Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بحرین اور یمامہ

  علی محمد الصلابی

بحرین اور یمامہ (بحرین کا اطلاق سعودی عرب کے مشرقی حصے اور کویت کے علاوہ خلیج عرب کی دیگر امارتوں پر ہوتا تھا اور یمامہ نجد کے علاقے میں پڑتا تھا۔) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت بحرین کے گورنر حضرت عثمان بن ابو العاص ثقفی رضی اللہ عنہ تھے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے انہیں ان کے عہدہ پر باقی رکھا، روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت عثمانؓ کی بیعت خلافت کے بعد تین سال یعنی 27ھ تک آپ اپنے عہدہ پر فائز رہے، کیوں کہ آپ اپنی فوج کے ساتھ بصرہ کے لشکر کی معیت میں بعض فتوحات میں شریک رہے ہیں۔

(تاریخ خلیفۃ بن خیاط: صفحہ 159، الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 169)

بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بحرین اور بصرہ کے صوبوں کے درمیان تعاون کا جو آغاز حضرت عمر بن خطابؓ کے عہدِ خلافت میں ہوا تھا وہ حضرت عثمانؓ کے عہدِ خلافت میں قوی تر ہو گیا تھا، خاص کر عبداللہ بن عامر بن کریز رضی اللہ عنہ 

(الطبقات: ابن سعد: جلد 5 صفحہ 44)

 کے بصرہ پر گورنر مقرر کیے جانے کے بعد۔ 

چنانچہ بحرین کا گورنر بصرہ کے گورنر حضرت عبداللہ بن عامرؓ کے تابع جرنیلوں میں سے شمار ہونے لگا تھا، اسی طرح تاریخی نصوص سے پتہ چلتا ہے کہ بحرین کا صوبہ ایک حد تک بصرہ کے تابع تھا کیوں کہ حضرت عبداللہ بن عامرؓ ہی بحرین کے گورنر کی تقرری فرماتے تھے۔ 

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 169)

بعض محققین نے اس تعاون کی توثیق ان الفاظ میں کی ہے:

’’ خلیفہ راشد عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اس وقت جب کہ بصرہ فارس اور جنوبی ایران کی فتوحات کا فوجی مرکز قرار پایا، بحرین کو بصرہ کے ساتھ ملحق کر دیا گیا، بحرین کے گورنر امیر بصرہ کے تابع ہوتے تھے، اس سے بحرین سے بصرہ کا تعلق انتہائی مضبوط ہوا۔‘‘

(البحرین فی صدر الاسلام: عبدالرحمٰن بن النجم: صفحہ 141)

عہدِ عثمانی میں بحرین کے گورنروں میں سے مروان بن حکمؓ اور عبداللہ بن سوار العبدیؒ تھے۔ حضرت عثمانؓ کی وفات کے وقت بحرین کے گورنر عبداللہ بن سوار العبدیؒ ہی تھے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 170)

حضرت عثمان بن عفانؓ کے دور خلافت میں مشرقی فارس کی فتوحات کے لیے افواج کو روانہ کرنے میں بحرین کا بہت بڑا کردار رہا ہے، اور اسی طرح بحرین کے گورنر حضرت عثمان بن ابو العاص رضی اللہ عنہ کا ان فتوحات میں اہم رول رہا ہے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 170)

حضرت عثمان بن عفانؓ کی وفات تک بحرین کے اندر استقرار اور اس کی فضا پر سکون رہی۔ 

حضرت یمامہ عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں بڑی حد تک بحرین و عمان کے تابع تھا بلکہ بحرین کا گورنر ہی بسا اوقات یمامہ کے امراء کی تعیین کرتا تھا، البتہ حضرت عثمان غنیؓ کے دور خلافت میں بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ خود ہی وہاں کے گورنر کی تعیین کرتے تھے، اس کا ذکر حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد جو فتنہ رونما ہوا اس کے واقعات میں آیا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے جو لوگ غضب ناک ہوئے ان کی طرف سے یمامہ کے گورنر کو بھی خطوط موصول ہوئے تھے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 170)