Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گورنروں کی حقیقت

  علی محمد الصلابی

مؤرخین اکثر یہ بات ذکر کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اپنے قرابت داروں کے ساتھ بے جا محبت کرتے تھے، اور امور سلطنت میں ان لوگوں کا عمل دخل بڑھ گیا تھا جو بعد میں لوگوں کی ناراضگی کا سبب بنا، چوں کہ حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے اقرباء کو امور سلطنت میں کھلی آزادی دے رکھی تھی جس کی وجہ سے لوگوں کی ناراضگی حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف بھڑک اٹھی۔ 

(الدولۃ الامویۃ المفتری علیہا: صفحہ 159)

حضرت عثمان غنیؓ کے وہ اقرباء جن کو آپؓ نے گورنری کے منصب پر فائز کیا وہ یہ تھے:

1: سیدنا معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہما 

2: سیدنا عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ

3: سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ

4: سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ

5: سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ

یہ کل پانچ افراد ہیں جن کو اپنے اقرباء میں سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس منصب پر فائز کیا۔ لوگوں کے گمان میں یہ حضرت عثمان غنیؓ پر طعن و تشنیع کا سبب ہے۔ لہٰذا ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ کے گورنروں کا جائزہ لیں کہ وہ کون لوگ ہیں جنھیں حضرت عثمان غنیؓ  نے اس منصب پر مقرر فرمایا چنانچہ وہ یہ ہیں:

1: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ

2: حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ

3: جابر مزنی

4: حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ 

5: حضرت عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہما

6: حضرت ابو الاعور السلمی رضی اللہ عنہ 

7: حکیم بن سلامہ 

8: حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہا 

9: حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ 

10: عیینہ بن نہاس 

11: مالک بن حبیب

12: نسیر عجلی 

13: سائب بن اقرع 

14: سعید بن قیس

15: سلمان بن ربیعہ 

16: خُنَیس بن حبیش 

17: حضرت احنف بن قیس رحمۃاللہ 

18: حضرت عبدالرحمٰن بن ربیعہ رضی اللہ عنہ 

19: حضرت یعلی بن منیّہ رضی اللہ عنہ

20: حضرت عبداللہ بن عمرو حضرمی رضی اللہ عنہ 

21: علی بن ربیعہ بن عبدالعزیٰ

یہ سب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گورنر ہیں۔

اس طرح اگر شمار کیا جائے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گورنروں کی کل تعداد چھبیس (26) تک پہنچتی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا اس تعداد میں بنو امیہ میں پانچ افراد گورنری کے منصب کے مستحق نہیں بن سکتے؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو امیہ کو دوسروں کی بہ نسبت زیادہ مناصب عطا فرماتے تھے۔ اور پھر یہ پانچ گورنر ایک وقت میں نہیں تھے بلکہ حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ولید بن عقبہؓ کو گورنر بنایا، پھر انہیں معزول فرما کر ان کی جگہ حضرت سعید بن العاصؓ کو گورنر مقرر فرمایا، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت بنو امیہ میں سے صرف تین افراد گورنر تھے، سیدنا معاویہ بن ابی سفیان، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح اور عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہم ۔

حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ولید بن عقبہ اور سعید بن العاص رضی اللہ عنہما کو ان کے عہدہ سے معزول کیا، لیکن یہ معزولی کوفہ سے ہوئی تھی جہاں سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو معزول کر دیا تھا، کوفہ کے لوگ کبھی کسی گورنر سے خوش نہ رہے، لہٰذا حضرت عثمان غنیؓ کا یہاں کسی کو معزول کرنے سے ان پر کوئی طعن لازم نہیں آتا، بلکہ اس شہر پر طعن لازم آتا ہے جہاں سے ان کی معزولی ہوئی تھی۔

(حقبۃ من التاریخ: صفحہ 75)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیاتِ طیبہ میں بنو امیہ کو عامل مقرر فرماتے تھے، اور آپ کے بعد سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو جنھیں بنو امیہ کے ساتھ قرابت داری سے متہم نہیں کیا جا سکتا بنو امیہ کو حکومتی مناصب پر مقرر فرماتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گورنر اور عمال اکثر بنو عبد شمس (بنو امیہ) ہی میں سے تھے، دوسرا کوئی قبیلہ ان کے مقابلہ میں نہ تھا، کیوں کہ وہ تعداد میں بھی دوسروں سے زیادہ تھے اور قیادت و سیادت اور شرف و منزلت کے بھی حامل تھے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عتاب بن اسید بن ابی العاص اموی رضی اللہ عنہ کو مکہ پر، ابو سفیان بن حرب اموی رضی اللہ عنہ کو نجران پر، خالد بن سعید اموی رضی اللہ عنہ کو بنی مذحج کی زکوٰۃ پر، اور ابان بن سعید اموی رضی اللہ عنہ کو بعض معرکوں پر، اور پھر بحرین پر گورنر مقرر فرمایا۔ لہٰذا حضرت عثمان غنیؓ نے انہیں اور انہی کے قبیلہ سے گورنر مقرر کیا جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا تھا، اور اسی طرح آپ کے بعد سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے یزید بن ابی سفیان اموی رضی اللہ عنہما کو شام پر مقرر کیا، اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کو ان کے عہدہ پر باقی رکھا، اور ان کے بعد ان کے بھائی سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو ان کی جگہ مقرر فرمایا۔

(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 175، 176)

یہاں خودبخود یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان گورنروں نے جنھیں سیدنا عثمان غنیؓ نے متعین فرمایا تھا اپنی اہلیت ثابت کی یا نہیں؟ ان شاء اللہ ہم ان کے سلسلہ میں اہلِ علم کی شہادتیں ذکر کریں گے۔

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ راشد ہیں، جن کی اقتداء لازم ہے اور آپ کے افعال و کارروائیاں اس امت کی دستوری دستاویز ہیں، جس طرح سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بعد والوں کے لیے قرابت داروں کو قرابت کرنے سے احتراز کا دستور جاری کیا، اسی طرح سیدنا عثمان غنیؓ نے اہلیت کی صورت میں قرابت داروں کو قریب رکھنے کا دستور جاری کیا۔ جو بھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی سیرت کا مطالعہ کرے گا وہ ان لوگوں کی انتظامی اور اداری اہلیت میں ادنیٰ شک بھی نہیں کر سکتا۔ اور جن امور میں حضرت عثمان غنیؓ پر تنقید کی گئی ہے وہ امور مباحات کے دائرے سے خارج نہیں ہیں۔

(الاساس فی السنۃ و فقہہا: سعید حوی: جلد 4 صفحہ 1675)

سیدنا عثمان غنیؓ نے جن گورنروں کو اپنے اقرباء میں سے مقرر فرمایا انہوں نے اپنے صوبوں کے انتظام و انصرام میں اپنی اہلیت ثابت کی، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں بہت سے ممالک پر فتح عطا فرمائی اور انہوں نے رعایا کے ساتھ عدل و احسان کا طریقہ اختیار کیا، اور ان میں بعض ایسے تھے جو اس سے قبل عہدِ صدیقی اور عہدِ فاروقی میں صوبوں کی گورنری نبھا چکے تھے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ من الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 417)

آیئے ہم ان گورنروں سے متعلق اہلِ علم کے اقوال اور تبصرے ملاحظہ کریں: