Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

لوگوں کو برانگیختہ کرنے والے وسائل و اسلوب اختیار کرنا

  علی محمد الصلابی

لوگوں کو برانگیختہ کرنے والے وسائل میں سب سے اہم اسلوب سنسی خیز افواہوں کی اشاعت تھی۔ پھر لوگوں کو سیدنا عثمان غنیؓ کے خلاف بھڑکانا، اور براہ راست لوگوں کے سامنے خلیفہ سے مناظرہ و مجادلہ پر اتر آنا اور گورنروں کے خلاف طعن و تشنیع اور اعتراضات کی بھرمار تھی۔ اسی طرح اکابرین صحابہ کرامؓ ام المؤمنین عائشہ، علی، طلحہ، زبیر رضی اللہ عنہم کے نام منسوب جعلی اور من گھڑت خطوط پھیلانا اور پھر یہ اشاعت کرنا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلافت کے زیادہ حق دار ہیں، حضرت علیؓ رسول اللہﷺ کے بعد آپ کے وصی ہیں، بصرہ کوفہ اور مصر میں خلیفہ مخالف تنظیم قائم کرنا، اور ہر شہر میں چار چار جماعتیں تشکیل دینا جو اس بات کی دلیل ہے کہ پہلے سے اس کی منصوبہ بند تدبیر کی گئی تھی، اور مدینہ والوں کو باور کرایا کہ یہ لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی دعوت پر مدینہ آئے ہیں۔ اور پھر حالات کو اس قدر کشیدہ کیا کہ قتل کی شکل میں نتیجہ ظاہر ہوا۔ ان وسائل کے ساتھ ساتھ انہوں نے مختلف نعرے استعمال کیے مثلاً تکبیر، اور یہ کہ ان کا یہ جہاد ظلم کے خلاف ہے، وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کر رہے ہیں، گورنروں کی تبدیلی اور معزولیت کا مطالبہ، اس مطالبہ نے ترقی کرتے ہوئے خلیفہ کی برطرفی کی شکل اختیار کر لی، پھر ان کی جرأت اس قدر بڑھی کہ خلیفہ کو قتل کرنے میں تیزی دکھائی، خاص کر جب انہیں یہ خبر ملی کہ خلیفہ کی نصرت کے لیے صوبوں سے کمک پہنچ رہی ہے، خلیفہ پر گرفت کے جذبات بھڑکے، اور کسی بھی طرح خلیفہ کو قتل کرنے کا شوق بڑھا۔

(دراسات فی عہد النبوۃ و الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 402)