Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حدیبیہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اضطراب کی وجہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

سوال نمبر 407: حضرت عمر فاروقؓ کو صلح حدیبیہ کے دن نبوت میں شک ہوا تھا؟

جواب: تو یہ آپ کا جھوٹا قدیم طعن ہے اور بات کا پتنگڑ بنا کر ہی جھوٹے مذہب کی آبیاری کرتے ہیں۔ آپ کو بھی یقین ہے کہ یہ جھوٹا الزام ہے تبھی تو حوالہ نہیں دیا۔ بات اتنی ہے کہ حدیبیہ کی صلح انتہائی کمزور شرائط پر ہوئی تھی۔ مستقبل میں اس کے فوائد و مصالح کا اللہ علام الغیوب کو علم ہے۔آنحضورﷺ بحکمِ وحی شرائط ماننے کے پابند تھے۔ ظاہر حالات میں سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اضطراب و بے چینی اور ناخوشی تھی جن کے ترجمان و نمائندہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے اور آپؓ نے وہ گفتگو بے باکی کے ساتھ حضورﷺ سے کی جو کتبِ حدیث و سیرت میں مشہور ہے۔ اس بے چینی اور اضطراب کے دفعیہ کے لیے اللہ نے سورۃ فتح اتاری۔ آیتِ ہٰذا پر غور کیجئے:

هُوَ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ فِىۡ قُلُوۡبِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ لِيَزۡدَادُوۡۤا اِيۡمَانًا مَّعَ اِيۡمَانِهِمۡ‌ وَلِلّٰهِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا (سورۃ الفتح: آیت 4)

ترجمہ: اسی خدا نے سکینی (تسلی) مومنوں کے دلوں میں اتارا تاکہ وہ اپنے ایمان پر ایمان کا اضافہ کریں اور آسمانوں زمینوں کے لشکر تو اللہ ہی کے ہیں اور اللہ بڑے زبردست حکمت والے ہیں۔

دلوں میں اضطراب کے بدلے سکینہ اتارا اور افسردگی و مایوسی کے مقابل زیادتی ایمان کی نوید سنائی۔ آپ دشمنانِ صحابہ اس کیفیت کو شک فی النبوت وغیرہ سے تعبیر کریں تو کریں۔ چہرے میں ان کو اپنا ہی آئینہ نظر اتا ہے۔ مگر اللہ کے ہاں وہ بدستور صاحبِ یقین و ایمان اور سکینت و اطمینان والے تھے۔

اس کی حسی تجرباتی ایک وہ مثال ہے کہ جب حضرت حسنؓ نے حضرت امیرغ معاویہؓ کے ہاتھ پر صلح و بیعت کی تو دو سال تک آپؓ کی پارٹی کا خلجان و اضطراب باقی رہا وہ شکایت کرتے تو سیدنا حسنؓ ڈانٹ دیتے کہ میں نے تمہاری اور مسلمانوں کی حفاظت کی ہے۔ تاریخ حضرت حسینؓ سے یہ کہلواتی ہے: کہ میرا ناک کٹ جاتا تو اس سے بہتر تھا جو میرے بھائی نے کیا۔ کیا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ، قیس بن سعد، سفیان بن ابی لیلیٰ وغیرہ کٹر شیعانِ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پر فتویٰ شیعہ لگا سکتے ہیں۔(دیدہ باید) اور خود مشتاق رافضی نے ذکار الاذہان میں اس کا اقرار کیا ہے۔ اصحابِ حدیبیہ کہ جذبات کو ایمان کی دلیل بنا کر شیعانِ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا دفاع کیا ہے۔

اس کی دوسری مثال پاکستان بھارت جنگ 1965ء کی صلح تاشقند بھی ہے کہ جب صدر ایوب مرحوم نے بڑی طاقتوں کے شر سے تحفظ کی خاطر کمزور شرائط پر صلح کی۔ کشمیر کا کافی مفتوحہ علاقہ واپس دے دیا تو فوج کے ایک حصے کو کافی اضطراب ہوا۔ بغاوت تک کا خطرہ رہا، تو فوجیوں کی یہ کیفیت دراصل قوم و ملک سے دشمنی نہیں ہوتی بلکہ ملک و قوم کے مفاد کے بظاہر خلاف معاملات پر وہ اسی ناراضگی اور بے چینی کا اظہار کرتے ہیں۔ جس کا اظہار ہی ایمان اور وفاداری کی دلیل ہے۔

یہی کیفیت سیدنا عمر فاروقؓ اور مسلمانوں کی تھی جیسے بدباطن رافضیوں نے شک فی النبوت بنا کر مشہور کیا ہے ورنہ سیدنا عمرؓ نے کوئی شک نہیں کیا تھا بلکہ یقین سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے اسی مکالمہ میں کہا تھا:

قال عمر و انا اشھد انه رسول اللہ (طبری: جلد، 2 صفحہ، 634)

ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ حضورﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

سوال نمبر 408: تذکرہ خواص الائمہ و سیرت حلبیہ میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فدک کا وثیقہ لکھ دیا تھا۔ مگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لے کر پھاڑ دیا۔ اپنے امام کی توہین کیوں کی؟

جواب: یہ دونوں کتابیں بدباطن رافضیوں کی ساختہ پر داختہ ہیں۔ اہلِ سنت پر حجت نہیں (تفصیل تحفہ امامیہ کے آخر میں دیکھیں) اگر شیعہ کا اس پر یقین ہے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ سے تو دشمنی چھوڑیں ان سے تولا کریں۔ ان کو مومن و جنتی حضرت فاطمہؓ کا ہمدرد اور محسن جانیں۔ اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ‏؟ 

بالفرض اس کی کچھ اصل ہو تو ہمارے نزدیک سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حیثیت چیف جسٹس کی تھی اور عدلیہ کے عظیم مقام کا تقاضا ہے کہ چیف جسٹس اگر حاکم و خلیفہ کے کسی عمل سے اختلاف و نزاع کرنا چاہے تو کر سکے اور خلیفہ اس سے تعرض نہ کرے بلکہ تسلیم کر لے۔ اس مسئلہ میں چونکہ مفاد عامہ کا شخصی مفاد سے ٹکراؤ تھا تو موجودہ جمہوری اصول کے مفاد عامہ کو مفاد خاص پر ترجیح ہے۔ کہ مطابق سیدنا عمر فاروقؓ کا کردار نادرست نہ ہو گا۔

سوال نمبر 409: کیا حضرت عمرؓ نے خود کبھی نمازِ تراویح پڑھی تو کس کے پیچھے؟

جواب: حضرت ابی بن کعبؓ کے پیچھے ہی ہمیشہ پڑھی۔ کیا کہیں صراحت ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نہ پڑھتے تھے؟ کیا مسجد کی انتظامیہ کا صدر کسی کو امام و خطیب مقرر کرے تو وہ خود اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں سمجھتا؟ سوال بناتے وقت اتنی بے عقلی کا تو ثبوت نہ دینا چاہیے۔

سوال نمبر 410: طلاقِ ثلاثہ کا رواج کب سے شروع ہوا؟ صحیح مسلم باب الطلاق دیکھیں۔

جواب: مسلم شریف جلد 1 صفحہ 463 باب لا تحل المطلقه ثلثا لمطلقھا حتیٰ تنکح زوجا غیرہ سامنے کھلا ہے اس کی چھ ہم معنیٰ حدیثوں میں سے ایک یہ بھی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں۔ اس سے دوسرے نے شادی کی۔ پھر اس نے دخول سے پہلے طلاق دے دی۔ پھر پہلا خاوند اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو رسول اللہﷺ سے یہ پوچھا گیا تو حضورﷺ نے فرمایا پہلے کے لیے وہ حلال نہیں ہے جب تک کہ دوسرا خاوند وہ مزہ نہ چکھے جو پہلے نے چکھا ہے۔ 

اس حدیثِ صریح سے پتہ چلا کہ حضورﷺ کے زمانے میں تین طلاقیں تین ہی سمجھی جاتی تھیں اور وہ عورت دوسرے سے نکاح و جماع کے بغیر پہلے طلاق دہندہ خاوند کے لیے حلال نہ ہو سکتی تھی۔

مسلم صفحہ 476 کی حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما طلاق کا مسئلہ پوچھنے والے سے کہتے کہ اگر تو نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاق دی ہیں (تو رجوع کر لے) کیونکہ مجھے جناب رسول اکرمﷺ نے اس کا حکم دیا تھا۔

وان کنت طلقتھا ثلاثاً فقد حرمت علیک حتیٰ زوجًا غیرک و عصیت اللہ فیما امرک من طلاق امرتک

ترجمہ: اور اگر تو نے تین ہی دے دی ہیں تو وہ تجھ پر حرام ہو گئی تاآنکہ وہ کسی اور سے نکاح کرے اور تو نے بیوی کو تین طلاقیں دے کر خدا کی نافرمانی کی۔

اس سے پتہ چلا کہ تین طلاقیں معاً یا متفرق دے دینا اگرچہ خدا کی نافرمانی ہے مگر وہ لغو نہیں ہیں وہ نافذ اور مؤثر ہیں۔ بیوی حرام رہے گی جب تک اور خاوند نہ دیکھے۔

ان مفصل احادیث کی روشنی میں مسلم صفحہ 478 کی ان مجمل احادیث کا مطلب اخذ کیا جائے گا جس سے سائل حضرت عمر فاروقؓ پر اعتراض جڑ رہا ہے کہ حضورﷺ تو تین کو ایک قرار دیتے تھے مگر سیدنا عمر فاروقؓ نے تین کو تین قرار دے کر امت پر تنگی پیدا کر دی ہے جیسے اہلِ حدیث حضرات بھی اس غلط فہمی میں پڑ گئے ہیں۔ اس کے کئی جواب دیے گئے ہیں:

1: سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی یہ روایت مرفوع نہیں ہے کہ بلکہ اپنا تاثر و تبصرہ ہے جو کہ عہدِ نبوت میں صغیرالسِّن تھے تو روایات بالا کے مقابل اسے آپ کی ناسمجھی پر حمل کیا جائے گا۔

2: یہ قرانی آیات کے برخلاف ہے اللہ کا فرمان ہے طلاق رجعی (ایک) یا دو مرتبہ ہے پھر یا تو رجوع کر کے گھر میں رکھو یا بالکل چھوڑ دو اگر تیسری طلاق دی تو وہ خاوند اوّل کے لیے حلال نہیں حتیٰ کہ اور خاوند سے نکاح کرے۔ (سورۃ البقرہ: پارہ، 2 رکوع، 13)

تین الگ الگ لفظوں سے دے (قرانی صورت) یا ایک کلمے سے کہے میں نے تین طلاقیں دیں۔ تو ائمہ رابعہ رحمہم اللہ اور جمہور علماء اسے مغلظہ ہی شمار کرتے ہیں۔ طاؤس، بعض اہلِ ظاہر اور رافضیوں کا اعتبار نہیں ہے۔

3: اوپر والی حدیثوں کے بھی خلاف ہے کیونکہ حضورﷺ نے تین کو تین گنا ہے تو حضرت ابنِ عباسؓ کی اس روایت پر عمل نہ ہو گا بلکہ تاویل کی جائے گی۔ تو امام نووی رحمۃ اللہ نے تاویلی جوابات یہ دیئے ہیں۔

4: مطلب یہ ہے کہ اگر عہدِ نبوت میں کوئی انت طالق، انت طالق، انت طالق، کہہ دیتا نہ تاکید کی نیت کرتا۔ نہ علیحدہ گنتی کی تو ایک طلاق کا حکم دیا جاتا تھا۔ کیونکہ اس وقت تین گننے کا رواج نہ پڑا تھا تو غالب رواج کے تحت ایک کی تاکید سمجھی جاتی تھی۔ اب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ارادۃً تین دی جاتی ہیں تو تین ہی نافذ کر دی گئیں۔

5: حضور اکرمﷺ کے عہد میں ایک طلاق کا رواج تھا یعنی تین کا کام ایک سے ہی لیتے تو ایک سمجھی جاتی۔ حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں بیک دفعہ تین طلاقیں دینے لگے تو تین ہی نافذ کیں۔ گویا لوگوں کی عادت میں اختلاف کا بیان کیا گیا ہے مسئلہ کی تبدیلی کا حکم نہیں ہے۔

الحاصل، تین طلاقوں کو تین قرار دینا سیدنا عمر فاروقؓ کی ایجاد اور بدعت نہیں ہے۔ قرآن، سُنتِ نبوی اور ائمہ اربعہؒ، جمہور علماء امت کا یہی فیصلہ ہے سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے اثر کو غلط سمجھا گیا ہے۔

سوال نمبر 411: بخاری مناقبِ سیدنا عمر فاروقؓ میں ہے کہ آپؓ نے شراب نبیذ پی لی۔ کیا شراب جائز سمجھتے تھے؟

جواب: متعہ باز اور شراب نوش ذاکر مجتہد صاحبان حضرت عمر فاروقؓ پر ناپاک بہتان اگر نہ لگائیں تو پھر شیعہ کیسے بنیں؟ نبیذ کی حقیقت یہ ہے کہ رات کو کھجوریں پانی میں بھگو دیں اور صبح کو وہ میٹھا شربت بنا ہو گا، پی لیں۔ اسے کسی نے بھی شراب نہیں کہا۔ یہ شربتِ کھجور حضور اکرمﷺ‏ بھی پیا کرتے تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بھی قاتلانہ حملے کے بعد یہ شربت نبیذ پھر دودھ پلایا گیا مگر دونوں پیٹ سے نکل آئے۔ شراب کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کا شیرہ خالص ہو پھر وہ کئی دن بند رکھنے سے متعفن اور بدبو دار ہو جائے۔ جھاگ چھوڑے اس میں نشہ پیدا ہو جائے تو حرام ہے۔ اگر یہ حالت پیدا نہ ہو تو لیموں، مالٹا، گنا، انگور، کھجور ہر چیز کا تازہ رس پینا جائز اور پاک ہے۔ افسوس کہ شیعہ عمداً بزعمِ خود بھی یہ جھوٹا الزام لگا کر مسلمانوں کے جذبات مجروح کرتے ہیں جبکہ شیعوں کے ہاں نشہ کی بدبو دینے والی شرابیں حرام نہیں ہیں۔

2: مسئلہ 7 ربوبات: اور شرابیں حرام نہیں ہیں اگرچہ ان سے نشے کی بو آتی ہو۔

شیرہ میں اسلاف (مصباح اللغات صفحہ 391 پر ہے: السلاف والسلافہ نچوڑنے سے پہلے جو خود بخود بہے یہ بہترین شراب ہے) مکروہ ہے جو شخص دو تہائی خشک ہونے سے پہلے مشروب خمر کو حلال سمجھتا ہو اسے پکانے کا امن دینا مکروہ ہے۔ (مختصر النافع للحلی: صفحہ، 256)

سوال نمبر 412، 413: کیا حضرت عمر فاروقؓ کو آیتِ تیمم معلوم تھی؟ اگر تھی تو انہوں نے یہ فتویٰ جاری کیوں کر دیا کہ پانی نہ ملے تو نماز نہ پڑھو؟(مسلم، بخاری) 

جواب: جھوٹ بولنے اور بہتان تراشی میں آپ کو ذرا حیا نہیں آتی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایسا فتویٰ کہاں دیا تھا؟ بلکہ تیمم کی آیت نازل ہونے یا طریقہ تیمم معلوم ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ و سیدنا عمارؓ ایک سفر میں تھے جنبی ہو گئے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ نے تو نماز نہ پڑھی۔ حضرت عمارؓ مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گئے۔ جب عمار رضی اللہ عنہ نے حضور اکرمﷺ‏ کو آ کر بتلایا تو آپﷺ نے پھر تیمم کا طریقہ سمجھایا کہ چہرے اور ہاتھوں پر مٹی والا ہاتھ پھونک جھاڑ کر مَل دینا کافی ہے۔ پھر حضرت عمر بن خطابؓ یہی فتویٰ دیتے تھے۔چنانچہ دوسری روایات میں صراحت ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے ابزٰیؓ صحابی کو مسئلہ پوچھنے پر یہی بتایا۔ تفل فیھما یعنی دونوں ہاتھوں پر پھونک مارو (کہ زائد مٹی اڑ جائے) (بخاری: جلد، 1 صفحہ، 48)

سوال نمبر 414: جامع ترمذی کتاب التفسیر میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وطی فی الدبر کی تو آیت نِسَآؤُكُمۡ حَرۡثٌ لَّكُمۡ  نازل ہوئی۔ حضرت صاحب کو الٹی راہیں کیوں پسند تھیں؟

جواب: آیت کا مطلب ہے کہ عورتیں تمہاری کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں آؤ جس طرح چاہو۔ (سورۃ البقرہ: پارہ، 2 رکوع، 12) حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر یہ بہتان ہے ورنہ وہ تو یہ کہتے تھے کہ جماع کا مقام تو ایک ہے مگر لیٹے، بیٹھے، اگلی سمت سے یا پچھلی سمت سے جیسے چاہو وطی کر سکتے ہو سیدنا عمر فاروقؓ کے فعل کی تائید ہی میں یہ آیت نازل ہوئی۔ معترض کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور خدا کا شکر گزار ہونا چاہیے تھا۔ مگر اس نے فطرتِ سیئہ کے مطابق حضرت عمرؓ پر وطی در دبر کا ناپاک الزام لگا دیا ورنہ حدیث شریف میں صراحت ہے۔

فَاۡتُوۡا حَرۡثَكُمۡ اَنّٰى شِئۡتُمۡ‌ اقبل وادبر واتق الدبر والحیضۃ

(ترمذی: جلد، 2 صفحہ، 143)

ترجمہ: کہ جیسے چاہو کھیتوں میں آؤ۔ آگے سے یا پیچھے سے مقامِ پاخانہ اور حالتِ حیض سے بچو۔

سوال نمبر 415: بخاری کتاب التفسیر میں ہے کہ حضرت ابنِ عمرؓ وطی فی الدبر کے ہمیشہ قائل رہے؟

جواب: یہ بھی ناپاک بہتان ہے ورنہ نافع کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابنِ عمرؓ سے پوچھا کہ یہ کس مسئلہ میں نازل ہوئی فرمایا۔ اس، اس مسئلہ میں نازل ہوئی۔

دوسری روایت میں یہ ہے۔ یاتیھا فی کہ عورت کے پاس اس طریقے سے آئے۔

دراصل سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے شدتِ حیاء سے اشارۃً بتایا کہ آیت کے مطابق عورت کے پاس آگے اور پیچھے کی سمت سے جماع ہو سکتا ہے۔ مگر غلطی سے لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ وہ وطی فی الدبر کے قائل تھے۔ جیسے مشتاق اس کا مشتاق بن چکا ہے۔ بعض نے حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کا وہم قرار دیا مگر سب سے صحیح بات وہ ہے جو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ اور جمہور اہلِ سنت نے کہی ہے کہ وطی فی الدبر حرام ہے اور سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کی بات کا مطلب یہ ہے کہ مقامِ جماع میں پیچھے کی طرف سے بھی جماع ہو سکتا ہے اور یہی اَنّٰى شِئۡتُمۡ‌ کی تفسیر ہے۔ (قسطلانی، بحوالہ بخاری: جلد، 2 صفحہ، 649 حاشیہ)

سوال نمبر 416: موجودگی آب میں ڈھیلے، پتھر سے استنجا کا جواز قرآن سے دکھائیے؟

جواب: یہودیت کا چربہ مذہبِ شیعہ اب طہارت کے متعلق بھی وہی اعتراضات مسلمانوں پر کر رہا ہے جو یہودی کیا کرتے تھے۔ پانی ہر وقت پاس نہیں ہوتا اور نہ ہر براز کی جگہ ملتا ہے تو کیا ڈھیلے وغیرہ سے گندگی صاف نہ کرے۔ یہی شیعہ تہذیب ہے؟ پس جب وَالرُّجۡزَ فَاهۡجُرۡ (اور پلیدی دور کیجئے) کا حکم قرآنی ہے تو اس فعل پر اعتراض کیوں؟ اور سورت توبہ کی آیت جو مسجدِ قبا والوں کی شان میں اتری۔

فِيۡهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّتَطَهَّرُوۡا ‌وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُطَّهِّرِيۡنَ‏ (سورۃ التوبة: آیت 108)

ترجمہ: اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو خوب پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ اس آیت میں ان کی تعریف اس لیے کی گئی ہے کہ وہ پہلے ڈھیلے سے استنجا کرتے تھے پھر پانی سے بھی کرتے تھے تو جمع بین الطریقین کی وجہ سے ممدوح ہوئے۔ یہاں باب تفعل کا صیغہ تطھر استعمال ہوا ہے جو بتکلف کوشش اور مبالغہ پر دلالت کرتا ہے تو پتہ چلا کہ ڈھیلے وغیرہ سے جب مخرج سے درھم بھر پھیلا ہوا نہ ہو طہارت تو حاصل ہو جاتی تھی مگر خوب پاکی استنجا بالماء سے بھی کرتے تھے۔ ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اگر ابتداءً ہی پانی سے استنجا کیا جائے تو قطرہ بول رسنے سے استنجا صحیح نہ ہو گا خصوصاً بوڑھے کمزوروں کو قطرہ خشک کرنا ضروری ہوتا ہے اور اس کا بہترین طریقہ وٹوانی اور ڈھیلے کا استعمال ہے۔

سوال نمبر 417: کسی مرفوع حدیث سے اس طریقہ کا سنتِ نبویﷺ ہونا ثابت کریں؟

جواب: بخاری شریف میں باب الاستنجاء بالحجارۃ میں ہے کہ آنحضورﷺ‏ حاجت کے لیے نکلے۔ میں (سیدنا ابو ہریرہؓ) آپ کے قریب گیا تو مجھ سے فرمایا ڈھیلے وغیرہ تلاش کر لا، تاکہ میں صفائی حاصل کروں۔ ہڈی اور گوبر نہ لانا۔ میں نے پتھر لا کر آپﷺ‏ کے پہلو میں رکھ دیئے۔ اور دور چلا گیا آپﷺ نے قضاء حاجت کے بعد ان کو استعمال کیا۔ (بخاری: جلد، 1 صفحہ، 27)

سوال نمبر 418: حضرت عمر فاروقؓ نے پیشاب کے بعد ذکر کو دیوار سے کیوں رگڑا؟

جواب: قطرات خشک کرنے کے لیے ڈھیلا وغیرہ نہ مل سکا ہو گا۔

سوال نمبر 419: صاحب السِر حضرت حذیفہؓ سے سیدنا عمر فاروقؓ اپنے بارے کیا پوچھتے تھے؟

جواب: منافقوں کی تعیین کراتے تھے پھر ان کے شر سے بچتے تھے۔ کمالِ تقویٰ و خشوع سے اپنے بارے ایک دفعہ وہم ہوا تو پوچھا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نفی میں جواب دیا تو خدا کا شکر بجا لائے اگر سیدنا حذیفہؓ کی رازداریٔ رسولﷺ‏ پر شیعہ کو اعتماد ہے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو انہوں نے مومنوں میں شمار کر دیا۔ تو اب عمر دشمنی اور نفاق کا ناپاک بہتان ختم ہونا چاہیے مگر شیعہ خود ایمان سے محروم اور کٹر منافق ہیں۔ اپنی ادائیں کیوں چھوڑیں؟

سوال نمبر 420: تاریخ واقدی اور مسلم میں ہے۔ روم و فارس کے خزانوں کی فتوحات کی خبر دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تم باہم حسد و نفسانیت اور بغض رکھو گے بتائیے اس وقت حاکم مسلمین کون تھا؟

جواب: اس سوال میں سائل واقعی دھوکہ باز اور 420 نکلا اور یہ مثل اسی موقع کے لیے بولی گئی ہے خصم نانی کرے تاوان نواسوں پر پڑے۔ بغض و حسد تو وہ کریں جو دولت پا کر عیاش بن جائیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مظلوم کو شہید کر دیں پھر چوتھی خلافت میں خانہ جنگی جاری رکھیں۔ اور قصور وار سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ قرار پائیں؟ جو معمولی کھانا کھاتے، معمولی پھٹا پرانا لباس پہنتے اور زاہد ترین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے تھے۔ اس حدیث میں نہ فاتح اسلام خلیفہ المسلمین حضرت عمرؓ پر طعن مقصود ہے۔ نہ غازی مجاہد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طنز و اعتراض ہے صرف دولت کا نقصان دہ پہلو بتلانا اور اس سے خبردار کرنا مقصود ہے۔ چنانچہ حضرت عثمانؓ کے خلاف جو تحریک یہودی سازش سے نو مسلم یہود و مجوس نے چلائی وہ اسی دولت کی حرص اور باہمی بغض و اعناد کی وجہ سے پیدا ہوئی اور مسلمانوں کے وقار کو زبردست نقصان پہنچا۔ فرمانِ رسولﷺ سچ ثابت ہوا۔ اب جب آپ نے اس حدیث کو چھیڑا ہے تو ہم بتاتے ہیں کہ یہی حدیث خلافتِ راشدہؓ کی حقانیت اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر و حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ایمان اور رسالت مآب کے نمائندۂ ترجمان ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ کتبِ شیعہ، تاریخ اور حدیث میں یہ واقعہ متواتر ہے کہ غزوۂ خندق میں ایک چٹان نمودار ہوئی تھی جو کسی سے نہ ٹوٹی بالآخر حضورﷺ کی تین ضربوں سے پاش پاش ہوئی۔ ہر دفعہ نور چمکا اور محلات دکھائی دیے۔ پہلی کے وقت فرمایا مجھے یمن کی چابیاں دی گئیں، دوسری کے وقت فرمایا مجھے کسریٰ کی چابیاں دی گئیں، تیسری میں فرمایا: مجھے قیصر روم کی فتوحات عطا کی گئیں۔ (بخاری، مسلم، ابوداؤد، سیرت ابنِ ہشام: جلد، 3 صفحہ، 230 ابنِ سعد، تاریخ طبری: جلد، 2 صفحہ، 569 شیعہ کی حیات القلوب، جلاء العیون، روضہ کافی وغیرہ)

یمن تو آپﷺ کے ہاتھ مبارک پر فتح ہوا اور روم و کسریٰ سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق و سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہم کی فتوحات سے قلمر و اسلام میں آئے۔ آپﷺ‏ نے ان کو اپنی فتح اور امت کی فتح قرار دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ تھی اب ان خلفاء کا منکر دراصل منکرِ رسول منکرِ اسلام اور خارج از ایمان ہے۔

سوال نمبر 421: صحیح بخاری کتاب الجہاد والسیر میں حدیثِ رسول ہے کہ خدا دینِ اسلام کی فاجر شخص سے تائید کرے گا۔ اس پر تبصرہ کیجیے۔

جواب: اس سے اتنا پتہ تو چل گیا کہ حضرت عمر فاروقؓ کی فتوحات اور اسلامی ترقیات آپ کے اعتقاد میں بھی سب دین کا غلبہ اور تائید تھی۔ لہٰذا جو کچھ آپ نے اپنے رسالوں میں عمری فتوحات اور لشکر اسلام پر ہرزہ سرائی کی ہے۔ وہ عمداً جھوٹ اور ڈھیٹ پن ہے۔ خود آپ کا ضمیر آپ کو ملامت کرتا ہو گا۔ رہا اس حدیث سے فسقِ سیدنا عمر فاروقؓ کا استدلال تو یہ آپ کے بغض کا کرشمہ ہے ورنہ حضورﷺ نے یا کسی اور صحابی و محدث نے اسے حضرت عمر فاروق رضی اللہ پر چسپاں نہیں کیا ہے بلکہ اس منافق کے متعلق ہے جس نے احد میں غالباً نو قتل کیے تھے پھر خود کشی کر کے دوزخی بنا۔ تو حضور اقدسﷺ‏ نے یہ فرمایا اور پورا واقعہ اسی حدیثِ بخاری جلد 1 صفحہ 431 پر ہے۔ یہیں سے ہم آپ کو خبردار کرتے ہیں کہ آپ جو بار بار اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق گستاخانہ پوچھتے ہیں۔ فلاں نے کتنے کتنے کافر قتل کیے۔ نہ پوچھا کریں کیونکہ قتلِ کفار کی کثرت بھی ایمان پر قطعی دلیل نہیں ہے۔ جب تک باقی اعمال و عقائد درست نہ ہوں۔ اگر آپ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قربانیوں اور کمالات کو اس حدیث سے ناجائز مجروح کرتے ہیں تو اگر کوئی آپ کا خارجی بھائی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر چسپاں کرنے لگے تو کیا تبصرہ ہو گا؟

سوال نمبر 422: مشکوٰۃ کتاب الامارۃ میں ہے تم اماراتِ حکومت پر زیادہ لالچی ہو جاؤ گے مگر قیامت کے دن پچھتاؤ گے۔ کیا یہ پیشن گوئی رسولﷺ پوری نہیں ہو گئی تھی؟

جواب: یہ جنس امت کو خطاب ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد والی کچھ حکومتیں اس کا مصداق ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مصداق نہیں۔ ہم بارہا دلائل سے عرض کر چکے ہیں کہ یہ شیخین رضی اللہ عنہما کو وفاتِ نبویﷺ کے دن خلافت کا تصور بھی نہ تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نامزد کیا تھا۔ خود کوئی کوشش نہ کی تھی۔ حضرت عثمان و حضرت علی رضی اللہ عنہما ایک کمیٹی میں نامزد ہوئے۔ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق پیشن گوئی تھی: جب تو حاکم بن جائے تو تقویٰ اور عدل اختیار کرنا تو ان کو امید لگ گئی تھی۔ اور پھر حالات و مقدر نے بتائید خداوندی اس عہدہ جلیلہ پر پہنچا دیا۔

سوال نمبر 423: بخاری کتاب المغازی جلد 2 صفحہ 9 میں ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے دو زانو اپنے خصم سے حق جوئی کریں گے۔ کس چیز کا مطالبہ کریں گے؟

جواب: آپ کی پُرخیانت قلم کاری اور مکارانہ استدلال کا اعتراف کرنا ہی پڑے گا کیونکہ یہ خصم و عمل آیتِ کریمہ هٰذٰنِ خَصۡمٰنِ اخۡتَصَمُوۡا فِىۡ رَبِّهِمۡ‌ (سورۃ الحج: آیت 19) یہ دو گروہ ہیں۔ انہوں نے اپنے رب کی توحید کے متعلق ایک دوسرے سے جھگڑا کیا۔ کی تفسیر میں قیس بن عباد حضرت علی المرتضیٰؓ سے نقل کر رہے ہیں۔ جب کہ جنگِ بدر میں حضرت حمزہ، حضرت علی اور حضرت ابوعبیدہ بن الحارث رضی اللہ عنہم نے بالترتیب اپنے دشمنوں شیبہ، ولید بن عتبہ اور عتبہ کو قتل کیا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرما رہے ہیں۔ میں اپنے دو ساتھیوں سے بھی پہلے۔ اپنے دشمن ولید بن عتبہ سے رحمٰن کے سامنے جھگڑوں گا۔ کہ وہ کیوں صرف خدا کو ہی وحدہ لا شریک، قادر، مشکل کشا، عالم الغیب، فریاد رس، مالک الکائنات و مالک الجنۃ والنار اور دعا و پکار، نظر و نیاز کے لائق اپنا مالک و مہربان نہ مانتا تھا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام، ود، یغوث، یعوق، سواع، نصر، لات، منات جیسے نیک بزرگوں اور ان کے یادگاری بتوں کو ہی مذکورہ بالا صفات میں خدا کا شریک اور شفیع عند اللہ کیوں مانتا تھا؟ شیعہ چونکہ حضرت علیؓ کے توحیدی مذہب کا کٹر منکر و دشمن ہے اور ولید وغیرہ کفار مشرکین کے بلا مبالغہ 95 فیصد مذہب کا قائل ہے۔ اس لیے وہ ولید کو اپنا یا سیدنا علیؓ کا دشمن نہیں سمجھتا۔ بلکہ وہ دھوکہ سے سیدنا علی المرتضیٰؓ کا دشمن حضرت امیرِ معاویہؓ، حضرت طلحہؓ و حضرت زبیرؓ جیسے اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو باور کرانا چاہتا ہے۔ (معاذ اللہ تعالیٰ)

سوال نمبر 424: کیا حضرت حذیفہؓ نے حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کو خلیفہ برحق تسلیم کیا؟

جواب: یقیناً کیا۔ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اجماع میں آپؓ بھی شامل ہیں کیا کسی نے ان کا استثنا کیا ہے اور کیا حدیثِ ارتداد میں (بجز تین کے) آپ نے بھی استثناء کیا ہے؟ ایسا مجہول مطالبہ تو یوں ہو گا کہ کوئی کہے بتاؤ 5 جمادی الثانی 14 ہجری کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز پڑھی؟ صریح ثبوت نہ ہو تو ترکِ نماز کا فتویٰ لگا دے۔ واضح رہے کہ سیدنا حذیفہؓ، سیدنا عمرؓ کی طرف سے مدائن کے گورنر تھے۔ (جیسے سیدنا سلمان فارسیؓ رہے تھے) اور یہ عہدہ بغیر بیعت کے اور خلیفہ تسلیم کیے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 102 اردو میں ہے:

سیدنا حسنؓ سے مروی ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ لوگوں کو ان کی عطائیں اور تنخواہیں دے دو انہوں نے یہ لکھا کہ ہم نے یہ کر دیا ہے اور بہت کچھ بچ گیا ہے انہیں حضرت عمر فاروقؓ نے لکھا کہ وہ غنیمت جو اللہ نے عطا فرمائی نہ سیدنا عمر فاروقؓ کی ہے نہ آلِ سیدنا عمر فاروقؓ کی اسے بھی انہی میں تقسیم کر دو۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا حضرت عمرؓ سے کمال تعلق و محبت اس روایت سے بھی واضح ہے۔

سیدنا حذیفہؓ کہتے ہیں: ہم سیدنا عمرؓ کے دربار میں بیٹھے تھے۔ آپؓ سے ایسے فتنوں کے بارے میں پوچھا جو سمندر کی لہروں جیسے ہوں گے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے سیدنا امیر المؤمنینؓ! آپؓ ان سے نہ ڈریں آپؓ کے اور ان کے درمیان بند دروازہ ہے سیدنا عمرؓ نے پوچھا کیا وہ کھولا جائے گا یا توڑا جائے گا؟ سیدنا حذیفہؓ نے کہا توڑا جائے گا۔ حضرت عمر بن خطابؓ نے کہا وہ پھر کبھی بند نہ ہو گا۔ (وہ دروازہ حضرت عمرؓ کی شہادت تھی۔) (بخاری: جلد، 2 صفحہ، 1051)

سوال نمبر 426 تا 428: کیا سیدنا عمرؓ کو عشرہ مبشرہ والی بشارتِ جنت پر یقین تھا؟ اگر تھا تو حضرت حذیفہؓ سے کیوں راز اگلواتے تھے؟ کیا یہ چور کی داڑھی میں تنکا تو نہیں؟

جواب: سوال 398 میں اس کا جواب ہو چکا ہے پھر مختصر یہ کہ بشارتِ جنت پر یقین کے باوجود ان کو کمالغ للّٰہیّت اور خدا خوفی سے خاتمہ بالخیر کا تو فکر رہتا تھا اور یہی خوف اور امید کے درمیان کامل ایمان کا درجہ ہے جیسے آپؓ سے ہی یہ مروی ہے کہ اگر قیامت کے دن خدا صرف ایک آدمی کے جنت میں جانے کا فیصلہ کرے تو مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا اور اگر اس کے برعکس صرف ایک کے دوزخ میں جانے کا فیصلہ کرے تو مجھے فکر ہو گا کہ شاید میں ہی وہ نہ ہوں۔

فکرِ اخرت سے محروم شیعہ بھائی چور کی ڈاڑھی میں تنکے نہ دکھائے بلکہ یہ کمترین فرمانِ مرتضویؓ سے اپنی غلطی دور کر دے۔ جلاء العیون صفحہ 181 میں ہے کہ جب حضور اکرمﷺ‏ نے شیعہ علی ابنِ ملجم شقی کے ہاتھوں حضرت علیؓ کو شہادت کی اطلاع دی:

حضرت امیر پر سید آیا آنحالت باسلامتی دین من خواہد بود؟

تو سیدنا علیؓ نے پوچھا کیا اس حالت میں میرا دین سلامت ہو گا؟

اب حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ جیسا امام مبشر بالجنۃ سے پوچھیے کہ آپؓ کو اپنے انجامِ خیر میں کیوں شک پڑ گیا؟