خارجی دخل اندازی کے خلاف جنگ میں صدیقی سیاست
علی محمد الصلابیجب جزیرہ عرب میں اسلامی سلطنت کی تحریک نے زور پکڑا تو روم وایران کے پڑوسی عرب قبائل میں سے بہتوں نے اسلامی حکومت کو تسلیم کر لیا لیکن جب انہیں رسول اللہﷺ کی وفات کی خبر ملی تو وہ روم و ایران کا تقرب حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہو گئے۔ روم و ایران نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان قبائل کو اسلامی حکومت کے خلاف ابھارنا شروع کر دیا اور ان کو ہر طرح کا تعاون دلانے کے لیے تیار ہو گئے۔
(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 311)
اس خارجی دخل اندازی کے مقابلہ کے لیے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ سیاست اختیار کی کہ رسول اللہﷺ کی وفات کے فوراً بعد لشکر اسامہ کو روانہ کیا، اس سے ان قبائل کے حملہ آور ہونے سے ضمان مل گیا۔ نیز سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن سعید بن العاصؓ کو شام کے حدود پر حمقتین کی طرف لشکر کے ساتھ روانہ کیا اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو تبوک اور دومۃ الجندل کی طرف روانہ کیا اور سیدنا علاء بن حضرمیؓ کو بحرین کی طرف روانہ فرمایا۔ پھر مثنیٰ بن حارثہ شیبانی بحرین کے ارتداد پر قابو پانے کے بعد جنوبی عراق کی طرف روانہ ہوئے اور سجاح جو عراق کے عرب نصاریٰ سے تعلق رکھتی تھی جب اس نے مسلمانوں کی قوت کا مشاہدہ کیا تو عراق کی طرف لوٹنے پر مجبور ہوئی جو اس وقت فارس کے زیر تسلط تھا۔ مسلمان اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں انتہائی بیدار تھے۔ انہوں نے شمالی حدود کی حفاظت بڑی باریکی اور اہتمام سے کی، ہم مشرق سے لے کر مغرب تک فارس و روم کے حدود پر سیدنا علاء بن حضرمیؓ، اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو نجد کے شمال میں پاتے ہیں، پھر سیدنا عمرو بن عاصؓ کو دومۃ الجندل میں اور حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کو شام کی حدود پر پاتے ہیں اور لشکر اسامہ تو اپنی جگہ مسلم ہے ہی۔
(حروب الردۃ: صفحہ 174، 175)
اہل فارس اسلام کو زک پہنچانے کے انتظار میں تھے لیکن وہ سانپ کی طرح اپنے آپ کو چھپائے ہوئے تھے۔ خاص کر جب کہ وہ یہ مشاہدہ کر رہے تھے کہ اسلامی سیلاب اپنے سامنے سے تاریخ کے خس و خاشاک کو بہائے لیے جا رہا ہے اور شر و طغیان کی تمام قوتوں کو اٹھا پھینک رہا ہے اور جب یہ موقع آیا کہ بعض قبائل اسلام سے ارتداد کا شکار ہوئے اور رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد قبیلہ بکر بن وائل نے کسریٰ کے پاس پہنچ کر بحرین کی امارت کی پیش کش کی۔ ان کی یہ پیش کش قبولیت سے ہمکنار ہوئی اور اس نے ان کے ساتھ منذر بن نعمان کی قیادت میں سات ہزار شہسوار و پیادہ فوج مسلمانوں کے خلاف ان کی مدد کے لیے بھیجی۔
(الاکتفاء فی تاریخ المصطفی والثلاثۃ الخلفاء: جلد 3 صفحہ 318، 319)
اور مسیلمہ کذاب کی طرف امرائے فارس کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں۔
(الاسلام والحرکات المضادَّۃ، للدکتور الخربوطلی: صفحہ 146)
ڈاکٹر محمد حسین ہیکل نے بیان کیا ہے کہ سجاح نے جو شمالی عراق سے اپنی جماعت کے ساتھ جزیرہ عرب کی طرف رخ کیا وہ اہل فارس اور عراق میں ان کے والیان کی تحریض کا نتیجہ تھا تاکہ عرب میں فتنہ کی آگ بھڑکائیں۔
(الردۃ: غیداء خزنہ کاتبی: صفحہ 49 مخطوط بحوالہ حرکۃ الردۃ: صفحہ 146)
فارس نے یہ کردار اختیار کیا اور روم کا کردار اس سے کہیں خطرناک اور نمایاں تھا۔ یہ اس وجہ سے کہ روم کا مؤقف اسلام اور حکومت اسلام کے خلاف انتہائی سخت تھا کیونکہ رومی فکر و عقیدہ اور ترقی یافتہ نظام و قوانین کے مالک تھے۔ ان کے پاس نہ ختم ہونے والا سامان حرب اور نفری قوت موجود تھی اور بے شمار ممالک ان کے حلیف اور تابع تھے۔ اس لیے ان کے اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات بالکل ابتدائی دور سے انتہائی درجہ کشیدگی کا شکار تھے۔
(حرکۃ الردۃ: صفحہ 146)
رسول اللہﷺ کے خطوط پہنچنے کے بعد ہی سے رومیوں نے مسلمانوں کے ساتھ ٹکرانے کی کوشش شروع کر دی تھی۔ جس کے نتیجہ میں موتہ اور تبوک کے غزوات پیش آئے، جس نے مادی طور پر یہ ثابت کر دیا کہ اسلامی سلطنت کو نگلنا اور اس کے افراد کو خریدنا آسان نہیں اور دوسری طرف مسلمانوں پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ قبائل شام کے عرب نصاریٰ کا دل رومیوں کے ساتھ ہے اگرچہ رسول اللہﷺ غزوہ تبوک کے فوراً بعد بذاتِ خود امرائے شام اور اتباع روم کے ساتھ معاہدہ کر چکے تھے لیکن رومی اسلامی سلطنت کے ساتھ چھیڑ خانی اور اس کے پر و بازو کترنے کی کوشش سے باز آنے والے نہ تھے اور پھر ان کا اولین مقصد اسلامی سلطنت کا صفایا کرنا تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس سے اچھی طرح واقف تھے جو لشکر اسامہ کو روانہ کرنے پر اصرار سے بالکل واضح ہے۔ اور جزیرہ عرب کے شمال میں آباد قبائل عرب، لخم، غسان، جذام، بلی، قضاعہ، عذرہ اور کلب نے رسول اللہﷺ کے ساتھ کیے گئے عہد و پیمان کو توڑنا چاہا اور رومی سلطنت کے علاوہ اور کون تھا جو انہیں اسلحہ، افراد، مال اور جنگی منصوبے عطا کرتا؟ ان حالات میں لشکر اسامہ کو روانہ فرما کر بزبان حال رومیوں سے کہنا چاہتے تھے کہ باوجود یہ کہ میرے ملک کے اندر بعض قبائل عہد و پیمان کو توڑ چکے ہیں لیکن اس سے ہم مسلمانوں کی قوت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ سب سے بڑے عالمی حملہ کو روک دیں اگرچہ وہ حملہ تمہاری طرف سے کیوں نہ ہو۔
(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 150)
جزیرہ عرب میں نقض عہد کی لہر سے فارس و روم پر امید ہو گئے کہ عرب اب اسلام کا صفایا کر دیں گے اور روم و فارس نے اسلامی حکومت کے خلاف باغیوں سے بھرپور تعاون کیا اور فرار ہونے والوں کو پناہ دی۔ ابھی مسلمان جزیرہ عرب کو اسلام کے پرچم تلے متحد کرنے میں کامیاب نہ ہوئے تھے کہ شمال کی جانب دو بڑے دشمنوں سے ٹکرانے کا وقت آ گیا جو اسلام کے خلاف گھات لگائے ہوئے تھے۔
(موسوعۃ التاریخ الاسلامی: دیکھیے احمد شلبی جلد 1 صفحہ 388)
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مرکز قیادت مدینہ منورہ سے حرکت میں آئے اور وہاں سے اسلامی افواج کو روانہ کیا اور ہر طرح کے جنگی ساز و سامان سے ان کو مسلح کیا، جس سے دشمن ہیبت زدہ اور مرعوب ہو سکتے تھے۔ اس طرح سیدنا ابوبکر صدیقؓ مرکز قیادت جزیرہ عرب میں خیر کو عام کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اگر آپؓ مرکز قیادت جزیرہ عرب میں امن کو بحال نہ کر لیتے تو شام و عراق کی فتح کے لیے نکلنا ممکن نہ ہوتا۔ مرکز کا امن تین درجات میں نمایاں رہا:
خلیفہ کا جہاد جاری رکھنے کا عزم اور اپنی فکری صلاحیت اور اس کے ممتاز ہونے پر گہرا اور مضبوط ایمان اور اس کے ذریعہ سے غلبہ و سربلندی کے حصول کی طلب۔
مہاجرین و انصار کے مدنی معاشرہ کی نظافت وپاکی۔
عربی معاشرہ کا شرک کی گندگیوں اور ارتداد کے امراض سے پاک ہونا۔
یہ تینوں درجات ایک دوسرے کے لیے سہارا بنے، جس کی وجہ سے اسلام کی عمارت بلند اور قوی تر ہوئی اور آپ نے عراق و شام کے اڈوں کو اس طرح نیست و نابود کیا کہ روم و فارس کی سلطنتیں تھوڑی ہی مدت میں ہل گئیں اور یہ اس وجہ سے ہوا کہ جزیرہ عرب سے نکلنے والی اسلامی افواج وحدت صفت، وحدت فکر اور وحدت علم کی حامل تھیں۔ پیچھے سے کوئی خطرہ نہ تھا، ان کی پشت پناہی ہو رہی تھی اور انہیں قوت بہم پہنچانے والے مراکز مامون و محفوظ تھے۔
(حرکۃ الردۃ: صفحہ 323)