اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت

  توقیر احمد

صفحہ 1 از 32

 اہل تشیع کا چوتھا اصول دین امامت 

بنام مفتی عبدالعزیز عزیزی دامت برکاتھم 

فہرست

امام کا لغوی معنی

امام الہدیٰ 

دوسری قسم امامت

امامت عندالشیعہ

شیعہ کےنزدیک اہمیت امامت و فضائل   

شیعہ محقیقین کا اقرار

شیعہ کتب کی روشنی میں عبداللہ بن سباءکے  عقائد

راجح قول 

نظریہ امامت ایک راز تھا

آئمہ کو متعین تعدادمیں محصور کرنا

آئمہ کو سب سے پہلے کس نے متعین تعداد میں محصور کیا

متعین تعدارِ آئمہ کے نظریے  کا بانی

تعرفِ شیطان الطاق

متعلقہ نظریےکی روایات

ائمہ کو متعین تعداد میں محصور کرنے پر نقد وتبصرہ

نیابت مجتہد کی ضرورت

اھلسنت کی روایت سے استدلال  

نظریہ امامت میں شیعہ استدلات

آئمہ کے اسماء گرامی

معیار امامت

پہلی آیت سے استدلال 

دوسری آیت سے استدلال 

خلاصه استدلال

شیعہ کا سنت سے استدلال کرنا۔

عصمت آئمہ

عصمت کا لغوی معنی

اصطلاحی تعریف

عقیدہ عصمت کا آغاز

عقیدہ عصمت کے تدریجی مراحل 

تبصرہ و نقد

استدلات اہل تشیع

پہلی آیت سے استدلال

ترکیب و اعراب 

سیاق وسباق

اقوال المفسرین

روایت سے استدلال

دوسری آیت سے استدلال

روایت سے استدلال

تیسری آیت سے استدلال 

جوابات و تضادات

 نتیجہ

حرف آغاز

‌صحيح البخاري - حدیث 4606

كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ بَابُ قَوْلِهِ: {اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ صحيح حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن قيس، عن طارق بن شهاب، قالت اليهود لعمر إنكم تقرؤون آية لو نزلت فينا لاتخذناها عيدا‏.‏ فقال عمر إني لأعلم حيث أنزلت، وأين أنزلت، وأين رسول الله صلى الله عليه وسلم حين أنزلت يوم عرفة، وإنا والله بعرفة ـ قال سفيان وأشك كان يوم الجمعة أم لا – ‏{‏اليوم أكملت لكم دينكم‏}‏

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 4606

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں باب: آیت (( الیوم اکملت لکم دینکم )) الخ کی تفسیر مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرحمن بن مہدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے قیس بن اسلم نے اور ان سے طارق بن شہاب نے کہ یہودیوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ لوگ ایک ایسی آیت کی تلاوت کرتے ہیں کہ اگر ہمارے یہاں وہ نازل ہوئی ہوتی تو ہم ( جس دن وہ نازل ہوئی ہوتی ) اس دن عید منایا کرتے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ، میں خوب اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ آیت الیوم اکملت لکم دینکم کہاں اور کب نازل ہوئی تھی اور جب عرفات کے دن نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تشریف رکھتے تھے ۔ اللہ کی قسم ! ہم اس وقت میدان عرفات میں تھے ۔ سفیان ثوری نے کہا کہ مجھے شک ہے کہ وہ جمعہ کا دن تھا یا اور کوئی دوسرا دن ۔ قیس بن مسلم کی دوسری روایت میں بالیقین مذکور ہے کہ وہ جمعہ کا دن تھا۔ یہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی تھی جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حج تھا جس کے تین ماہ بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت عرفہ کی شام کوجمعہ کے روز اتری تھی۔ اس کے بعد حلال حرام کا کوئی حکم نہیں اترا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے نو رات پہلے آخری واتقوا یوما ترجعون فیہ الی اللہ نازل ہوئی جس دن یہ آیت اتری اس دن پانچ عیدیں جمع تھیں۔ جمعہ کا دن ، عرفہ کا دن، یہود کی عید، نصاریٰ کی عید، مجوس کی عید۔ اس آیت سے ان لوگوں کو سبق لینا چاہیئے جورائے اور قیاس پر چلتے ہیں اور نص کو چھوڑ تے ہیں گویا ان کے نزدیک دین کامل نہیں ہوا۔ نعوذ باللہ۔

تمہید۔۔۔

اہل تشیع کا نظریہ ہے کہ امام نبی سے افضل ہے اور امام پروحی کانزول ہوتاہے امام معصوم ہوتااورامام کومافوق الفطرت ہونابیان کرتےہیں اوران سب عقائد کےثبوت کےطورقرآن مجید کوپیش کرتےہیں تو ہم اہل تشیع کےان دلائل پر بحث کریں گے اور دیکھتے ہیں کہ امام واقعی مافوق الفطرت طاقت رکھتےہیں 

عرضِداشت۔۔۔

اگرامامت منصوص من اللہ ہے تو چھینی کیسے جاسکتی ہے ؟؟؟؟

کیا کسی نبی سے نبوت چھینی گئی ؟؟؟؟

اگر امام کو خلافت ناملی ہو تو کیااس کی امامت کامل ہے ؟؟؟

جناب یہ چندسوالات اہل تشیع کی گلےکی ہڈی ہیں اس کے علاوہ اوربہت سارے تعرضات اہلتشیع کے نظریہ امامت میں پائے جاتے ہیں 

امام کا لغوی معنی

پیشوا۔ قائد۔ رہبر ۔متبوع یعنی جس کی اتباع کی جائے۔اسی بنا پر حاکم اولامر کو بھی امام کہا جاتا ہے اور اسی طرح ماہر فن کو بھی امام کہتے ہیں مثلا۔ حدیث کےماہر کو امام المحدثین 

علم نحو کے ماہر کو امام النحو اور تکلم کےماہر کو امام المتکلمین وغیرہ کہا جاتا ہے

 اس بات کو سمجھنے کے بعد یہ سمجھنا آسان ہوگا کہ امام دو طرح کے ہوتے ہیں 

 امام الہدیٰ ۔

 یعنی اگر کسی نے ہدایت اور تقوی میں کسی کے رہنمائی کی تو اس کو امام الہدیٰ اور امام المتقین کہا جاتا ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا یعنی ہر دور میں ہر علاقے میں ایسے عالم اور ایسے مومن متقی و پرہیزگار ہوتے رہے ہیں او روتے رہیں گے جو مسلمانوں کی دینی معاملات میں رہنمائی کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے جو لوگ ان کی شرعی معاملات میں اتباع کرتے تھے وہ ان کے تابع تھے اور جو حضرات متبوع تھے وہ امام تھے۔کسی لحاظ سے تمام انبیاء و مرسلین امام الہدیٰ اور امام المتقین تھے اور مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبییین المعصومین کے بعد قیامت تک کوئی نبی و رسول آنے والا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آج تک اس امت میں علماء و صلحاء آج تک اس امت کی رہنمائی و رہبری کرتے آئے ہیں وہ سارے کے سارے اپنے اپنے لحاظ سے باقی امت کے امام تھے اور اس قسم کی امامت ایک بڑا اعزاز ہے جس کے لیے علماء صالحین بڑی کوشش کرتے ہوئے اللہ تعالی سے امام المتقین ہونے کی دعائیں مانگتے رہتے ہیں اور اللہ تعالی کو بھی ایسے بندے انتہائی محبوب ہیں کہ اللہ تعالی نے ان کی ایسی کاوش کو قرآن مجید میں خود بیان فرمایا ہے 

 Surat No 25 : Ayat No 74 

وَ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا ہَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعۡیُنٍ وَّ اجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِیۡنَ اِمَامًا ﴿۷۴﴾

 اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا ۔  

صفحہ 1 از 32