ثالثا خوارج کے مقابلے کے لیے حکومت کا فارغ ہو جانا
علی محمد الصلابیصلح کا ایک نتیجہ یہ بھی تھا کہ خوارج کے مقابلے کے لیے اسلامی حکومت فارغ ہو گئی، چنانچہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی طاقت و قوت کم کرنے میں کامیاب رہے، اور فروہ بن نوفل اشجعی، مستورد بن علف تیمی، حیان بن ظبیان سلمی کی تحریکات کا معارضہ کیا، یہ تحریکات کوفہ میں ظہور پذیر ہوئیں۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 179- 196)
یزید باہلی، سہم ہجیمی، قریب ازدی، زحاف طائی وغیرہم کی تحریکات بصرہ میں تھیں۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 197-208)
خوارج اور اسلامی حکومت کے مابین اس کشمکش کی تفصیل کا یہ موقع نہیں، لیکن ہمیں یہاں صلح کے ایک فطری نتیجہ کو واضح کرنا ہے اور وہ نتیجہ خوارج کا معارضہ اور ان کا ناطقہ بند کرنا ہے، اسی لیے عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں خوارج کی تحریک میں سوجھ بوجھ کی کمی اور تنظیم کا فقدان پایا جاتا ہے، جو کچھ وہ کرتے تھے وہ اجتماعی خود کشی کے مترادف تھا، اس لیے کہ وہ چھوٹے چھوٹے گروہوں میں خروج کرتے تھے، جن کا جلد ہی خاتمہ کر دیا جاتا تھا، ان کا سوجھ بوجھ اور تجربہ رکھنے والا کوئی قائد نہیں تھا، جو مقاصد کے حصول کے لیے ان کی بہادری اور گھڑ سواری کا فائدہ اٹھا پاتا۔ اپنے ہی کچھ لوگوں کی غلطیوں کا وہ اعادہ کرتے تھے، کوئی تحریک سابقہ تحریک کے تجربہ سے فائدہ نہیں اٹھاتی تھی، اپنی دعوت میں مناظرہ اور سوال و جواب کا اسلوب نہیں اپناتے تھے، مسلم معاشرہ پر اپنی فکر کو زبردستی مسلط کرنا چاہتے تھے، ان کی تحریکات میں دینی محرکات (جس نے ان کے زعم باطل کے مطابق انھیں خروج پر آمادہ کیا) جاہلی عصبیت کے محرکات سے ملے ہوئے تھے، جس کا ثبوت یہ تھا کہ ان میں سے بعض نے اپنے بعض ساتھیوں کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے خروج کیا تھا، اسلامی معاشرے میں وہ اجنبیت محسوس کرتے، اور اس سے نفرت کرتے، وہ اس بات پر مطمئن تھے کہ اہل قبلہ سے جنگ کفار کی جنگ سے بہتر ہے، اپنی دعوت کو پھیلانے
کے لیے کوئی نیا علاقہ نہیں تلاش کر رہے تھے، بلکہ عراق کے بعض شہروں خصوصاً کوفہ و بصرہ پر اکتفا کیے ہوئے تھے۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 209، 210)
اس طرح صلح کا ایک نتیجہ خوارج کی تحریک کا ناطقہ بند کرنا تھا۔