سنی مناظر کی شیعہ گروپ میں دوبارا واپسی! (قسط 26) - سنی…

سنی مناظر کی شیعہ گروپ میں دوبارا واپسی! (قسط 26)

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 4

سنی مناظر کی شیعہ گروپ میں دوبارا واپسی! (قسط 26)

شیعہ مناظر:   بہت شکریہ آپ نے ممتاز صاحب کو راضی کر کے بلایا اور پھر اس کی عدم موجودگی میں ان کی وکالت کا حق ادا کیا۔ میں نے اپنا گروپ اسی لیے بنایا تھا تاکہ بعد میں کوئی مناظرے کو خراب نہ کرے۔

(اور اس لئے بنایا تھا کہ جب چاہوں مخالف کو کک آؤٹ کر سکوں!!!)

 ممتاز صاحب کو دوبارہ گروپ میں خوش آمدید کہتے ہیں اور آدھا گھنٹے کے لیے آپ کی طرف سے مداخلت کو روکنے کے لیے ایڈمن سے ہٹانے پر آپ  سے اور آپ کے  دوستوں سے معذرت چاہتا ہوں۔  ممتاز صاحب کو دوبارہ ایڈمن بنایا ہے۔انہیں اپنے موقف سے دفاع کا  پورا حق دیتا ہوں۔ رات دس بجے تک ان کے پاس ٹائم ہے۔اللہ حافظ۔  اب  جب ادراج پر آپ کے سارے دلائل کسی کام کے نہیں رہے۔

آپ کی دوسری دو دلیل اور ایک دو شبہ مثلا راوی کا عینی شاہد نہ ہونا:  جناب فاطمہ ع رسول اللہﷺ  کی حدیث کا انکار اور استغفار،   ویسے تو ان کا جواب آپ خود ہی دے چکے ہیں  اور آپ کو ان سوالوں کا تکرار کرنے کا حق نہیں  لیکں ضد کرنا چاہئے تو اس کا علاج بھی نہیں۔آپ نے کہا ان کا چہرہ کس نے دیکھا ہے زہری تو اس کے عینی شاہد نہیں   جواب مل گیا  کہ مسند ابوبکر اور دوسری نقلوں کے مطابق اس کا عینی شاہد جناب عائشہ ہی ہے ۔ لہذا آپ کی یہ پریشانی بھی دور ہوگئی اور ویسے آپ نے خود ہی کہا تھا کہ ناراض تو ہوگئی تھی اور اس کے اسناد بھی آپ نے پیش کیے ۔ یہ دلیل بھی زمین بوس ہوا ۔

 اب آپ کی اگلی دلیل : جناب فاطمہ کیسے رسول اللہ  کی حدیث کی مخالفت کر سکتی ہیں ؟  اس کا جواب بھی آپ کو آپ کی ہی کتابوں سے مل گیا کہ جناب عائشہ خود ہی کہہ رہی ہے کہ آپ یہ حدیث سن کر ناراض ہوگئی تھیں۔

اب الزامی کچھ جوابات : جناب آپ کی صحیحین میں کتنی ایسی روایتیں ہیں جہاں اصحاب نے رسول اللہ ﷺ  کی زندگی میں ان کے سامنے اور ان کی زندگی کے بعد ان کے فرمان کی مخالفت کی ہے۔  جیش اسامہ کا واقعہ ہو یا متعہ حج ، قلم و قرطاس   سب جگہوں پر رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی مخالفت پر آپ کی صحیحین میں دسوں روایتیں ہیں وہاں آپ کیوں استغفار نہیں کرتے ؟؟   یہ بھی سن لینا ۔ جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا   رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مقابلے میں کھڑی نہیں تھیں   بلکہ آپ یہ کہنا چاہ رہی تھیں کل میرے بابا کو قلم و قرطاس  نہ دینے  والے اور حسبنا کتاب اللہ کہنے والے آج کیوں  اللہ کی کتاب کے خلاف میرے بابا کا حکم نقل کر رہے ہیں ۔ آپ کہہ رہی تھیں ۔میرے خاتم الانبیاء اور تمام رسولوں کے وارث  والد کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے   اور میرے بابا کی طرف ایسی بات کی نسبت دیتے ہیں کہ جو انبیاء کی تاریخ اور سیرت اور تعلیمات اور اللہ کی کتاب کے واضح حکم کے خلاف ہے۔

 ممتاز صاحب ۔ یہ پیغام آپ تک ان شاء اللہ دوستوں کے ذریعے اور پی ڈی ایف کے ذریعے پہنچے گا کہ آپ کے مسلک ادراجی کا کوئی  خارجی وجود نہیں ہے یہ مسلک بدگمانی آپ کو مبارک ہو ۔ یہ مسلک اہل سنت کے عوام کو حقیقت سے دور رکھنے اور شیعوں کو بدنام کرنے کے لئے بنایا ہے اور الحمد اللہ آج زمین بوس کر دیا۔

   بحث کا دوسرا مرحلہ بھی خود بخود ثابت ہوتا  ہےکہ جناب فاطمہ ع کا مطالبہ اور اس مطالبے کو رد کرنے کی وجہ سے آپ کا ناراض ہونا اور مولی علی کا اس وجہ سے خلفاء کو جھٹلانا سب حقیقت پر مبنی ہے۔سند ۔  امیر المؤمنین علیہ السلام کا سخت موقف ۔  امیر المومنین علی ابن ابی طالب ع خلیفہ اول اور دوم کی طرف سے حدیث نحن معاشرالانبیاء  سے استدلال کرنے اور جناب فاطمہ علیہا السلام کو حق نہ دینے  کے مسئلے میں خلفاء کو  حق بجانب نہیں سمجھتے تھے ۔

 اسی طرح خلفاء کی طرف سے اپنے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جانشین سمجھنے کو آپ قبول نہیں کرتے تھے اور اس سلسلے میں سخت موقف رکھتے تھے ۔خلیفہ دوم خود ہی امیر المؤمنین علیہ السلام کا جناب ابوبکر اور اپنے بارے میں سخت موقف کا اعتراف کر رہا ہے۔  جیساکہ جناب امیر المؤمنین ع نے بھی خلیفہ کے اس اعتراف کو مسترد نہیں کیا یہ نہیں فرمایا: استغفر اللہ جناب آپ مجھ پر خلیفہ اول اور اپنے کو جھوٹا، خائن، دھوکہ باز، گناہ گار، ظالم ،جابر فاجر کہنے کا الزام لگا رہے ہو۔ میں نے تو ایسا کبھی نہیں کہا اور نہیں سمجھا۔

 لہذا خلیفہ اول کا اعتراف اور خلیفہ چہارم کی طرف سے اس اعتراف کو مسترد نہ کرنا ہی اس موقف پر دلیل ہے  ۔ ہم تو کم از کم اس اعتراف میں خلیفے کو صادق سمجھتے ہیں کیونکہ مولا علی نے خلیفے کو اس وجہ سے نہیں جھٹلایا۔ آپ کی مرضی ۔ دیکھیں

1: فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا،

 تم دونوں نے ابوبکر کو اور پھر مجھے جھوٹا، گنہگار، دھوکہ باز، خائن۔۔۔ سمجھنا

 قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْتُمَا تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ» ، فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا، وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، ثُمَّ تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ وَأَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَلِيُّ أَبِي بَكْرٍ، فَرَأَيْتُمَانِي كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا، وَاللهُ يَعْلَمُ إِنِّي لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، فَوَلِيتُهَا ۔۔۔۔۔

_ صحیح مسلم ۔۔  - كتاب الجهاد والسير  - باب 15 - بَابُ حُكْمِ الْفَيْءِ

السنن الكبرى للبيهقي  کتاب قسم الفئ ( 5 باب بيان مصرف أربعة أخماس الفيء ۔

مسند أبي عوانة (4/ 244):  کتاب الایمان ۔۔۔18 باب الأخبار الدالة على الإباحة أ

   2 - تَزْعُمَانِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَذَا وَكَذَا ،

صفحہ 1 از 4