امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 4

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسویں دلیل:

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسویں دلیل یہ آیت ہے :

﴿مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِoبَیْنَہُمَا بَرْزَخٌ لَا یَبْغِیَانِ﴾ (الرحمن:۱۹۔۲۰)

’’اس نے دو دریا جاری کر دیئے جو ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں ۔ان دونوں کے درمیان ایک پردہ ہے( جس سے ) وہ آگے نہیں بڑھتے۔‘‘

ثعلبی اور ابونعیم حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ ﴿مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِ﴾سے حضرت علی رضی اللہ عنہ و فاطمہ مراد ہیں ۔﴿بَیْنَہُمَا بَرْزَخٌ لَا یَبْغِیَانِ﴾ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور﴿یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْ لُؤُ وَالْمَرْجَانُ﴾ سے حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما مراد ہیں ۔ یہ فضیلت صحابہ میں سے اور کسی کے حصہ میں نہیں آئی، لہٰذا حضرت علی رضی اللہ عنہ اولیٰ بالامامت ہوں گے۔‘‘[شیعہ کا بیان ختم ہوا]

جواب:گزارش ہے کہ یہ بات اور اس طرح کی دیگر باتیں [اور باطل تفسیریں ] وہی بیان کرسکتا ہے جسے یہ بھی پتہ نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ یہ تفسیر قرآن نہیں بلکہ تحریف و ہذیان ہے جسے ملاحدہ اور باطنی قرامطہ نے وضع کیا ہے۔ بلکہ یہ قول بہت سے قرامطہ کے قول سے بھی بڑھ کر خطرناک اور شر پر مبنی قول ہے۔تفسیر کا یہ طریقہ ان ملحدین کا طریقہ ہے جو کہ قرآن پر طعنہ زنی کرنا چاہتے ہیں ۔بلکہ قرآن کے بارے میں ایسی باتیں کہنا سب سے بڑی قدح وتشنیع کا موجب ہیں ۔ حقیقت میں یہ رافضیوں کا الحاد ہے ۔[اہل ِ]سنت کی طرف منسوب جاہلوں کی ان چار میں اپنی ہی تفسیر ہے۔ اگرچہ یہ تفسیر بھی باطل ہے؛ تاہم شیعہ کی تفسیر سے قدرے بہتر ہے۔ وہ کہتے ہیں :

الصابِرِین: سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ الصادِقِین سے مراد: أبو بکر رضی اللہ عنہ 

القانِتِین سے مراد: عمر رضی اللہ عنہ ، المنفِقِین سے مراد: عثمان رضی اللہ عنہ 

المستغفِرِین بِالأسحارِ سے مراد: علِی رضی اللہ عنہ ۔ 

بالکل ویسے ہی جیسا کہ اس آیت کی تفسیر میں کرتے ہیں :

مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ:

وَالَّذِينَ مَعَهُ:سے مراد (أبو بکر رضی اللہ عنہ ) أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ سے مراد:(عمر رضی اللہ عنہ )۔

رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ سے مراد: (عثمان رضی اللہ عنہ )۔ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا:سے مراد(علِی رضی اللہ عنہ )ہیں 

اور جیسا کہ یہ کہتے ہیں کہ:

وَالتِّينِ سے مراد:حضرت أبو بکر رضی اللہ عنہ وَالزَّيْتُونِ سے مراد: حضرت عمر رضی اللہ عنہ 

وَطُورِ سِينِينَ سے مراد: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ۔ الْبَلَدِ الْأَمِينِ سے مراد:حضرت علِی رضی اللہ عنہ ہیں ۔

اور جیسا کہ یہ بھی کہتے ہیں کہ:

﴿وَالْعَصْرِ () إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ:

إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا: سے مراد حضرت أبو بکر رضی اللہ عنہ ۔

وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ:سے مراد حضرت عمر رضی اللہ عنہ 

وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ سے مراد: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ۔

وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ سے مراد: حضرت علِی۔ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ 

یہ تفسیر بھی اپنے سے پہلی تفاسیر کی جنس سے تعلق رکھتی ہے۔

جیسا کہ شیعہ کہتے ہیں :

۱۔﴿وَکُلَّ شَیْئٍ اَحْصَیْنٰہُ فِیْٓ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ﴾ اس سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ۔

۲۔ ﴿وَاِِنَّہٗ فِیْٓ اُمِّ الْکِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَکِیْمٌ﴾ اس سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ۔

۳۔ ﴿اَلشَّجْرَۃُ الْمَلْعُوْنَۃُ﴾ اس سے مراد بنو امیہ ہیں ۔

اس طرح کی دیگر من گھڑت تفسیریں اور باتیں جو کوئی بھی ایسا انسان نہیں کہہ سکتا جسے اللہ تعالیٰ کے وقار کا کچھ ذرا بھر بھی خیال ہو اور نہ ہی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والا کوئی بھی انسان ایسی بات کہہ سکتا ہے ۔

یہی حال ان لوگوں کا بھی ہے جو کہتے ہیں کہ: ﴿مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیَانِ﴾ (الرحمن:۱۹)

’’اس نے دو دریا جاری کر دیئے جو ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں ۔‘‘

اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ و فاطمہ مراد ہیں ۔‘‘

﴿بَیْنَہُمَا بَرْزَخٌ لَا یَبْغِیَانِ﴾ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ؛ 

اور﴿یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْ لُؤُ وَالْمَرْجَانُ﴾لؤلؤ اور مرجان سے حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما مراد ہیں ۔ [ذیل میں بلا تبصرہ شیعہ کے ہاں تحریف قرآن کی مثالیں پیش کررہے ہیں :[ابو عبداللہ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے : ] ﴿اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰواتِ وَالْاَرْضِ مَثَلَ نُوْرِہِ کَمِشْکوٰۃٍ ﴾: سے مراد فاطمۃ ’’اللہ نور ہے آسمانوں کا اور زمین کا اس کے نور کی مثال مثل ایک طاق کے ہے۔ ‘‘ یعنی فاطمہ۔ ﴿ فِیْہَا مِصْبَاحٌ﴾ أیْ : الحسن ’’جس میں چراغ ہو۔‘‘ یعنی الحسن ﴿ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ ﴾: أَیْ الْحُسین ’’اور چراغ شیشہ کی قندیل میں ہو۔‘‘ یعنی الحسین ﴿الزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ﴾: فَاطِمَۃُ کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ بَیْنَ نِسَائِ أَہْلِ الدُّنْیَا ’’شیشہ مثل چمکتے ہوئے روشن ستارے کے ہو۔‘‘ یعنی فاطمہ اہل دنیا کی تمام خواتین کے درمیان چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ ‘‘ ﴿ یَوْقَدُ مِنْ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ﴾: إبراہیم ’’ وہ چراغ ایک بابرکت درخت سے جلایا جاتا ہو۔‘‘ یعنی ابراہیم۔ ﴿ زَیْتُوْنَۃٍ لاَّ شَرْقِیَّۃٍ وَّلَا غَرْبِیَّۃٍ ﴾: لَا یَہُوْدِیَّۃٍ وَّلَا نَصْرَانِیَّۃٍ ’’زیتون کے درخت سے جو نہ مشرقی ہے اور نہ مغربی۔‘‘ یعنی وہ نہ تو یہودیت ہے اور نہ ہی نصرانیت۔ ﴿ یَکَادُ زَیْتُہَا یُضِیْئُ ﴾: یَکَادُ الْعِلْمُ یَنْفَجِرُبِہَا ’’ خود وہ تیل قریب ہے کہ آپ ہی روشنی دینے لگے ۔‘‘ یعنی قریب ہے کہ علم خود بخود ہی اس سے پھوٹنے لگے۔ ﴿وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ﴾ إِمَامٌ مِّنْہَا بَعْدَ إِمَامٍ ’’گو اسے مطلقاً آگ لگی ہی نہ ہو نور پر نور ہے۔‘‘ یعنی ایک امام کے بعد دوسرا امام ہے ۔ ﴿ یَہْدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہٖ مَنْ یَّشَآئُ﴾ یَہْدِی اللّٰہُ لِلْأَئِمَّۃِ مَنْ یَّشَائُ (]

جس انسان کو ادنیٰ علم اور عقل ہو وہ اس تفسیر کے بطلان کو جانتا ہے اور اسے علم ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایسی کوئی من گھڑت تفسیر بیان نہیں کی۔

صفحہ 1 از 4