سیدہ فاطمہ ناراض ہوگئیں اور وہاں سے چلی گئیں اور آخر عمر تک…

سیدہ فاطمہ ناراض ہوگئیں اور وہاں سے چلی گئیں اور آخر عمر تک خلیفہ سے بات تک نہیں کیں۔  یہاں تک کہ نماز(جنازہ) میں بھی شرکت کی اجازت نہیں دی۔(شیعہ مناظر)(قسط 9)

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 3

سیدہ فاطمہ ناراض ہوگئیں اور وہاں سے چلی گئیں اور آخر عمر تک خلیفہ سے بات تک نہیں کیں۔  یہاں تک کہ نماز(جنازہ) میں بھی شرکت کی اجازت نہیں دی۔(شیعہ مناظر)(قسط 9)

 شیعہ مناظر بسمہ تعالی۔ محترم ممتاز صاحب آپ کی اور میری گفتگو پر ایک کلی تبصرہ۔ ہم نے طے یہ کیا تھا  بحث تین مرحلوں میں ہوگی۔میں مدعی اور آپ مدعی علیہ ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں میرا مدعا یہ تھا کہ جناب فاطمہ کی طرف سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا اور خلفاء کی طرف سے رد کرنے کی وجہ سے ان کا ناراض ہونا  اور امیر المؤمنین  کے مؤقف یعنی جناب فاطمہ کو حق بجانب سمجھا اور خلفاء کے استدلال کو جھٹلانا،  یہ ساری باتیں آپ کی ہی صحیحین میں ہے۔آپ نے جناب فاطمہ  سے متعلق یہ کہا یہ باتیں تو صحیحین میں ہیں لیکن وہ راوی کا گمان ہے روایت کا حصہ نہیں ہے لیکن اسی مدعا کے دوسرے حصے کے بارے(امیر المؤمنین کے مؤقف ) کے بارے آپ اب بھی خاموش ہیں۔میں نے اس مرحلے میں اپنے مدعا کی دلیل پیش کی ہے   اور آپ ان باتوں کا صحیحین میں موجود ہونے کو مان چکے ہیں۔آپ نے اس سلسلے میں جو گفتگو کی،

  آپ کی سابقہ گفتگو میں پہلے مرحلہ بحث  سے متعلق یہی ایک ہی جملہ تھا (یہ راوی کا گمان ہے)

باقی باتیں کیونکہ اس مرحلے سے متعلق نہیں  لہٰذا میں نے جواب نہیں دیا ۔اب آپ کا یہ کہنا کہ میں نے پہلے مرحلے میں آپ کے سوالوں کا جواب نہیں دیا یہ صحیح نہیں ہے۔ اگرچہ آپ نے بہت جذباتی باتیں لکھیں لیکن میری نظر میں ان میں سے کوئی بھی میرے سوال اور بحث کے پہلے مرحلے سے متعلق نہیں کیونکہ آپ نے کئی دفعہ اپنی تحریر  کو دوبارہ شیئر کیا ہے میں بھی مدعا کی اسناد کو دوبارہ خاص کر نئے دوستوں کے لیے شیئر کر رہا ہوں اور پھر آپ کی باتوں میں سے جو دوسرے مرحلے سے متعلق ہیں ان کا جواب دوں گا۔ان شاءاللہ

3093 - فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ « لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ » . فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ ، فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - سِتَّةَ أَشْهُرٍ . قَالَتْ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَكٍ وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ ، وَقَالَ لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَعْمَلُ بِهِ إِلاَّ عَمِلْتُ بِهِ ، فَإِنِّى أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ . فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِىٍّ وَعَبَّاسٍ ، فَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكٌ فَأَمْسَكَهَا عُمَرُ وَقَالَ هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِى تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ ، وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِىَ الأَمْرَ . قَالَ فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ . أطرافه 3712 ، 4036 ، 4241 ، 6726 - تحفة 10678
صحيح البخارى  57 - فرض الخمس ۔ باب ۱ باب فرض الخمس  3093
فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ۔

سیدہ فاطمہؓ ناراض ہوگئیں اور وہاں سے چلی گئیں اور آخر عمر تک خلیفہ سے بات تک نہیں کیں۔  یہاں تک کہ نماز(جنازہ) میں بھی شرکت کی اجازت نہیں دی۔

 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ مِنْهَا شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنْ النَّاسِ وَجْهٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ يُبَايِعُ تِلْكَ الْأَشْهُرَ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ ائْتِنَا وَلَا يَأْتِنَا أَحَدٌ مَعَكَ كَرَاهِيَةً لِمَحْضَرِ عُمَرَ فَقَالَ عُمَرُ لَا ۔۔۔۔۔
صحيح البخاري (13/ 135):  کتاب المغازی ۔۔ بَاب غَزْوَةِ خَيْبَرَ۔۔۔۔۔۔
صحیح مسلم ۔۔  - كتاب الجهاد والسير  - باب قول النبي ص ( لا نورث ما تركنا فهو صدقة

 جناب امیر المومنین علیہ السلام کا سخت موقف ۔ امیر المومنین علی ابن ابی طالب ع خلیفہ اول اور دوم کی طرف سے حدیث نحن معاشرالانبیاء سے استدلال کرنے اور جناب فاطمہ علیہا السلام کو حق نہ دینے  کے مسئلے میں خلفاء کو  حق بجانب نہیں سمجھتے تھے ۔               

فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا،
تم دونوں نے ابوبکر کو اور پھر مجھے جھوٹا، گنہگار، دھوکہ باز، خائن  سمجھنا
صفحہ 1 از 3