عراق اور فارس کی ریاستیں
علی محمد الصلابیعراق میں فتوحات کا سلسلہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور ہی سے شروع ہو چکا تھا، ابتدا میں مثنیٰ بن حارثہ شیبانی رضی اللہ عنہ عراق کے امیر تھے، لیکن جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ عراق پہنچے تو وہاں کی گورنری انہی کو سونپ دی گئی اور جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی طرف سے آپ کو شام کی طرف فوج کشی کا حکم ملا تو اس وقت دوبارہ مثنیٰ بن حارثہؓ کے ہاتھ میں وہاں کی امارت آ گئی۔
جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو آپؓ نے مثنیٰ بن حارثہؓ کو معزول کر کے ان کی جگہ پر حضرت ابوعبید بن مسعود ثقفیؓ کو وہاں کی امارت دے دی۔ مثنیٰ کی معزولی کا یہ وہی وقت تھا جب آپ نے حضرت خالدؓ کو بھی معزول کیا تھا۔ سیدنا عمرؓ کی اس سیاست نے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا کہ آخر آپؓ نے ایسا اقدام کیوں کیا؟ جناب حضرت عمرؓ مدد
حضرت عمرؓ نے لوگوں کے شکوک و شبہات کا ازالہ کرتے ہوئے کہا:
’’میں نے کسی شک اور تہمت کی بنا پر ان دونوں کو معزول نہیں کیا بلکہ لوگ ان دونوں کی حد سے زیادہ تعظیم کرنے لگے تھے تو مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں وہ انہی دونوں پر حقیقی بھروسا نہ کر لیں۔‘‘
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 108) حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ اگرچہ معزول کر دیے گئے تاہم وہ ایک مخلص فوجی کی طرح زندہ رہے اور حضرت ابو عبیدہؓ کے ساتھ ان کے بیشتر معرکوں میں شریک رہے اور جنگ میں پوری بہادری دکھائی۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 28) حضرت ابو عبید ثقفیؓ کی شہادت کے بعد قیادت کی باگ ڈور پھر حضرت مثنیٰؓ نے سنبھالی اور ان کے بعد عراقی افواج کی قیادت حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے ہاتھوں میں رہی۔ حضرت مثنیٰؓ کو معرکہ ’’جسر‘‘ کے موقع پر جو زخم لگا تھا وہ ناسور بن گیا تھا جس کی وجہ سے آپ سخت بیماری میں مبتلا ہو گئے اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے عراق پہنچنے سے پہلے ہی آپؓ کی وفات ہو گئی۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 111 ) معرکہ قادسیہ سے کچھ ہی دنوں پہلے واقعات و حوادث کے اسٹیج پر بصرہ ایک صوبہ کی حیثیت سے ظاہر ہونے لگا تھا، لیکن قادسیہ کی فتح اور مسلمانوں کے ہاتھوں سقوط مدائن نے بلاد عراق کی تنظیم میں ایک جدید و قوی مرحلے کا آغاز کر دیا اور اس میں منظم طور پر ریاستوں کی تشکیل جدید شروع ہو گئی اور تشکیل جدید کے بعد ان ریاستوں میں تمام تر صوبائی علامتیں نمایاں طور پر نظر آنے لگیں خواہ وہ بصرہ کی ریاست ہو یا کوفہ کی یا ان دونوں کے زیر نگیں عراق و فارس کے دیگر علاقے، یا ان سب سے الگ فارس کی کوئی دوسری مستقل ریاست ہو۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 113)