مطاعن قرآنی یعنی ایک سو سوال کی صورت میں قرآن کا انکار
مولانا مہرمحمد میانوالییہ ایک حقیقت ہے کہ شیعہ دعویٰ اسلام کے باوجود قرآن کے منکر ہیں۔ اس پر مفصل و ضخیم کتابیں انہوں نے لکھی ہیں۔ قرآن کے الفاظ و معانی پر غیر مسلموں کی طرح اعترضات کیے ہیں۔ 1986ء میں حکومتِ ایران نے تحریف سے بھرپور قرآن شائع کیا اور حکومتِ پاکستان نے اس پر پابندی لگا دی۔ عیسائی بھی قرآن کے وحی الہٰی نہ ہونے پر شیعوں کے عقیدہ اور روایات سے استدلال کرتے ہیں۔ (دیکھئے سیارہ دائجسٹ قرآن نمبر)
اس مسئلہ پر کچھ بحث ہم نے تحفہ امامیہ اور ہم سنی کیوں ہیں میں کر دی ہے۔ یہاں مختصراً انکارِ قرآن پر مشتمل سو سوالات کے جواب میں چیدہ چیدہ باتیں عرض کی جائیں گی۔
سوال نمبر 198: اگر مذہبِ سنیہ مدعی ہے کہ قرآن مجید اصلی ہے تو حدیثِ متواتر سے ثابت کرے کہ قرآن اصلی ہے۔ حالانکہ بلاشک قرآن مجید اصلی کتاب ہے۔
جواب: شیعہ بلاشک کہ کر جھوٹی بات ہی بتاتے ہیں۔ قرآن (از الحمد تا والناس تیس پارے) کو شیعہ اصلی کتاب مانتے تو اسے بے اعتبار و غلط بتانے کے لیے 100، 100 سوالات کیسے گھڑتے اور الفصل الخطاب فی تحریف کتاب رب الارباب جیسی کتاب کیوں لکھتے؟ جو ابو الحسن نوری طبرسی ایرانی نے لکھی ہے۔
اہلِ سنت کی کتبِ حدیث میں باب فضائل القرآن ابواب القرآن وغیرہ کی وہ سینکڑوں احادیثِ نبوی جو لفظاً و معناً متواتر ہیں۔ یہی بتا رہی ہیں کہ قرآن اصلی ہے نقلی اور جعلی نہیں ہے۔ چند ملاحظہ ہوں:
1: لوگو! فتنوں کے زمانہ میں قرآن کے ذریعے بچ سکو گے۔ اللہ کی کتاب میں اگلوں اور پچھلوں کی خبریں ہیں۔ تمہارے اختلافات کے فیصلے ہیں۔ حق و باطل کے درمیان فصیل ہے۔ دل لگی اور مزاح کی بات نہیں ہے جو جبار اسے چھوڑے گا، اللہ اسے توڑے گا جو اس کے بغیر ہدایت طلب کرے گا خدا اسے گمراہ کرے گا۔ یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے ذکرِ حکیم ہے اور صراطِ مستقیم ہے۔ الخ (ترمذی، دارمی، مشکوٰۃ: صفحہ، 186)
2: حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا: اے لوگو! تمہارے درمیان ایک چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں اس کو مضبوط پکڑو گے تو گمراہ نہ ہو گے اور وہ خدا کی کتاب ہے پس اسے مضبوط تھام لو۔ (شیعہ کتاب حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 536)
(کتبِ اہلِ سنت میں یہاں سنت کا بھی ذکر ہے۔ شیعہ کتب میں ولایتِ سیدنا علیؓ یا تمسک بہ اہلِ بیتؓ کا بھی ذکر نہیں ہے۔)
3: بخاری شریف میں کتاب فضائل القرآن میں ایک باب یہ ہے کہ حضور اکرمﷺ نے قرآن وہی چھوڑا جو دو گتوں کے درمیان ہے پھر روایت ہے کہ معقل نے حضرت ابنِ عباسؓ سے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چھوڑا؟ تو سیدنا ابنِ عباسؓ نے کہا وہی چھوڑا جو دفتین میں ہے۔ محمد بن حنفیہ بن علیؓ سے ہم نے پوچھا تو انھوں نے بھی یہی کہا کہ قرآن دو گتوں میں چھوڑا۔ ایک اگلی روایت میں ہے:
اوصیٰ بکتٰب اللہ (صحیح البخاری: جلد، 2 صفحہ، 751)
ترجمہ: حضور اقدسﷺ نے کتاب اللہ کے متعلق تائید و وصیت فرمائی۔
یہ سب روایات دلالت کرتی ہیں کہ حضور اکرمﷺ دو گتوں کے درمیان (از الحمد تا والناس) کو قرآنِ اصلی بتا رہے ہیں اور اسی کی تاکید و وصیت فرما رہے ہیں اور یہ تعبیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زبان سے ہے ورنہ عہدِ نبوت میں گتوں کی جلد میں نہ تھا۔
سوال نمبر 199: حدیثِ متواتر بتلائیے کہ حضور اکرمﷺ نے قران منزل لکھوایا تھا اور اسی ترتیب سے لکھوایا تھا جس طرح نازل ہوا تھا اور جس طرح کہ موجود ہے؟
جواب: موجودہ ترتیب لوحِ محفوظ کی ترتیب ہے مگر نزول واقعات اور ضرورت کے مطابق تھوڑا تھوڑا ہوا۔ جب کوئی سورت یا آیت اترتی تو آپﷺ کاتبینِ وحی و قرآن کو بتا دیتے تھے اس سورت یا آیت کو فلاں سورت یا آیت سے پہلے یا بعد لکھ دو۔ پھر اسی ترتیب سے یاد کرواتے اور نمازوں میں پڑھتے۔ دونوں ترتیبوں کی وضاحت اتکان میں موجود ہے۔ اسی کی حفاظت کا خدا نے وعدہ کیا تھا۔
اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوۡنَ ۞
(سورۃ الحجر:آیت 9)
ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ یہ ذکر (یعنی قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
اور وہی پوری امت کے پاس موجود ہے۔
سوال نمبر 200: اتقان میں ہے کہ سب سے پہلے قرآن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جمع کیا ثابت ہوا کہ حضورﷺ نے جمع نہ فرمایا؟
جواب: حضور اکرمﷺ کا جمع صدری اور ترتیبی تھا۔ یعنی موجودہ ترتیب سے لوگوں کو قران حکیم یاد کرواتے رہے، اور حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عہدِ نبویﷺ کی تحریرات اور حافظوں کی شہادت سے یکجا کتابی شکل میں جمع کیا۔
سوال نمبر 201، 202: کیا سیدنا زیدؓ دو عادلوں کی گواہی کے بغیر کوئی آیت نہیں لکھتے تھے۔ اگر یہ صحیح ہے تو کیا فرمانِ رسولﷺ انہیں بھول گیا تھا اصحابی کالنجوم میرے صحابی رضی اللہ عنہم اجمعین ستارے اور عادل ہیں؟
جواب: قران کی عظمتِ شان کی خاطر گواہوں کی پابندی لازم کی۔ عادل اور نیک تو سبھی تھے مگر تحریری ثبوت اور اس پر گواہی قائم کرنے سے خطاء و غلطی کا امکان جاتا رہا۔ جیسے اب بھی پریسوں میں قرآن کی پروف ریڈنگ بار بار ماہر علماء و حفاظ سے کرائی جاتی ہے۔
سوال نمبر 203: بھی اس تقریر سے کافور ہو گیا کہ عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر شبہ نہیں، اہتمامِ قران مقصود ہے۔
سوال نمبر 204: حضرت زید رضی اللہ عنہ جب خود حافظ تھے تو پھر دو گواہوں سے کیوں پرکھوایا؟
جواب: بلاشک حافظ تھے۔ عہدِ نبویﷺ میں کاتب تھے اور انصار کے 4 بڑے جامعینِ قرآن سے تھے۔ (بخاری) تاہم وہ جمع و حفظ کی نسبت صرف اپنی طرف نہیں کرانا چاہتے تھے۔ انہوں نے برسرِ عام ہر ایک حافظ و قاری سے رابطہ قائم کر کے بڑی ذمہ داری سے قرآن کو کتابی شکل میں مدون کیا۔
سوال نمبر 205: سیدنا ابوبکر صدیقؓ حافظ نہ تھے۔ انہوں نے خود کیوں نہ لکھوایا؟ ورنہ دو گواہوں کے عادل ہونے کی کیا گارنٹی ہے؟
جواب: خود بھی حافظ تھے۔ (تہذیب نوی و تاریخ الخلفاء: صفحہ، 14) مگر حاکم و سربراہ ایسے کام اپنی نگرانی میں ماتحت ذمہ داروں سے ہی کرواتا ہے اور شہادت کے اصولِ عام کے تحت ایک صاحب کی تحریر، دو گواہوں کی گواہی اور پھر دیگر حافظوں سے تصدیق گارنٹی کی مکمل ضمانت ہے۔
سوال 206: جب حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ والی آیت ایک گواہ سے ثابت ہوئی تو طریقہ جمع محفوظ کیسے ہوا؟
جواب: اس روایت میں وجہ مذکور ہے کہ حضورﷺ نے ان کی گواہی کو دو گواہیوں کے برابر قرار دیا تو حفاظت و شہادت کا نصاب پورا ہو گیا۔
سوال نمبر 207: کیا سیدنا عمر، سیدنا زید، سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہم عادل ہیں؟
جواب: تینوں عادل ہیں۔ صرف ان کا دشمن تبرائی غیر عادل اور ظالم ہے۔
سوال نمبر 208: حضرت عمر فاروقؓ آیتِ رجم لائے، سیدنا زیدؓ نے تحریر نہ کی کہ سیدنا عمر فاروقؓ تنہا تھے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر اعتبار نہ کرنا جائز ہے؟
جواب: حضرت زید رضی اللہ عنہ نے اصولِ شہادت کو اپنایا، یہی قرآن کا حکم ہے کہ دو گواہ بناؤ جیسے حضرت قاضی شریح نے حضرت علی المرتضیٰؓ جیسے سچے کا دعویٰ قبول نہ کیا۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدہ اُمِّ ایمنؓ جیسے سچے گواہ قبول نہ کیے کہ وہ شہادت کا معیار نہ تھے۔ بالآخر دعویٰ خارج ہوا اور یہودی اسلام کی یہ اصول پرستی دیکھ کر مسلمان ہوا۔ جیسے قاضی شریح کے نزدیک فی نفسہٖ حضرت علی اور حضرت حسن رضی اللہ عنہما بے اعتبار اور غیر عادل نہیں۔ اسی طرح حضرت زید رضی اللہ عنہ کے ہاں سیدنا عمر، سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہا غیر عادل نہیں تعجب ہے کہ جمع قرآن میں اس محنت اور اصول پرستی کو دیکھ کر کافر تو مسلمان ہو جاتے ہیں اور رافضی دشمنِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و قرآن، کتاب اللہ پر تابڑ توڑ حملہ کرتا ہےـ
سوال نمبر 209: جمع قرآن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
جواب: مفصل وجہ ہم سنی کیوں ہیں؟ صفحہ، 151 تا 155 دیکھیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ جمع ہونے سے اصلی شکل میں آیا جسے حقیقتاً کتاب اللہ کہا جائے۔
وَاِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِيۡزٌ، بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ ۞ فِىۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ ۞
اب وہ تحریف اور دستِ بُرد سے محفوظ ہو گیا۔ ورنہ احادیث کی طرح یہودی اور مجوسی نمائدے الگ الگ صحیفے اور سورتیں بناتے پھرتے جیسے شیعہ ان کی ترجمانی کرتے ہیں اور پھر ناکام ہو کر قرآن اور جامعینِ قرآن پر دانت پستے ہیں۔
سوال نمبر 210 تا 212: کیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آیتِ رجم کو جزو قرآن مانتے تھے؟ تو انہوں نے اسے قرآن میں داخل کرنے کی کوشش کیوں نہ کی تھی ورنہ کیا غیر قرآن کو قرآن میں داخل کرنا چاہتے تھے یا قرآن سے ناواقف تھے؟
جواب: یہ آیت نازل ہوئی تھی اور سنی شیعہ کے اتفاق سے اب بھی رجم محصن کا حکم قرآنی باقی ہے مگر اسے منسوخ عن التلاوت کر دیا گیا تاکہ اس کی سختی اور شناعت نظروں سے اوجھل رہے۔ صرف ضرورت پر کام لیا جائے۔ اب بھی قانون کی کئی خاص جزئیات عوام سے مخفی رکھی جاتی ہیں۔
حضرت عمر فاروقؓ جزوِ قرآن مانتے تھے مگر نسخِ تلاوت کی آپؓ کو اطلاع نہ تھی اس لیے لکھوانا چاہتے تھے مگر شہادتِ دوم نہ ملی اور حکمتِ خداوندی سے نسخِ تلاوت کی یہی دلیل ظاہر ہوئی کہ نہ کسی کو یاد ہے نہ تحریر ہے۔ تو نہ لکھی گئی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اتنے بے اصول نہ تھے کہ اپنی طاقت اور منشاء سے قرآن میں حک و اضافہ کرتے۔ صرف خطبات میں لوگوں کو تنبیہ کرتے رہتے تھے کہ رجم حکمِ قرآنی ہے۔ رسول اللہﷺ نے اس پر عمل کیا ہم نے اس پر عمل کیا۔ کوئی اسے غیر قرآنی جان کر نہ چھوڑ دے۔ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں اسے حاشیہ قرآن میں لکھ دیتا۔ تاکہ کوئی غلط فہمی میں نہ پڑے (جیسے عصرِ حاضر میں پرویزی اور تجدد زدہ پڑ گئے ہیں مگر اب ضرورت نہیں کہ یہ تنبیہہ اور روایت در روایت رہنمائی کرتی رہے گی۔)
سوال نمبر 213: کیا حضرت علی المرتضیٰؓ کو قرآن کا علم حاصل تھا؟
جواب: یقیناً تھا کیونکہ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَة وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ (سورۃ آل عمران: آیت 164)
ترجمہ: وہ پیغمبر ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی اور بے خبری میں تھے۔ کے عموم میں سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہم کلاس اور شاگردِ رسول اللہﷺ تھے۔ شیعوں پر ہزار افسوس کہ وہ نادان دوستی میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو قرآن میں بھی شاگردِ رسولﷺ نہیں مانتے بلکہ پیدائشی عالمِ لدنی، تورات و انجیل و قرآن کا حافظ مانتے ہیں۔ ملاحظہ ہو (جلاء العیون: صفحہ، 180 حالات سیدنا علیؓ)
ہوئے تم دوست جس کے
دشمن اس کا آسمان کیوں ہو
سوال نمبر 214 تا 216: کیا حضرت زید اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما نے جمع قرآن میں حضرت علی المرتضیٰؓ سے مشورہ لیا۔ اگر لیا تو وہ کیا تھا؟ اگر نہیں لیا تو وجوہات سے آگاہ کریں؟
جواب: کسی شخصیت کے نام سے ہی پارٹی بازی اور تشیع گناہ ہے جو اسلام میں نزاع کی جڑ اور بدترین جرم ہے۔ رسولِ خداﷺ کا ایسوں سے ذرا تعلق نہیں۔ (سورۃ الاعراف: پارہ 7)
ایک کام جب خلیفہ وقت ذمہ دار کمیٹی کے اہتمام سے کروا رہے ہیں اور اس سے کوئی صحابیؓ اختلاف نہیں کرتا تو یہ سوال اٹھانے کی کیا ضرورت ہے کہ فلاں فلاں عالم و بزرگ سے کیوں مشورہ نہ لیا گیا؟ اور اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی لیا جاتا تو کوئی منافق پھر سے سوال اٹھا دیتا کہ ترجمان القرآن سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے کیوں نہ لیا گیا؟ اقراء الصحابہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو کیوں شامل نہ کیا گیا؟ سیدنا ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے کیوں پوچھا نہ گیا؟ حضرت عثمانِ غنیؓ کو شریکِ کار کیوں نہ بنایا گیا؟ یہ تشیع اور اشخاص کے نام سے دھڑے بندی کہیں رک سکتی تھی؟ معاف کیجئے! سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس مسئلے میں متفق اور ہم زبان تھے کسی کو اس کمیٹی کے افراد سے جمع کے طریق کار سے اختلاف نہ تھا۔ نہ ان کی علمیت و بزرگی پر شبہ تھا۔ لہٰذا سیدنا علی المرتضیٰؓ سے مشورہ کی ضرورت نہ تھی۔ البتہ اتقان کی ایک روایت بتاتی ہے کہ منجملہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی جمع قرآن کا خود مشورہ دیا تھا۔ جسے سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے قبول کر کے جمع قرآن کی کمیٹی بنا دی۔
اگر آپ وجوہات سے آگاہی چاہتے ہیں تو شیعی اصول پر، نقلِ کفر کفر نہ باشد، یہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مسلسل حفاظ کے شہید ہونے کی وجہ سے قرآن جمع کرنے کی ضرورت تھی جو خود رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو پڑھایا اور حفظ کرایا تھا، چونکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا اس قرآن سے تعلق ہی نہ تھا نہ انہوں نے لکھا پڑھا تھا بلکہ وہ تو باعتقاد شیعہ ایک اور قرآن کو چالو کرنا چاہتے تھے جو ان کو پیدائشی یاد تھا اور جس میں تمام امتِ محمدیہﷺ کی تکفیر و گمراہی، اُمہات المؤمنینؓ کو گالیاں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بناتِ طاہرات رضی اللہ عنہن کے ایمان اور نسب پر حملے اور متعہ جیسی فحاشی وغیرہ کی تعلیم تھی تو تلامذۂ نبوت، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول کریمﷺ کیسے اس حافظِ قرآن سے مدد لے کر صداقتِ اسلام، نبوتِ محمدیﷺ اور حقانیتِ قرآن کو اپنے ہاتھوں ہی ذبح کر کے دفن کر دیتے۔ (معاذاللہ)
سوال نمبر 217: جو قرآن حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت زید رضی اللہ عنہما نے جمع کیا اس کی ترتیب وہی تھی جو آج ہے۔
جواب: وہی ہے۔
سوال نمبر 218: اگر یہی ترتیب تھی ابو الحسن نے شرح بخاری میں یہ کیوں لکھا ہے۔ لیکن آیتوں اور سورتوں کی ترتیب نہ تھی؟
جواب: ابو الحسن نامی شارح بخاری ہمیں معلوم نہیں۔ ان کی بات نادرست ہے۔
سوال نمبر 219: عہدِ نبوت میں جب قرآن متفرق تھا مرتب نہ تھا تو حضور اکرمﷺ نے قرآن امت کو پہنچانے کا منصبی فرض ادا کیوں نہ کیا؟
جواب: آپ کے اعتراضات قرآن، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، خلفاء راشدینؓ اور خود رسول اللہﷺ پر گھوم پھر کر ان کو روند رہے ہیں جیسے کٹائی کے بعد گندم گاہی جاتی ہے اور ماشاءاللہ مسلمان بھی بنے پھرتے ہیں۔ ہم سنی کیوں ہیں میں بتایا جا چکا ہے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو قرآن یاد کرایا۔ کتابت بھی کرائی مگر جس ترتیب سے یاد کرایا اس ترتیب سے یکجا کتابت نہ کرائی کیونکہ آئے دن اضافہ ہو رہا تھا اور کچھ آیتیں منسوخ بھی ہو جاتی تھیں۔ آخری آیت تکمیلِ دین حجۃ الوداع کے موقع پر آیتِ سود وفات سے چند دن قبل نازل ہوئی تھی اب حضور اکرمﷺ کو فرصت نہ ملی کہ تکمیل کے بعد دوبارہ ایسے مرتب لکھواتے کہ منسوخ آیات سے پاک ہوتا۔ اب قدرتی لحاظ سے یہ کام جانشینِ پیغمبرﷺ کو ہی کرنا تھا جس کے شیعہ دشمن بنے ہوئے ہیں تو منصبِ نبوت میں کوتاہی کے ناپاک شیعی الزام سے حضرت رسول اللہﷺ پاک ہیں۔
سوال نمبر 220: آپ مذہب کی اساس اصحابِ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مانتے ہیں جو علم قرآنی سے واقف نہ تھے؟
جواب: تلامذہ نبوت اور تعلیم نبوت ہی کو اساس مذہب مانتے ہیں۔ قرآن کی بارش ان کے سامنے جبل نبوت پر برستی اور اس سے ان کے ایمانی اور قلبی کھیتیاں سیراب ہوتیں وہ جاہل نہ تھے ان کے مرتبہ و مقام سے جاہل تبرّا باز کو جہالت نصیب ہوـ
سوال نمبر 221: فیض الباری میں قسطلانی کا قول ہے کہ حضور اکرمﷺ نے مصحف کو جمع اس لیے نہ کیا کہ نسخ ہوتا رہتا تھا اگر جمع ہو کر پھر اٹھایا جاتا تو اختلاف کی نوبت آتی۔ سوال یہ ہے کہ نسخ کا علم کس کو تھا؟
جواب: یہ ساری روایت آپ کے شبہ کو حل کرتی ہے مگر قرآن دشمنی سے آپ اسے نشانہ طعن بنا رہے ہیں۔ آنحضورﷺ کو ناسخ کا پہلے علم ہوتا تھا پھر آپﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بتا دیتے تو وہ تلاوت چھوڑ دیتے۔ یوں قدرتی طور پر بھلا دی جاتی جیسے ارشادِ خداوندی ہے۔
فَلَا تَنۡسٰٓى اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ (سورۃ الأعلى: آیت 6، 7)
ترجمہ: آپﷺ ہمارا پڑھایا ہوا نہ بھولیں گے مگر جو اللہ بھلانا چاہے۔
اگر وہ باقاعدہ ترتیب وار کتابت کرا کر پڑھی جاتیں۔ تو نہ بھولتیں اور شدید اختلاف ہوتا۔ حتیٰ کہ منسوخ آیات جزو قرآن بن جاتیں۔
سوال نمبر 222، 223: انی تارك فيكم الثقلين (ان میں ایک کتاب اللہ ہے) اور سیدنا عمر فاروقؓ نے کہا حسبنا كتاب الله (ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے) جب کتاب مرتب ہی نہیں تو کیا چھوڑا اور کسے کتاب اللہ کہا؟
جواب: زندگی کے آخری دنوں میں یہ فرمایا ذہناً و حفظاً وہ مرتب و محفوظ تھا تو اس کے چھوڑ جانے اور کافی ہونے کا حوالہ بالکل درست ہے۔ قرآن نے بار بار کتاب اتارنے کا حوالہ دیا ہے۔ پارہ 1، 8، 21
اَوَلَمۡ يَكۡفِهِمۡ اَنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ (سورۃ العنکبوت: آیت 51)
سوال نمبر 224، 225: جمع قرآن کا الہام پہلے حضرت ابوبکرؓ کو ہوا یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو؟ پھر سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا زید رضی اللہ عنہما نے اس الہامی خلیفہ پر اعتماد کر کے آیتِ رجم کیوں قبول نہ کی؟
جواب: سیدنا عمر فاروقؓ کو جنگِ یمامہ میں سات صد حفاظ و قراء صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شہادت پر الہام ہوا، حدیثِ نبوی میں ہے کہ پہلی امتوں میں بھی ملہم من اللہ ہوتے تھے میری امت میں ہوئے تو ان میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی ہوں گے۔ (بخاری، مسلم، مشکوٰۃ: صفحہ، 556) آیتِ رجم قبول نہ ہونے کی وجہ بیان ہو چکی۔
سوال نمبر 226: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بھی الہام ہوا، ان کا جمع کردہ قرآن کیوں نہ لیا گیا؟
جواب: سیدنا علی المرتضیٰؓ صاحبِ الہام اور خلیفہ راشد تھے۔ مگر یہاں انہوں نے الہام کا کوئی دعویٰ نہ کیا۔ مدعی سست گواہ چست نہ بنئیے حضرت علی المرتضیٰؓ قرآن جمع کر کے لائے مگر قبول نہ کیا گیا۔ یہی وہ گھڑنتو بات ہے جس پر غرّا کر آپ قرآن شریف کو نقلی اور جعلی محرف بتا کر ڈائنامیٹ کر رہے ہیں۔ بندۂ خدا! ذرا انصاف و ایمان سے کہیے۔ اس افسانہ کا ذکر کس امام کی کتابِ حدیث، تاریخی تواتر، اور فقہاء کے کلام اور متکلمین کی ابحاث میں ہے۔ 100 سوال کے تیر تو آپ نے قرآن پر چلا دیئے ذرا مستند دو حوالے اسی بات پر آپ جمع کر دیتے تو غور کیا جاتا۔
سوال نمبر 227، 228: کیا آپ کی رائے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جمع کردہ قرآن معتبر تھا یا نہ؟
جواب: یقیناً اسی پر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور امت کا اجماع ہے۔ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوۡنَ ترجمہ: ہم ہی محافظِ قرآن ہیں۔ والے خدا نے یہ بروقت کام نبی کریمﷺ کے جانشین سے لیا، تنہا یہی فضیلت آپؓ کو افضل الصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرار دیتی ہےـ
سوال نمبر 229: اگر معتبر تھا تو حضرت عثمانِ غنیؓ کے عہد میں مروان نے یہی قرآن کیوں جلا ڈالا (فیض الباری: پیج، 20)؟
جواب: معتبر تھا تبھی تو اسی سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مصاحف لکھوائے۔ مروان نے اپنے عہد میں اس خدشہ سے معدوم کیا کہ کسی کو اختلاف کا وہم نہ ہو طباعت کے بعد مسودہ یا پلیٹوں کو دھو دینا عیب نہیں ہے۔
سوال نمبر 230: حاکم نے مستدرک میں لکھا کہ ہے کے قرآن تین دفعہ جمع ہوا۔ پہلے حضور اقدسﷺ کے سامنے، جواب دیں کہ عہدِ نبوت والے قرآن کو آپ قابلِ اعتبار سمجھتے ہیں؟
جواب: یقیناً سمجھتے ہیں کیونکہ حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم حضور اکرمﷺ کے سامنے پرچوں سے قرآن جمع کرتے تھےـ
سوال نمبر 231: پھر اسی قرآن کی انقال کیوں نہ کر دی گئیں؟
جواب: عہدِ صدیقی میں جن کاغذوں، پتھر کے ٹکڑوں، کھجوروں کی ٹہنیوں، اور جانوروں کے چمڑوں وغیرہ سے حضرت زید رضی اللہ عنہ نے جو آیات جمع کیں وہ حضور اکرمﷺ کے سامنے ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے لکھی تھیں، ان کو ہی نقل کر کے مجموعہ مرتب کیا گیا یعنی امام حاکم کی روایات کے مطابق جمع قرآن کے تین دور تھے، پہلی مرتبہ وہ جب تازہ وحی آتی اور حاضرین ہر قابلِ کتابت چیز پر لکھ لیتے تھے، مگر وہ اپنی یاداشت کے طور پر لکھتے تھے جیسے آج بھی استاذ کے فرمودات قلم بند کیے جاتے ہیں۔ اس وقت ان کے سامنے تدوین یا قطعہ آیات تیار کر کے دوسروں کو پڑھانا مقصود نہ ہوتا تھا۔ الا ماشاءاللہ! سیدنا زید رضی اللہ عنہ انہی چیزوں سے کوئی سورت بھر حسبِ ضرورت جمع کرتے تھے، سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے عہد میں باقاعدہ الحمدللہ تا والناس حفظ کی خاص ترتیب سے تمام اشیاء سے قرآن نقل کیا گیا اور کتابت پر کم از کم دو گواہ قائم کیے گئے اور پورا قرآن مرتب کر کے بیت المال میں محفوظ رکھ لیا گیا۔ پھر جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں اشاعتِ قرآن کی دور دراز تک ضرورت سامنے آئی اور اختلافِ الفاظ سننے میں آیا تو اسی مصحف کی چھ نقلیں ایک کمیٹی سے مزید کروائیں اور بڑے بڑے صوبوں میں پھیلا کر مزید نقلیں کروائی گئیں جیسے آج کل پرنٹنگ پریس سے کام لیا جاتا ہے۔
گویا آج کی اصطلاحی زبان میں عہدِ نبوی کا جمع ایک مسودہ کی شکل تھی عہدِ صدیقی کا جمع خوش نویس کی کتابت کی شکل تھی اور عہدِ عثمان کا جمع اور اشاعت، پرنٹنگ پریس کی خدمت و طباعت تھی۔
سوال نمبر 232: بھی ختم ہو گیا کیونکہ عہدِ نبویﷺ میں لکھے ہوئے مستند اوراق ماخذ بنے۔
سوال نمبر 233: احزاب کی ایک آیت بروایت بخاری حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں شامل کی گئی کیوں؟
جواب: اس کا مطلب یہ نہیں کی یہ آیت رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ۔ الخ قرآن سے کم تھی اور لوگ اسے پڑھتے سناتے نہیں تھے۔ بلکہ وہ مکتوب شکل میں کسی کے پاس نہ مل سکی اور درج ہونے سے رہ گئی۔ پھر جب عہدِ عثمانؓ میں مصاحف کی کتابت شروع ہوئی تو حضرت زیدؓ کو یہ آیت یاد تھی۔ تفتیش و تلاش جاری رکھی تاآنکہ سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ہاں تحریراً مل گئی تو شامل کی گئی۔ اس آیت کے علیحدہ ذکر سے یہ حصر بتلانا مقصود ہے کہ قرآن کی ہر آیت باقاعدہ تحریری ثبوت اور گواہوں کی شہادت سے تائید حفاظ کے علاوہ ثبت کی گئی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قرآن کی ہر آیت قطعاً قرآن ہے نہ کوئی آیت کم ہوئی ہے اور نہ زیادہ کی گئی ہے۔ اب اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس اہتمامِ جمع اور حفاظتِ قرآن پر جو اِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهٗ وَقُرۡاٰنَهٗ (پھر ہمارے ذمے اس کا جمع کرنا اور پڑھانا ہے) کی عملی اور ایفائے عہد کی شکل ہے۔ کسی کو اعتبار نہیں۔ تو اس کے معتبر ماننے کی اور کوئی شکل نہیں وہ قرآن سے اور اس پر ایمان و عمل سے بدستور محروم رہے گا جیسے شیعہ کا وجود خود گواہ ہے۔
سوال نمبر 234: بخاری میں ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدہ حفصہؓ سے مصحفِ صدیقی منگوا کر قرآن کمیٹی کو حکم دیا کہ اس کے متعدد نسخے لکھو اگر کسی آیت میں اختلاف پاؤ تو اسے لغتِ قریش میں لکھنا، کیا سیدنا عثمانِ غنیؓ اس قرآن کو مستند اور اختلاف سے پاک اعتقاد نہیں کرتے تھے؟
جواب: یہاں قرآن میں اختلاف یا غلطی ہونے کا تصور نہیں بلکہ رسم الخط اور کتابت کا فرق مراد ہے۔ یعنی کسی لفظ کی کتابت میں اختلاف ہو تو قریشی زبان والے رسم خط اور لہجہ میں لکھنا کیونکہ ان کی ہی زبان میں اترا۔ چنانچہ ایسا ہی انہوں نے کہا۔ تو اب جو لکھا گیا وہ قرآن لغتِ قریش پر لکھا گیا جس پر اولاً اترا تھا۔ باقی لغات میں ادائیگی یا کتابت کی اجازت دی گئی ہے۔ مگر اختلاف سے پاک رکھنے کے لیے اس اجازت کو نظر انداز کیا گیا۔
سوال نمبر 235: اگر جمع شدہ قرآن صحیح و مکمل تھا تو کمیٹی کیوں تشکیل دی گئی؟
جواب: مکمل تھا متعدد نسخے تیار کرنے کے لیے کاتبوں کی ڈیوٹی لگائی گئی۔
سوال نمبر 236: کیا حضرت عثمانؓ نے حضرت علی المرتضیٰؓ سے یہ خدمت لینے کی سعی فرمائی؟
جواب: نہیں! یہ کام چھوٹے لوگوں کے مناسب سمجھا گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے وزیراعظم تھے اس مشورہ میں شریک تھے۔ ایک مرتبہ انھوں نے خود فرمایا: لوگو حضرت عثمانؓ نے یہ کام ہمارے مشورے سے ہی کیا ہے اور اگر ان کی جگہ میں خلیفہ ہوتا، تو اسی طرح کرتا۔ (تاریخ الخلفاء: فتح الباری)
سوال نمبر 237: بھی اس سے حل ہو گیا کہ اگر سیدنا عثمانؓ کے اس عمل سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اختلاف ہوتا تو برملا اظہار کرتے۔ وزارت سے استعفیٰ دیتے۔ پھر اپنے پنج سالہ دورِ خلافت میں قرآن کی نئی تدوین اور اشاعت فرماتے۔
سوال نمبر 238: کیا سیدنا عثمانؓ حافظِ قرآن تھے؟
جواب: جی ہاں! ایک رات میں ایک یا دو رکعتوں میں پورا قرآن پڑھ لیتے تھے۔ (حلیتہ الاولیاء)
سوال نمبر 239: اگر تھے تو جمع قرآن میں خود اپنی خدمات کیوں پیش نہ کیں؟
جواب: خلیفہ ہر کام خود نہیں کیا کرتا۔ اپنی نگرانی میں کرواتا ہے۔ خود حفظ کی وجہ سے مسودہ دے سکتے تھے مگر آپ جیسے لوگ اسے مداخلت قرار دیتے اور حکومت کا بناوٹی قرآن مشہور کرتے۔
سوال نمبر 240، 241: درج بالا سوالات کی موجودگی میں آپ قرآن کو اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کا متفقہ کیسے کہتے ہیں؟
جواب: یہ سب سوالات بوگس اور بغضِ قرآن کا آئینہ ہیں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اسی بین الدفتین از الحمدللہ تا والناس قرآن کے قرآن ہونے پر متفق تھے اور یہی تواتر کی دلیل ہے۔
سوال نمبر 242 تا 245: کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اختلاف باطل چیز ہے؟ پھر بتائیے کہ ان کے مصاحف باطل تھے یا نہیں۔ پھر باطل پر ایمان رکھنے والا بے دین ہو گا یا نہیں۔ اگر اختلاف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین برحق تھا تو پھر بتائیے اس حق کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کیوں مٹایا؟ پھر مٹانے والا راشد کس طرح ہوا؟
جواب: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اختلاف در قرآن تسلیم ہی نہیں۔ ان کے مصاحف بھی باطل نہ تھے۔ البتہ بعض حضرات کے مکتوبہ بیاضات، جن کو مصاحف کہا جا رہا ہے۔ ایسے تھے کہ وہ مکمل نہ تھے اپنی یاداشت کے لیے مشکل الفاظ کے فٹ نوٹ، معانی اور تشریحاتِ نبویﷺ معاً لکھ دی تھیں۔ بعض کے پاس منسوخ آیات بھی تھیں۔ بعضوں کی ترتیب نزولی تھی۔ اب ان انفرادی مسودات کے مقابل وہ مجموعہ یقیناً جامع و مکمل تھا۔ جو ایک کمیٹی نے خاص شرائط اور اہتمام کے ساتھ جمع و مرتب کیا اور صدری حفظ کے مطابق تھا۔ لہٰذا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے مزید نقلیں کرا کر اسلامی ممالک میں پھیلا دیں۔ باقی سب کو مٹا دیا تاکہ وہ غیر قرآن سے مخلوط ہونے کی وجہ سے آئندہ اختلاف کا سبب نہ جائے اور یہ کام یقیناً راشد پر حکمت اور برحق تھا۔ کیونکہ ابتداءً چند اختلاف کرنے والے صاحبانِ صحائف نے بھی پھر اس سے اتفاق کیا۔ اب موجودہ قرآن پر ایمان ہی برحق ہے اس کے برعکس کسی کی قدیم مرجوع ذاتی رائے کو اچھالنا اور قرآن کو مشکوک جتلانا کسی زندیق و بے ایمان شخص کا ہی کام ہو سکتا ہے۔
آج بھی اہم مسائل پر قومی اسمبلی میں وزارتِ قانون میں یا ہائی کورٹ وغیرہ میں کسی مسئلہ پر اختلاف آراء یا ردّ و قدح ہوتی ہے مگر جب فیصلہ طے ہو جائے تو اختلاف ختم ہو جاتا ہے۔ اب اگر کوئی اختلاف کرے یا فیصلہ غلط بتائے تو ملکی اور قومی مجرم سمجھا جاتا ہے۔ جو کبھی قوم و ملک کا وفادار نہیں ہو سکتا۔ آج شیعہ اگر تدوینِ قرآن کے وقت بعض معمولی جزوی اختلاف کو ہوا دیتے ہیں اور قرآن کو غلط بتاتے ہیں۔ کیا وہ کافر یا دشمنِ اسلام نہیں ہیں؟
سوال نمبر 246، 247: قرآن کو جلانا ثواب ہے یا گناہ؟ اگر ثواب ہے تو بے حرمتی قرآن پر احتجاج کیوں؟
جواب: قرآن کو بے حرمتی کی نیت سے جلانا، روندنا گناہِ کبیرہ بلکہ کفر ہے جیسے شیعوں کے جلوس جب مسلمانوں کی مساجد پر حملے کرتے ہیں تو الماریوں سے قرآن نکال نکال کر جلاتے ہیں اور پاکستان میں بارہا ایسے واقعات ہوئے۔ پھر یا مسلمانوں کے انتقام کا نشانہ بنتے ہیں جیسے گزشتہ سال کراچی کے فسادات، نیو کراچی میں ایک مسجد پر قبضے اور قرآن جلانے سے شروع ہوئے تھے یا پھر بدشکلی کی ناگفتہ بہ موت مرتے ہیں۔
قرآن کی بے حرمتی پر احتجاج مسلمانوں کا حق ہے کیونکہ ان کی ہی مقدس ترین جان سے بھی عزیز کتاب ہے۔ چونکہ شیعہ کو اپنی یہ کاروائی معلوم ہے اس لیے احتجاج سے چڑتے ہیں سوال از خود یہ بات بتا رہا ہے کہ شیعہ کا قرآن پر ایمان نہیں اور نہ ہو سکتا ہے۔
سوال نمبر 248: اگر گناہ ہے تو مرتکبین گنہگار ہوئے یا نہیں؟
جواب: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یا حضرت عثمانؓ نے ایسا ارتکاب نہیں کیا۔ انھوں نے تو صحیح قرآن کو مدون و محفوظ کر کے پھیلایا جو چیز حفاظتِ قرآن کی انتظامی حکمتِ عملی کے تحت جلائی گئی، وہ خالص قرآن نہ تھی بلکہ غیر قرآن سے مخلوط شدہ اوراق و بیاضات تھے۔ فتح الباری میں ہے کہ اہلِ سنت کے جلیل عالم قاضی عیاض نے یقین سے لکھا ہے کہ ان اوراق کو انھوں نے پہلے پانی سے دھویا تھا پھر مبالغۃً جلا ڈالا تھا تاکہ کچھ اثر باقی نہ رہ جائے۔ توشیح میں ہے کہ ان اوراق کو جلانا اس لیے جائز تھا کہ ان میں منسوخ آیات، تفسیر، غیر قریش کی لغت اور قرأت شاذہ ملی جلی تھیں۔ (خالص قرآن نہ تھے۔ رہ جانے سے زریعہ اختلاف بن سکتے تھے۔)
سوال نمبر 249: جو شخص اپنی مرضی سے قرآن میں کمی بیشی کرے، شرع کیا کہتی ہے؟
جواب: تحریفِ قرآن مذموم ہے ایسا شخص مجرم ہے۔
سوال نمبر 250: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس جرم سے کیسے بری الزمہ سمجھیں گے جنہوں نے حکم دیا کہ اختلاف کی صورت میں قریشی زبان لکھ دی جائے؟
جواب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن میں تحریف نہیں کی لغتِ قریش پر ہی اولاً قرآن اترا تو اس میں کتابت بہرحال افضل تھی اور باقی لغتوں کا لکھنا سہولت کے لیے تھا جس کی اجازت بعد میں ملی۔ جب لوگ لغتِ قریش سے مانوس ہو گئے اور پڑھنا لکھنا آسان ہو گیا، اب دیگر لغات کی وجہ سے اختلاف اور جھگڑے پیدا ہو رہے تھے جیسے آرمینیہ سے حضرت حذیفہؓ بن یمان نے فوج میں اختلاف کی خبر دے کر کہا أدرك هذه الامة قبل ان يختلفوا فی الكتاب اختلاف اليهود والنصارى (صحیح البخاری: جلد، 2 صفحہ، 746)
ترجمہ: اس امت کا انتظام کر لو اس سے پہلے کہ یہ کتاب اللہ میں یہود و نصارٰی کی طرح اختلاف کریں۔ اب رہی یہ بات کہ لغتِ قریش پر اترنے کی کیا دلیل ہے؟ تو سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
اقرٔنی جبریل علی حرف فلم ازل استزیدہ حتیٰ انتہی الی سبعۃ احرف (صحیح البخاری: جلد، 1 صفحہ، 457)
ترجمہ: مجھے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ایک قسم کی ہی قرأت پڑھائی۔ میں اور بھی طلب کرتا رہا یہاں تک کہ سات پڑھا دیں۔
سات حروف سے مراد سات قرأتیں، سات لغتیں، سات کیفیتیں، سات معانی، سات اعراب وغیرھا مراد ہیں۔ تفصیل فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 23 وغیرہ میں ہے۔
اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و محدثین رحمۃ اللہ نے بھی یہی سمجھا ہے۔ چنانچہ بخاری جلد، 2 صفحہ، 745 پر باب ہے: باب نزل القراٰن بلسان قریش والعرب قراٰنا عربیا بلسان عربی مبین
پھر حضرت عثمانِ غنیؓ کا کمیٹی قران کو خصوصی حکم روایت کیا ہے کہ قرآن لسانِ قریش میں لکھنا کیونکہ قرآن ان کی ہی زبان میں اترا، کاتبوں نے یونہی کیا۔
تو غیر قریش لغت یا اندازِ کتابت کی اجازت بعد میں حاصل کی گئی تھی وہ قرآن کا جزو نہ تھی جب اس سے بھی لوگوں نے غلط مفاد (قبائل و لہجہ پرستی) اٹھانا چاہا تو سیدنا عثمانِ غنیؓ نے بحیثیتِ خلیفہ راشد یہ کتابت ختم کر دی اور ان کو یہ اختیار اس حدیثِ نبویﷺ سے ملا ہے:
علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین (ابو داؤد، مشکوٰۃ: صفحہ، 30 احمد، ترمذی)
ترجمہ: لوگو! تم میرے طریقے پر اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے طریقے پر ضرور چلنا۔
سوال نمبر 251: المصاحف لابی داؤد میں سیدنا عمرؓ کا مقولہ ہے: لو كانت ثلاث ايات لجعلتها سورة على حدة، یعنی اگر یہ تین آیتیں ہوتیں تو میں الگ سورت بنا دیتا۔
جواب: یہ فرضی تمنا ہے مطلب یہ ہے کہ اگر تین آیتیں ہوتیں تو سورت بننے کے لائق تھیں اور خدا ان کو ہماری دعا کی بدولت بنا دیتا یا یہ ممکن ہے کہ خلیفہ راشد کی حیثیت سے ایسا خود کرتے کیونکہ اس میں قرآن میں کمی بیشی کا تو تصور نہیں۔ یوں سمجھو کہ تین آیات کو الگ صفحہ پر لکھنا ہے اور باقیوں سے فصل کرنا ہے۔ جیسے رکوعات کے ذریعے فصلِ عارضی پایا جاتا ہے۔
سوال نمبر 252: بھی اس سے حل ہو گیا کیونکہ غیر نبی انتظامی بات کر سکتا ہے اس میں تحریفِ قرآن کمی بیشی یا ترتیب کی تبدیلی نہیں۔
سوال نمبر 253 تا 255: بھی بے فائدہ بھرتی ہے سورت بقرہ کی کون سی آیات ہیں جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بنی اسرائیل میں لگانا چاہتے تھے؟
اور پھر آخر برأت کی دو آیتیں: لَقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ عَزِيۡزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيۡصٌ عَلَيۡكُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ۞ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِىَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَهُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ۞ (سورۃ التوبة: آیت 128، 129)
برأت ہی کے آخر میں لگائی گئیں اور سورت توبہ یا برأت نزول کے اعتبار سے آخری سورت ہے۔
سوال نمبر 256: معلوم ہوا جس قرآن کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مانتے تھے اس کی آخری سورت برأت تھی۔
جواب: غلط فہمی بالا سوال میں حل ہو گئی کہ حضرت عمرؓ نزول کے اعتبار سے آخری سورت (توبہ) میں ان کو لگا رہے تھے جیسے اب ہے۔ ترتیبِ جمعی کے اعتبار سے آخری صورت مراد نہیں ہے۔
سوال نمبر 257: بخاری جمع القرآن میں ہے کہ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم وہ کام کیسے کریں جو رسول اللہﷺ نے نہیں کیا ثابت ہوا کہ خلافِ سنت ہے۔ کیا آپ کا قرآن بدعت ہے یا سنت؟
جواب: سبحان اللہ! تعزیہ، علَم، شبیہ، ضریح، مزار، تابوت، ٹکیہ، ذوالجناح، مہندی، امام باڑہ وغیرہ یادگاری بتوں اور بدعتوں کے پجاری قرآن کو بھی بدعت کہہ رہے ہیں۔ کیوں نہ کہیں؟ آخر یہ ان کا دشمن جو ہوا، اور یہ اس کے دشمن ہوئے۔ بندہ کریم! اس میں کون سی بدعت کی بات ہوئی ہے؟ وہی 6666 آیات اور 114 سورتوں والا قرآن جو رسول اللہﷺ نے لکھوایا پڑھایا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یاد کرایا تھا۔ انہی اوراق و مکتوبات سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ناگزیر ضرورت کی بناء پر۔ جو عہدِ نبوت میں پیش نہ آئی تھی نہ پیش آ سکتی تھی۔ کیونکہ وحی جاری تھی حفاظ کے شہید ہونے کی صورت میں حضورﷺ پھر لکھوا سکتے تھے۔ اسے یکجا کتابی شکل میں لکھ لیا۔ اگر یہ بدعت ہے تو قرآن پاک کے ترجمے، تفسیریں اور قرآن فہمی کے لیے صرف و نحو، اصولِ تفسیر وغیرھا علوم سب بدعت ہو گئے۔ تاج کمپنی وغیرہ کے مطبوعہ قرآن مجید بھی بدعت بن گئے۔
سوال نمبر 258: حضرت زیدؓ نے جو کہا: واللہ اگر پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کے نقل کرنے کی مجھے تکلیف دیتے تو مجھے اتنا گراں نہ گزرتا کہ جمع قرآن کاحکم دیا۔ کیا سیدنا زید رضی اللہ عنہ اس کام کو فلاحی و جائز نہ جانتے تھے؟
جواب: یہ کام کی سنگینی اور مشکلات کا احساس ہے اور ہر ذمہ دار اہم کام لیتے وقت یہ محسوس کرتا ہے۔ ورنہ اسے سیدنا زیدؓ فلاحی اور مستحسن ضرور جانتے تھے خوشی کے ساتھ کیا۔ آپ نے ترجمہ میں خیانت کی ہے۔ اثقل علی کا ترجمہ یہ ہے۔ پہاڑوں کی نقل سے بھی یہ کام مجھ پر بھاری اور مشکل تھا۔ آپ نے گراں نہ گزرتا کہہ کر دل کی نفرت اور ناپسندیدگی جتلائی ہے۔ جو قائل کی مراد کے یکسر خلاف ہے۔
سوال نمبر 259: پھر سیدنا زیدؓ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مکالمہ کیوں کیا؟ ان کی شرح صدر پر اعتبار کیوں نہ کیا؟
جواب: کام کی نزاکت و اہمیت کا یہی تقاضا تھا۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نرے شیعہ اور اندھے مقلد نہ تھے جب دلائل سے شرح صدر ہوا تو کام شروع کیا۔
سوال نمبر 260 تا 262: اگر بعد از رسولﷺ زیادتی در دین کے الہام کا کوئی دعویٰ کرے تو قبول ہو گا؟ پھر مرزا قادیانی کا الہام کیوں نہیں مانتے؟ اور ان حضرات کا الہام کس دلیل سے مانا ہے؟
جواب: اے دشمنِ قرآن و رسولﷺ! تو نے بدباطنی سے کتابتِ قرآن کی خدمت اور اس کی حفاظت کو دعویٰ نبوت کے برابر کر دیا اور قادیانی کذاب سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جا ملایا۔ کیا یہی آپ کی رواداری اور ایمان بالقرآن ہے؟ تمہارے مسئلہ امامت امامی شریعت نے مرزا کو یہ راہ سجھائی کہ اگر بعد از محمد رسول اللہﷺ یکے بعد دیگرے بارہ اشخاص یہ دعویٰ کریں۔ (کتبِ شیعہ سے ان تمام دعؤوں کی دلیل تحفہ امامیہ باب ہشتم امامت در پردہ انکارِ ختمِ نبوت ہے میں پڑھیئے۔)
1: کہ وہ مثلِ پیغمبرﷺ معصوم، واجب الاطاعت، صاحب احکام و شریعت ہیں۔
2: مثلِ نبی ان پر ایمان لانا اور بنام شیعہ ان کی امت بننا ضروری ہے۔
3: وہ مثلِ نبی مہبط ملائکہ، صاحبان وحی، صاحبان کلمہ و صحائف اور مصدر شریعت ہیں۔
4: مثلِ نبی ان سے ذرا اجتہادی اختلاف رکھنے والا بھی پکا کافر ہے۔
5: وہ حرام و حلال میں مختار اور نئی شریعت ساز ہیں۔ رسول اللہﷺ پر اترا ہوا قرآن اب منسوخ، غلط اور ناقابلِ عمل ہے اور ان کی الہامی شریعت جعفری ہی واجب الاتباع ہے۔
اور بھولے بھالے محبِ اہلِ بیتؓ مسلمان ان دعوے داروں اور ان کے مذہب کو اسلام کی شاخ تسلیم کر لیں۔ تو وہ (مرزا) اگر ظلی، بروزی امتی نبی ہونے کا دعویٰ کرے اور کلمہ، قرآن، رسالت و توحید میں کوئی کمی بیشی (جیسے ائمہ شیعہ نے کی) نہ کرے تو وہ کیوں مسلمانی سے خارج ہوا۔ (معاذاللہ)
اے باد صبا این آورده تست
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ملھم من اللہ ہونے پر دلیل۔ حدیثِ نبویﷺ سوال 225 کے جواب میں بیان ہو چکی۔ مزید یہ ہے کہ فرمانِ رسولﷺ ہے: اے اللہ اسلام کو سیدنا عمرؓ بن خطاب کے ذریعے عزت اور غلبہ دے۔ (احمد، ترمذی، شیعہ کتب، احتجاج طبرسی) نیز فرمایا: اللہ نے حق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر رکھ دیا ہے وہ حق ہی بولتے ہیں۔ (مشکوٰة: صفحہ، 557)
نیز حضرت علی المرتضیٰؓ کا فرمان ہے: ہم یہ بات انوکھی نہیں جانتے تھے کہ سکینہ (امر غیبی و الهام) سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زبان سے بولتا ہے۔ (بہیقی)
سوال نمبر 263: اگر یہ کام فی الواقعہ الہام سے ہوا تو حضرت عثمانؓ نے قبول کرنے میں احتیاط کیوں برتی؟
جواب: الہام مثلِ وحی قطعی نہیں ہوتا۔ دوسرا عالم و مجتہد شرعی دلائل سے پرکھ سکتا ہے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تو یقیناً قدر کی کہ از سِرنو پھر نہیں لکھوایا۔ اس نسخہ کو اُمُ المؤمنین حضرت حفصہؓ بنتِ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منگوا کر مزید احتیاط سے نقلیں کرائیں اور اطرافِ عالم میں اشاعتِ قرآن کا زبردست فریضہ سر انجام دیا۔
سوال نمبر 264: بھی حل ہو گیا۔ نہ از سِرنو جمع ہوا نہ متضاد الہام ہوا۔
سوال نمبر 265: سورت بقرہ میں عدتِ وفات کی آیتِ ناسخہ منسوخہ سے پہلے کیوں ہے؟
جواب: عمل ناسخ پر ہو گا منسوخ پر نہیں اس لیے اسے مقدم کیا گیا۔
سوال نمبر 266، 267: فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡوَدَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ اس مبتدا کی خبر بتائیے اگر محذوف ہے تو کیا رسولِ خداﷺ نے محذوف کیا۔ حدیثِ متواتر سے ثبوت دیں ورنہ قرآن کو ناقص کہیں؟
جواب: سنا کرتے تھے کہ آج سے ساٹھ سال قبل شیعوں کے مجتہد مرزا احمد علی لاہوری نے قرآن پر مسلسل اعتراضات کیے تھے اور پھر (معاذ اللہ) یہ کفریہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ایسا قرآن میں بھی بنا سکتا ہوں۔ وہ تو وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِـاٰيٰتِنَآ اُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ترجمہ: جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی دوزخی ہیں۔ کے تحت نارِ جہنم کا وقود اور ایندھن بن چکا۔ اب انہی گِھسے پٹے کفریات کو ہمارے سائل نے بھی سو سوال میں پھیلا کر جہنم کی الاٹ منٹ کرا لی ہے۔ یہ اعتراض قرآن سے بغض اور ذوقِ عربیت نہ ہونے کی وجہ سے ہے ورنہ کسی غیر مسلم نے بھی یہ طعن نہیں تراشا۔ پوری آیت یوں ہے:
فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡوَدَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ اَكَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران: آیت 106)
ترجمہ: رہے وہ لوگ جن کے چہرے کالے ہوں گے ان سے کہا جائے گا کیا تم نے ایمان کے بعد کفر کیا تو اپنے کفر کی پاداش میں عذاب چکھو۔
یہ جملہ استفہامیہ ہی حکماً اور معناً خبر ہے کیونکہ خبر بنائے بغیر اس کا ما قبل سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ جب جملہ استفہامیہ خبر ہو تو اسے مادہ قول سے فعل مجہول کا نائب فاعل بناتے ہیں تو ترکیب نحوی میں یقال لهم محذوف سمجھا جائے گا اور اس پر دال یہی مقولہ (جمیلہ استفہامیہ سوالیہ) ہو گا۔ جیسے ترجمے سے واضح ہے اور خبر کی کمی و حذف کا کچھ نشان نہیں ہے۔ یہی بات ہماری تفسیر روح المعانی پارہ 4 اور جلالین بیضاوی میں لکھی ہے۔ شیعہ کی مجمع البیان طبرسی: جلد، 1 صفحہ، 478 پر ہے۔
اور امّا کا جواب۔
فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡوَدَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ میں فيقال لهم اکفرتم الآیة محذوف ہے۔ کیونکہ چہروں کی سیاہی بطورِ جھڑک اس پر دلالت کرتی ہے گویا وہ خود ناطق ہے اور ماقبل بیان پر اعتماد کرتے ہوئے بہت سے مقامات میں قول محذوف ہوتا ہے جیسے وَلَوۡ تَرٰٓى اِذِ الۡمُجۡرِمُوۡنَ نَاكِسُوۡا رُءُوۡسِهِمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ رَبَّنَاۤ اَبۡصَرۡنَا یعنی یقولون محذوف ہے۔ وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا کیونکہ مجروں کا سر جھکانا بزبانِ حال یہ کہنا ہے اور اس کی مثالیں بہت ہیں۔
جب یہ عربی اسلوب کے تحت ہے تو یقال لھم کے حذف پر حدیثِ متواتر کی کیا ضرورت ہے۔ بالفرض یہ لفظ اکفرتم سے پہلے تلاوت کیا جائے تو کلام کی بلاغت اور اعجاز ختم ہو جائے گا۔ معمولی عربیت سے سدھ بدھ رکھنے والا اسے ناجائز اضافہ قرار دے گا۔ شیعہ بلاغت اور محاوراتِ قرآنی کو کیا جانیں؟ بھینس کے آگے بین بجانے والا مسئلہ ہے۔ الغرض نہ قرآن ناقص ہے نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو غلطی لگی ہے۔
سوال نمبر 268، 269: اتقان میں ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے برأت کو انفال کا جزو سمجھ کر دونوں کو ملا دیا اور بسم اللہ نہیں لکھی، کیا عہدِ ابوبکر صدیقؓ والے قرآن میں بھی ایسا ہی تھا؟ تو کیا معتبر نہ ہوا۔
جواب: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ والے صحیفہ میں بھی برأت سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہ تھی تو سیدنا ابوبکر و سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما میں نہ کوئی اختلاف ہے نہ قطع برید کا کسی پر الزام ہے۔ نہ کوئی نئے الہام کی فرضی داستان ہے۔
بسم اللہ نہ لکھنے کی وجہ قسطلانی میں یہ لکھی ہے کہ سورت توبہ امان اٹھانے (اعلانِ جنگ) کے لیے نازل ہوئی ہے اور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم میں امان پائی جاتی ہے۔ (اس تعارض کی وجہ سے آنحضورﷺ نے بسم اللہ نہ لکھوائی) یا یہ وجہ ہے کہ آنحضورﷺ اس کا موضع محل نہ بتا سکے تھے کہ وفات ہو گئی۔ (کیونکہ یہ سب سے آخری سورت ہے) اور اس کا مضمون (جہاد) انفال کے مضمون کے مناسب تھا۔ کیونکہ اس میں کفار سے معاہدات کا ذکر تھا اور توبہ میں معاہدات اٹھانے کا تو اس کے بعد اسے رکھا گیا۔ (حاشیہ بخاری: صفحہ، 671)
سوال نمبر 270: سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے قطع و برید اور اضافہ کیوں کیا؟
جواب: یہ سابقہ تقریر سے دفع ہو گیا کہ حضرت عثمانِ غنیؓ نے کوئی حک و اضافہ نہ کیا۔
سوال نمبر 271، 272: سیدنا ابن مسعودؓ سے قرآن پڑھو اسے (فرمانِ رسولﷺ) تسلیم کرتے ہیں؟ اگر تسلیم کرتے ہیں تو اتقان میں لکھا ہے ان کے مصحف میں بسم اللہ تھی۔ اب کیوں نہیں؟
جواب: فرمانِ رسولﷺ تسلیم ہے مگر اس کے ساتھ تین اور بزرگوں سے بھی قرآن سیکھنے کا حکم ہے۔ حضرت سالم مولیٰ ابی حذیفہ، ابی بن کعب، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم (بخاری و مسلم و مشكوٰة: صفحہ، 574)
حقیقت یہ ہے ان بزرگوں سے توبہ کے شروع میں بسم اللہ لکھنے کے متعلق کچھ منقول نہیں اور باقی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تو حال معلوم ہو چکا، تو فیصلہ از نص پیغمبرﷺ نہ ہونے کی صورت میں کثرتِ رائے پر ہوا۔
سوال نمبر 273: خدا نے قرآن کے قائم رکھنے کا حکم کس کو دیا؟ یہ حکم کس آیت میں ہے؟
جواب: بعد از نبیﷺ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور علماء امت کو یہ حکم ہے اور آیات بکثرت ہیں دو ملاحظہ کریں:
1: وَاُوۡحِىَ اِلَىَّ هٰذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَكُمۡ بِهٖ وَمَنۡۢ بَلَغَ (سورۃ الانعام: آیت 19)
اور یہ قرآن بذریعہ وحی میرے پاس اس لیے بھیجا گیا کہ اس کے ذریعے میں تم کو بھی ڈراؤں اور اس کو بھی جس تک یہ پہنچے۔
2: وَهٰذَا كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوۡهُ وَاتَّقُوۡا لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ۞ اَنۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اُنۡزِلَ الۡكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِنَا وَاِنۡ كُنَّا عَنۡ دِرَاسَتِهِمۡ لَغٰفِلِيۡنَ ۞ اَوۡ تَقُوۡلُوۡا لَوۡ اَنَّاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا الۡكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهۡدٰى مِنۡهُمۡ فَقَدۡ جَآءَكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَهُدًى وَرَحۡمَةٌ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَصَدَفَ عَنۡهَا (سورۃ الأنعام: آیت 155، 157)
ترجمہ: اور یہ کتاب جو ہم نے اتاری ہے برکت والی ہے، پس تم اس کی پیروی کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے (مباداً) تم یہ کہہ دو ہم سے پہلے دو گروہوں پر کتاب نازل کی گئی تھی اور ہم ضرور اس کے پڑھنے پڑھانے سے بے خبر تھے۔ یا یہ کہ دو کاش ہم پر کتاب نازل کی جاتی تو ہم ان سے کہیں زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے۔ اب تو تمہارے رب کے پاس سے کھلی دلیل اور ہدایت اور رحمت آ گئی۔ پس اس سے زیادہ ظالم کون ہو گا جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے یا ان سے روگردان ہو۔
(پارہ، 7 رکوع، 8 ترجمہ مقبول شیعہ: صفحہ، 177)
قرآن آئندہ نسلوں تک پہنچے گا اور فریضہ انذار ادا کرنے کرانے والے جانشینِ پیمبرﷺ ہیں کتاب اللہ کی پیروی سے ہی رحمت ہدایت اور ایمان و عمل کی دلیل حاصل ہو گی۔ کتاب اللہ کی یہ دولت صرف اہلِ سنت والجماعت مسلمانوں کو حاصل ہے۔ شیعہ کے اعتقاد میں تو قرآن غار میں یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قبر میں دفن ہو گیا وہ ان تک کیسے پہنچے؟ یا ان کو کیسے رحمت و ہدایت حاصل ہوا یہ تو تکذیب و اعراض کر کے سب سے بڑے ظالم (اور جہنمی) ثابت ہوئے۔
سوال نمبر 274، 275: کن کن اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آنحضرتﷺ سے پورا قرآن پڑھا؟ صرف پانچ کے نام لکھیے، جنہوں نے رسول اللہﷺ سے قرآت یاد کی؟
جواب: لا تعداد ہیں۔ جب صرف جنگِ یمامہ میں 700 حفاظ اور قاریوں نے شہادت پائی تو کثرت کا کیا کہنا۔ درج ذیل روایات میں جن جن اشخاص کا ذکر ہے۔ وہ بڑے بڑے قراء اور حفاظ کا بطورِ نمونہ اور اتفاقیہ ہے حصر نہیں کہ صرف انہوں نے ہی پڑھا۔ بخاری شریف: صفحہ، 748 باب القراء من اصحاب النبی صل اللہ علیہ وسلم کی تین احادیث میں سات بڑے قاریوں کا ذکر ہے۔
1: چار آدمیوں سے قرآن پڑھو: حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت سالم، حضرت معاذ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہم (بخاری)
2: انصار میں سے چار حضرات نے عہدِ نبویﷺ میں قرآن جمع کیا۔ سیدنا ابی ابن کعب، سیدنا معاذ بن جبل، سیدنا زید بن ثابت، سیدنا ابوزید سعد بن عمرو رضی اللہ عنہم۔
3: چار آدمیوں نے قرآن جمع کیا۔ حضرت ابوالدرداء، حضرت معاذ بن جبل، حضرت زید بن ثابت، حضرت ابو زید رضی اللہ عنہم
ان سب میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ موجود ہیں جو عہدِ صدیقیؓ کی قرآن کمیٹی کے امیر تھے اور سائل کو قرآن مشکوک و غلط جتلانے کے لیے ان سے خاص دشمنی ہے۔
سوال نمبر 276: حضرت جبریل علیہ السلام کی ترتیب سے جو کتاب حضورﷺ نے تیار فرمائی وہ کیا ہوئی؟
جواب: وہ زبانی ترتیب سے یاد کرانا تھا، یاد کرا دیا کتاب کی مکمل شکل نہ تھی۔
سوال نمبر 277: قاضی ابوبکر کہتے ہیں ممکن ہے سورتوں کی ترتیب رسول اللہﷺ نے خود دی ہو اور ممکن ہے کہ یہ کام اپنے بعد امت کے سپرد کیا ہو۔ دوسری بات زیادہ قریب ہے۔ فرمائیے جب آیات کی ترتیب دی تھی تو سورتوں کی ترتیب خود ہی وجود میں آ گئی؟
جواب: قاضی صاحب بطور شک فرما رہے ہیں جو معتبر نہیں ہمارے ہاں آیات اور سور کی ترتیب منجانبِ خدا اور رسولﷺ ہے چنانچہ شرح لمعات میں ہے: رہی سورتوں اور آیات کی ترتیب تو تمام امت کا اجماع اور نصوص لگاتار اس پر دلیل ہیں کہ ان کی ترتیب توفیقی یعنی خدا اور رسولﷺ کی طرف سے بتائی ہوئی ہے۔ اگلے سوال میں تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
سوال نمبر 278: اگر حضور اکرمﷺ نے امت کے سپرد کیا تھا تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا زیدؓ نے خلافِ سنت کیوں سمجھا؟
جواب: ترتیب آیات و سور امت کے سپرد نہ تھی۔ قرآن کے احکام کی طرح اس کی آیات اور سور کی ترتیب اور ان کے نام بھی الہامی ہیں اور حیاتِ نبویﷺ میں قرآن کی پوری ترتیب ہو چکی تھی موجودہ قرآن اسی ترتیب کے مطابق ہے۔ البتہ کتابی شکل میں پورا قرآن مدون نہ تھا۔ سیدنا ابوبکرؓ کے زمانہ میں ہی کام ہوا۔ حافظ ابنِ حجرؒ لکھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے قول کی يَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً میں بیان فرما دیا ہے کہ قرآن صحیفوں میں جمع ہے۔ قرآن صحیفوں میں لکھا ہوا موجود تھا لیکن اس کے اجزاء متفرق تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک جگہ جمع کر دیا جو ان کے بعد محفوظ رہا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے متعدد نسخے نقل کرائے دوسرے شہروں میں بھیجے۔
(فتح الباری: جلد، 9 صفحہ، 10)
حدیث کی کتابوں میں اس قسم کی بکثرت روایات ہیں کہ جب کوئی سورت آیت یا حکم نازل ہوتا تھا تو آنحضرتﷺ کاتبِ وحی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حکم دیتے تھے کہ اسے فلاں سورت میں فلاں آیت کے بعد لکھا جائے اور جب ایک سورت ختم ہو جاتی تھی تو دوسری شروع ہوتی تھی کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ بیک وقت مختلف آیات نازل ہوتی تھیں آپﷺ انہیں مضمون اور معنی کی مناسبت سے مختلف سورتوں میں لکھواتے تھے۔ اس طرح قرآن کے نزول کے ساتھ آپﷺ کی ہدایت کے مطابق آیات و سور کی ترتیب بھی ہوتی جاتی تھی۔ آپﷺ کی نمازوں کے سلسلہ میں اس قسم کی بہت سی روایات ہیں کہ فلاں فلاں وقت کی نماز میں آپﷺ نے فلاں فلاں سورتیں پڑھیں اس سے معلوم ہوا کہ سورتوں کے نام بھی متعین ہو چکے تھے۔ بخاری کی یہ روایت عہدِ نبویﷺ میں ترتیبِ قرآن کا نہایت بین ثبوت ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام ہر سال آپﷺ کو ایک مرتبہ قرآن سنایا کرتے تھے اور وفات کے سال دو مرتبہ سنایا۔
یہ مسلّم ہے کہ آپﷺ کی وفات سے پہلے پورا قرآن نازل ہو چکا تھا اس لیے پورا قرآن سنانے کے یہی معنیٰ ہو سکتے ہیں کہ وہ مرتب بھی تھا بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس پورا قرآن جمع تھا اور وہ اس کا دورہ کرتے تھے حضرت عبداللہ بن عمرو العاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے قرآن جمع کیا تھا اور اس کو ایک رات میں تمام کر دیتا تھا۔ الخ۔
(تاریخ اسلام از مولانا سید معین الدین ندویؒ جلد، 1 صفحہ، 127)
سوال نمبر 279: يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ کیا اس حکم کی تعمیل رسول اللہﷺ نے کی؟
جواب: یقیناً کی۔ کہ زبانی تبلیغ سے فرداً فرداً ہر ایک کو پہنچا دیا۔
سوال نمبر 280: وہ قرآن چھوڑ کر امت نے دو مرتبہ جمع کی زحمت کیوں اٹھائی؟
جواب: جس کو جو انعام ملتا ہے اس کی حفاظت ضروری ہے خصوصاً اگلی نسلوں تک جب پہنچانا ہو یہ اس کے بغیر ممکن نہ تھا کہ عہدِ نبویﷺ کی تحریرات کو یکجا جمع کر کے ایک کتاب و جلد بنا دی جائے۔
سوال نمبر 281: اگر نہیں پہنچایا یا ادھورا رہنے دیا تو حکمِ خدا کی خلاف ورزی نہ کی؟
جواب: قرآن یقیناً پہنچایا ادھورا نہ چھوڑا، خلاف ورزی وہ ملعون ٹولہ کر رہا ہے جو قرآن کو ناقص، عیب دار اور مشکوک جتلا کر پورے دین پر ہاتھ صاف کر رہا ہے۔
سوال نمبر 282: قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا اب صرف لغتِ قریش پر کیوں ہے؟
جواب: سوال 250 کے تحت مفصل جواب ہو چکا ہے کہ اصلاً صرف لغتِ قریش پر اترا، حضور اکرمﷺ نے سہولت کے لیے مزید لغتوں کی اجازت چاہی جو مل گئی پھر جب لغتِ قریش عام ہو گئی اور اسلام عرب سے نکل کر عجم میں چھا جانے لگا تو ان کے لیے سات لغتیں مزید مشقت اور اختلاف کا باعث تھیں لہٰذا صرف وہ لغتِ قریش لازم قرار دی گئی جس میں عرشِ معلیٰ سے اترا تھا اور کتابت تو صرف ایک حرف پر ہی ہو سکتی تھی تو لغتِ قریش کے رسم الخط کو ہی اپنایا گیا۔
سوال نمبر 283: اتقان جلد، 1 صفحہ، 63 پر ہے کہ مصحفِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نزولی ترتیب پر تھا، وہ خلفاء راشدینؓ نے کیوں قبول نہ کیا؟
جواب: یہ روایت شاذ ہے ہم اسے صحیح ماننے کے لیے تیار نہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے قرآن جمع کیا ہو اور خلفاء راشدینؓ نظر انداز کر دیں، فرض کیجئے انہوں نے قبول نہ کیا تو اس وقت مسلم معاشرہ سے تاہنوز اس کا نام نشان کیوں نہیں ملتا۔ کم از کم شیعوں کے پاس تو ہونا چاہیے تھا مگر یہ بے چارے بھی خلفائے ثلاثہؓ اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین والے قرآن سے رسمی تعلق جتلا کر عوام کے سامنے مسلمانی کا بھرم قائم رکھے ہوئے ہیں۔
اور اگر حکمتِ خداوندی نے اسے موجودہ قرآن کے سوا بالکل معدوم کر دیا ہے تو اب نئے شوشے چھوڑنا اسلام و قرآن سے زبردست دشمنی ہو گی اور خدا کی سنّت اور تقدیر سے بغاوت سمجھی جائے گی۔
بالفرض والمحال اگر صحیفۂ مرتضوی کی ساخت اور پیشی تسلیم کی جائے تو قبول نہ ہونے کی مسئولہ تین وجوہات یہ ہیں:
1: وہ ترتیبِ نزولی پر تھا۔ بعض چھوٹی سورتیں تو اکھٹی نازل ہوئیں مگر بعض بعض کی متفرق آیات اتریں جو تاریخ وار ترتیب سے جمع ہوں تو ایک کی آیات دوسری سورت میں گڈ مڈ ہو جاتیں۔
2: حفظ تو ہر سورت کی آیات کا اپنی ترتیب پر کرنا ہوتا۔ مخلوط شکل کا حفظ ناممکن تھا۔
3: قرآنِ حکیم میں معنیٰ و مضامین کے لحاظ سے کوئی ربط و اتصال نہ ہوتا۔ متفق سورتیں یا آیتیں ایک دوسری سے الگ الگ نظر آتیں۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ قرآنِ کریم مکی و مدنی 23 سالہ زندگی میں حسبِ ضرورت اور در پیش مسائل و حادثات کے مطابق نازل ہوا جنہیں شانِ نزول کہا جاتا ہے وہ تقدیرِ ازلی کے مطابق آگے پیچھے رونما ہوئے۔ لوحِ محفوظ میں مکتوب قرآن محفوظ ان واقعات کے تابع نہ تھا اور نہ واقعات ترتیبِ لوحی سے رونما ہو رہے تھے تو پھر ترتیبِ نزولی کا ترتیبِ اصلی سے کوئی تعلق تھا۔ ورنہ وہ یومیہ خبرنامہ یا ڈائری بن جاتا۔ ایک قانونی، اصلاحی اور مکمل مرتب کتاب کی شکل نہ ہوتی اس کی ایک حسی مثال یوں سمجھئے کہ مثلاً ایک دلہن کو اس کی سب زندگی کا ہر قسم کا سامان بطورِ جہیز دیا گیا اس نے تمام اشیاء کو ایک سلیقہ اور ترتیب سے رہائشی مکانوں میں سجا دیا۔ اب یہ ضروری نہیں ہے کہ جس ترتیب سے اس نے رکھا ہے اسے استعمالی ضرورت بھی اسی ترتیب سے ہو بلکہ ایک چیز کی دن میں 5 مرتبہ ضرورت ہو گی تو دوسری کی 20 سال بعد ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اب اگر وہ ایک چیز استعمال کر کے اپنی جگہ واپس رکھ دے تو سلیقہ شعاری ہے اور اگر ہر چیز حسبِ ضرورت اٹھا کر استعمال کرتی رہے اور ایک سٹور روم یا صحن میں استعمالی ترتیب سے رکھتی رہے تو سب گھر کباڑ خانہ اور بھدا محسوس ہو گا۔ بس اسی مثال سے سمجھئے کہ قرآن مجید حسبِ ضرورت و واقعات لوحِ محفوظ سے تھوڑا تھوڑا اترتا رہا تو اس کی آیات و سور کی لوحی ترتیب حضورﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بتلائی جاتی رہی جب وہ مکمل اتر چکا تو سب سورتوں اور آیتوں کو اسی طرح مرتب جمع کیا گیا جو لوحِ محفوظ میں تھی اور یہ حقیقت اسی آیتِ کریمہ سے ثابت ہے:
بَلۡ هُوَ قُرۡاٰنٌ مَّجِيۡدٌ ۞ فِىۡ لَوۡحٍ مَّحۡفُوۡظٍ ۞(سورۃ البروج: آیت 21، 22)
ترجمہ: بلکہ وہ قرآن مجید ہے جو ایک محفوظ تختی پر مکتوب و محفوظ ہے۔
تفسیر ابنِ جریر طبری: جلد، 10 صفحہ، 90 پر اس کی تفسیر یہ ہے کہ لوح سے مراد عند اللہ محفوظ تختی ہے اور مجاہد اسے اُمّ الکتاب کہتے ہیں اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اسے حضرت اسرافیل علیہ السلام کی پیشانی قرار دیتے ہیں۔ تفسیر قمی میں حضرت صادق سے بروایت تفسیر صافی للکاشانی جلد، 5 صفحہ، 312 یہی تفسیر نقل کی گئی ہے نیز یہ کہ وہ تحریف و تبدیل سے محفوظ ہے۔
شیعہ تفسیر مجمع البیان جلد، 5 صفحہ، 469 میں ہے کہ قرآن ایک تختی پر ہے جو تغیر، تبدیلی، کمی اور زیادتی سے پاک ہے۔ نیز وہ اللہ کے ہاں اُمّ الکتاب میں محفوظ ہے جس سے قرآن اور (دیگر آسمانی) کتابیں نقل کی گئی ہیں جسے لوحِ محفوظ کہتے ہیں اور وہ ایک سفید موتی سے بنی ہے جس کا طول آسمان و زمین اور عرض مشرق و مغرب کو حاوی ہے۔ (از سیدنا ابنِ عباسؓ و مجاہد)
سوال نمبر 284: اہلِ سنت تحریفِ قرآن کے معتقد ہیں یا نہیں؟
جواب: ہرگز نہیں، تبھی تو شیعہ کو باطل پرست جانتے ہیں۔
سوال نمبر 285: اہلِ سنت تحریف کا اعتقاد رکھنے والے کو کیا سمجھتے ہیں؟
جواب: جو شخص یا گروه بعد از پیغمبر قرآن میں کمی بیشی یا تبدیلی کا قائل ہو یا وہ کسی دور میں ایسی تبدیلی کرنا چاہے یا لوگوں کو ناقص اور محرف قرآن باور کرانا چاہے وہ مسلمان نہیں ہے۔ اس پر ہماری کتابیں اور فتاویٰ جات بالکل واضح ہیں۔ ہماری بنیادی کتاب تعلیم الاسلام از مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمۃ اللہ حصہ سوم صفحہ، 12 بحث قرآن میں ہے:
قرآن مجید کا ایک ایک حرف اور ایک ایک لفظ محفوظ ہے اس میں ایک نقطہ کی بھی کمی بیشی نہیں ہوئی اور نہ قیامت تک ہو سکے گی اور پہلی کتابوں میں لوگوں نے تحریف کر ڈالی۔
پھر حصہ چہارم صفحہ، 11 پر اس قرآن کے اصلی ہونے کی پہلی دلیل یہ دیتے ہیں:
قرآن مجید کا متواتر ہونا یعنی تواتر کے ساتھ حضور اکرمﷺ کے زمانے سے آج تک نقل ہوتے چلا آنا ہے۔ (جو چیز تواتر سے ثابت ہو جائے۔ اس کا ثبوت یقینی اور قطعی ہوتا ہے اس میں کسی طرح شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہوتی۔)
سوال نمبر 286: حیاتِ پیغمبر میں سلسلہ نسخ بند ہو گیا تھا یا نہیں؟
جواب: آخر عمر میں جا کر رک گیا جو اللہ کو منظور تھا۔
سوال نمبر 287، 288: کیا حضورﷺ نے منسوخ شدہ آیات کو ناسخ آیات سے بدلا تھا یا نہیں؟ ورنہ نبی کریمﷺ نے خدا کے حکم سے سرتابی کی۔
جواب: منسوخ کو ناسخ سے بدل دینا یہ اللہ کا کام تھا۔ رسولِ خداﷺ کا نہیں کیونکہ آپﷺ خود تو آیتیں نہیں بناتے تھے۔ اللہ کا فرمان ہے:
ہم جو آیت منسوخ (یعنی اس پر عمل کرنے کا حکم واپس لیں یا مدتِ عمل ختم کر دیں) کریں یا وہ بھلا دیں تو اس سے اور بہتر ہم لاتے ہیں۔ (سورۃ بقرہ: آیت 106)
ہاں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم منسوخ کی نشاندہی فرما دیتے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مشہور کرتے تھے پھر نسخ کی کئی قسمیں ہیں۔ نسخ فی التلاوۃ جیسے آیتِ رجم، نسخ فی الحکم جیسے آیتِ عدة، نسخ فی التلاوة والحکم معاً جیسے احزاب کی کچھ آیات، نسخ بالنسیان جس کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی پھر کچھ علماء حکم میں معمولی تغیر پر نسخ کا اطلاق کرتے ہیں اور کچھ علماء بالکل حکم اٹھ جانے یا متضاد آ جانے کو نسخ کہتے ہیں۔ ان کے ہاں منسوخ آیات کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔
سوال نمبر 289: جب آپ کے ایمان میں قرآن کو مکمل کہنا ہی منع ہے۔ (قولِ سیدنا ابنِ عمرؓ در اتقان) پھر قرآن کے جامع و کامل ہونے پر آپ کا عقیدہ کیسے درست ہے؟
جواب: وہ تمام منزل شده آیات، جو عہدِ نبویﷺ میں ہی منجانب اللہ شہادت قرآنی سے منسوخ ہوئیں یا بھلائی گئیں کے لحاظ سے مقولہ ہے کیونکہ اسے کل منزل کہنا خلافِ واقع ہے لیکن منسوخ و منسی کے علاوہ یہ قرآن تا قیامت جامع و مکمل رہے گا۔ اس میں ایک حرف کی بھی کمی بیشی ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
1: اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوۡنَ (سورۃ الحجر: آیت 9)
ترجمہ: بے شک ہم نے ہی قرآن اتارا اور ہم ہی اس کی یقیناً حفاظت کرنے والے ہیں۔
یہ آیت اس خدشہ کے رد میں اتری کہ آئندہ نسلیں کہیں یہود و نصارٰی کی طرح کتاب اللہ میں تحریف نہ کر دیں۔ اللہ نے ضمانت دی کہ ہم ہی نے اتارا۔ ہم ہی یقیناً لوگوں کی دست برد اور تحریف سے اس کی حفاظت کریں گے۔
2: وَاِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِيۡزٌ لَّا يَاۡتِيۡهِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِهٖ تَنۡزِيۡلٌ مِّنۡ حَكِيۡمٍ حَمِيۡدٍ
ترجمہ: یہ بڑی زبردست کتاب ہے اس میں باطل نہ سامنے آ سکتا ہے، نہ پیچھے سے یہ خدائے حکیم کا اتارا ہوا ہے جو خوبیوں والا ہے۔
قرآن میں انسانی تصرف سے کمی بیشی اور تحریف ایک باطل مداخلت ہے۔ جس کی نفی خود قرآن نے کی ہے۔
3: اِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهٗ وَقُرۡاٰنَهٗ ۞ فَاِذَا قَرَاۡنٰهُ فَاتَّبِعۡ قُرۡاٰنَهٗ ۞ ثُمَّ اِنَّ عَلَيۡنَا بَيَانَهٗ ۞ (سورۃ القیامہ: آیت 17، 19)
ترجمہ: اس کا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمہ ہے پھر جب ہم اسے پڑھیں تو ہماری قرات کی اتباع کریں پھر اس کی تشریح بھی ہمارے ذمے ہے۔
جب جمع کی ذمہ داری خود خدا نے لے لی ہے تو حسبِ حالات، اپنے پیغمبرﷺ سے پھر خلیفہ اوّل سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ سے پھر حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ سے جمع، حفاظت اور اشاعت کی جو خدمت خدا نے لی وہ سب صحیح، گارنٹی شدہ اور خدائی جمع کی ہی شکل اور ایفائے عہد ہے تو قرآن اسی طرح کامل و مکمل اور ہادی تا قیامت رہے گا۔ اس عقیدہ کے مخالف اور جمع قرآن پر اعتراضات کرنے والے کافر، اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھے جائیں گے۔
سوال نمبر 290: جو دعویدارِ اسلام قرآن سے کراہت کرے اسے کیا سمجھیں گے؟
جواب: اس کے ایمان میں خلل ہے جیسے شیعہ قرآن کے حفظ اور اشاعت کو ناپسند کرتے ہیں۔
سوال نمبر291: کیا اللہ کا رسولﷺ قرآن کو مکروہ سمجھ سکتا ہے؟
جواب: یہ کراہت خاص قرآن سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے جس کا نہ ہونا ہی قرآن کی تعظیم ہے مثلاً کوئی شخص بول و براز کی جگہ یا غل غپاڑہ میں یا تیزی میں قطع حروف کے ساتھ یا تحریف اور غلط ترجمہ کے لیے قرأت کرے تو ایسی قرأتِ قرآن کو نا پسند کیا جائے گا۔
سوال نمبر 292: جو فرقہ سید الانبیاءﷺ پر کراہتِ قرآن کا الزام لگائے وہ مفتری نہیں ہے؟
جواب: یہ الزام کوئی نہیں لگاتا۔ البتہ جو فرقہ سید الانبیاءﷺ پر یہ الزام لگائے کہ آپﷺ نے پورا قرآن صرف حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو پڑھایا لکھوایا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے صرف اپنی اولاد کو پڑھایا اور دیا اور وہ ایک ایک امام کی دست بوسی کرتا ہوا جب مہدی العصر تک پہنچا تو وہ صاحب غار میں لے کر چھپ گئے اور اربوں، کھربوں مسلم دنیا اس قرآن کا نہ منہ دیکھ سکی نہ ایک لفظ سن سکی۔ یقیناً یہ فرقہ مفتری بر رسولﷺ اور غیر مسلم ہے۔
سوال نمبر 293: نبی اکرمﷺ پر افتراء اور نسبت کذب کرنے والا مدعی اسلام فرقہ کس سزا کا مستحق ہے؟
جواب: آپ کا بالا عقیدہ اگر درست ہے تو یہ شیعہ فرقہ دوزخی ہے مزید سزا تمام علماء کو اپنا عقیدہ لکھ کر معلوم کر لیجئے اور اخبارات میں شائع کرائیے اور اپنے شیعہ، دشمنِ اسلام و قرآن ہونے پر فخر کیجئے۔
سوال نمبر 294: اس روایت پر آپ کا کیا تبصرہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ سے کہا کہ آیتِ رجم لکھوا دیجئے، فکانه کره ذلك گویا آپﷺ نے اسے مکروہ جانا؟
جواب: کھودا پہاڑ نکلا چوہا وہ بھی مردہ یہ مثل آپ کی کارروائی پر صادق ہے۔ چار تمہیدی بالا سوال اسی لیے بنائے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو یا اہلِ سنت نبیﷺ کو مجرم قرار دیں مگر خود اپنے کھودے ہوئے کنویں میں گر پڑے۔ کَرِہَ کا مفعول ذٰلِكَ اسم اشارہ مذکر ہے۔ جس کا مرجع اکتب کا مصدر کتابت اور لکھوانا ہے۔ آیتِ رجم نہیں ہے یعنی آیت رجم کو نا پسند نہیں کیا ہے کیونکہ اس کی طرف اکتبھا ضمیر مؤنث راجع ہے۔ بلکہ آیتِ رجم کی کتابت کو آپﷺ نے ناپسند فرمایا۔ کیونکہ منسوخ فی التلاوت والكتابت ہے اور یہی روایت اس کی دلیل ہے۔
سوال نمبر 295: مسلکِ اہلِ سنت کے مطابق حقیقت و ماہیت قرآن کیا ہے؟
جواب: 100 میں صرف یہ آخری دو سوال کچھ معقول ہیں باقی سب لغویات کا پلندہ تھے۔ قرآن ان الفاظ، ترتیب اور معانی کے مجموعہ کا نام ہے جو حضرت جبریل علیہ السلام رسولِ خداﷺ کے قلب مبارک پر نازل فرما گئے اور یہ خدا کا نفسی قدیم کلام ہے اس کی صفت ہے اس کے ساتھ قائم ہے۔ حادث و مخلوق نہیں ہے البتہ وہ واقعات و مسائل مخلوق ہیں جن کے بارے میں قرآن اترتا رہا۔ بظاہر عربی کے لغوی الفاظ حادث معلوم ہوتے ہیں مگر قرآنی کلمات و الفاظ پھر بھی قدیم ہیں۔ لغتیں اور بولیاں بعد میں پیدا ہوئیں۔ قدیم الفاظِ قرآنی کی ان سے مطابقت اور یکسانیت ظاہر ہو گئی۔ ہماری تلاوت کے الفاظ و لہجے حادث ہیں کہ ہمارا کسب اور خدا کی مخلوق ہیں۔
سوال نمبر 296: سنی مذہب کے مطابق قرآن کہاں سے نازل ہوا؟ حروفِ سبعہ سے کیا مراد ہے؟
جواب: لوحِ محفوظ سے، آیت سورت بروج کا حوالہ گزر چکا ہے اور پہلی آیت اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ نازل ہوئی۔ حروفِ سبعہ کی تشریح مختصراً سوال 250 میں گزر چکی ہے۔ مزید وضاحت یہ ہے کہ حروف کے اختلاف سے مراد قرأتوں کا اختلاف ہے اور سات حروف سے مراد اختلافِ قرأت کی سات نوعیتیں ہیں۔ متقدمین میں سے سب سے پہلے یہ قول امام مالک رحمۃ اللہ المتوفیٰ 179ھ نے کیا۔ مفسرِ قرآن علامہ نظام الدین قمی نیشا پوری نے اپنی تفسیر غرائب القرآن میں امام مالک کا یہ مذہب نقل کر کے مفرد و جمع، تذکیر و تانیت، وجوه اعراب، ادواتِ نحو، لب و لہجہ میں اختلاف قرأۃ کی مثالیں دی ہیں۔
علامہ ابنِ قتیبہ، شیخ عبد العظیم زرقانی، ابوالفضل رازی محقق جزری، قاضی باقلانی وغیره اسی مذہب کے قائل ہیں کیونکہ اس میں حروف و قرأت کو جدا جدا چیزیں نہیں ماننا پڑتا اور سات حروف کے معنیٰ بلاتکلف و تاویل درست ہو جاتے ہیں۔
(ماخوذ از علوم القرآن: صفحہ 110، 111 مؤلفہ مولانا محمد تقی عثمانی جسٹس وفاقی شرعی عدالت)