Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مسلمانوں کی امانت و دیانت کے چند بے نظیر نمونے

  علی محمد الصلابی

الف: میں اللہ کی حمد کرتا ہوں، اور اس کے ثواب سے راضی ہوں

 جب مسلمانوں کا قافلہ مدائن میں اتر گیا اور مال غنیمت اکٹھا کیا جانے لگا تو ایک آدمی اپنے ساتھ بھرا ہوا تھیلا لایا اور خزانچی کے حوالے کیا۔ خزانچی نے تھیلے میں بھری ہوئی قیمتی اشیاء کو دیکھا تو بے ساختہ کہنے لگا، اس طرح کی قیمتی چیزیں کبھی ہماری نظروں سے نہ گزری تھیں، ہمارے پاس جو کچھ مال غنیمت ہے وہ پورا کا پورا بھی اس کے برابر نہیں ہے۔ خزانچی کے ساتھ دیگر مسلمانوں نے تھیلا لانے والے سے پوچھا: کیا تم نے اس میں سے کچھ نکال لیا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا تو میں اسے لے کر تمہارے پاس نہ آتا۔ سب لوگوں نے یہ جواب سن کر سمجھ لیا کہ یہ کوئی بڑی شخصیت ہے، چنانچہ انہوں نے پوچھا کہ تمہارا کیا نام ہے؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم میں تم کو ہرگز اپنا نام نہیں بتاؤں گا کہ تم میری تعریف کرو گے اور نہ کسی دوسرے کو بتاؤں گا کہ وہ میری خوبیوں پر تبصرہ کریں۔ لیکن میں اللہ کی حمد کرتا ہوں اور اس کے ثواب سے راضی ہوں۔ اس آدمی کے جانے کے فوراً بعد لوگوں نے اس کے پیچھے ایک آدمی لگا دیا، وہ جب اپنی قوم میں پہنچا تو پیچھے جانے والے نے لوگوں سے اس کا نام پوچھا تو پتا چلا کہ حضرت عامر بن عبد قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 468)

ب: عصمہ بن حارث الضبی کا بیان ہے کہ مدائن میں فارسی فوج کو شکست دینے والوں میں میں بھی شامل تھا، میں ایک راستے سے گزر رہا تھا تو اس پر مجھے چند خچر سوار نظر آئے، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو اپنے خچروں کو دوڑایا اور پیچھے والا اپنے اگلے ساتھی سے جا ملا، پھر دونوں نے اپنے اپنے خچروں کو تیزی سے دوڑایا اور ایک ایسی نہر کی طرف بھاگنے لگے جس کا پل ٹوٹا ہوا تھا، دونوں وہاں پہنچ کر پھنس گئے اور میں ان تک پہنچ گیا، جب میں ان کے قریب پہنچا تو دونوں دو الگ الگ سمتوں میں بھاگے، ایک نے مجھ پر تیر چلایا میں نے اس کا پیچھا کیا اور پکڑ کر قتل کر دیا، جب کہ دوسرا بھاگ نکلا، میں نے دونوں خچروں کو پکڑا اور لے کر مال غنیمت کے خزانچی کے پاس حاضر ہوا۔ خزانچی نے دیکھا کہ دونوں خچروں میں سے ایک کی پشت پر دو پٹارے لدے ہوئے ہیں، ایک میں سونے کا بنا ہوا ایک گھوڑا رکھا ہے، اس پر چاندی کی زین کسی ہے، ساز بھی چاندی کا ہے اور مہار میں یاقوت و زمرد جڑے ہوئے ہیں، اس کا سوار بھی چاندی کا ہے جس کے سر پر جواہرات کا تاج رکھا ہے اور دوسرے میں چاندی کی ایک اونٹنی ہے، اس کی مہار، تنگ اور پالان سونے کا ہے اور سب میں یاقوت وزمرد جڑے ہوئے ہیں، ناقہ سوار کے سر پر جواہرات سے مرصع تاج رکھا ہوا ہے۔ کسریٰ انہیں اپنے ایوان کے دو تاریخی ستونوں کے درمیان کھڑا کرتا تھا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 468)

ج: حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کا حسن انتخاب

حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی حفاظت کے دوران میں ایک فارسی کا پیچھا کیا اور اسے قتل کر دیا، اس کے پاس دو عدد سر بمہر تھیلے اور چمڑے کے دو پٹارے تھے۔ دونوں تھیلوں میں سے ایک میں پانچ اور دوسرے میں چھ تلواریں رکھی تھیں۔ یہ تلواریں شاہان فارس اور ان شاہان عجم کی تھیں کہ جن کے درمیان کئی جنگیں ہو چکی تھیں، ان میں کسریٰ اور ہرقل کی تلواریں بھی تھیں اور چمڑے کے دونوں پٹاروں میں سے ایک میں شاہان عجم کی زرہیں تھیں، اس میں کسریٰ اور ہرقل کی زرہیں بھی تھیں۔ حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ وہ سب لے کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ان تلواروں میں سے جو تمہیں پسند آئے لے لو، حضرت نقعقاع رضی اللہ عنہ نے ہرقل کی تلوار کو خود پسند کیا اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے بہرام کی زرہ اپنی طرف سے انہیں دی، اور جو باقی بچ رہا اسے حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ کی زیر قیادت فوج ’’کتیبۃ الخرساء‘‘ میں تقسیم کر دیا۔ البتہ کسریٰ اور نعمان کی تلواریں ان سے الگ کر لیں اور انہیں امیرالمؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجنا مناسب سمجھا تاکہ کسریٰ اور نعمان کی عربوں میں جو شہرت تھی اس کی کوئی علامت دیکھ لیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 467)

س: اسلامی لشکر کے بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مداح سرائی

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی زیر قیادت مدائن میں داخل ہونے والی امانت دار فوج کی اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مدح سرائی کی ہے، مثلاً سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا خود کہنا ہے کہ اللہ کی قسم! لشکر کا ہر سپاہی امانت دار ہے، اگر بدری مجاہدین کی مخصوص فضیلت نہ ہوتی تو میری نگاہ میں ان کی فضیلت ان سے زیادہ ہوتی۔

(التاریخ الإسلامی: جلد 11 صفحہ 181، تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 468)

اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ اللہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں، ہم نے قادسیہ کے مجاہدین میں کسی کو آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتے نہیں دیکھا، تین آدمیوں پر ہم نے دنیا داری کی تہمت لگائی تھی، لیکن اس موقع پر ان کی امانت داری اور زہد دیکھ کر ہمارے خیالات غلط ثابت ہوئے، وہ تین آدمی طلیحہ بن خویلد، عمرو بن معد یکرب اور قیس بن مکشوح رضی اللہ عنہما تھے۔

اور جب اموال غنیمت کا خمس امیرالمؤمنین رضی اللہ عنہم کے پاس پہنچا، جس میں کسریٰ کی تلوار، اس کا پٹکا اور زمرد کے پتھر تھے تو اسے دیکھ کر آپ نے مسلم افواج کی جو تعریف کی تھی وہ سب سے بڑھ کر ہے۔ آپؓ نے فرمایا تھا: جس قوم نے اس قسم کے قیمتی سامان کو اپنے امیر تک پہنچا دیا وہ یقیناً امانت دار ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ امیرالمؤمنین کی اس شہادت کو سن کر کہنے لگے: آپؓ نے رعایا کے اموال میں پاک دامنی اختیار کی تو رعایا نے بھی پاک دامنی اختیار کی اگر آپ اسے چرنے والے ہوتے تو رعایا بھی چرتی۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 468)

ش: غنیمت میں ملنے والے نوادرات سے متعلق سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا موقف

 فتح قادسیہ کے موقع پر سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کسریٰ کی قبا، تلوار، اس کا پٹکا، کنگن، جامہ، تاج اور دونوں موزے بھیجے۔ یہ سب بہت ہی قیمتی چیزیں تھیں اور ریشم، سونے اور جواہرات سے تیار کی گئی تھیں۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں پر اپنی نگاہ ڈالی، ان میں سراقہ بن مالک بن جعثم رضی اللہ عنہ سب سے بھاری بھرکم اور توانا وتندرست نظر آئے۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: اے سراقہ! اٹھو اور اس (کسروی) پوشاک کو جسم پر ڈالو، حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے ان کپڑوں کا لالچ آگیا اور اٹھ کر پہن لیا۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے کہا: پیچھے مڑو، میں پیچھے مڑا، پھر آپؓ نے کہا: سامنے دکھاؤ، میں سامنے ہوا۔ پھر آپؓ نے فرمایا: کیا خوب کیا خوب، مدلج کا ایک دیہاتی اور اس پر کسریٰ کی یہ قبا، جامہ، تلوار، اس کا پٹکا، تاج اور اس کے دونوں موزے۔ اسے سراقہ اگر ماضی میں کبھی کسریٰ اور آل کسریٰ کے یہ قیمتی پوشاک تم پر ہوتے تو تمہارے اور تمہاری قوم کے لیے باعث شرف ہوتے۔ نکال دو یہ مناسب نہیں، چنانچہ میں نے اتار دیے۔ پھر سیدنا عمرؓ نے دست دعا دراز کیے اور کہا: اے اللہ! اس متاع دنیا سے تو نے اپنے نبی اور رسول کو بچائے رکھا حالانکہ وہ تیرے نزدیک مجھ سے زیادہ محبوب ومعزز تھے، پھر ابوبکر کو بھی اس سے محفوظ رکھا جب کہ وہ تیرے نزدیک مجھ سے زیادہ محبوب و معزز تھے، اور آج تو نے اسے میرے قدموں پر انڈیل دیا ہے۔ پس میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ کہیں تو نے مجھے آزمانے کے لیے اسے نہ دیا ہو۔ پھر آپؓ رونے لگے یہاں تک کہ جو لوگ وہاں تھے وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت الہٰی کی دعائیں کرنے لگے۔ پھر سیدنا عمرؓ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا: دیکھو شام ہونے سے پہلے تم اسے فروخت کر دو اور ضرورت مندوں میں اسے تقسیم کر دو۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 472، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 68)