں ہی نے قتل شہید کیا اور اب شیعہ اپنے ان مذموم افعال پر روتے پیٹتے ہیں تو سانحہ کربلا کے موقعہ پر اہل سنت نے امام مظلوم کی مدد کیوں نہ کی جب کہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں اس وقت اہل سنت موجود تھے۔
-
ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک نبی کی مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ پیغمبر کے انتقال پر ملال پر پیغمبر کی اولاد کو باپ کے ترکہ سے محروم کردیا گیا ہو جیسا کہ رسول زادی کو حدیث نحن معاشر الانبياء لا نرث و لا نورث ما تركناه صداقة۔ خلیفہ وقت نے سنا کر باپ کی جائیداد سے محروم کردیا تھا۔ (دیکھو بخاری: صفحہ، 161)
-
حادثہ جمل و صفین
-
مذہب اہل سنت و الجماعت کی بنیاد چارا اصولوں پر ہے۔ 1: قرآن مجید 2: حدیث المصطفىٰ 3: اجماع 4: قیاس سقیفہ کی کاروائی کو پیش نظر رکھ کر ارشاد فرمائیں کیا خلافت ثلاثہ قرآن مجید سے اور حدیث سےثابت ہے یا کہ اجماع کی مرہون منت ہے ہاں اگر اجماعی خلافت ہے تو قرآن مجید: وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ۞ (سورۃ الانعام: آیت 59) پر غور فرما کر ارشاد فرمائیں ان بزرگوں نے قرآن پاک سے اپنی خلافت کو کیوں ثابت نہ کیا جب کہ قرآن مجید میں ہر خشک و تر کا ذکر موجود ہے اگر سقیفہ کی کاروائی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کی تصدیق میں کوئی آیت و حدیث پیش نہیں کی تو آج کا مسلمان کیا حق رکھتا ہے کہ وہ ان بزرگوں کی خلافت قرآن و حدیث سے ثابت کرے۔
-
اگر کوئی شخص خلیفہ وقت کو نہ مانے اور اس کی علی الاعلان مخالفت کرے تو ایسے شخص کی کیا سزا ہے مگر یاد رہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت طلحہٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ وقت حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے جنگیں کی ہیں واقعات جنگ جمل و صفین و نہروان کو پیش نظر رکھ کر فتویٰ صادر فرمائیں کہ خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والے کی سزا کیا ہے؟ انصاف مطلوب ہے۔
-
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے تعلقات خلافت عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیسے تھے؟ کیا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا تھا کہ اس بڈھے نعثل کو قتل کر دو خدا اسے قتل کرے اگر ایسا ارشاد فرما کر آپ رضی اللہ عنہا مکہ تشریف لے گئیں تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی خلافت ظاہری کو سن کر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو کس طرح انہوں نے مظلوم تسلیم کر لیا کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے دیرینہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو ذاتی رنجش نہ تھی ارشاد فرمائیں کہ جنگ جمل حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی حمایت میں ظہور پذیر ہوئی یا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی دیرینہ دشمنی کا نتیجہ تھی۔
-
رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے ہوں مثلاً جنگ بدر احد خندق خیبر حنین مکہ تبوک وغیره تو ان تمام جنگوں میں نمایاں کارروائی کس بزرگ کی ہے کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر عالم عابد سخی امین کوئی اور بزرگ بھی ہے اگر کسی کا نام لینا چاہیں تو ارشاد فرمائیں اس بزرگ نے بدر احد خندق خیبر حنین وغیرہ میں کتنے دشمن اسلام قتل کیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے کافر قتل کیئے اور اپنے دور حکومت میں اپنی تلوار سے کتنے مشرک مارے۔
-
تاریخ میں اسماعیلیوں کا منفی کردار
-
حدیث قرن الشیطان کا مصداق
-
مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار
-
مسئلہ وراثت انبیاء علیہم السلام
-
حدیبیہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اضطراب کی وجہ
-
ابنِ سباء یہودی کا فتنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف شورش
-
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کس طرح ہوئی؟
-
سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید حرام ہے
-
فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات
-
بعض اختلافی مسائل
-
رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ اول)
-
شہادت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ قسط چہارم
-
مختصر تبصرہ (کیا باغ فدک ہبہ ہوا تھا؟)
-
مختصر تبصرہ (اہل تشیع)
-
مختصر تبصرہ (مناظرہ بعنوان فدک)
-
تبصرہ بر موضوع فدک (اہل سنت)
-
مختصر تبصرہ (اہل سنت)
-
مختصر تبصرہ (اہل سنت)
-
مذھب اہل بیت علیھم السلام مذھب تشیع (تبصرہ بر مناظر)*
-
مختصر تبصرہ(اہل سنت)
-
تبصرہ منجانب اہلسنت والجماعت مذہب حقہ
-
سُنی مناظر کا تبصرہ اور شیعہ مناظر کا جواب (قسط 47)
-
محمد حسن شیعہ مناظر کا تبصرہ (قسط 45)
-
شیعہ مناظر الف پر گفتگو ختم کرچکا تبصرہ بھی لکھ چکا، اس کے باوجود دوبارہ الف کی طرف دوڑیں!(قسط 32)
-
مناظرہ باغ فدک: کیا سیدہ فاطمہ حضرت ابوبکر صدیق سے ناراض ہوئی تھیں؟(مولانا علی معاویہ اور ڈاکٹر حسن عسکری)
-
عقیدہ امامت و خلافت کی حقیقت اور رافضی دلائل کا رد
-
آیت تطہیر پر شیعہ کا قیاس باطل
-
تحریف قرآن پر خیر طلب سے فیس بک پر مکالمہ
-
مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 4
-
مناظرہ ابن سبا موجد عقائد شیعیت کے ختم ہونے کے بعد واٹس آپ گروپ پر ممبرز کے تبصرے
-
اہل سنت دلیل 3 قدیم ترین ثقہ شیعہ عالم سعد بن عبداللہ القمی کا اعتراف بمعہ تین أصحاب ابن سبا کے نام
-
شیعہ مناظر کی جوابی دلیل کا رد: العلویہ شیعہ کا پہلا فرقہ تھا!
-
رانا سعید شیعہ کی منافقت :عنوان/موضوع میں لفظ افسانہ پر شور شرابا کرتا رہا اورخود اہل تشیع مؤقف میں افسانے کو شامل کرنے پر مجبور!!
-
رانا سعید شیعہ کے جھوٹ ، اسی کی زبانی بے نقاب! (اسکرین شاٹس )
-
رانا محمد سعید شیعہ کی گندی ذہنیت! اپنی تربیت کو عیاں کردیا!
-
رانا محمد سعید شیعہ کے جھوٹ کا پردہ چاک!
-
قاتلین عثمان میں سبائی گروہ کا براہ راست ملوث ہونا اور ابن سبا کا خفیہ کردار!
-
علی میلانی شیعہ پوچھے گئے نکات سے بھی فرار ، بار بار دعویٰ رکھنے کا ضد!
-
باغ فدک (مال فئے) نبی کی ذاتی ملکیت تھا یا نہیں؟
-
خمس خیبر میں سے رسول اللہ ص کا حصہ بھی خاص نبی کی ذاتی ملکیت ہے۔(شیعہ مناظر)
-
مختصر تبصرہ (کیا باغ فدک ہبہ ہوا تھا؟)
-
مختصر تبصرہ (مناظرہ بعنوان فدک)
-
تبصرہ بر موضوع فدک (اہل سنت)
-
مذھب اہل بیت علیھم السلام مذھب تشیع (تبصرہ بر مناظر)*
-
مختصر تبصرہ(اہل سنت)
-
تبصرہ منجانب اہلسنت والجماعت مذہب حقہ
-
سُنی مناظر کا تبصرہ اور شیعہ مناظر کا جواب (قسط 47)
-
محمد حسن شیعہ مناظر کا تبصرہ (قسط 45)
-
ھادی شیعہ مناظر اور دیگر ممبرز کے تبصرے۔ (قسط 44)
-
اہلسنت ممبرز کی طرف سے کچھ تبصرے(قسط 40)
-
شیعہ مناظرعاجز اور مناظرے سے راہ فرار (قسط 37)
-
کیا سیدہ فاطمہؓ کی حضرت ابوبکرؓ سے ناراضگی خود ان سے ثابت ہے؟ (قسط 35)
-
شیعہ مناظر الف پر گفتگو ختم کرچکا تبصرہ بھی لکھ چکا، اس کے باوجود دوبارہ الف کی طرف دوڑیں!(قسط 32)
-
امام زہری کا ادراج اور حقائق (قسط 29)
-
حق زہرا : سُنی و شیعہ لاجواب مناظرہ (شیعہ مناظر ہر دلیل پر لاجواب)(قسط 27)
-
سنی مناظر کی شیعہ گروپ میں دوبارا واپسی! (قسط 26)
-
شیعہ مناظر کی املائی غلطی لفظ ادراج یا اندراج!(قسط 16)
-
سیدہ فاطمہ ناراض ہوگئیں اور وہاں سے چلی گئیں اور آخر عمر تک خلیفہ سے بات تک نہیں کیں۔ یہاں تک کہ نماز(جنازہ) میں بھی شرکت کی اجازت نہیں دی۔(شیعہ مناظر)(قسط 9)
-
شیعہ کہتے ہیں جناب فاطمہ ع نے فدک اور اپنے دوسرے حقوق کا مطالبہ کیا جب خلیفہ نے دینے سے انکار کیا تو آپ ناراض ہوئیں اور بائیکاٹ کی حالت میں دنیا سے چلی گئیں۔ امیر المومنین ع کا بھی یہی نظریہ تھا کہ جناب فاطمہ کو ان کا حق نہیں ملا اور اپ خلیفہ اول اور دوم کے استدلال کو رد کرتے انہیں جھٹلاتے تھے۔(قسط 3)
-
شیعہ مناظر کی وہ تحریر جو مختلف واٹس اَپ گروپس میں کچھ عرصے سے بار باربھیجی جاتی رہی اور اہل سنت کو اس تحریر کی ترتیب کے مطابق مناظرے کا چیلینج دیاجاتا رہا!(قسط2)
-
ان مصاحف کی تعداد جنھیں عثمان رضی اللہ عنہ نے مختلف شہروں کو روانہ کیا۔
-
سنی شیعہ مکالمہ عقیدہ امامت
-
یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا
-
رانا سعید شیعہ کے جھوٹ ، اسی کی زبانی بے نقاب! (اسکرین شاٹس )