رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے…

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ مشرکوں سے ہوں مثلاً جنگ بدر احد خندق خیبر حنین مکہ تبوک وغیره تو ان تمام جنگوں میں نمایاں کارروائی کس بزرگ کی ہے کیا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر عالم عابد سخی امین کوئی اور بزرگ بھی ہے اگر کسی کا نام لینا چاہیں تو ارشاد فرمائیں اس بزرگ نے بدر احد خندق خیبر حنین وغیرہ میں کتنے دشمن اسلام قتل کیے اور یہ بھی ارشاد فرمائیں کہ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کتنے کافر قتل کیئے اور اپنے دور حکومت میں اپنی تلوار سے کتنے مشرک مارے۔

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 17

خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اوصاف کا تقابلی مطالعہ:

 جواب: یہ سوال دراصل حضرت ابوبكرؓ و حضرت علیؓ کی افضلیت اور استحقاقِ خلافت سے متعلق سنی شیعہ نزاع پر مبنی ہے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی افضلیت اور اس پر کچھ دلائل ہم سوال 3 کے تحت عرض کرچکے ہیں مراجعت کرلی جائے یہاں چند اصولی باتیں ذکر کی جاتی ہیں۔

اولاً: شیعہ کے ہاں افضلیت اور خلافت نص پر مبنی ہوتی ہے اوصاف خاصہ یہ ہرگز نہیں قتال علم وغیرہ میں کمال کے باوجود اگر نص نہ ہو تو اسے خلیفہ یا افضل نہیں کہا جا سکتا مثلاً عید مرتضوی کی جنگوں میں سب سے زیادہ کاروائی اشتر نخعی کی ہے اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے بروایت شیعہ اس کے حق میں فرمایا ہے۔

کہ اشتر از برائے من چناں بود کہ من از برائے حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم واشتر درمیان میمنہ و میسرہ چوں شیر زیان تبیغ و سنان حملہ میکرد۔ 

(مجالس المؤمنین: صفحہ، 287)

ترجمہ: اشتر میرے حق میں ایسا تھا جیسے میں حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں اور اشتر لشکر کے دائیں حصے اور بائیں حصے میں نیزے اور تلوار کے ساتھ شیر ببر کی طرح حملے کرتا تھا

اور اہلِ سیرت و تاریخ کے اتفاق کی روشنی میں حضرت علیؓ کے تمام اصحاب اور طرفداروں میں جو مرتبہ علم و نفقہ میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا تھا وہ حضرات حسنینؓ کا نہ تھا اور نہ حضراتِ حسنینؓ کے ہاتھوں جمل و صفین و نہروان میں چنداں مقتول ہوئے اس تفاوت کے باوجود سیدنا علیؓ کے جانشین حضرت حسن رضی اللہ عنہ و حضرت حسین رضی اللہ عنہ قرار پائے کیونکہ شیعہ کے یہاں وہی منصوص تھے اور اشتر و حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا کو یہ مقام حاصل نہ ہوسکا لہٰذا شیعہ کا حضرت علیؓ کے صحابیانہ کمالات و اوصاف سے استدلال کرنا اصولاً غلط ہوا ان کو نص صریح کے ثبوت پر توجہ دینی چاہیئے اس کے جواب میں حضرت ابوبکرؓ صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے لیے اس سے واضح اور جلی نص ہم پیش کر چکے ہیں کہ حضورﷺ نے ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو بشارت دی تھی:

ان ابا بکرؓ على الخلافة بعدى ثم ابوك فقالت من انباك قال نبانى العليم الخبير۔

(تفسیر قمی: صفحہ، 354 مجمع البیان: جلد، 5 صفحہ، 314 تفسیر صافی: صفحہ، 523)

ترجمہ: بے شک میرے بعد خلیفہ ابوبکرؓ ہوں گے پھر اس کے بعد تیرے والد عمرؓ ہوں گے کہنے لگی آپ کو کس نے بتایا فرمایا مجھے علیم خبیر خدا نے بتایا۔

ثانیاً: شیعہ اثناء عشریہ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ و حضرت عثمانؓ نے کو العیاذ باللہ مؤمن اور صحیح مسلم ہی نہیں مانتے اسم تفضیل کا استعمال مفضل اور مفضل علیہ کا نوع و جنس میں اتحاد چاہتا ہے خلفائے ثلاثہؓ اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فضائل و اوصاف میں موازنا چاہنا یا آپ کو ان پر فضیلت دینا اس بات کا اعتراف کر لینا ہے کہ وہ حضرات بھی ایمان و اسلام میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ہم نوع و ہم جنس ہیں اور بوجوہ عند الشیعہ حضرت علیؓ سے افضل ہیں اس اعتراف و استدلال سے شیعہ اثناء عشریہ اپنے مذہب سے ہی خارج ہو جاتے ہیں یہ حق صرف شیعہ زیدیہ و تفضیلیہ کا ہے اثناء عشریہ اس کے ہرگز مستحق نہیں مگر افسوس کہ آج یہ تقریر و تحریریں اور تمام مساعی میں زور صرف وہی چیزوں پر دیتے ہیں تیسرا کوئی مسئلہ ہی نہیں نہ اس پر ان کی تقریر رنگین اور واہ واہ کی مستحق ہو سکتی ہے ایک سیدنا علیؓ کے صحابیانہ کارنامے دوم جنگ سیدنا حسینؓ بایزید۔ حالانکہ حضرت علیؓ شیعہ کے ہاں محبوب و مکرم صحابی کی حیثیت سے نہیں بلکہ بعد از پیغمبر امام و ہادی کی حیثیت سے ہیں یہی وجہ ہے کہ غیر صحابی 9 اور افراد بھی حضرت علیؓ کی طرح شیعہ کو محبوب و مکرم ہیں شیعہ کو امام کی حیثیت سے بعد از پیغمبر 30 سالہ زندگی کے اوصاف و کارناموں سے فقط استدلال کرنا چاہیے لیکن وہ اس سے اس بنا پر کتراتے ہیں کہ اگر کھلے تاریخی حقائق کی روشنی میں ان کو دیانتہً بیان کریں تو ان کا مذہب باطل ہوجاتا ہے اور اگر تقیہ کے پردوں میں مستور مخصوص لٹریچر سے بیان کریں تو حضرت علیؓ مسلمانوں سے الگ شخصیت نظر آتے ہیں اسی طرح حضرت حسینؓ کا یزید کے مدِ مقابل ہونا شیعہ کے اصول تقیہ کے بالکل خلاف ہے نہ سنتِ علوی و حسنی تھی نہ بعد والے کسی امام کی سیدنا جعفر صادقؒ کا فرمان واضح ہے۔

التقية من دينی و من دين ابائی ولا دين لمن لا تقية له۔

(کافی باب تقیہ)

ترجمہ: تقیہ میرا مذہب ہے اور میرے باپ دادے کا بھی اور جو تقیہ نہ کرے وہ بے دین غیر مسلم ہے۔

میرے سنی بھائی اس نکتہ کو مجھ سے لیں اور شیعہ کو اپنے مذہب کے خلاف اور غیر متعلقہ اصول سے گفتگو نہ کرنے دیں۔

ثالثاً: کسی جماعت میں سے ان کے افضل ترین فرد کا پتہ 4 وجوہ سے معلوم ہوسکتا ہے :

1: خود مربی اس کا فیصلہ کر دے۔ 

2: مربی اس کو اس خدمت پر لگائے جو سب سے افضل سے لی جا سکتی ہے جیسے استاذ کسی کو جماعت کا مانیٹر بنا دے اور وہ استاد کی غیر موجودگی میں کلاس کو کام کرائے۔ 

3: پوری جماعت کے رحجان میں وہ شخص سب سے زیادہ درجہ رکھتا ہو۔ 

4: تمام مضامین کے مجموعی نمبر سب سے زیادہ ہوں اگرچہ بعض مضامین کے انفرادی نمبر کچھ دوسروں کی بہ نسبت کم ہی ہوں۔

ان چاروں اصول کی روشنی میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کی افضلیت حضرت علیؓ پر متحقق اور واضح ہے۔

امرِ اول: سب سے بڑے مربی اور شارع اللہ تعالیٰ شانہ ہیں اس نے سورۃ اللیل میں آپ کو الۡاَتۡقَى سب سے بڑا پرہیز گار بتایا ہے اور سب سے بڑا پرہیز گار ہی اللہ کے ہاں زیادہ معزز ہے۔

اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ‌ الخ۔

(سورۃ الحجرات: آیت 13) 

ترجمہ: بلا شبہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو بڑا متقی ہے۔

سنی شیعہ تفاسیر سے آیت بالا کا حضرت ابوبکرؓ کے حق میں نزول سوال 3 کے تخت بیان ہوچکا ہے سورت نور میں اللہ پاک نے آپ کو أُولُو الْفَضْلِ فرمایا ہے:

وَلَا يَاۡتَلِ اُولُوا الۡـفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِى الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ الخ۔

(سورۃ النور: آیت 22)

صفحہ 1 از 17