Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بحرین

  علی محمد الصلابی

جس وقت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے منصب خلافت کی باگ ڈور سنبھالی اس وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف سے علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ بحرین کے گورنر تھے، حضرت عمرؓ نے اپنے ابتدائی ایام خلافت میں ان کو ان کے منصب ولایت پر راجح قول کے مطابق 14ہجری تک باقی رکھا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 75) حضرت علاء بن حضرمیؓ نے بلاد فارس کے مختلف علاقوں میں ہونے والی اولین مجاہدانہ کارروائیوں میں شرکت کی اور اس میں آپؓ کا سب سے بنیادی کردار رہا۔ بحرین پر آپؓ کی گورنری کے آخری ایام میں حضرت عمرؓ نے وہاں سے ان کو معزول کر کے بصرہ کا گورنر بنا دیا، لیکن علاء کو یہ قدرے ناگوار گزرا اور بصرہ پہنچنے سے قبل ہی فوت ہو گئے، بحرین ہی میں آپ کی تدفین ہوئی۔ بحرین سے حضرت علاء رضی اللہ عنہ کی معزولی کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ حضرت عمر فاروقؓ کی اطلاع و اجازت کے بغیر سمندری راستے سے فارس پر حملہ آور ہوئے تھے، حالانکہ سیدنا عمرؓ اسلامی فوج کا سمندری راستوں سے گزرنا ناپسند کرتے تھے۔

حضرت علاء بن حضرمیؓ کی وفات کے بعد حضرت عثمان بن ابی العاصؓ بحرین کے گورنر مقرر ہوئے اور بحرین سے متصل بلاد فارس کے علاقوں پر حملہ کرتے رہے اور رفتہ رفتہ آپؓ کی فتوحات سندھ کے علاقوں تک وسیع ہو گئیں۔ نیز حضرت عمر فاروقؓ نے آپ کو حکم صادر فرمایا تھا کہ اپنی فتوحات اور جنگی کارروائیوں میں بصرہ کے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے تعاون لیتے رہیں۔ چنانچہ فارس کے جنگی محاذ میں بصرہ کے راستہ سے دونوں ریاستوں کی اسلامی افواج باہم متعاون ہو کر پیش قدمی کرتی تھیں۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 73 ) حضرت عثمان بن ابی العاصؓ نہایت پرہیزگار، نیک طبیعت کے مالک اور محرمات سے دور رہنے والے تھے۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 374) حضرت عثمان بن ابی العاصؓ، حضرت عمرؓ کی طرف سے دو مختلف اوقات میں دو مرتبہ بحرین کے گورنر مقرر ہوئے، پہلی مرتبہ 15 ہجری میں ان کو گورنر بنایا گیا لیکن بصرہ کے بعض علاقوں میں بعض اسلامی افواج کی قیادت و کمانڈری اور فتوحات میں پیش قدمی کے لیے ان کی ضرورت محسوس ہوئی تو آپ کو بحرین سے بلا لیا اور حضرت عیاش بن ابی ثور رضی اللہ عنہ کو وہاں کا گورنر بنا کر بھیجا۔

(الولایات علی البلدان: جلد 1 صفحہ 73) عیاش کی مدت ولایت بہت مختصر تھی اور ان کے بعد قدامہ بن مظعونؓ کو وہاں کا گورنر بنایا۔ حضرت قدامہؓ، حضرت ابوہریرہؓ کے ساتھ رہ چکے تھے اور پہلے بحرین کے قاضی بھی تھے نیز مزید کچھ ریاستی ذمہ داریاں ان کے سر تھیں، وہ جب تک بحرین کے گورنر رہے لوگوں نے ان کی تعریف کی، البتہ گورنری کے آخری ایام میں ان پر یہ تہمت لگ گئی کہ وہ شراب نوشی کرتے ہیں، تحقیق کے بعد یہ اتہام پایہ ثبوت کو پہنچ گیا۔ اس کے بعد ان پر حضرت عمرؓ نے شراب نوشی کی حد جاری کی۔ حضرت قدامہ بن مظعونؓ، سیدنا عمر بن خطابؓ کے بچوں عبداللہ اور ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہما کے ماموں تھے۔

(الطبقات: جلد 5 صفحہ 560، تاریخ المدینۃ: جلد 3 صفحہ 843، الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 74) حضرت عمر فاروقؓ کی اس تادیبی کارروائی سے حضرت قدامہؓ آپ پر برہم ہو گئے لیکن امیر المؤمنینؓ ان کو منانے کی پیہم کوشش کرتے رہے، اور ان سے کہتے تھے: ’’میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک آدمی آیا اور مجھ سے کہا: ’’قدامہ مصالحت کر لو، وہ تمہارا بھائی ہے۔‘‘

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 74) ایک روایت کے مطابق قدامہ 20ہجری میں بحرین کی ولایت گورنری سے معزول کیے گئے۔

(البدایۃ والنہایہ: جلد 7 صفحہ 101) حضرت قدامہؓ کے بعد بحرین کی منصب ولایت معروف صحابی ابوہریرہؓ کے ہاتھ آئی، قدامہ بن مظعونؓ کی سابقہ گورنری کے دوران ہی میں حضرت ابوہریرہؓ بعض ریاستی ذمہ داریوں کو دیکھتے تھے، آپؓ ان گواہوں میں سے ایک تھے جنہوں نے شراب نوشی کے معاملہ میں قدامہ کے خلاف گواہی دی تھی۔ بہرحال حضرت عمرؓ نے قدامہؓ کو معزول کرنے کے بعد ابوہریرہؓ کو بحرین کا گورنر بنا دیا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 75 ) اور پھر حضرت ابوہریرہؓ کے بعد عثمان بن ابی العاص ثقفیؓ کو دوبارہ بحرین کا گورنر بنایا اور آپ کی وفات تک عثمان بن ابی العاصؓ وہاں کے گورنر رہے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 75) بہت ساری تاریخی روایات میں عمان کو بھی صوبہ بحرین کا ایک علاقہ بتایا گیا ہے، اس طرح بعض روایات میں جہاں عثمان بن ابی العاصؓ کی گورنری کا تذکرہ ہے وہاں یہ بھی ہے کہ وہ بحرین اور یمامہ کے گورنر بھی رہے ہیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 239) آخر الذکر دونوں روایات اس بات کا قوی ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ بحرین کا عمان اور یمامہ سے کافی گہرا تعلق تھا اور یہ بات بالکل ممکن ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں یہ دونوں بحرین کا ایک حصہ رہے ہوں۔ مزید برآں یہ بات نگاہوں سے اوجھل نہ ہونی چاہیے کہ جغرافیائی اور انسانی آمدورفت کی سطح پر بھی ان دونوں شہروں عمان اور یمامہ کا بحرین سے کافی ربط تھا۔

علاوہ ازیں مؤرخین کی بار بار یہ تعبیر کہ ’’بحرین اور اس سے متصل علاقے‘‘ نیز یہ کہ ’’بحرین سے ملحقہ علاقے‘‘ شاید اس طرز تعبیر سے ان کا مقصود ’’عمان اور یمامہ‘‘ کو شمار کرنا تھا۔ بحرین جزیہ اور خراج کی آمدنی کا ایک اہم مرکز تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں بحرین ایک خوشحال و مال دار ریاست تھی۔ بحرین کے مسلم قبائل اور وہاں کے امراء نے فارس و مشرق کی جنگ میں بھی شرکت کی اور وہاں کی فتوحات میں ان کا کافی اہم کردار رہا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 76)