والیان ریاست سے وفود بھیجنے کا مطالبہ
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے گورنران سے مطالبہ کرتے تھے کہ وہ ریاست کے کچھ افراد پر مشتمل وفد بھیجا کریں تاکہ آپؓ ان سے ان کے شہروں کے حالات اور حکومت کی عائد کردہ خراج لگان کے بارے میں معلومات لے سکیں اور آپؓ کو یقین ہو جائے کہ گورنر ظلم تو نہیں کر رہے ہیں۔ آپؓ وفد سے گورنران کے ظلم نہ کرنے کی گواہی لیتے تھے چنانچہ جب کوفہ سے خراج کا مال آپؓ کے پاس آتا تھا تو اس کے ساتھ باشندگان کوفہ میں سے دس افراد پر مشتمل ایک وفد ہوتا تھا، اسی طرح بصرہ سے آنے والے خراج کے ساتھ ایک وفد ہوتا تھا۔ جب وہ لوگ آپؓ کے سامنے آتے تو حلفیہ گواہی دیتے کہ یہ مال حلال اور پاک ہے اس میں کسی مسلمان یا ذمی پر ظلم کا مال نہیں ہے۔
(ابحراج: أیوسف: صفحہ 124، الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 157) آپؓ کی یہ حکیمانہ کارروائی والیان ریاست کو لوگوں پر ظلم کرنے سے روکنے میں کافی مؤثر تھی کیونکہ انہیں معلوم ہوتا تھا کہ اگر ان کی طرف سے کچھ بھی ظلم ہو گا تو یہ وفد امیر المؤمنین تک اسے پہنچا دے گا اور آپؓ کو اس کی اطلاع ہو جائے گی۔ عموماً حضرت عمرؓ ان وفود سے کافی بحث و مباحثہ کرتے اور کرید کرید کر ان کے شہروں اور گورنروں کے اخلاق و برتاؤ کے بارے میں پوچھتے۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 157)