اسماعیلیوں کا تعارف اور اسماعیلی شیعوں کے فرقے - ردِ رافضیت…

اسماعیلیوں کا تعارف اور اسماعیلی شیعوں کے فرقے

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 1 از 3

اسماعیلیوں کا تعارف

اسماعیلی ایک باطنی فرقہ ہے یہ امام اسماعیل بن جعفر صادقؒ کی طرف منسوب ہے یہ ظاہر میں تو آلِ بیت کے شیعہ نظر آتے ہیں درحقیقت یہ اسلام کو مٹانا چاہتے ہیں صدیاں بیت گئیں اس کے باوجود یہ ہمارے زمانے تک پائے جاتے ہیں اسماعیلیوں سے ہی اثناء عشری امامیوں کے شیعے نکلے ہیں 148ھ بے سیدنا جعفرؒ کی وفات کے بعد اسماعیلیوں نے سیدنا موسی کاظمؒ جو کہ شیعوں کے نزدیک ساتواں امام ہے ان اسماعیلوں نے اسے تسلیم نہ کیا تھا اور امامت اسماعیل بن جعفرؒ کی طرف منتقل کر دی علماء کرام نے اسماعیل کی حالت دو لفظوں میں یہ بیان کی ہے:

دعاتھم زنادقتہ و عوامھم رافضتہ۔

ان کے داعی زندیق و بے دین ہیں اور ان کی عوام رافضی شیعہ ہیں۔

اسماعیلی شیعوں کے فرقے

(1)۔ قرامطہ اسماعیلی: یہ شام اور بحرین میں ظاہر ہوئے تھے انہوں نے امام اسماعیل کی اطاعت سے انکار کر دیا تھا اس کے مال لوٹ لیے سامان لوٹ لیا یہ امام اسماعیلی وہاں سے بھاگ اٹھا سلیمہ سے سوریا چلا گیا

ان کی پکڑ سے بچنے کے لیے "ماوراءالنہر" کے شہروں میں چلا گیا اسماعیلی قرامطہ کی شخصیات میں سے عبداللہ بن میمون قداح ہیں جو جنوبِ فارس میں 260ھ میں نمودار ہوا اور ایک فرج بن عثمان قاشانی جو "ذکرویہ" کے نام سے معروف ہے یہ عراق میں نمودار ہوا تھا اس نے چھپے ہوئے غائب امام کی دعوت دی اور ایک حمدان فرمط ابن الاشعث اور ایک احمد بن قاسم ہے جو تاجروں اور سنی حاجیوں کے قافلے لوٹ لیا کرتا تھا ایک حسن بن بہرام ہے جو کہ ابو سعید جنابی کے نام سے معروف تھا جو بحرین میں نمودار ہوا یہ حکومت قرامطہ کا بانی تصور کیا جاتا ہے اس کے بعد اس کا بیٹا خبیث سلیمان بن حسن بن بہرام ہے اس خبیث نے تیس برس تک حکومت کی اس کے عہد میں کعبہ مشرفہ پر حملہ ہوا بہت سارے حاجی لوگ مارے گئے حجراسود کو چرا لیا گیا اور اس سےبیس برس تک اپنے پاس رکھا۔

اسماعیلیوں کے انوکھے کام:

قرامطہ اسماعیلی ایک خطرناک کھیل کھیلتے ہیں وہ یہ ہے کہ مال اور شرمگاہیں سب جائز ہیں سب سے پہلے یہ کام حمدان قرمطی نے کیا اس نے اپنے پیروکاروں سے کہا الفت پیدا کرو اس کا طریقہ یہ تھا کہ اپنے مال ایک جگہ جمع کریں اور اس میں سب برابر ہیں حمدان جب قابض ہوا تو اس نے اپنے پیروکاروں سے کہا کہ فلاں رات عورتوں کو جمع کرو مرد و زن کا اختلاط ہو اور ایک دوسرے پر سواری کریں ابو سعید جنابی نے بھی بحرین کی حکومت میں اپنے پیروکاروں کو جمع کیا اور اس رات کا نام" افاضہ" رکھا اور چراغ بجھا دیے آگے عورت حلال ہے یا اس پر حرام ہے یہ تمیز کون کرتا ہے یہ ساری رات جنسیت کا بازار گرم رہا بلکہ اسماعیلیوں کے نزدیک ایمان کامل اس طرح ہوتا ہے جب کوئی تشریق کرے تشریق یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی کے پاس دوسرے آدمی کو بھیجے وہ اس سے ہمبستری کرے اور اس کا خاوند موجود ہو اور وہ دیکھ رہا ہو پھر جب وہ باہر نکلے تو اس کے چہرے پر تھوکے اور اس کی گدی تھپ تھپا کر یہ زنا کرنے اس عورت کے خاوند سے کہے "صبر کر" جب یہ صبر کرے گا تو اب یہ کامل ایمان والا ہے اور اس عورت کا نام صابرہ رکھتے ہیں۔

تاریخ نولیس بیان کرتے ہیں کہ ابو سعید جناب نے اپنی بیوی کو یحییٰ مہدی پر داخل کیا اور بیوی سے کہا: جب یہ تجھ سے بدکاری کرنا چاہے تو اسے مت روکنا اس کے بعد معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ اس نے اپنے پیروکاروں کے لیے قومِ لوط کا عمل جائز قرار دے دیا اور اس لڑکے کو واجب القتل قرار دیا جو اس بدفعلی سے روکے علی بن فضل نے اپنی اسماعیلی پیروکاروں کے لیے"افاضہ" کی رات جاری کی تھی اپنے قرامطہ پیروکاروں مردوں اور عورتوں کو رات ایک وسیع گھر میں جمع کرتا پھر روشنی بجھانے کا حکم دیتا اور جس کے ہاتھ جو عورت لگ جاتی وہ اس پر واقع ہو جاتا۔ (نعوذ باللہ من ہذہ الخرافات

(2)۔ فاطمی اسماعیلی: یہ اسماعیلی تحریک تھی جو متعدد ادوار سے گزری تھی ایک دور رازداری کا تھا یہ اسماعیل بن جعفر کی موت کے بعد ہی شروع ہوئی تھی اس کی موت 143ھ میں ہوئی تھی اور عبید اللہ مہدی کے دور تک اسی طرح رہی اس وقفہ کے دوران جو ان کے امام ہیں ان کے ناموں کے بارے میں اختلاف کی یہ وجہ ہے کہ یہ پوشیدہ رہے ہیں اس کے بعد ان کےظہور کا دور ہے یہ عبید اللہ مہدی کے وقت ظاہر ہوئی یہ سلمیہ میں مقیم تھا وہاں سے بھاگ کر شمالی افریقہ میں گیا اور وہاں اپنے کتامی معاونین پر اس نے اعتماد کیا وہاں افریقہ میں"تونس" شہر میں اس نے اسماعیلی فاطمیوں کی حکومت کی بنیاد رکھی اور رقادہ پر 297ھ میں غلبہ حاصل کیا اور اس کے بعد پھر پے در پے فاطمی وجود میں آتے رہیں ہیں۔

1۔ منصور باللہ ابو طاہر اسماعیل 2۔ معزالدین باللہ ابو تمیم معد مصر اسی کے عہد میں فتح ہوا تھا 361ھ میں ہی معزرمضان میں اس کی طرف منتقل ہوا تھا۔

3۔ عزیز باللہ ابومنصور نزار 4۔ حاکم بامر اللہ ابوعلی منصور 5۔ مستنصر باللہ ابو تمیم اسماعیلی فاطمیوں کی حکومت چلتی رہی مصر حجاز یمن میں انہوں نے حکمرانی کی یہاں تک کہ ان کی سلطنت کا زوال بطلِ حریت مجاہد اعظم صلاح الدین ایوبیؒ کے ہاتھوں ہوا۔

(3)۔ اسماعیلی حشاشی فرقہ:

یہ نزاری اسماعیلی ہیں شام فارس وغیرہ میں پائے جاتے ہیں ان کے ہاں نامور شخص حسن بن صلاح ہے جو اصل میں فارسی تھا یہ ولایت کا دین رکھتا تھا کہ امام مستنصر ہی ولایت کا حقدار ہے "المج" قلعہ پر قابض ہوا اور اس نے نزاری اسماعیلیوں کی بنیاد رکھی جو بعد میں حشاشین کے نام سے مشہور ہوئے کیونکہ یہ ہیروئن کے سگرٹ پینے میں بہت آگے بڑھ گئے تھے اس لیے انہیں حشاشین کا لقب دیا گیا ان میں نمایاں آدمی کیابزرگ امیت بھی ہے محمد بن کیابزرگ بھی ہے حسن ثانی بن محمد بھی ہے اور محمد بن ثانی ہیں حسن بھی حسن ثالث بن محمد ثانی محمد ثالث بن حسن ثالث رکن الدین خورشید وغیرہ مشہور لوگ ہیں جو حشاشین اسماعیلی گروہ میں ہوئے ہیں ہلاکو خان نے ان کی سلطنت ختم کر دی اور ان کے قلعے مسمار کردئیے رکن الدین قتل ہوا یہ حشاشین اسماعیلی مختلف علاقوں میں بکھر گئے ہیں تاہم ان کے پیروکار اب تک ہیں ۔

صفحہ 1 از 3