Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی بحرین پر ولایت

  علی محمد الصلابی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو علاء حضرمی کے ساتھ اس مقصد کے تحت بحرین بھیجا کہ وہ وہاں اسلام کی اشاعت کریں گے، مسلمانوں میں دینی سوجھ بوجھ پیدا کریں گے اور انہیں دینی امور کی تعلیم دیں گے۔ چنانچہ وہ وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کرتے اور لوگوں کے لیے فتاویٰ کا اجراء کرتے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے عہد خلافت میں بحرین کا عامل بنا کر بھیجا۔ جب وہ مدینہ آئے تو ان کے پاس دس ہزار درہم تھے اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: اللہ اور اس کی کتاب کے دشمن! تو نے یہ مال اپنے لیے جمع کیا ہے؟ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں اللہ اور اس کی کتاب کا دشمن نہیں ہوں، میں تو ان کے دشمنوں کا دشمن ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تجھے یہ درہم کہاں سے ملے؟ انہوں نے جواباً بتایا میرے گھوڑوں نے بچوں کو جنم دیا، میرے غلام نے غلہ کمایا اور مجھے عطیات بھی ملتے رہے۔ جب تفتیش کی گئی تو ان کی بات درست ثابت ہوئی۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 387)

اس کے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دیگر عمال کی طرح ابو ہریرہؓ رضی اللہ عنہ کو بھی قسم دی۔ وہ کہا کرتے تھے: یا اللہ! امیر المؤمنین کی مغفرت فرما۔

(طبقات ابن سعد: جلد 4 صفحہ 60 ۔ السنۃ قبل التدوین: صفحہ 416)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دوبارہ والی بنانے کے لیے بلایا تو انہوں نے اس سے انکار کر دیا، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: عمل و عہدہ کا مطالبہ تو تجھ سے بہتر انسان نے بھی کیا تھا، یعنی یوسف بن یعقوب علیہما السلام نے۔ انہوں نے جواب دیا: یوسف نبی بن نبی تھے جبکہ میں ابو ہریرہ بن امیمہ ہوں۔ میں تمہارے عمل کے بارے میں اور دو چیزوں سے ڈرتا ہوں، انہوں نے کہا: تم نے پانچ کیوں نہ کہا؟ جواب دیا: میں ڈرتا ہوں کہ بدون علم کوئی بات کہوں، بدون حلم فیصلہ کروں، میری پیٹھ پر ضربیں لگائی جائیں اور میری عزت کو داغ دار کیا جائے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 4 صفحہ 441)۔ السنۃ قبل التدوین: صفحہ 416)

ح: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا فتنوں سے الگ رہنا

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے محاصرہ کے دن بعض صحابہ اور ان کے بیٹوں کے ساتھ ان کے ساتھ ان کے گھر میں موجود تھے، یہ لوگ ان سے شورش پسندوں کو بھگانے کے لیے آئے تھے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اولاد نے ان کا یہ احسان ہمیشہ یاد رکھا اور ان کا احترام کرتے رہے، یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوئے تو اولاد عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے جنازے کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر اسے بقیع تک پہنچایا۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 523)

سیدناا بوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد فتنوں سے کنارہ کش ہو گئے تھے۔

(السنۃ قبل التدوین: صفحہ 417)

ط: ہنسی مزاح اور خوش طبعی

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ صاف دل، خوش طبع اور حسن معاشرت سے متصف تھے، آپ ہنسی مزاح کو پسند کیا کرتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ ہر چیز کو اس کا حق دیا کرتے تھے، انہوں نے دنیا کو مسافر کی نظر سے دیکھا، امارت و حکومت نے انہیں بڑے پن کا احساس نہیں دلایا بلکہ ان کے عجز و انکسار اور حسن خلق کو مزید نمایاں کیا، اکثر اوقات جب مروان انہیں مدینہ منورہ پر اپنا جانشین بناتا تو وہ اپنے گدھے پر کمبل ڈال کر اور اس کے منہ میں عروف کھجور کی چھال سے بنی رسی ڈال کر اس پر سوار ہوتے اور گشت کرنے کے لیے بازار میں نکلتے اس دوران اگر راستے میں کسی کو ملتے تو فرماتے: راستہ چھوڑ دو، امیر آ رہا ہے۔

(طبقات ابن سعد نقلا عن السنۃ قبل التدوین: صفحہ 418)

ایک دفعہ جب وہ مروان کی طرف سے مدینہ منورہ کے امیر تھے اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے ہوئے بازار سے گزر رہے تھے کہ راستے میں ثعلبہ بن ابو مالک قرظیؓ سے ملاقات ہو گئی تو اس سے فرمانے لگے: ابن مالک! امیر کے لیے راستہ کھلا کر دو، اس پر ابن مالک کہنے لگے: اللہ تم پر رحم فرمائے، یہ راستہ کافی ہے، یہ سن کر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: امیر کے لیے راستہ کھلا کر دو اس نے لکڑیوں کا گٹھا اٹھا رکھا ہوتا ہے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 386)

انہیں بچوں کو خوش کرنا بڑا پسند تھا، جب بچوں کو رات کے وقت دیہاتی لوگوں کا کوئی کھیل کھیلتے دیکھتے اور انہیں ان کی آمد کا پتا نہ چلتا تو وہ زمین پر گر کر دیوانوں کی طرح تڑپنے لگتے جس سے بچے گھبرا کر ہنستے ہوئے ادھر ادھر بھاگ جاتے۔

(ایضاً: جلد 11 صفحہ 388)

ابو رافع فرماتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کبھی کبھی مجھے رات کو کھانے کی دعوت دیتے تو فرماتے: گوشت کاٹنے کا کام امیر کے لیے چھوڑ دو۔ دیکھنے پر معلوم ہوتا کہ وہ تیل سے تیار کردہ ثرید ہے۔

(ایضاً)

ي: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی علمی زندگی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ چار سال تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، اس دوران انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت کچھ سماعت کیا۔ ایک ایک سنت کا مشاہدہ کیا اور اپنے قلب و ذہن میں تطبیق شریعہ کو محفوظ بنایا۔ ان کے پیش نظر صرف علم کا حصول اور دین میں سوجھ بوجھ حاصل کرنا تھا۔

(السنۃ قبل التدوین: صفحہ 420)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بہت سارے معجزات نبویہ اپنے ذہن میں محفوظ کر رکھے تھے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 594)

سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’کیا تم اپنے ساتھیوں کی طرح مجھ سے مال غنیمت سے کچھ نہیں مانگو گے؟‘‘ میں نے کہا: میں آپﷺ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم کی تعلیم دیں۔ اس پر آپ نے میرے جسم سے چادر اتاری اور اسے میرے اور اپنے درمیان بچھا دیا، پھر مجھ سے احادیث بیان کرنے لگے، یہاں تک کہ جب میں نے آپ کی ساری گفتگو سمیٹ لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے اپنی طرف لپیٹ لے۔‘‘ پھر میری یہ کیفیت ہو گئی کہ آپ نے مجھے جو کچھ بھی بتایا اس سے ایک حرف بھی نہ بھولا۔

(سیر اعلام النبلاء:جلد 2 صفحہ 594۔ رجالہ ثقات)

وہ فرمایا کرتے تھے: تم کہتے ہو کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت احادیث بیان کرتا ہے۔ تمہارا یہ بھی کہنا ہے کہ انصار و مہاجرین کو کیا ہوا وہ ابوہریرہ کی طرح احادیث بیان نہیں کرتے۔ اصل بات یہ ہے کہ میرے مہاجرین بھائی کاروبار میں مصروف رہتے جبکہ انصاری بھائیوں کو ان کے اپنے کام مصروف عمل رکھتے۔ 

میرا شمار صفہ کے مساکین میں ہوتا تھا اور میں پیٹ بھر کھانے کے بدلے ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتا، جب وہ غائب ہوتے میں حاضر ہوتا، جب وہ بھول جاتے میں یاد رکھتا۔ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اپنا کپڑا پھیلائے رکھے گا یہاں تک کہ میں اپنی گفتگو پوری کر لوں پھر وہ اپنا کپڑا سمیٹ لے تو وہ میری تمام باتیں یاد کر لے گا۔‘‘ اس پر میں نے اپنی چادر بچھا دی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو مکمل فرما لی تو میں نے اسے اپنے سینے کے ساتھ لپیٹ لیا۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو سے کچھ بھی نہ بھولا۔

(صحیح مسلم: رقم: )2492

دوسری روایت میں ہے: ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اپنا کپڑا بچھائے یہاں تک میں اپنی گفتگو پوری کر لوں پھر وہ اسے اپنی طرف سمیٹ لے تو وہ کبھی بھی کوئی ایسی بات نہیں بھولے گا جو اس نے مجھ سے سماعت کی ہو گی۔‘‘ میں نے ایسا ہی کیا، مجھے اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں کوئی ایسی بات نہیں بھولا جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سماعت کی۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 595۔ مسلم: رقم: 2294)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کی شفاعت سے سب سے بڑھ کر سعادت کون حاصل کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ابوہریرہ! میرا خیال تھا کہ اس بارے میں مجھ سے تم سے پہلے کوئی شخص سوال نہیں کرے گا اور یہ اس لیے کہ تم میری حدیث کے بڑے حریص ہو۔ قیامت کے دن میری شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ اس شخص کو حاصل ہو گی جو خالص دل سے لا الہ الا اللّٰه پڑھے گا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 596۔ اسنادہ صحیح)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کامل حاذق حافظ تھے، وہ جو کچھ روایت کرتے وہ انہیں حفظ و ضبط ہوتا اور جو کچھ بھی بیان کرتے بڑی ذمہ داری اور باریک بینی سے بیان کرتے۔ ان میں دو ایسی خوبیاں ایک ساتھ موجود تھیں جن میں سے ایک دوسری کی تکمیل کرتی ہے،

پہلی: علمی وسعت اور کثرت روایات

دوسری: قوت حفظ اور حسن ضبط۔

یہ وہ عظیم وصف ہے جس کے اہل علم متمنی ہوا کرتے ہیں۔

(السنۃ قبل التدوین: صفحہ 427)

مروان کے کاتب ابو زعیزعہ نے ہمیں ایک ایسی چیز بتائی ہے جس سے ان کے حفظ و اتقان کا اثبات ہوتا ہے۔ اس کا بیان ہے: مروان نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے سوالات کرنے لگا اور مجھے پلنگ کے پیچھے بٹھا دیا ، جو کچھ سنتا اسے لکھتا جاتا۔ پھر سال ختم ہونے پر انہیں دوبارہ بلایا اور پھر انہیں پردے کے پیچھے بٹھا کر ان سے اس کتاب کے بارے میں سوالات کرنے لگا۔ انہوں نے اپنے جوابات میں نہ تو کوئی کمی بیشی کی اور نہ ہی تقدیم و تاخیر۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد ص صفحہ 598)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صرف راوی حدیث ہی نہیں تھے بلکہ ان کا شمار اپنے زمانے کے قرآن و سنت اور اجتہاد کے رؤسائے علم میں ہوتا تھا۔ ان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحبت و رفاقت نے انہیں دین فہم و شعور عطا کرنے اور چھوٹی بڑی عملی سنت کے مشاہدہ کا بھرپور موقع فراہم کیا تھا جس کی وجہ سے ان کے پاس حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت بڑا ذخیرہ جمع ہو گیا۔ پھر ان سب چیزوں نے انہیں یہ موقع فراہم کیا کہ وہ تقریباً بیس سال تک مسند افتاء پر فائز رہے۔ یاد رہے کہ اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کثیر تعداد موجود تھی۔

(السنۃ قبل التدوین: صفحہ 428)

ک: حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی صحیح ترین سند

ابن المدینیؒ سے ان کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ علی الاطلاق صحیح ترین سند یہ ہے: حماد بن یزید عن ایوب عن محمد بن سیرین عن ابی ہریرۃ 

(ایضاً: صفحہ 434)

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی احادیث کے حوالے سے صحیح ترین اسناد یہ ہیں:

زہری، عن سعید بن المسیب، عن ابی ہریرۃ

ابو الزناد عن الاعرج -عبدالرحمن بن ہرمز- عن ابی ہریرۃ

مالک عن الزہری عن سعید بن المسیب عن ابی ہریرۃ

سفیان بن عیینۃ عن الزہری عن سعید بن المسیب عن ابی ہریرۃ

معمر عن الزہری عن سعید بن المسیب عن ابی ہریرۃ

معمر عن ہمام بن منبہ عن ابی ہریرۃ

(السنۃ قبل التدوین: صفحہ 435)