حدیبیہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اضطراب کی…

حدیبیہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اضطراب کی وجہ

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 5

سوال نمبر 407: حضرت عمر فاروقؓ کو صلح حدیبیہ کے دن نبوت میں شک ہوا تھا؟

جواب: تو یہ آپ کا جھوٹا قدیم طعن ہے اور بات کا پتنگڑ بنا کر ہی جھوٹے مذہب کی آبیاری کرتے ہیں۔ آپ کو بھی یقین ہے کہ یہ جھوٹا الزام ہے تبھی تو حوالہ نہیں دیا۔ بات اتنی ہے کہ حدیبیہ کی صلح انتہائی کمزور شرائط پر ہوئی تھی۔ مستقبل میں اس کے فوائد و مصالح کا اللہ علام الغیوب کو علم ہے۔آنحضورﷺ بحکمِ وحی شرائط ماننے کے پابند تھے۔ ظاہر حالات میں سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اضطراب و بے چینی اور ناخوشی تھی جن کے ترجمان و نمائندہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے اور آپؓ نے وہ گفتگو بے باکی کے ساتھ حضورﷺ سے کی جو کتبِ حدیث و سیرت میں مشہور ہے۔ اس بے چینی اور اضطراب کے دفعیہ کے لیے اللہ نے سورۃ فتح اتاری۔ آیتِ ہٰذا پر غور کیجئے:

هُوَ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ فِىۡ قُلُوۡبِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ لِيَزۡدَادُوۡۤا اِيۡمَانًا مَّعَ اِيۡمَانِهِمۡ‌ وَلِلّٰهِ جُنُوۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا (سورۃ الفتح: آیت 4)

ترجمہ: اسی خدا نے سکینی (تسلی) مومنوں کے دلوں میں اتارا تاکہ وہ اپنے ایمان پر ایمان کا اضافہ کریں اور آسمانوں زمینوں کے لشکر تو اللہ ہی کے ہیں اور اللہ بڑے زبردست حکمت والے ہیں۔

دلوں میں اضطراب کے بدلے سکینہ اتارا اور افسردگی و مایوسی کے مقابل زیادتی ایمان کی نوید سنائی۔ آپ دشمنانِ صحابہ اس کیفیت کو شک فی النبوت وغیرہ سے تعبیر کریں تو کریں۔ چہرے میں ان کو اپنا ہی آئینہ نظر اتا ہے۔ مگر اللہ کے ہاں وہ بدستور صاحبِ یقین و ایمان اور سکینت و اطمینان والے تھے۔

اس کی حسی تجرباتی ایک وہ مثال ہے کہ جب حضرت حسنؓ نے حضرت امیرغ معاویہؓ کے ہاتھ پر صلح و بیعت کی تو دو سال تک آپؓ کی پارٹی کا خلجان و اضطراب باقی رہا وہ شکایت کرتے تو سیدنا حسنؓ ڈانٹ دیتے کہ میں نے تمہاری اور مسلمانوں کی حفاظت کی ہے۔ تاریخ حضرت حسینؓ سے یہ کہلواتی ہے: کہ میرا ناک کٹ جاتا تو اس سے بہتر تھا جو میرے بھائی نے کیا۔ کیا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ، قیس بن سعد، سفیان بن ابی لیلیٰ وغیرہ کٹر شیعانِ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پر فتویٰ شیعہ لگا سکتے ہیں۔(دیدہ باید) اور خود مشتاق رافضی نے ذکار الاذہان میں اس کا اقرار کیا ہے۔ اصحابِ حدیبیہ کہ جذبات کو ایمان کی دلیل بنا کر شیعانِ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا دفاع کیا ہے۔

اس کی دوسری مثال پاکستان بھارت جنگ 1965ء کی صلح تاشقند بھی ہے کہ جب صدر ایوب مرحوم نے بڑی طاقتوں کے شر سے تحفظ کی خاطر کمزور شرائط پر صلح کی۔ کشمیر کا کافی مفتوحہ علاقہ واپس دے دیا تو فوج کے ایک حصے کو کافی اضطراب ہوا۔ بغاوت تک کا خطرہ رہا، تو فوجیوں کی یہ کیفیت دراصل قوم و ملک سے دشمنی نہیں ہوتی بلکہ ملک و قوم کے مفاد کے بظاہر خلاف معاملات پر وہ اسی ناراضگی اور بے چینی کا اظہار کرتے ہیں۔ جس کا اظہار ہی ایمان اور وفاداری کی دلیل ہے۔

یہی کیفیت سیدنا عمر فاروقؓ اور مسلمانوں کی تھی جیسے بدباطن رافضیوں نے شک فی النبوت بنا کر مشہور کیا ہے ورنہ سیدنا عمرؓ نے کوئی شک نہیں کیا تھا بلکہ یقین سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے اسی مکالمہ میں کہا تھا:

قال عمر و انا اشھد انه رسول اللہ (طبری: جلد، 2 صفحہ، 634)

ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ حضورﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

سوال نمبر 408: تذکرہ خواص الائمہ و سیرت حلبیہ میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فدک کا وثیقہ لکھ دیا تھا۔ مگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لے کر پھاڑ دیا۔ اپنے امام کی توہین کیوں کی؟

جواب: یہ دونوں کتابیں بدباطن رافضیوں کی ساختہ پر داختہ ہیں۔ اہلِ سنت پر حجت نہیں (تفصیل تحفہ امامیہ کے آخر میں دیکھیں) اگر شیعہ کا اس پر یقین ہے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ سے تو دشمنی چھوڑیں ان سے تولا کریں۔ ان کو مومن و جنتی حضرت فاطمہؓ کا ہمدرد اور محسن جانیں۔ اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ‏؟ 

بالفرض اس کی کچھ اصل ہو تو ہمارے نزدیک سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حیثیت چیف جسٹس کی تھی اور عدلیہ کے عظیم مقام کا تقاضا ہے کہ چیف جسٹس اگر حاکم و خلیفہ کے کسی عمل سے اختلاف و نزاع کرنا چاہے تو کر سکے اور خلیفہ اس سے تعرض نہ کرے بلکہ تسلیم کر لے۔ اس مسئلہ میں چونکہ مفاد عامہ کا شخصی مفاد سے ٹکراؤ تھا تو موجودہ جمہوری اصول کے مفاد عامہ کو مفاد خاص پر ترجیح ہے۔ کہ مطابق سیدنا عمر فاروقؓ کا کردار نادرست نہ ہو گا۔

سوال نمبر 409: کیا حضرت عمرؓ نے خود کبھی نمازِ تراویح پڑھی تو کس کے پیچھے؟

جواب: حضرت ابی بن کعبؓ کے پیچھے ہی ہمیشہ پڑھی۔ کیا کہیں صراحت ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نہ پڑھتے تھے؟ کیا مسجد کی انتظامیہ کا صدر کسی کو امام و خطیب مقرر کرے تو وہ خود اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں سمجھتا؟ سوال بناتے وقت اتنی بے عقلی کا تو ثبوت نہ دینا چاہیے۔

سوال نمبر 410: طلاقِ ثلاثہ کا رواج کب سے شروع ہوا؟ صحیح مسلم باب الطلاق دیکھیں۔

جواب: مسلم شریف جلد 1 صفحہ 463 باب لا تحل المطلقه ثلثا لمطلقھا حتیٰ تنکح زوجا غیرہ سامنے کھلا ہے اس کی چھ ہم معنیٰ حدیثوں میں سے ایک یہ بھی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں۔ اس سے دوسرے نے شادی کی۔ پھر اس نے دخول سے پہلے طلاق دے دی۔ پھر پہلا خاوند اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو رسول اللہﷺ سے یہ پوچھا گیا تو حضورﷺ نے فرمایا پہلے کے لیے وہ حلال نہیں ہے جب تک کہ دوسرا خاوند وہ مزہ نہ چکھے جو پہلے نے چکھا ہے۔ 

اس حدیثِ صریح سے پتہ چلا کہ حضورﷺ کے زمانے میں تین طلاقیں تین ہی سمجھی جاتی تھیں اور وہ عورت دوسرے سے نکاح و جماع کے بغیر پہلے طلاق دہندہ خاوند کے لیے حلال نہ ہو سکتی تھی۔

مسلم صفحہ 476 کی حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما طلاق کا مسئلہ پوچھنے والے سے کہتے کہ اگر تو نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاق دی ہیں (تو رجوع کر لے) کیونکہ مجھے جناب رسول اکرمﷺ نے اس کا حکم دیا تھا۔

صفحہ 1 از 5