Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

چوتھا باب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علمی مقام و مرتبہ

  علی محمد الصلابی

پہلا مبحث: علمی مقام کے متعلق علماء کی آراء اور ان کے اسباب 

اور اس میں دو نکات ہیں

پہلا نکتہ:  علماء کے اقوال و آراء

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بلند علمی مقام و مرتبہ حاصل تھا، جس کی بنیاد پر وہ اپنے زمانے کی سب سے بڑی عالمہ تھیں اور تمام علمی مسائل کا اصل مرجع و مصدر تھیں۔ اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر جو مسئلہ مخفی ہوتا یا قرآن و حدیث کے سمجھنے میں جہاں بھی انھیں فقہ و استنباط کے لیے مشکل پیش آتی تو بلاشبہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس شافی جواب پاتے اور اپنے تمام استفسارات کا حل انھیں مل جاتا۔

(السیدۃ عائشۃ و توثیقہا للسنۃ لجیہان رفعت فوزی: صفحہ 40)

1۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری (یہ عبداللہ بن قیس بن سلیم ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یمن کا گورنر بنا کر بھیجا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں بصرہ کا گورنر بنایا۔ جنگ صفین کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے حکم (فیصل) مقرر ہوئے۔ نہایت خوبصورت آواز میں قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے۔ 50 ہجری کے قریب وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 300۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 4 صفحہ 211) رضی اللہ عنہ کے بقول ہم اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب بھی کسی حدیث میں کوئی مشکل آ پڑتی ہم اس کا کافی و شافی حل اور تسلی بخش جواب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پا لیتے۔

(سنن ترمذی: حدیث نمبر: 3883۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔ سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 179 پر امام ذہبی رحمہ اللہ نے کہا یہ حدیث حسن غریب ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ترمذی میں اسے صحیح کہا ہے۔

2۔ بقول قبیصہ بن ذویب ( قبیصہ بن ذویب:ت 86 ہجری): یہ قبیصہ بن ذویب بن حلحلہ ابو سعید خزاعی مدنی تابعی کبیر ہیں۔ اپنے وقت کے مشہور امام اور فقیہ تھے۔ 8 یا ض0 ہجری میں پیدا ہوئے۔ ثقہ اور مامون تھے۔ احادیث کثیرہ کے راوی ہیں۔ خلیفہ عبدالملک کی طرف سے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ 86 ہجری کے لگ بھگ فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 282۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 4 صفحہ 537۔)رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمام لوگوں سے بڑی عالمہ تھیں اور اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم ان سے علم حاصل کرتے تھے۔

(الطبقات الکبری: جلد 2 صفحہ 374)

3۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ (ت: 93 ہجری) فرماتے ہیں:

’’میں نے کتاب اللہ، سنت رسول اللہ، شعر اور میراث کے باب میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑا عالم کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 8 صفحہ 517)

اور ایک روایت میں ہے، عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی صحبت میں طویل عرصے تک رہا اور ان سے علمی فوائد حاصل کیے۔ حتیٰ کہ ان کی وفات سے چار یا پانچ سال پہلے میں نے سوچا کہ اب اگر یہ فوت بھی ہو جائیں تو بھی مجھے علمی تشنگی محسوس نہیں ہو گی۔ میں نے اپنی زندگی میں ان سے بڑا عالم کسی کو نہیں دیکھا۔ چاہے کوئی نازل شدہ آیت ہو یا کوئی میراث کا مسئلہ۔ حدیث کا معاملہ ہو یا دنیاوی معاملہ۔ میں نے ان سے بڑا کوئی ایسا عالم نہیں پایا جس سے میں عرب کے شعراء میں سے کسی شاعر کے متعلق پوچھوں تو مجھے تسلی بخش جواب مل جائے، یا عربوں کی جاہلیت کی جنگوں کے متعلق اور ان کے نسب کے متعلق۔ دیگر علوم کی بابت مجھے عائشہ سے بڑا کوئی عالم نظر نہیں آیا۔ نہ ہی قضا و حکم کے میدان میں اور نہ ہی میدان طب میں اتنی معلومات کسی کے پاس تھیں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے ہمیں ملتیں۔ چنانچہ میں نے ایک بار ان سے پوچھا: اے میری امی جان! آپؓ نے علم طب کہاں سے سیکھا؟ انھوں نے فرمایا: میں جب بیمار ہوتی تو لوگ میرے لیے کوئی چیز تجویز کرتے اور جب کوئی دوسرا شخص بیمار ہوتا تو اس کے لیے بھی وہی چیز تجویز کی جاتی تو اسے افاقہ ہوجاتا۔ تو جب لوگ آپس میں باتیں کرتے تو میں ان کو یاد کر لیتی۔ عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں اکثر مسائل ان سے نہ پوچھ سکا۔‘‘

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 7، حدیث نمبر: 24425۔ طبرانی: جلد 23 صفحہ 182، حدیث نمبر: 295۔ مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 218۔ ابو نعیم حلیۃ الاولیاء: جلد 2 صفحہ 50۔ امام حاکم رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح کہا اور لکھا کہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ (سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 83)

4۔ محمود بن لبید رحمہ اللہ (ت: 97ہجری) فرماتے ہیں:

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث و فرامین کی حافظات تھیں۔ تاہم سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما بے مثال تھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عہد عمر اور عہد عثمان رضی اللہ عنہما سے لے کر تا حیات متعدد مسائل میں فتویٰ دیتی رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کبار اصحاب جیسے سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما ان کے پاس سنن کے متعلق استفسارات کے لیے اپنے قاصد بھیجا کرتے تھے۔‘‘

(الطبقات الکبرٰی: جلد 2 حدیث: 375)

5۔ امام شعبی ( یہ عامر بن شراحیل بن عبد ابو عمرو کوفی رحمہ اللہ ہیں۔ کبار تابعین میں سے ہیں۔ 17 ہجری میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے حدیث میں امام، حافظ، متعدد علوم کے ماہر، ثبت اور متقن گنے جاتے تھے۔ ابن اشعث کے ساتھ جنگ جماجم میں شریک ہوئے۔ پھر حجاج کی تلوار سے بچ گئے اور اس نے ان کو معاف کر دیا۔ کوفہ کے قاضی مقرر ہوئے۔ 103 ہجری یا اس کے بعد وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 294۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 6 صفحہ 369۔) رحمہ اللہ (ت: 103ہجری) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علم و فقاہت پر تعجب کرتے اور کہتے:

’’ادب نبوی کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے؟!‘‘

(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 197)

6۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن (یہ ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف زہری رحمہ اللہ ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کا نام عبداللہ یا اسماعیل ہے اور یہ قول بھی ہے کہ ان کا نام ہی ان کی کنیت ہے۔ یہ بکثرت احادیث کو روایت کرنے والے اور اپنے وقت کے امام مجتہد اور علم کے متلاشی تھے۔ 94 ہجری یا 104 ہجری میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 5 صفحہ 88۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 6 صفحہ 369۔) رحمہ اللہ (ت: 104 ہجری) فرماتے ہیں:

’’میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑا سنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عالم نہیں دیکھا اور ان سے بڑا کوئی فقیہ نہیں دیکھا کہ جس کے لوگ محتاج ہوں اور آیات کے اسباب نزول اور فرائض کے جاننے میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑا کوئی عالم نہیں دیکھا۔‘‘

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد: جلد 2 صفحہ 276۔)

7۔ امام زہری (یہ محمد بن مسلم بن عبیداللہ بن شہاب ابوبکر زہری رحمہ اللہ ہیں۔ اپنے زمانے میں علم کے امام، اپنے وقت کے حافظ حدیث ہیں۔ 50 ہجری یا اس کے بعد پیدا ہوئے۔ احادیث صحاح ستہ کے علماء میں سب سے بڑے حافظ و عالم الحدیث تھے۔ سخاوت کی وجہ سے لوگوں میں مشہور ہیں۔ 125 ہجری کے لگ بھگ وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 5 صفحہ 326۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 5 صفحہ 284۔) رحمہ اللہ (ت 125 ہجری) فرماتے ہیں:

’’اگر تمام جہانوں کی عورتوں کے علوم کو جمع کیا جائے اور اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علم کے سامنے لایا جائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم سب سے افضل ہو گا۔‘‘

اور ایک روایت میں امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’اگر اس امت کی سب عورتوں کا علم جمع کیا جائے جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات علیہ السلام کے علوم بھی ہوں تو بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم ان سب کے علم سے زیادہ ہو گا۔‘‘

(السنۃ للخلال: صفحہ 753۔ المعجم الکبیر للطبرانی: صفحہ 299۔ مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 12، حدیث نمبر: 6734۔)

8۔ ابن عبدالبر (یہ یوسف بن عبداللہ بن محمد ابو عمر قرطبی مالکی رحمہ اللہ ہیں۔ دیار اندلس میں شیخ الاسلام کے لقب سے مشہور تھے۔ 368 ہجری میں پیدا ہوئے۔ علم حدیث کی تلاش میں نکلے اور اس میں مہارت تامہ حاصل کی۔ یہ دین پر شدت سے ثابت قدم، ثقہ، حجت اور تمام لوگوں میں ان کی شہرت بطور علامہ، متبحر، صاحب السنۃ و الاتباع معروف تھی۔ یہ شبونہ شہر کے قاضی مقرر ہوئے۔ ان کی مشہور تصنیف ’’التمھید‘‘ ہے۔ 463 ہجری میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد18 صفحہ 153۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 3 صفحہ 313۔) رحمہ اللہ (ت: 463 ہجری) فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے زمانے میں تین علوم میں بے مثال تھیں: علم فقہ، علم طب اور علم الشعر۔‘‘

(الاجابۃ للزرکشی: صفحہ 31)

9۔ امام ذہبی رحمہ اللہ (ت: 748 ہجری) فرماتے ہیں:

’’مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہی نہیں بلکہ تمام عورتوں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑی عالمہ دکھائی نہیں دیتی۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 140)

10۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ (ت: 774ہجری) فرماتے ہیں:

’’صرف اس امت کی عورتوں میں ہی نہیں بلکہ تمام امتوں کی عورتوں میں ان سے زیادہ نہ کوئی عالمہ اور نہ ان سے زیادہ کوئی سمجھ دار عورت ہے۔‘‘

(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 2 صفحہ 431)

نیز وہ فرماتے ہیں:

’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا صحابہ رضی اللہ عنہم سے متفرد ہیں۔ ان کے علاوہ وہ مسائل کسی اور کے پاس نہ تھے بلکہ وہ مختلف مسائل میں راہ حق اختیار کرنے میں بھی منفرد ہیں اور ان کے خلاف جو روایات ہوتیں تو تاویل و تفسیر کے ذریعے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کو رد کر دیتی تھیں۔‘‘

(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 11 صفحہ 339)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحابہ و تابعین کی بہت بڑی تعداد نے زانوئے تلمذ طے کیا۔ لوگ عراق، شام اور جزیرۃ العرب کے بیشتر علاقوں سے ان کے پاس علوم قرآن و حدیث وغیرہ سیکھنے کے لیے آتے رہتے تھے۔ ان کے مشہور شاگردوں میں سے محمد ابن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما کے دونوں بیٹے قاسم اور عبداللہ جو دونوں ان کے بھتیجے بھی تھے اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے دونوں بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ اور عروہ رحمہ اللہ ہیں یہ دونوں ان کے بھانجے تھے اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پوتے عباد بن حمزہ رحمہ اللہ ہیں۔

صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے سیدنا عمرو بن عاص، سیدنا ابو موسیٰ اشعری، سیدنا زید بن خالد جہنی، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس، ربیعہ بن عمرو جرشی، سائب بن یزید اور حارث بن عبداللہ بن نوفل وغیرہم رضی اللہ عنہم ہیں۔

کبار تابعین میں سے سعید بن مسیب ( یہ سعید بن مسیب بن حزن ابو محمد مخزومی مدنی رحمہ اللہ ہیں۔ امام، عالم، مدینہ منورہ کے فقہاء سبعہ میں سے ایک ہیں۔ انھیں سید التابعین کہا جاتا ہے۔ یہ علوم حدیث و فقہ میں مہارت کے ساتھ ساتھ زہد، عبادت اور ورع میں اپنی مثال آپ تھے۔ 93 ہجری یا اس کے بعد فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 217۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 3 صفحہ 335) اور عبداللہ بن عامر بن ربیعہ، علقمہ بن قیس (یہ علقمہ بن قیس بن عبداللہ رحمہ اللہ ہیں۔ ابو شبل کنیت ہے۔ کوفہ میں پیدا ہوئے اور وہیں تعلیم و تربیت حاصل کی۔ کوفہ کے فقیہ عالم اور قاری کے طور پر مشہور ہوئے۔ یہ اپنے وقت کے امام، حافظ اور مجتہد کبیر تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پیدا ہوئے۔ سیرت و کردار میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مشابہ تھے۔ جنگ صفین میں موجود تھے۔ خراسان میں جہاد کیا۔ 60 ہجری یا 70 ہجری کے بعد فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 53۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 4 صفحہ 174۔) عمرو بن میمون، مطرف بن عبداللہ بن شخیر، مسروق بن اجدع اور عطاء بن ابی رباح سمیت بے شمار تابعین رحمہم اللہ شامل ہیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بے شمار خواتین نے علوم حاصل کیے۔ مثلاً ان کی بھتیجی اسماء بنت عبدالرحمٰن بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہم، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی آزاد شدہ خادمہ بُہَیَّہ اور ان کی بھتیجی حفصہ بنت عبدالرحمٰن بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہم، حسن بصری کی والدہ خیرہ صلی اللہ علیہ وسلم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی پہلے خاوند ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے بیٹی زینب اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بیوی صفیہ بنت ابی عبید، عائشہ بنت طلحہ بن عبیداللہ، عمرہ بنت عبدالرحمٰن (یہ عمرہ بنت عبدالرحمٰن بن سعد انصاریہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس علم فقہ میں مہارت حاصل کی اور ان کے ہاں پرورش پائی۔ اپنے عہد میں عالمہ، فقیہہ، حجت اور کثرت علم کی وجہ سے مشہور تھیں۔ 98 ہجری یا 106 ہجری میں فوت ہوئیں۔ (سیر اعلام النبلاء: للذہبی: جلد 4 صفحہ 507۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 6 صفحہ 606۔) ، مسروق بن اجدع کی بیوی قَمِیْر، یوسف بن ماہک کی والدہ مُسیکہ مکیہ اور معاذہ عدویہ سمیت لاتعداد تابعی خواتین نے ان سے علم حاصل کیا۔

(تہذیب الکمال للمزی: جلد 35 صفحہ 232 حدیث نمبر: 7885۔ سیر اعلام النبلا للذہبی: جلد 2 صفحہ 135۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 12 صفحہ 306)